فاروق

ویکی شیعہ سے

فاروق امام علیؑ کے القابات میں سے ہے جس کے معنی حق کو باطل سے جدا کرنے والے کے ہیں۔ شیعہ منابع کے مطابق پیغمبر اسلامؐ نے حضرت علیؑ کو فاروق کا لقب دیا۔ بعض اہل سنت علماء عمر بن خطاب کو بھی فاروق کہتے ہیں؛ لیکن اس بات میں اختلاف ہے کہ یہ لقب حضرت عمر کو پیغمبر اکرمؐ نے دیا تھا یا اہل کتاب ­نے۔

امام علیؑ کا لقب

مختلف احادیث کے مطابق پیغمبر اسلامؐ نے "فاروق" کو حضرت علیؑ کے لئے بعنوان لقب استعمال فرمایا ہے۔[1] لغت‌ میں فاروق کے مختلف معانی ذکر کئے گئے ہیں۔[2] ان میں سے ایک حق کو باطل سے جدا کرنے والے ہے۔[3]

شیعہ احادیث

بعض شیعہ احادیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلامؐ نے حضرت علیؑ کو فاروق کے نام سے ملقب فرمایا ہے:

  • " وہ (علیؑ) فاروق ہے جو حق اور باطل کو جدا کرتا ہے۔"[4]
  • "یا علی! آپ فاروق اعظم اور صدیق اکبر ہیں۔"[5]

اہل سنت احادیث

اہل سنت منابع میں بھی بعض احادیث نقل ہوئی ہیں جن میں امام علیؑ کو فاروق کے نام سے یاد کیا گیا ہے:

  • چوتھی صدی کے اہل سنت مورخ ابن‌ عبدالبر پیغمبر اسلام سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: میرے بعد ایک فتنہ برپا ہو گا اس وقت علی ابن ابی طالب کی پیروی کرو... وہ اس امت کے صدیق اکبر اور فاروق ہیں....۔[6] البتہ بعض اہل سنت علماء ان احادیث کے راویوں میں تردید کا اظہار کرتے ہوئے ان احادیث کو قبول نہیں کرتے ہیں۔[7]
  • چھٹی صدی ہجری کے اہل سنت مورخ ابن‌ عساکر اپنی کتاب "تاریخ مدینہ دمشق" میں نقل کرتے ہیں کہ پیغمبر اسلام نے حضرت علیؑ سے مخاطب ہو کر فرمایا: تم پہلے شخص ہو جس نے میرے اوپر ایمان لے آیا.... تم صدیق اکبر اور فاروق ہو جو حق اور باطل کو جدا کریں گے۔[8]

حضرت عمر کا لقب

بعض اہل سنت علماء حضرت عمر کو فاروق کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ البتہ ان کے درمیان اس بات پر اختلاف ہے کہ ان کو یہ لقب کس نے دیا ہے:

  • بعض کہتے ہیں کہ پیغمبر اسلام نے حضرت عمر کو اس وصف کے ساتھ توصیف کی ہیں۔[9]
  • جبکہ بعض اس ات کے معتقد ہیں کہ یہ حضرت عمر کو یہ لقب اہل کتاب نے دیا ہے۔ اس کے بعد مسلمانوں نے بھی ان کی پیروی کرتے ہوئے حضرت عمر کو اس لقب سے یاد کئے ہیں اور پیغمبر اکرمؐ نے حضرت عمر کے لئے ایسا کوئی لقب نہیں دیا ہے۔[10]

متعلقہ صفحات

حوالہ جات

  1. رجوع کریں: شیخ طوسی، الامالی، ۱۴۱۴ق، ص۱۴۸۔
  2. مصطفوی، التحقیق فی کلمات القرآن الکریم، ۱۳۶۰ش، ج۹، ص۶۹۔
  3. ابن‌منظور، لسان العرب، ۱۴۱۴ق، ج۱۰، ص۳۰۳۔
  4. شیخ صدوق، الأمالی، ۱۴۰۰ق، ص۲۶۔
  5. شیخ صدوق، عیون أخبار الرضا علیہ السلام، ۱۳۷۸ق، ج۲، ص۶۔
  6. ابن‌عبدالبر، الاستیعاب، ۱۴۱۲ق، ج۴، ص۱۷۴۴۔
  7. مراجعہ کریں: ابن‌عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، ۱۴۱۵ق، ج۴۲، ص۴۲؛ ابن‌ عبدالبر، الاستیعاب، ۱۴۱۲ق، ج۴، ص۱۷۴۴۔
  8. ابن‌عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، ۱۴۱۵ق، ج۴۲، ص۴۲۔
  9. طبری، تاریخ الطبری، ۱۳۸۷ق، ج۴، ص۱۹۵۔
  10. طبری، تاریخ الطبری، ۱۳۸۷ق، ج۴، ص۱۹۶۔

مآخذ

  • ابن‌ عبدالبر، یوسف بن عبداللہ، الاستیعاب فی معرفۃ الأصحاب، تحقیق: علی محمد البجاوی، بیروت، دارالجیل، چاپ اول، ۱۴۱۲ق۔
  • ابن‌ عساکر، ابوالقاسم علی بن حسن، تاریخ مدینۃ دمشق، بیروت، دار الفکر، ۱۴۱۵ق۔
  • ابن منظور، محمد بن مکرم، لسان العرب، بیروت، دار صادر، چاپ سوم، ۱۴۱۴ق۔
  • شیخ صدوق، الامالی، بیروت، اعلمی، چاپ پنجم، ۱۴۰۰ق۔
  • شیخ صدوق، عیون اخبار الرضا(ع)، محقق و مصحح: مہدی لاجوردی، تہران، نشر جہان، چاپ اول، ۱۳۷۸ش۔
  • شیخ طوسی، محمد بن حسن، الأمالی، تحقیق: مؤسسۃ البعثۃ، قم، دار الثقافۃ للطباعۃ والنشر والتوزیع، ۱۴۱۴ق۔
  • طبری، أبوجعفر محمد بن جریر، تاریخ الامم و الملوک (تاریخ طبری)، تحقیق: محمد أبوالفضل ابراہیم، بیروت، دارالتراث، چاپ دوم، ۱۳۸۷ق۔
  • مصطفوی، حسن، التحقیق فی کلمات القرآن الکریم، تہران، بنگاہ ترجمہ و نشر کتاب، ۱۳۶۰ش۔