تشہد

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مشہور احکام
رساله عملیه.jpg
نماز
واجب نمازیں یومیہ نمازیںنماز جمعہنماز عیدنماز آیاتنماز میت
مستحب نمازیں نماز تہجدنماز غفیلہنماز جعفر طیارنماز امام زمانہنماز استسقاءنماز شب قدرنماز وحشتنماز شکرنماز استغاثہدیگر نمازیں
دیگر عبادات
روزہخمسزکاتحججہاد
امر بالمعروف و نہی عن المنکرتولیتبری
احکام طہارت
وضوغسلتیممنجاساتمطہرات
مدنی احکام
وکالتوصیتضمانتکفالتارث
عائلی احکام
شادی بیاهمتعہتعَدُّدِ اَزواجنشوز
طلاقمہریہرضاعہمبستریاستمتاعخلعمباراتعقد نکاح
عدالتی احکام
قضاوتدیّتحدودقصاصتعزیر
اقتصادی احکام
خرید و فروخت (بیع)اجارہقرضہسود
دیگر احکام
حجابصدقہنذرتقلیدکھانے پینے کے آدابوقفاعتکاف
متعلقہ موضوعات
بلوغفقہشرعی احکامتوضیح المسائل
واجبحراممستحبمباحمکروہ

تشہد نماز کے واجبات میں سے ہے۔ جو دوسری اور آخری رکعت کے دو سجدوں کے بعد پڑھی جاتی ہے۔ "اَشْهَدُ اَنْ لااِلهَ اِلاَّ اللّهُ وَحْدَهُ لا شَریکَ لَهُ وَ اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَ رَسُولُهُ، اَللّهُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَ الِ مُحَمَّدٍ" تشہد کا ذکر ہے جس میں خدا کی وحدانیت اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کی گواہی دی جاتی ہے۔

چونکہ تشہد نماز کے غیر رکنی واجبات میں سے ہے؛ اس بنا پر اگر بھولے سے نہ پڑھی جائے تو نماز باطل نہیں ہوتی ہے۔

ذکر

تشہد نماز کے واجبات میں سے ہے۔[1] جس سے مراد نماز کی دوسری اور آخری رکعت میں دو سجدوں کے بعد سلام سے پہلے شہادتین (خدا کی وحدانیت اور حضرت محمدؐ کی رسالت کی گواہی اور آپ اور آپ کی آل پر درود بھیجنے) پڑھنے کے ہیں۔ [2] فقہی کتابوں میں نماز کے باب میں تشہد سے متعلق بحث ہوتی ہے۔[3]

میرزا علی مشکینی کے مطابق مشہور فقہاء ذکر تشہد کو یوں بیان کرتے ہیں:‌ "اَشْهَدُ اَنْ لااِلهَ اِلاَّ اللّهُ وَحْدَهُ لا شَریکَ لَهُ وَ اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَ رَسُولُهُ، اَللّهُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَ الِ مُحَمَّدٍ؛ (ترجمہ: میں گواہی دیتا ہوں خدا کے سوا کوئی معبود نہیں ہے جو یکتا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے؛ میں گواہی دیتا ہوں حضرت محمدؐ خدا کا بندہ اور رسول ہیں۔ خدایا محمد و آل محمد پر درود و رحمت بھیج")[4] البتہ فقہی کتابوں میں اس کی واجب مقدار "أشهد أن لا إله إلا اللّٰه و أشهد أن محمدا رسول اللّٰه اللهم صل على محمد و آل محمد" ذکر ہوئی ہے۔[5] اگرچہ علامہ حلی کتاب النہایہ میں "وحده لا شریک له" کے واجب ہونے میں تردید کا اظہار کیا ہے۔[6]

احکام

تشہد کے بعض احکام درج ذیل ہیں:

  • تشہد کو موالات(پے در پے)، ترتیب، طمأنینہ اور اس کے کلمات کو صحیح عربی میں پڑھنا شرط ہے۔[7]
  • مستحب ہے تشہد پڑھتے وقت ہاتھوں کو رانوں پر اور انگلیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ملا کر اور نظریں اپنی دامن میں رکھیں۔[8]
  • تَوَرُّک[9] یعنی بائیں ران پر بیٹھنا،دائیں پاؤں کو بائیں پاؤں کی پشت پر قرار دینا مستحب ہے۔[10]
  • تشہد پڑھتے وقت بعض اذکار مستحب ہیں من جملہ ان میں تشہد سے پہلے اَلْحَمدُللَّـه یا بِسْمِ اللهِ و بِاللهِ وَ الْحَمدُ لِلهِ وَ خَیرُ الأسماءِ لِله[11] اور تشہد کے بعد وَ تَقَبِّلْ شَفاعَتَهُ وَ ارْفَعْ دَرَجَتَه پڑھنا مستحب ہے۔[12]

فراموش کرنے کا حکم

امام خمینی کے فتوا کے مطابق اگر نمازگزار تشہد بھول جائے اور رکوع سے پہلے یاد آئے تو فورا بیٹھ کر تشہد پڑھیں پھر نماز کو جاری رکھیں۔[13] اور بنابر احتیاط واجب یا مستحب نماز ختم ہونے کے بعد دو سجدہ سہو بھی بجا لائے۔[14] لیکن اگر رکوع میں یا رکوع کے بعد یاد آئے تو نماز کو مکمل کرنے کے بعد تشہد کی قضا کرے اور بنابر احتیاط واجب دو سجدہ سہو بجا لائے۔[15]

حوالہ جات

  1. ملاحظہ کریں: علامہ حلی، نہایۃ الاحکام، ۱۴۱۹ق، ج۱، ص۴۹۹۔
  2. مشکینی، مصطلحات الفقہ، ۱۴۱۹ق، ص۱۴۵-۱۴۶۔
  3. مشکینی، مصطلحات الفقہ، ۱۴۱۹ق، ص۱۴۶۔
  4. مشکینی، مصطلحات الفقه، ۱۴۱۹ق، ص۱۴۶.
  5. علامہ حلی، نہایۃ الاحکام، ۱۴۱۹ق، ج۱، ص۴۹۹؛ محقق کرکی، جامع المقاصد، ۱۴۱۴ق، ج۲، ص۳۱۸۔
  6. علامہ حلی، نہایۃ الاحکام، ۱۴۱۹ق، ج۱، ص۴۹۹۔
  7. مشکینی، مصطلحات الفقہ، ۱۴۱۹ق، ص۱۴۶۔
  8. شہید اول، الدروس، ۱۴۱۷ق، ج۱، ص۱۸۲۔
  9. شہید اول، الدروس، ۱۴۱۷ق، ج۱، ص۱۸۲؛ محقق کرکی، رسائل المحقق الکرکی، ۱۴۰۹ق، ج۱، ص۱۱۲۔
  10. محقق کرکی، رسائل المحقق الکرکی، ۱۴۰۹ق، ج۱، ص۱۱۲۔
  11. شہید اول، الدروس، ۱۴۱۷ق، ج۱، ص۱۸۲۔
  12. امام خمینی، توضیح المسائل، ۱۴۲۴ق، ص۲۳۹، مسأله۱۰۶۱۔
  13. امام خمینی، توضیح المسائل (محشی)، ۱۴۲۴ق، ج۱، ص۵۹۷، مسأله ۱۱۰۲۔
  14. امام خمینی، توضیح المسائل (محشی)، ۱۴۲۴ق، ج۱، ص۵۹۷، مسألہ ۱۱۰۲ پانویس۱۔
  15. امام خمینی، توضیح المسائل (محشی)، ۱۴۲۴ق، ج۱، ص۵۹۷، مسأله ۱۱۰۲۔


مآخذ

  • امام خمینی، سید روح‌اللہ، توضیح المسائل (محشّٰى)، تصحیح سید محمدحسین بنی‌ہاشمی خیمنی، قم، دفتر انتشارات اسلامی وابستہ بہ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، ۱۴۲۴ق۔
  • شہید اول، محمد بن مکی، الدروس الشرعیۃ فی فقہ الامامیہ، قم، دفتر انتشارات اسلامی وابستہ بہ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، ۱۴۱۷ق۔
  • علامہ حلی، حسن بن یوسف، نہایۃ الاحکام فی معرفۃ الاحکام، قم، مؤسسۃ آل‌البیت علیہم‌السلام، ۱۴۱۹ق۔
  • محقق کرکی، علی بن حسین، جامع المقاصد فی شرح القواعد، قم، مؤسسہ آل‌البیت علیہم‌السلام، ۱۴۱۴ق۔
  • مشکینی، میرزاعلی، مصطلحات الفقہ و معظم عناوینہ الموضوعیہ، قم، الہادی، ۱۴۱۹ق/۱۳۷۷ش۔