کفارہ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مشہور احکام
رساله عملیه.jpg
نماز
واجب نمازیں یومیہ نمازیںنماز جمعہنماز عیدنماز آیاتنماز میت
مستحب نمازیں نماز تہجدنماز غفیلہنماز جعفر طیارنماز امام زمانہنماز استسقاءنماز شب قدرنماز وحشتنماز شکرنماز استغاثہدیگر نمازیں
دیگر عبادات
روزہخمسزکاتحججہاد
امر بالمعروف و نہی عن المنکرتولیتبری
احکام طہارت
وضوغسلتیممنجاساتمطہرات
مدنی احکام
وکالتوصیتضمانتکفالتارث
عائلی احکام
شادی بیاهمتعہتعَدُّدِ اَزواجنشوز
طلاقمہریہرضاعہمبستریاستمتاعخلعمباراتعقد نکاح
عدالتی احکام
قضاوتدیّتحدودقصاصتعزیر
اقتصادی احکام
خرید و فروخت (بیع)اجارہقرضہسود
دیگر احکام
حجابصدقہنذرتقلیدکھانے پینے کے آدابوقفاعتکاف
متعلقہ موضوعات
بلوغفقہشرعی احکامتوضیح المسائل
واجبحراممستحبمباحمکروہ

کَفّارہ شریعت کی روی سے ایک قسم کی سزا ہے جو بعض حرام کاموں کے ارتکاب یا واجبات کے ترک کرنے پر متعلقہ شخص پر لاگو ہوتا ہے۔ کسی غلام یا کنیز کو آزاد کرنا، 60 فقیروں کو کھانا کھلانا یا انہیں کپڑا پہنانا، 60 دن روزہ رکھنا(جس کے 31 روزوں کو بغیر کسی فاصلے کے رکھنا واجب ہے) اور گوسفند وغیرہ کی قربانی دینا کفارہ کے اقسام میں سے ہیں۔ بعض وہ امور جن کی انجام دہی کفارہ کا موجب بنتا ہے وہ یہ ہیں: کسی بے گناہ انسان کو قتل کرنا، ماہ رمضان کے روزوں کو عمدا باطل کرنا، عہد، نذر اور قسم کی مخالفت کرنا اور اِحرام کے بعض محرمات۔

کفارہ کی نوعیت انجام شدہ عمل کو مد نظر رکھتے ہوئے مختلف ہوتی ہے: بعض امور کے لئے ایک مشخص کفارہ ہے؛ جبکہ بعض امور کے لئے کئی کفارے متعین ہے اور ان میں سے کسی ایک کو انتخاب کرنے میں مکلف کو اختیار ہے؛ اسی طرح بعض امور کے لئے کئی کفارے بالترتیب معین ہیں جنہیں ترتیب سے انجام دینا ضروری ہے۔ بعض امور کے لئے کفارہ جمع دینا ضروری ہے؛ یعنی کئی کفارے ایک ساتھ ادا کرنا ضروری ہے۔

مفهوم‌شناسی

بعض گناہوں کے ارتکاب اور واجبات کے ترک کرنے پر شریعت میں جو مالی اور بدنی سزائیں مقرر کی گئی ہیں انہیں کفارہ کہا جاتا ہے۔[1] غالباً کفارہ گناہ کے اخروی سزا میں تخفیف یا اس کے ساقط ہونے کا باعث بنتا ہے۔[2]

کفارہ "کفر" کے مادہ سے ہے جس کے معنی چھپانے کے ہیں؛[3] پس کفارہ کو کفارہ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ کفارہ گناہوں سے چشم پوشی اور ان کے عذاب کے محو ہونے کا باعث بنتا ہے۔[4][5]

بعض اوقات فدیہ پر بھی کفارہ کا اطلاق کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک مُد طعام (۷۵۰ گرام گندم وغیرہ) کو روزے کے کفارے کے نام سے یاد کیا جاتا ہے؛[6] حالانکہ یہ اصل میں روزے کا فدیہ یعنی جانشین ہے جو کسی بیماری یا جسمانی ناتوانی کی وجہ سے روزہ نہ رکھ سکنے کی بنا پر ادا کی جاتی ہے۔[7]

کفارہ کے اقسام

فقہی منابع کے مطابق کفارہ کے درج ذیل اقسام ہیں:

  • غلام یا کنیز کو آزاد کرنا[8]
  • 60 فقیروں کو کھانا کھلانا[9]
  • دس مسکینوں کو کھانا کھلانا[10]
  • دو مہینے روزہ رکھنا[11]
  • 3 دن روزہ رکھنا[12]
  • گوسفند کی قربانی دینا[13]
  • اونٹ کی قربانی دینا[14]
  • گائیں یا گوسفند کی قربانی دینا[15]
  • ایک مد طعام[16]
  • 6 مسکینوں کو کھانا کھلانا[17]
  • 10 فقیروں کو کپڑا پہنانا۔[18]

وہ گناہ جن کی انجام دہی کفارہ کا موجب ہے

فقہی منابع کے مطابق بعض گناہوں کی انجام دہی کفارہ کا موجب ہے جس کے بارے میں ظِہار کے باب میں بحث ہوتی ہے؛[19] البتہ سوائے مُحَرَّمات احرام کے کفارے کے کہ جن کے بارے میں حج کے باب میں بیان کیا جاتا ہے۔[20]

وہ اعمال جن کے انجام دینے پر کفارہ واجب ہوتا وہ اس عمل کی نوعیت اور اسے انجام دینے کی کیفیت کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے: ان میں سے بعض کی انجام دہی پر ایک خاص کفارہ واجب ہوتا ہے(کفارہ مُعیَّنہ)۔ بعض اعمال کے لئے کئی کفاروں میں سے کسی ایک کے انتخاب میں مذکورہ شخص کو اختیار حاصل ہوتا ہے(کفارہ مُخَیَّرہ)۔ بعض اوقات مختلف کفارے بالترتیب معین ہوتے ہیں جنہیں اسی ترتیب کے مطابق انجام دینا ضروری ہوتا ہے؛ یعنی اگر پہلا کفارہ انجام نہ دے سکے تو دوسرے کی نوبت آتی ہے(کفارہ مُرتَّبہ)۔ بعض اعمال کے لئے ایک سے زیادہ کفارے معین ہوتے ہیں اور سب کو اکھٹے انجام دینا ضروری ہوتا ہے(کفارہ جمع[21]

موجب کفارہ امور کفارہ کی نوعیت کفارہ
۱۔ ظِہار اور قتل غیرعمد[22]
۲۔ ماہ رمضان کے قضا روزوں کو ظہر کے بعد توڑنا[23]
کفارہ مُرتَّبہ ۱۔ غلام یا کنیز آزاد کرنا اگر یہ کام نہ کر سکے تو 60 فقیروں کو کھانا کھلانا[24]
۲۔ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا اگر یہ کام نہ کر سکے تو 3 دن روزہ رکھنا[25]
الف)
۱۔ماہ رمضان کے روزوں کو عمدا توڑنا[26]
۲۔ نذر کی مخالفت کرنا[27]
۳۔ عہد پر عمل نہ کرنا[28]
۴۔ مصیبت کے وقت عورتوں کا سر کے بال نوچنا(بعض فقہاء کے مطابق)۔[29]
۵۔اعتکاف کی حالت میں بیوی سے جماع کرنا[30]
ب) باب حج
۱۔ قربانی سے پہلے حلق یا تقصیر انجام دینا[31]
۲۔ احرام کی حالت میں شکار کرنا[32]
کفارہ مُخَیَّرہ الف) کسی ایک کو انتخاب کرنے میں اختیار ہے

۱۔غلام یا کنیز آزاد کرنا
۲۔ دو مہینے روزہ رکھنا
۳۔ 60 فقیروں کو کھنا کھلانا[33]

ب) باب حج
۱ و ۲۔ کسی ایک کو انتخاب کرنے میں اختیار ہے
قربانی، 6 یا 10 مسکینوں کو کھانا کھلانا یا 3 دن روزہ رکھنا[34]

۱۔ حِنث قسم یعنی قسم توڑنا[35]
۲۔ عورت کا مصیبت‌ کے موقع پر سر کے بال نوچنا[36]
۳۔ عورت کا مصیبت کے موقع پر چہرہ نوچنا[37]
۴۔ مرد کا اپنی بیوی بچوں کی موت پر لباس چاک کرنا[38]
کفارہ مُخَیَّرہ و مُرتَّبہ الف) کسی ایک کے انتخاب میں اختیار ہے
۱۔ غلام یا کنیز آزاد کرنا
۲۔دس مسکینوں کو کھانا کھلانا
۳۔ دس فقیروں کو کپڑا پہنانا

ب) انجام نہ دے سکنے کی صورت میں
۴۔3 دن روزہ رکھنا[39]

۱۔ کسی مؤمن کو عمدا قتل کرنا[40]
۲۔ ماہ رمضان کے روزے کو حرام کام کے ذریعے توڑنا[41]
کفارہ جمع درج ذیل امور کو اکھٹے انجام دینا ضروری ہے
۱۔غلام یا کنیز آزاد کرنا
۲۔ دو مہینے روزہ رکھنا
۳۔ 60 فقیروں کو کھانا کھلانا[42]
محرمات احرام جیسے
۱۔بیوی کے ساتھ جماع کرنا
بیوی کے ساتھ مُلاعبہ کرنا یہاں تک کہ منی نکل آئے
بیوی کی طرف شہوت آمیز نگاہ کرنا یہاں تک کہ منی نکل آئے
بیوی کو شہوت کے ساتھ بوسہ لگانا[43]
۲۔ حرم کے درختوں کو اکھاڑنا[44]
۳۔ خوشبو استعمال کرنا[45]
سر پر سایہ قرار دینا(فقط مردوں کے لئے)[46]
ہاتھ یا پاؤوں کے تمام ناخونوں کو تراشنا[47]
کپڑے پہننا یا ان کھانوں کا کھانا جو مُحرِم پر حرام ہیں[48]
بیوی کو شہوت کے بغیر بوسہ لگانا
بیوی کو شہوت کے ساتھ لمس کرنا یہاں تک کہ منی نکل آئے[49]
۴۔ ہر ناخن کے تراشنے پر جن کی مجموعی تعداد 1 ناخنوں سے کم ہو[50]
۵۔ احرام کی حالت میں نامحرم کی طرف نگاہ کرنا یہاں تک کہ منی نکل آئے[51]
کفارہ مُعیَّنہ ۱۔ قربانی (اونٹ)[52]
۲۔ گائیں یا گوسفند کی قربانی(درختوں کی جسامت پر موقوف ہے)[53]
۳۔ قربانی (گوسفند)[54]
۴۔ ایک مد طعام[55]
۵۔ اونٹ کی قربانی اس شخص کے لئے جس کی مالی حالت بہتر ہو
گائیں کی قربانی اس شخص کے لئے جس کی مالی حالت متوسط ہو
گوسفند کی قربانی اس شخص کے لئے جس کی مالی حالت کمزور ہو[56]


احکام

  • کفارے کے طور پر فقیر کو دیا جانے والا کھانا اور کپڑا کسی مسلمان فقیر کو دینا واجب ہے[57]
  • کفارہ واجب تعبدی ہے۔ اس بنا پر اس کے ادا کرنے میں قصد قربت شرط ہے۔[58]
  • اگر کفارے کے بعض موارد جیسے غلام یا کنیز آزاد کرنا، ممکن نہ ہو تو کفارہ جمع میں یہ مورد ساقط ہوگا اور مخیّرہ اور مرتبہ کفارات میں اس کے علاوہ دوسرے موارد کو انجام دینا ضروری ہے۔[59]
  • کہا گیا ہے کہ جس وقت روزے کو کفارے کے عنوان سے رکھا جائے تو اسے پے در پے رکھنا ضروری ہے۔[60] البتہ 60 روزوں میں صرف 31 روزوں کو پے در پے رکھنا ضروری ہے۔[61]
  • اگر مختلف محرمات احرام کی وجہ سے مختلف کفارے واجب ہوں تو ہر ایک کے لئے علیحدہ کفارہ ادا کرنا ضروری ہے۔[62]

حوالہ جات

  1. مشکینی، مصطلحات‌الفقہ، ۱۴۱۹ق، ص۴۳۸۔
  2. مشکینی، مصطلحات‌الفقہ، ۱۴۱۹ق، ص۴۳۸؛ ملاحظہ کریں: شہید ثانی، مسالک‌الافہام، ۱۴۱۳ق، ج۱۰، ص۵۔
  3. جوہری، اسماعیل؛ الصحاح، ج۲، ص۸۰۸ و ابن منظور، محمد؛ لسان العرب، ج۵، ص۱۴۸
  4. لسان العرب، ج۵، ص۱۴۸
  5. قطب راوندی، فقہ القرآن فی شرح آیات الاحکام، ج۲، ص۲۴۲
  6. ملاحظہ کریں: خامنہ‎ای، اجوبۃالاستفتائات، ۱۴۲۰ق، ج۱، ص۱۳۸، س۸۰۲۔
  7. صدر، ماوراءالفقہ، ۱۴۲۰ق، ج۹، ص۱۲۰۔
  8. محقق حلی، شرائع الاسلام، ۱۴۰۸ق، ج۳، ص۵۰۔
  9. محقق حلی، شرائع الاسلام، ۱۴۰۸ق، ج۳، ص۵۰۔
  10. محقق حلی، شرائع الاسلام، ۱۴۰۸ق، ج۳، ص۵۰۔
  11. نجفی، جواهرالکلام، ۱۴۰۴ق، ج۳۳، ص۱۷۵۔
  12. محقق حلی، شرائع الاسلام، ۱۴۰۸ق، ج۳، ص۵۰۔
  13. محقق حلی، شرایع الاسلام، ۱۴۰۸ق، ج۱، ص۶۹-۲۷۳۔
  14. محقق حلی، شرایع الاسلام، ۱۴۰۸ق، ج۱، ص۶۹-۲۷۳۔
  15. محقق حلی، شرایع الاسلام، ۱۴۰۸ق، ج۱، ص۶۹-۲۷۳۔
  16. محقق حلی، شرایع الاسلام، ۱۴۰۸ق، ج۱، ص۶۹-۲۷۳۔
  17. محقق حلی، شرایع الاسلام، ۱۴۰۸ق، ج۱، ص۶۹-۲۷۳۔
  18. شهید اول، غایة المراد، ۱۴۱۴ق، ج۳، ص۴۶۳۔
  19. ملاحظہ کریں: محقق حلی، شرائع الاسلام، ۱۴۰۸ق، ج۳، ص۵۰؛ نجفی، جواہرالکلام، ۱۴۰۴ق، ج۳۳، ص۱۶۷۔
  20. ملاحظہ کریں: محقق حلی، شرائع الاسلام، ۱۴۰۸ق، ج۱، ص۶۸-۲۷۱۔
  21. ملاحظہ کریں: محقق حلی، شرایع‌الاسلام، ۱۴۰۸ق، ج۳، ص۵۰؛ مشکینی، مصطلحات‌الفقہ، ۱۴۱۹ق، ص۴۳۹۔
  22. محقق حلی، شرایع‌الاسلام، ۱۴۰۸ق، ج۳، ص۵۰؛ نجفی، جواہرالکلام، ۱۴۰۴ق، ج۳۳، ص۱۶۹-۱۷۰۔
  23. محقق حلی، شرائع الاسلام، ۱۴۰۸ق، ج۳، ص۵۰: نجفی، جواہرالکلام، ۱۴۰۴ق، ج۳۳، ص۱۷۲۔
  24. محقق حلی، شرایع‌الاسلام، ۱۴۰۸ق، ج۳، ص۵۰؛ نجفی، جواہرالکلام، ۱۴۰۴ق، ج۳۳، ص۱۷۰۔
  25. محقق حلی، شرایع‌الاسلام، ۱۴۰۸ق، ج۳، ص۵۰؛ نجفی، جواہرالکلام، ۱۴۰۴ق، ج۳۳، ص۱۷۲۔
  26. محقق حلی، شرائع الاسلام، ۱۴۰۸ق، ج۳، ص۵۰۔
  27. محقق حلی، شرائع الاسلام، ۱۴۰۸ق، ج۳، ص۵۰۔
  28. محقق حلی، شرائع الاسلام، ۱۴۰۸ق، ج۳، ص۵۰۔
  29. شہید اول، غایۃالمراد، ۱۴۱۴ق، ج۳، ص۴۶۳؛ نجفی، جواہرالکلام، ۱۴۰۴ق، ج۳۳، ص۱۸۳۔
  30. طباطبایی یزدی، العروۃ الوثقی، ۱۴۱۹ق، ج۳، ص۵۹۳۔
  31. محقق حلی، شرایع الاسلام، ۱۴۰۸ق، ج۱، ص۲۷۱؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۴ش، ج۲، ص۴۴۔
  32. طوسی، التبیان، داراحیاء التراث العربی، ج۴، ص۲۶۔
  33. محقق حلی، شرایع‌الاسلام، ۱۴۰۸ق، ج۳، ص۵۰؛ نجفی، جواہرالکلام، ۱۴۰۴ق، ج۳۳، ص۱۷۵۔
  34. محقق حلی، شرایع الاسلام، ۱۴۰۸ق، ج۱، ص۲۷۱؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۴ش، ج۲، ص۴۴؛ طوسی، التبیان، داراحیاء التراث العربی، ج۴، ص۲۶۔
  35. محقق حلی، شرائع الاسلام، ۱۴۰۸ق، ج۳، ص۵۰؛ شہید اول، غایۃ المراد، ۱۴۱۴ق، ج۳، ص۴۵۷-۴۵۸؛ نجفی، جواہرالکلام، ۱۴۰۴ق، ج۳۳، ص۱۷۸۔
  36. شہید اول، غایۃ المراد، ۱۴۱۴ق، ج۳، ص۴۶۳؛ نجفی، جواہرالکلام، ۱۴۰۴ق، ج۳۳، ص۱۸۶۔
  37. شہید اول، غایۃ المراد، ۱۴۱۴ق، ج۳، ص۴۶۳؛ نجفی، جواہرالکلام، ۱۴۰۴ق، ج۳۳، ص۱۸۶۔
  38. شہید اول، غایۃ المراد، ۱۴۱۴ق، ج۳، ص۴۶۳؛ نجفی، جواہرالکلام، ۱۴۰۴ق، ج۳۳، ص۱۸۶۔
  39. محقق حلی، شرایع‌الاسلام، ۱۴۰۸ق، ج۳، ص۵۰؛ نجفی، جواہرالکلام، ۱۴۰۴ق، ج۳۳، ص۱۷۸؛ شہید اول، غایۃالمراد، ۱۴۱۴ق، ج۳، ص۴۶۳۔
  40. محقق حلی، شرایع‌الاسلام، ۱۴۰۸ق، ج۳، ص۵۰؛ نجفی، جواہرالکلام، ۱۴۰۴ق، ج۳۳، ص۱۷۸۔
  41. ملاحظہ کریں: شہید اول، غایۃالمراد، ۱۴۱۴ق، ج۳، ص۴۵۸-۴۵۹۔
  42. محقق حلی، شرایع‌الاسلام، ۱۴۰۸ق، ج۳، ص۵۱؛ شہید اول، غایۃالمراد، ۱۴۱۴ق، ج۳، ص۴۵۸-۴۵۹؛ نجفی، جواہرالکلام، ۱۴۰۴ق، ج۳۳، ص۱۷۸۔
  43. محقق حلی، شرایع‌الاسلام، ۱۴۰۸ق، ج۱، ص۲۶۹-۲۷۰۔
  44. محقق حلی، شرایع‌الاسلام، ۱۴۰۸ق، ج۱، ص۲۷۲۔
  45. محقق حلی، شرایع الاسلام، ۱۴۰۸ق، ج۱، ص۲۷۰۔
  46. خامنہ‌ای، مناسک‌الحج، ۱۴۲۶ق، ص۷۴، م۱۶۲۔
  47. محقق حلی، شرایع‌الاسلام، ۱۴۰۸ق، ج۱، ص۲۷۱۔
  48. محقق حلی، شرایع الاسلام، ۱۴۰۸ق، ج۱، ص۲۷۳۔
  49. محقق حلی، شرایع‌الاسلام، ۱۴۰۸ق، ج۱، ص۲۷۰۔
  50. محقق حلی، شرایع‌الاسلام، ۱۴۰۸ق، ج۱، ص۲۷۱۔
  51. نجفی، جواہر الکلام، ۱۴۰۴ق، ج۲۰، ص۳۸۵۔
  52. محقق حلی، شرایع الاسلام، ۱۴۰۸ق، ج۱، ص۲۶۹۔
  53. محقق حلی، شرایع‌الاسلام، ۱۴۰۸ق، ج۱، ص۲۷۲۔
  54. محقق حلی، شرایع‌الاسلام، ۱۴۰۸ق، ج۱، ص۲۷۰-۲۷۳۔
  55. محقق حلی، شرایع‌الاسلام، ۱۴۰۸ق، ج۱، ص۲۷۱۔
  56. نجفی، جواہرالکلام، ۱۴۰۴ق، ج۲۰، ص۳۸۵۔
  57. محقق حلی، شرایع‌الاسلام، ۱۴۰۸ق، ج۱، ص۲۷۳۔
  58. مشکینی، مصطلحات‌الفقہ، ۱۴۱۹ق، ص۴۳۹۔
  59. مشکینی، مصطلحات‌الفقہ، ۱۴۱۹ق، ص۴۳۹۔
  60. مشکینی، مصطلحات‌الفقہ، ۱۴۱۹ق، ص۴۳۹۔
  61. امام خمینی، توضيح المسائل‌، ۱۴۲۶ق، ص۳۴۷۔
  62. محقق حلی، شرایع‌الاسلام، ۱۴۰۸ق، ج۱، ص۲۷۲۔


منابع

  • قرآن کریم
  • دانشنامہ موضوعی قرآن
  • ابن منظور، محمد؛ لسان العرب، قم، ادب، ۱۴۰۵ق، چاپ اول
  • جوہری، اسماعیل؛ الصحاح، تحقیق احمد عبدالغفور، بیروت، دارالعلم للملایین، ۱۴۰۷ق، چاپ چہارم
  • خوانساری، احمد؛ جامع المدارک، تعلیق علی اکبر غفاری، تہران، صدوق، ۱۴۰۵ق، چاپ دوم
  • راغب اصفہانی، حسین بن محمد؛ المفردات فی غریب القرآن، دمشق بیروت، دارالعلم الدارالشامیہ، ۱۴۱۲ق، چاپ اول
  • طبرسی، فضل بن حسن؛ تفسیر جوامع الجامع، تحقیق مؤسسہ نشر اسلامی، قم، اسلامی، چاپ اول، ۱۴۲۰ق
  • طوسی، محمدبن حسن؛ التبیان فی تفسیر القرآن، تحقیق احمد حبیب قصیر، نجف اشرف، امین، بیتا
  • قطب راوندی، سعیدبن ہبۃاللہ؛ فقہ القرآن فی شرح آیات الاحکام، قم، کتابخانہ مرعشی نجفی، ۱۴۰۵ق، چاپ دوم،
  • مصطفوی، حسن؛ التحقیق فی کلمات القرآن، تہران، نشر آثار علامہ مصطفوی، ۱۳۸۵ش، چاپ اول
  • نجفی، محمدحسن؛ جواہرالکلام، تحقیق محمود قوچانی، تہران، اسلامیہ، ۱۳۹۷ق، چاپ ششم