مہینے کی پہلی تاریخ کی نماز

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

مہینے کی پہلی تاریخ کی نماز یہ نماز دو رکعتی مستحب نماز ہے جو قمری مہینوں کی پہلی تاریخ کو پڑھی جاتی ہے۔ بعض احادیث میں آیا ہے کہ جس نے یہ نماز مہینے کی پہلی تاریخ کو ادا کی گویا اس نے اس مہینے میں [[خدا سے اپنی سلامتی کو خرید لیا ہے۔

کیفیت

نماز کی پہلی رکعت میں سورہ حمد کے بعد 30 مرتبہ سورہ توحید، دوسری رکعت میں 30 مرتبہ سورہ قدر اور نماز کے بعد مخصوص دعا پڑھی جاتی ہے اس کے بعد صدقہ دیا جاتا ہے۔[1] بعض احادیث میں نماز کے بعد درج ذیل اذکار پڑھنے کی سفارش ہوئی ہے:

متن ترجمہ
بِسْمِ اللّہِ الرَّحْمنِ الرَّحیمِ، وَ ما مِنْ دابَّۃ فِی الاْرْضِ إلاَّ عَلَی اللّہِ رِزْقُہا، وَ یعْلَمُ

مُسْتَقَرَّہا وَ مُسْتَوْدَعَہا، کُلٌّ فِی کِتاب مُبین، بِسْمِ اللّہِ الرَّحْمنِ الرَّحیمِ، وَ اِنْ یمْسَسْکَ اللّہُ

بِضُرٍّ فَلا کاشِفَ لَہُ إلاّ ہُوَ، وَ اِنْ یرِدْکَ بِخَیر فَلا رادَّ لِفَضْلِہِ، یصیبُ بِہِ مَنْ یشاءُ

مِنْ عِبادِہِ، وَ ہُوَ الْغَفُورُ الرَّحیمُ۔ بِسْمِ اللّہِ الرَّحْمنِ الرَّحیمِ، سَیجْعَلُ اللّہُ بَعْدَ

عُسْر یسْراً، ما شآءَ اللّہُ لا قُوَّۃَ إلاَّ بِاللّہِ، حَسْبُنَا اللّہُ وَ نِعْمَ الْوَکیلُ، وَ اُفَوِّضُ

اَمْری إِلَی اللّہِ، إِنَّ اللّہَ بَصیرٌ بِالْعِبادِ،لا اِلہَ إلاَّ اَنْتَ، سُبْحانَکَ إِنِّی کُنْتُ

مِنَ الظّالِمینَ، رَبِّ إِنّی لِما اَنْزَلْتَ اِلَی مِنْ خَیر فَقیرٌ، رَبِّ لا تَذَرْنِی فَرْداً، وَ اَنْتَ خَیرُ الْوارِثینَ۔


خدا کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے، زمین پر کوئی جاندار ایسا نہیں ہے مگر یہ کہ اس کا رزق خدا کے ذمے ہے۔

خدا ہر جاندار کے محل سکونت اور محل نقل و حرکت کو جانتا ہے، یہ تمام چیزیں ایک واضح اور آشکار کتاب میں محفوظ ہیں۔

اور اگر خدا (امتحان یا گناہ کی سزا کے طور پر) تمہیں کوئی نقصان پہنچائے، تو اس کے سوا کوئی اور اسے برطرف نہیں کر سکتا، اور اگر تمہیں کسی اچھائی کا ارادہ کرے تو،

اس کے سوا کوئی اس کے فضل و کرم میں مانع نہیں بن سکتا۔ خدا اسے ہر شخص تک پہنچاتا ہے اور خدا بخشنے والا اور مہربان ہے۔

خدا عنقریب سختی کے بعد آسانی نصیب کرے گا۔ جو خدا چاہتا ہے (وہی ہوگا)۔ خدا کے مدمقابل کوئی اور طاقت نہیں ہے۔

خدا ہمارے لئے کافی ہے اور وہ بہترین حامی اور مددگار هے۔ میں اپنے امور کو خدا کے سپرد کرتا ہوں کیونکہ خدا اپنے بیندوں سے آگاہ ہے۔

آپ کے سوا کوئی معبو نہیں، تو پاک و منزّہ ہے! میں ستمکاروں میں سے تھا اے پروردگارا!

ہر خیر اور نیکی‌ میرا مقدر کرے، میں اس کا محتاج ہوں۔ پروردگارا مجھے تنہا مت چھوڑ اور تو بہترین وارث ہو۔[2]

فضلیت اور وقت

ساتویں اور بارہویں صدی ہجری کے شیعہ محدثین سید بن طاووس اور علامہ مجلسی نقل کرتے ہیں کہ جو شخص ہر مہینے کی پہلی تاریخ کو یہ نماز پڑھے تو گویا اس نے اس مہینے میں اپنی سلامتی کو اللہ تعالی سے خرید لیا ہے۔[3] اسی طرح امام صادقؑ سے مروی ایک حدیث کے مطابق جو شخص ہر مہینے کی پہلی رات کو کو دو رکعت نماز ادا کرے اور ہر رکعت میں سورہ حمد کے بعد سورہ انعام کی تلاوت کرے تو خدا اسے ہر خوف اور درد و الم سے محفوظ رکھے گا، اور اس مہینے میں خدا اسے ہر اس چیز سے محفوظ رکھے گا جس سے اسے خوف لاحق ہو۔[4]

تیرہویں صدی ہجری کے شیعہ فقیہ صاحب جواہر کے مطابق اس نماز کو پہلی تاریخ کے دن بھر میں جب بھی پڑھنا چاہے پڑھ سکتے ہیں۔[5] آیت اللہ بہجت کے مطابق اس نماز کے وقت کی ابتدا طلوع فجر کو قرار دیتے ہیں۔[6] آیت اللہ صافی گلپایگانی کے مطابق طلوع آفتاب سے مغرب تک اس نماز کو ادا کر مسلماً صحیح ہے اور طلوع آفتاب سے بھی پہلے اس کا صحیح ہونا بعید نہیں ہے، لیکن بہتر ہے طلوع آفتاب سے پہلے اگر پڑھنا چاہے تو رجاء کی نیت سے پڑھے۔[7]

حوالہ جات

  1. سید بن طاووس، الدروع الواقیہ، ۱۴۱۵ق، ص۴۳؛ علامہ مجلسی، بحار الأنوار، ۱۴۰۹ق، ج۹۴، ص۱۳۳۔
  2. سید بن طاووس، الدروع الواقیہ، ۱۴۱۵ق، ص۴۳ و ۴۴؛ علامہ مجلسی، بحار الأنوار، ۱۴۰۹ق، ج۹۴، ص۱۳۳۔
  3. سید بن طاووس، الدروع الواقیہ، ۱۴۱۵ق، ص۴۳؛ علامہ مجلسی، بحار الأنوار، ۱۴۰۹ق، ج۹۴، ص۱۳۳۔
  4. سید بن طاووس، الدروع الواقیہ، ۱۴۱۵ق، ص۴۰۔
  5. نجفی، مجمع الرسائل، ۱۴۱۵ق، ص۴۲۴۔
  6. بہجت، استفتائات، ۱۴۲۸ق، ج۲، ص۱۰۔
  7. صافی گلپایگانی، جامع الاحکام، ۱۴۱۷ق، ج۱، ص۱۰۵۔

مآخذ

  • بہجت، محمدتقی، استفتائات، قم، دفتر آیت اللہ بہجت، چاپ اول، ۱۴۲۸ھ۔
  • سید بن طاووس، علی بن موسی، الدروع الواقیہ، بیروت، مؤسسہ آل البیت(ع)، چاپ اول، ۱۴۱۵ھ۔
  • صافی گلپایگانی، لطف‌اللہ، جامع الاحکام، قم، انتشارات حضرت معصومہ(س)، چاپ چہارم، ۱۴۱۷ھ۔
  • علامہ مجلسی، محمدباقر، بحار الانوار، بیروت، انتشارات اعلمی، ۱۴۰۹ھ۔
  • نجفی، محمدحسن، مجمع الرسائل(محشی)، مشہد، مؤسسہ صاحب الزمان(ع)، چاپ اول، ۱۴۱۵ھ۔