نماز تحیت

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

نماز تَحِیَّت یا نماز تحیت مسجد، دو رکعت مستحب نماز ہے جو مسجد کے احترام میں پڑھی جاتی ہے۔ اور اس کے پڑھنے سے مسجد سے ہوکر گزرنے کی کراہت ختم ہو جاتی ہے۔ البتہ مسجد الحرام میں نماز تحیت کے بجائے طواف کیا جاتا ہے۔ اسی طرح محدث نوری نے مسجد جمکران کے لئے ایک خاص نماز تحیت نقل کی ہے۔

پڑھنے کا طریقہ

نماز تحیت وہ نماز ہے جو مسجد کے احترام میں پڑھی جاتی ہے۔[1] نماز تحیت، دو رکعت ہے جس کے پڑھنے کا کوئی خاص طریقہ نہیں ہے۔[2] اس نماز کے پڑھنے سے مسجد سے گزرنے کی کراہت ختم ہو جاتی ہے۔ شیعہ فقہاء کی نظر میں مسجد کو گزرنے کی جگہ بنانا مکروہ ہے۔[3]

استحباب

کسی بھی مسجد میں داخل ہوتے وقت اور اس میں بیٹھنے سے پہلے نماز تحیت پڑھنا مستحب ہے۔[4] البتہ مسجد میں دوسری کوئی نماز مستحب یا نماز واجب پڑھنے کے بعد نماز تحیت کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہتی ہے۔[5] شہید ثانی نے کتاب منیۃ المرید فی ادب المفید و المستفید کے اندر تدریس کے جلسہ میں استاد کی حاضری کے آداب بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اگر درس کسی مسجد میں ہو رہا ہو تو مستحب ہے کہ پہلے استاد نماز تحیت پڑھے اس کے بعد درس شروع کرے۔[6]

رسول‌ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم:
اذا دخل‌ أحدکم المسجد فلا یجلس‌ حتّی یصلّی رکعتین[7]: جب بھی تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو بیٹھنے سے پہلے دو رکعت نماز پڑھے۔

مسجد الحرام میں نماز تحیت کے بجائے طواف

اکثر مراجع تقلید کے فتوے کے مطابق، مسجد الحرام میں نماز تحیت نہیں پڑھی جائے گی؛ بلکہ اس کی جگہ طواف انجام دیا جائے گا۔[8] الروضۃ البہیۃ فی شرح اللمعۃ الدمشقیۃ میں شہید ثانی کے بقول، مسجدوں کی تحیت و احترام، نماز کے ذریعہ ہے اور مسجد الحرام کی تحیت، طواف کے ذریعہ ہے۔[9]

مسجد جمکران کی نماز تحیت

شیعہ محدث میرزا حسین نوری نے مسجد جمکران کے لئے ایک خاص نماز تحیت نقل کی ہے۔ اس نماز میں دو رکعتیں ہیں اور دونوں رکعتوں میں ایک بار سورہ حمد، سات مرتبہ سورہ اخلاص، سات بار ذکر رکوع اور ہر سجدہ میں سات بار ذکر سجدہ پڑھا جائے گا۔[10]

حوالہ جات

  1. شریفی اشکوری، فقرات فقہیہ، ۱۳۸۱ش، ج۱، ص۴۹۸۔
  2. نجفی، مجمع الرسائل، ۱۳۷۳ش، ص۴۲۰۔
  3. نجفی، مجمع الرسائل، ۱۳۷۳ش، ص۴۲۰؛ طباطبایی یزدی، العروۃ الوثقی، ۱۴۲۲ھ، ج۱، ص۴۳۱۔
  4. طباطبایی یزدی، العروۃ الوثقی، ۱۴۲۲ھ، ج۱، ص۴۳۱۔
  5. طباطبایی یزدی، العروۃ الوثقی، ۱۴۲۲ھ، ج۱، ص۴۳۱۔
  6. شہید ثانی، منیۃ المرید، ۱۴۱۵ھ، ص۲۰۵۔
  7. نووی، ریاض الصالحین، ۱۴۲۸ھ، ص۲۸۸۔
  8. ملکی، در وادی نور، ۱۳۸۹ش، ص۶۶۔
  9. شہید ثانی، الروضۃ البہیۃ، مجمع الفکر الاسلامی، ج۱، ص۱۷۵۔
  10. نوری، نجم الثاقب، ۱۴۱۲ھ، ص۲۹۵۔


مآخذ

  • شریفی اشکوری، الیاس، فقرات فقہیہ رسالہ عملیہ، قم، آل ایوب، ۱۳۸۱ش۔
  • شہید ثانی، زین ‌الدین بن علی، الروضۃ البہیۃ فی شرح اللمعۃ الدمشقیۃ، قم، مجمع الفکر الاسلامی، بی‌تا۔
  • شہید ثانی، زین‌ الدین بن علی، منیۃ المرید فی أدب المفید و المستفید، قم، مکتب الاعلام الاسلامی، ۱۴۱۵ھ۔
  • طباطبایی یزدی،‌ محمد کاظم، العروۃ الوثقی فیما تعمّ بہ البلوی،‌ قم، مرکز فقہ الائمۃ الأطہار، چاپ اول، ۱۴۲۲ھ۔
  • ملکی، علی، در وادی نور، تہران، نشر مشعر، ۱۳۸۹ش۔
  • نجفی، محمد حسن، رسالہ شریفہ مجمع الرسائل، مشہد، مؤسسہ حضرت صاحب الزمان(عج)، چاپ اول، ۱۳۷۳ش۔
  • نوری، میرزا حسین، نجم الثاقب، قم، انتشارات مسجد جمکران، چاپ دوم، ۱۴۱۲ھ۔
  • نووی، یحیی بن شرف، ریاض الصالحین من کلام سید المرسلین، المنصورہ،‌ دار الوفاء،‌ چاپ ہفتم، ۱۴۲۸ھ۔