اعضائے سجدہ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مشہور احکام
رساله عملیه.jpg
نماز
واجب نمازیں یومیہ نمازیںنماز جمعہنماز عیدنماز آیاتنماز میت
مستحب نمازیں نماز تہجدنماز غفیلہنماز جعفر طیارنماز امام زمانہنماز استسقاءنماز شب قدرنماز وحشتنماز شکرنماز استغاثہدیگر نمازیں
دیگر عبادات
روزہخمسزکاتحججہاد
امر بالمعروف و نہی عن المنکرتولیتبری
احکام طہارت
وضوغسلتیممنجاساتمطہرات
مدنی احکام
وکالتوصیتضمانتکفالتارث
عائلی احکام
شادی بیاهمتعہتعَدُّدِ اَزواجنشوز
طلاقمہریہرضاعہمبستریاستمتاعخلعمباراتعقد نکاح
عدالتی احکام
قضاوتدیّتحدودقصاصتعزیر
اقتصادی احکام
خرید و فروخت (بیع)اجارہقرضہسود
دیگر احکام
حجابصدقہنذرتقلیدکھانے پینے کے آدابوقفاعتکاف
متعلقہ موضوعات
بلوغفقہشرعی احکامتوضیح المسائل
واجبحراممستحبمباحمکروہ

اعضائے سجدہ یا مساجد سبعہ ان سات اعضاء کو کہا جاتا ہے جنہیں سجدے کی حالت میں زمین پر رکھنا ضروری ہے۔ شیعہ فقہاء کے مطابق سجدہ کرتے وقت پیشانی، دونوں ہتھیلیوں، دونوں گھٹنوں اور پاؤں کے دونوں انگوٹھوں کو زمین پر رکھنا واجب ہے۔ ناک کو زمین پر رکھنا مستحب ہے۔

اکثر فقہاء اس بات کے معتقد ہیں کہ سجدہ کرتے وقت مذکورہ اعضاء کا پورا حصہ زمین پر رکھنا واجب نہیں بلکہ صرف اتنا کہا جائے کہ ان اعضاء کو زمین پر رکھا گیا ہے تو کافی ہے۔ بعض فقہا پیشانی کے ایک درہم کے برابر حصے کو زمین پر رکھنا واجب سمجھتے ہیں۔

سجدے کی حالت میں پیشانی‌ جس چیز پر رکھی جاتی ہے اس کا زمین یا اس سے اگنے والی چیزوں میں سے ہونا ضروری ہے اس شرط کے ساتھ کہ وہ کھانے اور پہننے والی چیزوں میں سے نہ ہو۔

تعریف

اعضائے سجدہ یا اعضاء سبعہ یا مساجد سبعہ ان سات اعضاء (پیشانی، دونوں ہتھیلیوں، دونوں گھٹنوں اور پاؤں کے دونوں انگوٹھوں) کو کہا جاتا ہے جنہیں سجدے کی حالت میں زمین پر رکھنا واجب ہے۔[1] فقہی کتابوں میں نماز کے باب میں اعضائے سجدہ سے بحث کی جاتی ہے۔

احکام

اعضائے سجدہ کے بعض احکام مندرجہ ذیل ہیں:

  • شیعہ فقیہ شیخ یوسف بحرانی (م 1186ھ) کا کہنا ہے کہ شیعہ فقہاء کے مشہور نظر کے مطابق سجدہ کی حالت میں بدن کے سات اعضاء یعنی اعضائے سجدہ کو زمین پر رکھنا واجب ہے۔[2]
  • سجدے کی حالت میں پیشانی کے علاوہ دوسرے اعضائے سجدہ کا پورا حصہ زمین پر رکھنا واجب نہیں بلکہ اتنا کہا جائے کہ زمین پر رکھی گئی ہے تو کافی ہے۔[3] اسی طرح بعض فقہا اس حکم کو پیشانی پر بھی لاگو کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پیشانی میں بھی صرف اتنی مقدار کافی ہے[4] لیکن دوسرے فقہاء پیشانی میں ایک درہم کے برابر حصے کو زمین یا ایسی چیز جس پر سجدہ واجب ہے رکھنا واجب سمجھتے ہیں۔[5]
  • سجدہ میں ذکر پڑھنے کے دوران اعضائے سجدہ میں سے کسی ایک کو عمدا زمین سے بلند کرنا نماز باطل ہونے کا سبب بنتا ہے؛[6] البتہ آیت‌اللہ سیستانی کے فتوے کے مطابق سجدے میں ذکر پڑھنے میں مشغول نہ ہو اور اعضاء سجدہ میں سے کسی زمین سے بلند کرے تو احتیاط کی بنا پر نماز باطل ہے۔[7]

مستحبات

  • تَخویہ -بازووں کو کھولنا اور کہنیوں کو زمین پر نہ رکھنا- سجدے کی حالت میں مردوں کے لئے مستحب ہے؛[12] لیکن عورتوں کے لئے سجدے کی حالت میں کہنیوں کو زمین پر رکھنا اور بدن کے اعضا کو ایک دوسرے کے ساتھ ملا کر رکھنا مستحب ہے۔[13]

محل سجدہ کے احکام

  • مشہور قول کی بنا پر اعضائے سجدہ میں سے صرف پیشانی کی جگہ کا پاک ہونا واجب ہے۔[14] چوتھی اور پانچویں صدی ہجری کے شیعہ فقیہ ابو صلاح حلبی تمام اعضائے سجدے کی جگہ سے ازالہ نجاست کو ضروری اور واجب سمجھتے ہیں۔[15]
  • محل سجدہ-وہ جگہ جہاں سجدے کی حالت میں پیشانی رکھی جاتی ہے- کا زمین یا اس سے اگنے والی چیزوں میں سے ہونا واجب ہے اس شرط کے ساتھ کہ وہ کھانے اور پہننے والی چیزوں میں سے نہ ہو۔[16] اس حکم کی دلیل احادیث اور فقہاء کا اجماع ہے۔[17] اس بنا پر سجدے کی حالت میں پیشانی مذکورہ شرائط کے حامل اشیاء کے علاوہ کسی اور چیز چیسے سونا، چاندی، عقیق اور فیروزہ وغیرہ پر رکھنا صحیح نہیں ہے۔[18]

حوالہ جات

  1. مؤسسہ دایرہ المعارف الفقہ الشیعہ، الموسوعہ الفقہیہ، ۱۴۲۳ق، ج۱۵، ص۱۰۸۔
  2. بحرانی،الحدائق الناضرہ، ۱۳۶۳ش، ج۸، ص۲۷۶۔
  3. بحرانی، الحدائق الناضرہ، ۱۳۶۳ش، ج۸، ص۲۷۷۔
  4. شہید ثانی، مسالک الافہام، ۱۴۱۳ق، ج۱، ص۲۱۸۔
  5. نجفی، جواہر الکلام، ۱۳۶۲ش، ج۱۰، ص۱۴۴۔
  6. حلی، تحریر الاحکام، مؤسسہ آل البیت، ج۱، ص۴۰۔
  7. سیستانی، توضیح المسائل، ۱۴۱۵ق، ج۱، ص۲۲۴۔
  8. مؤسسہ دایرہ المعارف الفقہ الاسلامی، الموسوعہ الفقہیہ، ۱۴۲۳ق، ج۱۸، ص۲۸۸-۲۸۹۔
  9. حر عاملی، وسائل الشیعہ، ج۶، ص۳۴۳؛ کلینی، الکافی، ۱۳۸۷ش، ج۶، ص۱۴۴۔
  10. بحرانی، الحدائق الناضرہ، ۱۳۶۳ش، ج۸، ص۲۷۶۔
  11. حلی، تذکرہ الفقہا، ۱۴۱۴ق، ج۳، ص۱۸۸۔
  12. محقق کرکی، جامع المقاصد، ۱۴۱۴ق، ج۲، ص۳۰۶۔
  13. محقق کرکی، جامع المقاصد، ۱۴۱۴ق، ج۲، ص۳۶۵۔
  14. یزدی، العروہ الوثقی، ۱۴۱۷ق، ج۱، ص۱۷۷۔
  15. حلبی، الکافی فی الفقہ، ۱۴۰۳ق، ج۱، ص۱۴۰۔
  16. یزدی، العروہ الوثقی، ۱۴۱۷ق، ج۲، ص۳۸۸۔
  17. سبزواری، مہذب الاحکام، ۱۴۱۳ق، ج۵، ص۴۳۴۔
  18. یزدی، العروہ الوثقی، ۱۴۱۷ق، ج۲، ص۳۸۹۔

مآخذ

  • بحرانی، شیخ یوسف، الحدائق الناضرہ، قم، مؤسسہ النشر الاسلامی، ۱۳۶۳شمسی ہجری۔
  • حر عاملی، محمد بن حسن، وسائل الشیعہ، قم، مؤسسہ آل البیت، ۱۴۱۶ھ۔
  • حلبی، ابوصلاح، الکافی فی الفقہ، اصفہان، مکتبہ امام امیرالمؤمنین، ۱۴۰۳ھ۔
  • حلی، ابن ادریس، السرائر، قم، مؤسسہ النشر الاسلامی، چاپ دوم، ۱۴۱۰ھ۔
  • حلی، حسن بن یوسف، تذکرہ الفقہا، قم، مؤسسہ آل البیت، ۱۴۱۴ھ۔
  • حلی، حسن بن یوسف، تحریر الاحکام، مشہد، مؤسسہ آل البیت، چاپ اول، بی‌تا۔
  • سبزواری، سید عبد الاعلی، مہذب الاحکام، قم، دارالتفسیر، چاپ چہارم، ۱۴۱۳ھ۔
  • سید مرتضی، علی بن حسین، جمل العلم و العمل، نجف، مطبعہ الآداب، چاپ اول، ۱۳۸۷ھ۔
  • سیستانی، سید علی، توضیح المسائل، قم، انتشارات مہر، ۱۴۱۵ھ۔
  • شہید ثانی، زین‌ الدین بن نور الدین، مسالک الافہام، قم، مؤسسہ المعارف الاسلامیہ، چاپ اول، ۱۴۱۳ھ۔
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، قم، دار الحدیث، چاپ اول، ۱۳۸۷شمسی ہجری۔
  • محقق کرکی، علی بن حسین، جامع المقاصد، قم، مؤسسہ آل البیت، چاپ دوم، ۱۴۱۴ھ۔
  • مؤسسہ دایرہ المعارف الفقہ الشیعہ، الموسوعہ الفقہیہ، قم، مؤسسہ دایرہ المعارف الفقہ الشیعہ، چاپ اول، ۱۴۲۳ھ۔
  • نجفی، محمد حسن، جواہر الکلام، بیروت، دار احیاء التراث العربی، چاپ ہفتم، ۱۳۶۲شمسی ہجری۔
  • یزدی، سید محمد کاظم، العروہ الوثقی، قم، مؤسسہ النشر الاسلامی، چاپ اول، ۱۴۱۷ھ۔