مصعب بن زبیر

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مصعب بن زبیر
معلومات شخصیت
مکمل نام مصعب بن زبیر بن العوام
کنیت ابو عبد اللہ
لقب قصاب
دینی مشخصات
وجہ شہرت برادر عبد اللہ بن زبیر


مُصْعَب بن زُبَیر (متوفی 72 ھ) آل‌ زبیر کا وہ کمانڈر تھا جس نے قیام مختار کو انجام تک پہنچایا۔ مصعب کو اپنے بھائی عبد اللہ بن زبیر کی طرف سے بصرہ کی حکومت ملی۔ نیز اس نے مختار کے قتل کے بعد ان پانچ ہزار سپاہیوں کو بھی قتل کر دیا جنہیں اس نے پہلے امان دی تھی۔ مصعب نے سکینہ بنت امام حسین سے شادی کی۔ مصعب ۷۲ ہجری قمری میں بنی امیہ کے حاکم عبدالملک بن مروان سے جنگ میں مارا گیا۔

نسب و خاندان

مصعب زبیر بن عوام[1] کا بیٹا اور اس کی ماں کا نام رباب بنت أنیف بن عبید[2] تھا نیز اس کی کنیت: ابو عبداللہ تھی۔[3] رجالی اسے تابعین میں سے شمار کرتے ہیں۔[4] وہ خوبصورت،[5] اہل سخاوت،[6] اور کثیر الاولاد تھا۔[7]

وہ زبیر بن عوام، عمر بن خطاب، سعد اور ابوسعید خدری سے روایت نقل کرتا ہے۔[8]

مصعب نے ایک سفر میں امام حسین(ع) کے پاس کھڑے ہو کر کہا: یا اباعبداللہ! خدا کی قسم اگرچہ دشمنوں نے آپ کی جان لے لی لیکن آپ کو دین سے جدا نہیں کر سکے۔[9]

مصعب کی دو: سکینہ بنت امام حسین اور عائشہ بنت طلحہ مشہور بیویاں تھیں۔[10]

سکینہ بنت الحسین سے ازدواج

تاریخی مصادر کے مطابق مصعب سکینہ بنت امام حسین(ع) سے شادی کا بہت خواہش مند تھا۔ یہاں تک کہ عراق میں حکومت کے دوران خدا سے اس شادی کی دعا کرتا رہتا تھا۔[11] حضرت سکینہ نے کثیر مہریہ پر مصعب کے ساتھ ازدواج کی۔[12] مہر کی اس خطیر رقم کی وجہ سے عبداللہ بن زبیر پر اعتراض بھی کیا نیز اس نے مصعب کو کچھ مدت کیلئے حکومت سے بھی علیحدہ کر دیا۔[13] مصعب کی حضرت سکینہ سے فاطمہ نام کی بیٹی تھی کہ جو بچپنے میں فوت ہو گئی۔[14]

حکومت بصرہ

۶۷ قمری[15] میں مصعب اپنے بھائی عبداللہ بن زبیرکی مدد سے بصرہ کا حاکم بنا۔[16] بصرے میں پہنچ کر اس نے خطبے میں اپنے آپ کو قصاب کا لقب دیا۔[17]

بصرے کی حاکمیت کے دوران بعض اشراف کوفہ: شبث بن ربعی اور محمد بن اشعث[18] اسے مختار سے جنگ پر ابھارتے رہے۔

مختار سے جنگ اور فتح کوفہ

مصعب لشکر لے کر مختار کے ساتھ جنگ پر روانہ ہوااور اسے شکست دی۔ مختار اپنے باقی بچے لشکر کے ساتھ دار الامارہ میں چلا گیا۔ چالیس دن کے محاصرے کے بعد مختار مختصر سی تعداد کے ساتھ دار الامارہ سے باہر آیا اور مختصر سی جنگ کے بعد مارا گیا۔[19]

مختار کے لشکر کے پانچ ہزار یا چھ ہزار[20] یا سات ہزار[21]) سپاہیوں نے مصعب سے امان مانگی اور اس نے انہیں امان دی۔ لیکن ان کے تسلیم ہونے کے بعد مصعب کے دستور پر ان سب سپاہیوں کو قتل کر دیا گیا۔[22] عبداللہ بن عمر نے اس کشتار کی وجہ سے مصعب کی ملامت کی اور اسے کہا: اگر اس تعداد میں آل‌ زبیر کے گوسفند ایک صبح ذبح کرتے تو یہ اسراف کیا تھا، چہ جائیکہ تم نے اتنے انسانوں کو قتل کیا جن میں توبہ کی امید موجود تھی۔[23] مصعب نے حجر بن عدی کے بیٹوں عبد الرحمن اور عبد الرب کو بھی قتل کیا۔[24]

مختار کو مغلوب کرنے کے بعد وہ بصرہ اور کوفہ کا حاکم ہوا۔[25]

عبدالملک سے جنگ

۷۲ ہجری قمری میں بنی امیہ کے حاکم عبدالملک بن مروان اور مصعب کے درمیان «مسکن» نامی جگہ پر جنگ ہوئی۔[26] اس جنگ میں مصعب کو شکست ہوئی اور وہ مارا گیا۔[27] بعض مصادر قتل کے وقت اس کی عمر ۳۶ برس لکھتے ہیں۔[28] اس جنگ میں مصعب کا بیٹا عیسی بھی اس کے ساتھ مارا گیا۔[29]

حوالہ جات

  1. ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، ۱۴۰۷ق، ج۸، ص۳۱۷.
  2. ابن سعد، الطبقات الکبری، ۱۴۱۸ق، ج۵، ص۱۳۹.
  3. بلاذری، أنساب الأشراف، ۱۴۱۷ق، ج۹،‌ ص۴۴۷.
  4. سبط بن جوزی،‌ مرآۃ الزمان فی تواریخ الأعیان، ۱۴۳۴ق، ج۹، ص۲۶.
  5. ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، ۱۴۰۷ق، ج۸، ص۳۱۷.
  6. ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، ۱۴۰۷ق، ج۸، ص۳۱۷.
  7. بلاذری، أنساب الأشراف، ۱۴۱۷ق، ج۹،‌ ص۴۴۷.
  8. ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، ۱۴۰۷ق، ج۸، ص۳۱۷.
  9. جمعی از علماء، الأصول الستۃ عشر، ۱۳۶۳ش، ص۱۲۳.
  10. زرکلی، الأعلام، ۱۹۸۹م،‌ ج۳، ص۲۴۰.
  11. بلاذری، أنساب الأشراف، ۱۴۱۷ق، ج۲، ص۱۹۵.
  12. ابوالفرج اصفہانی، الأغانی، ۱۴۱۵ق، ج۱۶، ص۳۶۶.
  13. ابوالفرج اصفہانی، الأغانی، ۱۴۱۵ق، ج۳، ص۲۵۱.
  14. ابن حبیب، المحبر، دارالآفاق الجدیدۃ، ج۱، ص۴۳۸.
  15. ابن‌جوزی، المنتظم، ۱۴۱۲ق، ج۶، ص۶۳.
  16. ابن سعد، الطبقات الکبری، ۱۴۱۸ق، ج۵، ص۱۴۰.
  17. ابن اثیر، الکامل، ۱۳۸۵ق، ج۴، ص۲۶۷.
  18. ابن اثیر، الکامل، ۱۳۸۵ق، ج۴، ص۲۶۷.
  19. دینوری، الأخبار الطوال، ۱۳۶۸ش، ص۳۰۷-۳۰۸.
  20. دینوری، الأخبار الطوال، ۱۳۶۸ش، ص۳۰۸.
  21. ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، ۱۴۰۷ق، ج۸، ص۳۱۸.
  22. ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، ۱۴۰۷ق، ج۸، ص۳۱۸.
  23. ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، ۱۴۰۷ق، ج۸، ص۳۱۸.
  24. ابن اثیر، الکامل، ۱۳۸۵ق، ج۴، ص۲۸۰.
  25. ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، ۱۴۰۷ق، ج۸، ص۳۱۸.
  26. ابن سعد، الطبقات الکبری، ۱۴۱۸ق، ج۵، ص۱۷۶.
  27. ابن سعد، الطبقات الکبری، ۱۴۱۸ق، ج۵، ص۱۴۰.
  28. ابن اثیر، الکامل، ۱۳۸۵ق، ج۴، ص۳۳۳.
  29. زرکلی، الأعلام، ۱۹۸۹م،‌ ج۵، ص۱۰۹.


مآخذ

  • ابن اثیر جزری، علی بن محمد، الکامل فی التاریخ، بیروت،‌ دار صادر، ۱۳۸۵ق.
  • ابن جوزی، عبد الرحمن بن علی، المنتظم، محقق عطا، محمد عبد القادر، عطا، مصطفی عبد القادر، بیروت،‌ دار الکتب العلمیۃ، چاپ اول، ۱۴۱۲ق.
  • ابن حبیب، المحبر، تحقیق ایلزۃ لیختن شتیتر، بیروت، دارالآفاق الجدیدۃ، بی‌تا.
  • ابن سعد کاتب واقدی، محمد بن سعد، الطبقات الکبری، بیروت،‌ دار الکتب العلمیۃ، چاپ دوم، ۱۴۱۸ق.
  • ابن کثیر دمشقی، اسماعیل بن عمر، البدایۃ و النہایۃ، بیروت،‌ دار الفکر، ۱۴۰۷ق.
  • ابو الفرج اصفہانی، علی بن حسین، الأغانی، مکتب تحقیق‌ دار احیاء التراث العربی، بیروت،‌ دارإحیاء التراث العربی، ۱۴۱۵ق.
  • بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، تحقیق: زکار، سہیل، زرکلی، ریاض، بیروت،‌ دار الفکر، چاپ اول، ۱۴۱۷ق.
  • دینوری، ابو حنیفہ احمد بن داود، الاخبار الطوال، قم، منشورات الرضی، ۱۳۶۸ش.
  • زرکلی، خیر الدین، الاعلام، بیروت،‌دار العلم للملایین، چاپ ہشتم، ۱۹۸۹ ء.
  • سبط بن جوزی،‌ مرآۃ الزمان فی تواریخ الأعیان، دمشق،‌ دار الرسالۃ العالمیۃ، ۱۴۳۴ق.
  • عدہ‌ای از علماء، الأصول الستۃ عشر، قم، دار الشبستری للمطبوعات، چاپ اول، ۱۳۶۳ش.