محمد بن حنفیہ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
بسم اللّه الرّحمن الرّحیم
نام محمد بن حنفیہ
کنیت ابو القاسم
لقب مہدی (کیسانیہ کے مطابق)
میلاد سنہ 16 ہجری
مولد مدینہ
وفات سنہ 81 ہجری
مدفن ایلہ یا طائف یا مدینہ
مسکن مدینہ، طائف، مکہ
والد امام علی علیہ السلام
والدہ خولہ حنفیہ
وجہ شہرت فرزند امام علی ؑ و قیام مختار
اولاد عبداللہ، حسن، ابراہیم، عون
کلیدی کردار امام زادہ، راوی
مشہور امام زادے
عباس بن علی، زینب کبری، فاطمہ معصومہ، علی اکبر، علی اصغر، عبدالعظیم حسنی، احمد بن موسی،سید محمد، سیدہ نفیسہ

محمد بن حَنَفیہ (16-81 ھ)، حضرت علی علیہ السلام اور خولہ حنفیہ (بنت جعفر بن قیس) کا بیٹے اور طبقہ اول کے تابعین میں سے تھے۔ عمر بن خطاب کے دور حکومت میں 16 ھ ق کو متولد ہو‎ئے اورعبد الملک بن مروان کی خلافت کے دور میں 81 ھ میں 65 سال کی عمر میں ایلہ یا طائف یا مدینہ میں وفات پا‎ئی۔ ان کا نام محمد بن علی بھی ذکر ہوا ہے۔ اسی طرح انہیں محمد اکبر بھی کہا گیا ہے۔ آپ کی کنیت ابو القاسم ہے۔ آپ صفین، جمل و جنگ نہروان میں شریک ہو‎ئے اور جنگ جمل میں امام علی کی فوج کے علمدار تھے۔ واقعہ کربلا کے وقت آپ مدینہ میں تھے اور بعض نقل کے مطابق امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد آپ نے امامت کا دعوا کیا لیکن امام سجاد علیہ السلام کی امامت پر حجر الاسود کی گواہی کے بعد اپنے دعوی سے دستبردار ہو‎ئے اور اپنے بھتیجے کی امامت کے معتقد ہو‎ئے۔

کوفہ پر مختار کے تسلط کے بعد انہوں نے مختار کو خط لکھا تو مختار نے ایک گروہ کو مکہ بھیج کر انہیں عبد اللہ بن زبیر سے نجات دلائی۔

کیسانیہ انہیں اپنا امام مانتے ہیں۔ آپ پہلے شخص ہیں جنہیں مہدی موعود کہا گیا۔ آپ کا سیاسی رویہ نہایت مسالمت آمیز تھا۔ ان کے فرزند ابو ہاشم عبد اللہ بن محمد، علویوں کی تاریخ کے مشہور افراد میں سے ہیں۔

نام، نسب اور ولادت

اپ کی والدہ خولہ بنت جعفر بن قیس [1] کا تعلق قبیلہ بنی حنفیہ سے تھا، اس وجہ سے آپ حنفیہ کے نام سے مشہور ہو‎ئے۔ بعض محققین کے مطابق آپ کی ماں کنیز تھیں اور ابوبکر کی خلافت کے دوران بنی اسد کے بنی حنفیہ پر حملے کے دوران اسیر ہو‎ئیں اور امام علی علیہ السلام نے انہیں خرید کر آزاد کیا اور پھر ان سے شادی کی۔

چونکہ آپ کی وفات 81 ھ میں ہو‎ئی اور اس وقت عمر 65 سال تھی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ سنہ 16 ھ میں متولد ہو‎ئے ہیں۔[2]

بعض نے نقل کیا ہے کہ رسول خدا (ص) نے اپنی وفات سے پہلے حضرت علی (ع) سے فرمایا: اگر خولہ کے یہاں بیٹے کی ولادت ہو تو اس کا نام میرے نام اور میری کنیت پر رکھنا۔[3]

نقل حدیث میں آپ کا مقام

آپ نے اپنے والد حضرت علیؑ، عُمَر بن خَطّاب، ابو ہریرہ، عثمان، عمار بن یاسر اور معاویہ وغیرہ سے احادیث نقل کی ہیں۔۔[4] آپ سے آپ کے بیٹے عبد اللّہ، حسن، ابراہیم، عون اور کچھ دوسرے لوگ جیسے سالم بن ابی جعد، منذر ثوری، امام باقرؑ، عبداللہ بن محمد عقیل، عمرو بن دینار، محمد بن قیس، عبد الاعلی بن عامر وغیرہ نے احادیث نقل کی ہیں۔[5]

آپ نے مدینہ میں وسیع پیمانے پر درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا اور اسی مکتب سے بہت سارے نظریات مطرح ہوئے یہاں تک کہ مدینے میں آپ کے درس تدریس کو بصرہ میں حسن بصری کے علمی حلقے سے مقایسہ کیا جا سکتا ہے کیونکہ جس طرح وہ مجمع معتزلہ کے عقاید کا سرچشمہ اور صوفیوں اور زاہدوں کے مسلک کے نام سے متعارف ہوا، اس حلقے کے شاگردوں کو بھی کلامی نظریات کا بانی سمجھا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اس حلقے سے ابن حنفیہ کے دو بیٹے عبد اللہ جن کا لقب ابو القاسم تھا اور حسن جن لقب ابو محمد تھا، نکلے اور ابو ہاشم، معتزلی نظریات کا واسطہ بنا اور ابو محمد مرجئہ کا بانی بنا۔[6]

وثاقت

رجال کشی میں حضرت علی علیہ السلام سے ایک روایت نقل ہو‎ئی ہے جس میں چار محمد اللہ کی نافرمانی کے مانع بننے کا ذکر ہوا ہے؛ ان چار محمد سے مراد محمد بن جعفرطیار، محمد بن ابی بکر، محمد بن حنفیہ اور محمد بن ابی حذیفہ.[7] ہیں۔ مامقانی اس حدیث کی طرف اشارہ کرتے ہو‎ئے محمد ابن حنفیہ کی عدالت اور پاکیزگی کو ثابت کرتا ہے۔[8]

سیاسی موقف

محمد بن حنفیہ سیاسی اعتبار سے باہمی مسالمت آمیز رو‎یہ کو اختیار کرتے تھے۔ اسی موقف کی وجہ سے امیر المؤمنین علیہ السلام کی شہادت کے بعد مدینہ میں اپنے بھا‎ئی امام حسن علیہ السلام کے ساتھ رہے اور معاویہ کے ولی عہد کے عنوان سے یزید کی بھی بیعت کی اور یزید کے خلیفہ بننے کے بعد بھی اس کی خلافت کی مخالفت نہیں کی۔

آپ نے بعد میں بھی یہ مسالمت آمیز روابط خلافت کے سیسٹم کے ساتھ جاری رکھا۔ 76 ھ کو عبدالملک بن مروان سے ملنے دمشق چلے گئے۔ بعض نے عبد الملک سے رابطے کی وجہ ابن زبیر کی طرف سے بدسلوکی قرار دیا ہے۔ عبداللہ بن زبیر نے انہیں زمزم کے چھوٹے سے کمرے میں بند کیا اور مختار ثقفی کے ساتھیوں نے اس سے نجات دلائی۔[9]

مختار کو قتل کرنے کے بعد ابن زبیر نے محمد حنفیہ سے دوبارہ بیعت طلب کی اور چاہتا تھا ان پر اور ان کے قریبیوں پر حملہ کرے۔ اس وقت عبد الملک ابن مروان جو ابھی مسند خلافت پر بیٹھ گیا تھا اس کی طرف سے محمد ابن حنفیہ کو ایک خط موصول ہوا جس میں محمد اور اس کے چاہنے والوں کو شام آنے کی دعوت تھی۔ محمد اور اس کے دوست احباب شام کی طرف چلے گئے۔ لیکن مَدین پہنچے تو ان کو خبر ملی کہ عبد الملک ابن مروان نے عمرو بن سعید سے (جو کہ ابن حنفیہ کے دوستوں میں سے تھا) بے وفا‎ئی کی ہے۔ اس وجہ سے سفر سے پشیمان ہو‎ئے اور «أیلہ» میں رک گئے جو کہ بحیرہ احمر کے کنارے، حجاز کے آخر میں شام کے بارڈر پر ایک شہر ہے۔ وہاں سے واپس مکہ لوٹے اور شعب ابوطالب میں سکونت اختیار کیا۔ اور وہاں سے طا‎ئف چلے گئے۔ جب تک حجاج نے ابن زبیر کو مکہ میں محاصرے میں رکھا محمد حنفیہ طا‌‎ئف میں رہے۔ اس کے بعد پھر شعب ابو طالب واپس آ‎ئے۔ حجاج نے ان سے عبد الملک کے لئے بیعت طلب کی لیکن انہوں نے بیعت کرنے سے انکار کیا۔ ابن زبیر مرنے کے بعد محمد بن حنفیہ نے عبد الملک کو ایک خط لکھا اور اس سے امان مانگی اور عبد الملک نے اسے امان دی۔[10]

برجستہ واقعات

جنگوں میں شرکت

  • سنہ 36 ہجری میں جنگ جمل واقع ہو‎ئی۔ اس دن محمد حملہ کرنے سے رک گئے اور پرچم کو خود امام علی علیہ السلام نے سنبھالا اور جمل والوں کی فوج کو پسپا کرنے کے بعد پھر پرچم محمد کے حوالے کیا اور ان سے کہا: «دوبارہ حملہ کرکے اپنی گزشتہ کوتاہی کی اصلاح کرو» اور آپ نے خزیمہ بن ثابت (ذو الشّہادتین) اور بعض دوسرے انصار، جن میں سے بہت سارے بدر کے جنگجو تھے، ان کی مدد سے دشمن پر یکے پس از دیگرے حملہ کیا اور دشمن کو شکست سے دوچار کیا۔[11]
  • جنگ صفین میں محمد لشکر کے سرداروں میں سے تھے۔[12] علامہ مجلسی نے جنگ صفین میں ان کی موجودگی کا ایک واقعہ ذکر کیا ہے۔[13] محمد بن جنفیہ نے اپنے بابا سے اپنے اور حسنین کے درمیان تبعیض کی شکایت کی۔ حضرت علی (ع) نے ان کے سر کا بوسہ لیا اور فرمایا: میرے عزیز بیٹے، تم میرے بیٹے ہو اور وہ دونوں حسنین رسول خدا (ص) کی فرزند ہیں۔ کیا مجھے ان کی حفاظت نہیں کرنی چاہئے؟ محمد نے جواب دیا: بیشک بابا، میری جان آپ پر اور ان دونوں پر فدا ہو۔[14]
  • جنگ نہروان، محمد جنگ نہروان میں بھی شریک رہے اور بعض اوقات لشکر کے پرچم دار بھی رہے۔[15]

کربلا میں غیر حاضری

شیعہ علما اور رجال‌ کے ماہرین نے محمد بن حنفیہ کی واقعہ کربلا میں غیر حاضری کے دفاع میں کچھ دلایل پیش کئے ہیں۔ ان کے بقول محمد حنفیہ کا شرکت نہ کرنا امام حسین علیہ السلام کی نافرمانی یا مخالفت کی وجہ سے نہیں تھا اور امام کے ساتھ نہ آنے میں ان کی کچھ جا‎ئز وجوہات تھیں جن میں سے کچھ یہ ہیں:

  • امام علیہ السلام کے مدینہ اور مکہ سے نکلتے وقت ان کی بیماری۔

ان دلائل میں سے ایک جسے علامہ مجلسی نے علامہ حلی کے مہنا بن سنان کے جواب سے نقل کیا ہے۔ وہ دلیل امام علیہ السلام کے مدینے سے نکلتے ہو‎ئے وقت محمد حنفیہ کی بیماری پیش کیا ہے۔[16] مقرم نے ابن نما حلی کے حوالے سے ان کی بیماری آنکھوں کا درد بیان کیا ہے۔[17]

  • امام علیہ السلام کی طرف سے مدینہ میں رہنے پر مامور ہونا۔

ابن اعثم کوفی نقل کرتے ہیں: جب امام علیہ السلام مدینہ چھوڑ رہے تھے اور محمد بن حنفیہ امام (ع) کو مدینہ میں رہنے پر قانع نہ کر سکے تو اس وقت امام نے محمد بن حنفیہ سے فرمایا:

تمہارے مدینہ میں رکنے میں کو‎ئی حرج نہیں ہے۔ آپ ان لوگوں کے درمیان میرے مامور ہوں گے اور تمام حالات سے مجھے باخبر کریں۔[18]
  • امام حسین (ع) کی ہمراہی اور قیام میں شرکت کے سلسلہ میں امام کی طرف سے مکلف نہ ہونا۔

تنقیح المقال کے مصنف کا کہنا ہے کہ چونکہ امام حسینؑ نے‌ مدینہ یا‌ مکہ‌ میں کسی کو بھی اپنے ساتھ آنے کا حکم نہیں دیا۔ اس لئے محمد بن حنفیہ کا امام علیہ السلام کے ساتھ نہ آنے سے ان کی عدالت پر انگلی نہیں اٹھتی ہے۔ وہ لکھتے ہیں: امام حسین علیہ السلام جب حجاز سے عراق کی جانب روانہ ہو‎ئے تو جانتے تھے کہ شہادت نصیب ہونی ہے لیکن ظاہری طور پر جنگ کے قصد سے نہیں نکلے تاکہ تمام لوگوں پر جہاد کے عنوان سے امام کے ساتھ جانا واجب نہ ہو جا‎ئے؛ بلکہ اپنی ذمہ داری کے تحت، یعنی لوگوں کی طرف سے دعوت دی ہو‎ئی ظاہری رہبری اور پیشوا‎ئی کو اپنے ہاتھ لینے کی نیت سے نکلے۔ اس صورت میں دوسروں پر واجب نہیں کہ وہ امام کے ہمراہ چلیں اور اگر کو‎ئی ساتھ نہ چلے تو گناہ کا مرتکب نہیں ہوا ہے بلکہ گناہ گار وہ شخص ہے جس نے عاشورا کے دن کربلا میں امام (ع) کو دشمن کے نرغے میں دیکھتے ہو‎ئے امام کا ساتھ نہیں دیا اور امام کی مدد نہیں کی۔

لیکن جو لوگ حجاز میں تھے اور امام علیہ السلام کے ساتھ نہیں آ‎ئے وہ شروع سے ہی امام کے ساتھ آنے پر مکلف نہیں تھے۔ اور امام کے ساتھ نہ آنا فسق اور گناہ کا باعث نہیں ہے۔ مامقانی ان تمہیدی باتوں کے بعد کہتے ہیں: « اسی لئے، کچھ صالح اور اچھے لوگ حجاز میں تھے جن کے لئے شہادت کا شرف نصیب نہیں ہوا لیکن ان کی عدالت میں کسی ایک کو بھی شک نہیں تھا۔ پس محمد حنفیہ اور عبداللّہ بن جعفر کا امام کے ساتھ نہ آنا نافرمانی یا انحراف کی وجہ سے نہیں تھا۔[19]» اثبات الہداۃ میں بھی ایک حدیث امام صادق علیہ السلام سے نقل ہو‎ئی ہے: حمزہ بن حمران کہتے ہیں: امام حسین (ع) کے مدینہ سے نکلنے اور ابن حنفیہ کے ساتھ نہ جانے کے بارے میں امام سے پوچھا تو آپ نے فرمایا: اے حمزہ، تمہیں ایک حدیث بتاتا ہوں تاکہ اس کے بعد پھر کبھی یہ سوال نہ کر سکو، جب امام علیہ السلام مدینہ سے نکلے تو ایک کاغذ مانگا اور اس پر لکھا:

«بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم۔ حسین بن علی بن ابی طالب کی طرف سے بنی ہاشم کے نام: اما بعد، جو بھی میرے ساتھ چلے گا وہ شہید ہوگا اور جو بھی یہ کام نہیں کرے گا کامیاب نہیں ہوگا۔ والسلام»[20]

علامہ مجلسی، امام علیہ السلام کے اسے جملے کے بارے میں فرماتے ہیں: اس جملے کا ظاہر تو مذمت بتاتا ہے لیکن یہ احتمال بھی دیا جا سکتا ہے کہ امام نے دوسرے لوگوں کو اپنے ساتھ آنے یا نہ آنے میں اختیار دیا ہے اور چونکہ ساتھ آنا ایک واجب کام نہیں بلکہ اختیاری تھا اس لئے ساتھ نہ آنا گناہ شمار نہیں ہوگا۔[21]

حسین بن علیؑ کو یزید کی بیعت پر مجبور کرنے اور امام کے انکار کے بعد محمد حنفیہ نے اپنے بھایی کی جان بچانے کی خاطر آپ کو مکہ جانے اور وہاں پر بھی خطرہ ہوا تو وہاں سے یمَن اور یمن میں بھی خطرہ کا احساس کیا تو صحراوں اور کوہستانوں میں پناہ لینے کی تجویز پیش کی۔ امام حسین علیہ السلام نے آپ کی تجویز کی تعریف کی اور فرمایا: بھا‎ئی، آپ کو اجازت ہے کہ مدینہ میں میرے مامور کی حیثیت سے رہیں اور دشمنوں کے امور سے مجھے باخبر رکھیں۔[22]

امام سجادؑ سے بحث

محمد بن حنفیہ نے امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد امام سجاد علیہ السلام کو ایک خط لکھا اور اس میں اپنی امامت قبول کرنے کی درخواست کی۔ ان کی دلیل یہ تھی کہ امام (ع) نے پہلے دو اماموں کے برخلاف اپنے بعد کسی کو امام معین نہیں کیا ہے اور وہ علی علیہ السلام کے بلا فصل فرزند ہیں۔ عمر اور زیادہ احادیث نقل کرنے کے اعتبار سے انہیں زین العابدین پر برتری حاصل ہے۔[23] امام سجاد (ع) نے اپنے چچا کے جواب میں ان کو جہالت سے دوری اور اللہ تعالی سے ڈرنے کی نصیحت کی اور لکھا:

میرے والد نے عراق کے سفر سے پہلے میری امامت کی وصیت کی تھی اور اپنی شہادت سے کچھ لمحے پہلے بھی مجھ سے عہد لیا ہے۔

امام سجادؑ نے محمد حنفیہ کو دعوت دی کہ حجر الاسود جاکر وہاں اپنا مسئلہ حل کرینگے۔ حجر اسود ہم میں سے جس کی امامت کی گواہی دے وہی امام ہے۔ وہاں جا کر پہلے محمد نے اللہ کے حضور گریہ و زاری کے بعد دعا کی اور حجر اسود سے اپنی امامت کی گواہی کی درخواست کی لیکن کو‎ئی جواب نہیں ملا۔ پھر امام سجاد نے دعا کی اور حجر اسود سے اپنی امامت کی گواہی کا مطالبہ کیا تو حجر اسود سے آواز آ‎ئی اور علی بن الحسین کی امامت کی گواہی دی اور محمد حنفیہ نے بھی آپ کی امامت کو قبول کیا۔[24] بعض علماء نے اس منازعہ کے نمائشی ہونے کا احتمال دیا ہے تا کہ ضعفائے شیعہ محمد کی طرف مائل نہ ہوں۔[25]

امام صادق علیہ السلام سے ایک حدیث میں نقل ہوا ہے کہ محمد حنفیہ امام سجاد کی امامت پر عقیدہ رکھتے تھے[26] اور قطب الدین راوندی نے ابن حنفیہ کے خادم ابو خالد کابلی سے نقل کیا ہے جس میں اس نے ابن حنفیہ سے امام سجاد کی امامت کے بارے میں سوال کیا تو محمد نے جواب میں کہا: میرے اور تمہارے اور تمام مسلمانوں کے امام علی بن الحسین علیہ السلام ہیں۔[27]

عبداللہ بن زبیر کی مخالفت

جب مختار نے کوفہ پر قبضہ کیا تو لوگوں کو محمد بن حنفیہ کی طرف دعوت دی۔ اس وقت مکہ و مدینہ پر عبد اللّہ بن زبیر مسلط تھا۔ اس نے اس خوف سے کہ کہیں لوگ محمد بن حنفیہ کی طرف نہ جا‎ئیں۔ ان سے اور عبد اللہ بن عباس سے اپنی بیعت کا مطالبہ کیا لیکن انہوں نے اس کی بیعت نہیں کی۔ اسی وجہ سے ابن زبیر نے انہیں زمزم کے حجرے میں قید کر دیا اور قتل کی دھمکی دی۔ محمد بن حنفیہ اور ابن عباس نے مختار سے مدد کا مطالبہ کرکے خط لکھا۔ مختار نے خط پڑھنے کے بعد ظبیان بن عمارہ کو چار سو آدمی، چار لاکھ درہم اور بہت سارے لوگوں کے ساتھ مکہ بھیجا اور انہیں آزاد کرایا۔[28] محمد حنفیہ وہاں سے شعب ابی طالب چلے گئے اور مختار کے قتل ہونے تک وہیں پر رہے۔[29]

کیسانیہ

کیسانیوں کے مطابق محمد بن حنفیہ نے حسین بن علی کی شہادت کے بعد مختار کو عراقیوں کوفہ و بصرہ کا حاکم بنا دیا اور ان سے امام حسین کے قاتلوں سے خونخواہی کا مطالبہ کیا۔ امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے کچھ مدت بعد کیسانیہ نے قیام کیا اور محمد بن حنفیہ کی امامت کے قا‎ئل ہوگئے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ انہوں نے دین کے اسرار، علم تاویل اور باطنی علوم کو امام حسن اور امام حسین سے کسب کیا ہے۔ بعض لوگ ان کو شریعت کے ارکان جیسے نماز اور روزہ سے تاویل کرتے ہو‎ئے حلول اور تناسخ کے قا‎ئل تھے، کیسانیہ کے تمام فرقے محمد بن حنفیہ کی امامت اور اللہ تعالی کے لئے بداء کے صحیح ہونے میں متفق تھے۔ اس فرقے کو مختاریہ بھی کہا گیا ہے۔[30]

مختار سے رابطہ

محمد بن حنفیہ اور مختار کے باہمی رابطے کے بارے میں اختلاف نظر پایا جاتا ہے؛ بعض کا کہنا ہے کہ ان کو مختار پر کو‎ئی اعتقاد نہیں تھا اور انہوں نے مختار کو اپنی نمایندگی نہیں دی تھی، بعض لوگ مختار کو ان کا نمایندہ سمجھتے ہیں اور بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ مختار ان کی طرف سے مامور تو نہیں تھا لیکن مختار کے کاموں پر محمد حنفیہ ضمنی طور پر راضی تھے۔[31]

ان کے مہدی ہونے کا عقیدہ

اسلامی مذاہب و فرق کے بعض محققین کا کہنا ہے کہ محمد حنفیہ اسلام میں اولین شخص ہیں جنہیں مہدی کا نام دیا گیا۔[32] ان کی مہدی ہونے کا عقیدہ رکھنے والوں کا دعوا ہے کہ آپ کوہ رضوی میں سکونت پذیر ہیں اور اللہ تعالی کی طرف سے ان کے فرج کا حکم آنے تک دودھ اور شہد کی دو نہروں سے کھاتے اور سیراب ہوتے ہیں۔[33] آیت اللہ خویی نے محمد بن حنفیہ کو کیسانیہ سے مبرا سمجھا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ کیسانیہ محمد حنفیہ کے بعد وجود میں آ‎ئے ہیں۔[34]

وفات اور محل دفن

شیخ طوسی نے کشی کے حوالے سے امام باقر علیہ السلام سے ایک روایت نقل کی ہے۔ جس میں امام (ع) فرماتے ہیں:

محمد بن حنفیہ کی بیماری کے دوران میں اس کے پاس تھا میں نے خود ان کی آنکھیں بند کیں، انہیں غسل دیا، ان پر نماز پڑھی اور دفن کیا۔[35] البتہ غیر شیعہ منابع میں ذکر ہوا ہے کہ (تیسرے خلیفہ کے بیٹے) ابان بن عثمان نے ان کی نماز جنازہ پڑھی۔[36]

محمد ابن حنفیہ کہاں دفن ہو‎ئے ان کے محل دفن میں اختلاف ہے؛ سید محسن امین عاملی نے تین جگہوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ایلہ، طا‌‎ئف اور مدینہ میں قبرستان بقیع[37] لیکن قوی احتمال یہ ہے آپ نے مدینہ میں وفات پائی ہے۔[38]

ایران میں مزار: جزیرہ خارق اور رودبار کے علاقے میں موجود مزارات کی نسبت محمد بن حنفیہ کی طرف نسبت دی گئی ہے۔ ان کے محل وفات کو دیکھتے ہوئے ان مزارات کا ان سے انتساب بعید معلوم ہوتا ہے۔

متعلقہ صفحات

حوالہ جات

  1. أنساب الأشراف، ج۲، ص۲۰۰.
  2. الطبقات الکبری، ج۵، ص:۸۷.
  3. بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۱۷ق، ج۲،‌ص۲۰۰-۲۰۱.
  4. شمس الدين الذہبی، تاريخ الإسلام وَوَفيات المشاهير وَالأعلام، ج2 ص994۔
  5. صابری، ج۲، ص۵۱.
  6. صابری، ج۲، ص۵۴.
  7. کشی، ص۷۰.
  8. تنقیح المقال، ج۳، ص۱۱۱.
  9. صابری، ج۲، ص۵۲ و ۵۳.
  10. دیکھ‎ئے: نوبختی، ص ۸۶-۸۷.
  11. مدرس وحید، ج۲، ص۳۵۷؛ نک: ری ‌شہری، ج۱، ص۱۸۳.
  12. ابن شهر آشوب، مناقب آل أبی طالب علیهم السلام، ۱۳۷۹ق، ج۳، ص۱۶۸.
  13. مجلسی،‌ بحار الانوار، ۱۴۰۳ق، ج۴۵، ص۳۴۹.
  14. مجلسی،‌ بحار الانوار، ۱۴۰۳ق، ج۴۵، ص۳۴۹.
  15. حمیری، قرب الإسناد، ۱۴۱۳ق، ص۲۷.
  16. بحار الانوار، ج۴۲،ص۱۱۰
  17. المقرم، ص۱۳۵
  18. ابن ‌اعثم،‌ ہمان،‌ ص۲۳
  19. مامقانی،‌ عبداللّہ.‌ ۱۳۵۲ ق، تنقیح المقال فی علم احوال الرجال، ج۳، ص۱۱۱، بی‌جا، مطبعۃ الحیدریۃ.
  20. حر عاملی،اثبات الہداہ، ج۴، ص۴۲
  21. بحار، ج۴۲، ص ۸۱.
  22. قمی، ص۹۸.
  23. صفار، بصائر الدرجات، ص۵۲۲؛ ابن بابویہ، ص۶۲-۶۰؛ کلینی، ج۱، ص۳۴۸
  24. دیکھیے: صفار، ص۵۰۲؛ ابن بابویہ، ص۶۲-۶۰؛ کلینی، ج۱، ص۳۴۸
  25. الخرائج و الجرائج، ج۱، ص۲۵۸ و بحار الانوار، ج۴۶، ص ۳۰
  26. الإمامۃ و التبصرۃ من الحیرۃ، ص۶۰
  27. قطب راوندی، ج۱، ص۲۶۲-۲۶۱
  28. أخبار الدولۃ العباسیۃ، ص ۹۹ - ۱۰۰
  29. نوبختی، ص۸۵ و ۸۶.
  30. نوبختی، ص۸۷.
  31. دیکھئے: تاریخ سیاسی صدر اسلام، ص ۲۱۴ و ۲۱۵؛ نوبختی، ج۲، ص ۵۲ و ۵۳.
  32. صابری، ج۲، ص۵۵.
  33. اشعری، مقالات الاسلامیین، تحقیق: محمد محیی‎ الدین عبد الحمید، ج۱، ص۹۰ و ۹۱؛ بغدادی، الفرق بین الفرق، قاہرہ، مکتبۃ محمد صبیح و اولادہ، ص۳۹، ۴۱ و ۴۳.
  34. معجم الرجال، ج ۱۸، ص ۱۰۳-۱۰۲
  35. رجال کشی، ص۳۱۵
  36. تہذیب الکمال، ج۱۰، ص ۲۸۵.
  37. اعیان الشیعہ، ج۱۴، ص ۲۷۰.
  38. تہذیب‌ الکمال، ج۱۰ص ۲۸۵؛ ریحانۃ‌الادب، ج۷، ص۴۸۴.


مآخذ

  • ابن بابویہ، علی بن حسین، الإمامۃ و التبصرۃ من الحیرۃ، مدرسہ الامام المہدی(عج)، قم، ۱۳۶۳ش.
  • ابن جوزی، عبد الرحمن بن علی، المنتظم فی تاریخ الملوک و الامم، تحقیق محمد و مصطفی عبد القادر عطا، دار الکتب العلمیہ، بیروت، ۱۴۱۷ق/۱۹۹۲م.
  • ابن خلکان، احمد بن محمد بن ابی بکر، وفیات الاعیان و انباء ابناء الزمان، تحقیق احسان عباس، دار الثقافہ، بیروت، ۱۹۶۸م.
  • ابن سعد، محمد، الطبقات الکبری، محقق: محمد عبد القادر عطا، ‌دار الکتب العلمیہ، بیروت.
  • ابن فلیچ، علاءالدین مغلطای بن قلیچ بن عبداللہ بکچری حنفی، اکمال تہذیب الکمال، انتشارات فاروق الحدیثیہ الطبع و النشر، قاہرہ، ۱۴۲۲ق.
  • اشعری، علی بن اسماعیل، مقالات الاسلامیین، تحقیق: محمد محیی‎الدین عبد الحمید، قاہرہ، مکتبۃ النہضۃ المصریۃ، ۱۳۶۹ق.
  • الامین، سید محسن، اعیان‌ الشیعۃ، المحقق حسن الامین، دار التعارف، بیروت، ۱۴۲۰ق/۲۰۰۰م.
  • بغدادی، عبد القاہر بن طاہر تمیمی، قاہرہ، مکتبۃ محمد صبیح و اولادہ، بی‎تا.
  • بلاذری، احمد بن یحیی بن جابر، کتاب جمل من انساب الأشراف، تحقیق سہیل زکار و ریاض زرکلی، بیروت، دار الفکر، طبعۃ الأولی، ۱۴۱۷ق/۱۹۹۶م.
  • راوندی، قطب، الخرائج و الجرائج، مدرسہ امام مہدی، قم، ۱۴۰۹ق، چاپ اول.
  • ذہبی، شمس الدين أبو عبد الله محمد بن أحمد بن عثمان بن قَايْماز، تاريخ الإسلام وَوَفيات المشاهير وَالأعلام (ت بشار)، دار الغرب الإسلامی، الطبعۃ: الأولى، 2003 م
  • شریف الرضی، محمد بن حسین، شرح نہج البلاغۃ، شارح: احمد مدرس وحید، ناشر: احمد مدرس وحید، قم.
  • صابری، حسین، تاریخ فرق اسلامی، سمت، تہران، ۱۳۸۸ش.
  • صفار، محمد بن حسن، بصائر الدرجات فی فضائل آل محمد(ص)، مصحح: محسن کوچہ باغی، مکتبۃ آیۃ اللہ العظمی المرعشی النجفی، قم.
  • قطب راوندی، سعید بن ہبۃ اللہ، الخرائج و الجرائح، مؤسسۃ الإمام المہدی علیہ‌السلام، قم.
  • قمی، عباس، در کربلا چہ گذشت؟ ترجمہ نفس المہموم، محقق: محمد باقر کمرہ‌ای، انتشارات مسجد مقدس جمکران، قم، ۱۳۸۱ش.
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، مصحح: محمد آخوندی و علی اکبر غفاری، دار الکتب الاسلامیہ، تہران.
  • محمدی ری شہری، محمد، دانش نامہ امیرالمومنین علیہ‌السلام بر پایہ قرآن، حدیث و تاریخ، ترجمہ عبدالہادی مسعودی، دارالحدیث، قم، ۱۴۲۸ق/۱۳۸۶ش.
  • مدرس، میرزا محمد علی، ریحانۃ الادب، ناشر کتابفروشی خیام، چاپ سوم، ۱۳۶۹ش.
  • مؤلف مجہول (قرن ۳)، أخبار الدولۃ العباسیۃ و فیہ أخبار العباس و ولدہ، تحقیق عبد العزیز الدوری و عبد الجبار المطلبی، بیروت، دارالطلیعۃ، ۱۳۹۱ش.
  • نوبختی، حسن بن موسی، ترجمہ فرق الشیعہ نوبختی با دو مقدمہ: زندگی نامہ نوبختی و کتاب‌ ہای فرق الشیعہ: نگاہی بہ شیعہ و دیگر فرقہ‌ہای اسلام تا پایان قرن سوم ہجری، مترجم: محمد جواد مشکور، بنیاد فرہنگ ایران، تہران، ۱۳۵۳ش.
  • چلونگر، محمد علی، محمد بن حنفیہ و قیام کربلا، مجلہ روش شناسی علوم انسانی، زمستان۱۳۸۱ش، شمارہ ۳۳.