خطبہ وسیلہ

نامکمل زمرہ
ویکی شیعہ سے
خطبہ وسیلہ
خطبہ وسیلہ
حدیث کے کوائف
موضوعتوصیف خداوندعالم، اخلاقی وعظ و نصیحت، وسیلہ کی اہمیت کا بیان، فضائل امام علی اور خلافت میں انحراف۔
صادر ازامام باقر علیہ السلام از حضرت علی علیہ السلام
اصلی راویجعفر بن یزید جعفی
شیعہ مآخذالکافی، الامالی شیخ صدوق، تحف العقول
مشہور احادیث
حدیث سلسلۃ الذہب . حدیث ثقلین . حدیث کساء . مقبولہ عمر بن حنظلہ . حدیث قرب نوافل . حدیث معراج . حدیث ولایت . حدیث وصایت . حدیث جنود عقل و جہل


خطبہ وسیلہ حضرت علی علیہ السلام سے منسوب خطبوں میں سے ایک ہے۔ اس اخلاقی وعظ کے خطبہ میں وسیلہ کی اہمیت کا بیان، فضائل امام علی، واقعہ غدیر اور خلافت میں انحراف جیسے موضوعات کا بیان ہے۔ کہتے ہیں کہ یہ خطبہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ کی رحلت کے سات دن بعد مدینہ میں پڑھا گیا اور چونکہ اس میں "وسیلہ" کا تذکرہ ہے لہذا "خطبہ وسیلہ" کے نام سے مشہور ہوگیا۔ وسیلہ کو قیامت میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ کا خاص مقام بیان کیا گیا ہے۔ یہ خطبہ نہج البلاغہ میں نہیں آیا ہے اور اس خطبہ کی سند بھی ضعیف شمار کی گئی ہے؛ لیکن محمد باقر مجلسی نے خطبہ کی شہرت اور اس کے مضامین کی وجہ سے اسے صحیح السند اور سند سے بے نیاز قرار دیا ہے۔

وجہ تسمیہ

حضرت علیؑ نے اس خطبہ میں لفظ وسیلہ استعمال کیا ہے اور وسیلہ کی اہمیت اور کیفیت سے گفتگو کی ہے اسی لئے اس خطبہ کو خطبہ وسیلہ کہتے ہیں۔[1] کہا گیا ہے کہ وسیلہ، محشر میں پیغمبر اسلامؐ کا ایک خاص مقام ہے۔[2] اس خطبہ میں بیان ہوا ہے کہ اللہ نے اپنے نبی سے مقام وسیلہ کا وعدہ کیا ہے۔ وہ مقام جو جنت کی سیڑھی کے قریب ہے اور وہ قرب الہی کے برترین درجوں میں ہے اور بڑی آرزؤں کی انتہا ہے، اور وہ مقام ہے جس کے ایک ہزار زینے ہیں اور رسول اکرمؐ ایک نور کے زینہ پر اور حضرت علیؑ اس کے نیچے والے زینہ پر ہیں۔[3]

وقت اور مقام

حضرت علیؑ نے خطبہ وسیلہ کو مدینہ میں رسول اسلامؐ کی رحلت کے سات روز بعد لوگوں کے لئے بیان فرمایا[4] امام محمد باقرؑ سے منقول ہے کہ آپ نے یہ خطبہ اس وقت پڑھا جب آپ قرآن کی جمع آوری کو مکمل کرچکے تھے۔[5]

مندرجات

خطبہ وسیلہ اللہ کی حمد و ثنا اور صفات خدا کے ساتھ شروع ہوتا ہے۔[6] اور اس میں اخلاقی وعظ و نصیحت راہ سعادت اور اس کی اہمیت، اللہ کی مختلف نعمتوں سے بہرہ مندی، حضرت علیہ السلام کا فضل و مرتبہ، خلافت میں انحراف[7] مقام وسیله،[8] واقعه غدیر[9] وغیرہ کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے۔ خطبہ کے بعض حصوں میں مولا نے اپنے فضائل کی طرف اشارہ فرمایا ہے اور خود کو ذکر، سبیل، ایمان، قرآن، دین،[10] کشتی نوح، نبأ عظیم اور صدیق اکبر کہا ہے۔[11] امام نے خطبہ کے دوسرے حصہ میں حدیث «إِنَّ عَلِیّاً مِنِّی کهَارُونَ‏ مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِیَّ بَعْدِی» اور واقعہ غدیر سے استناد کرتے ہوئے اپنی خلافت کو ثابت کیا ہے اور ابوبکر و عمر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان دونوں کی مذمت کی ہے۔[12] کچھ لوگوں کی نظر میں خطبہ وسیلہ کے مضامین و مندرجات کے پیش نظر یہ خطبہ، شیعہ مکتب کی عظمت اور اس کے تعارف کے لیے کافی ہے۔[13]

خطبہ کے مآخذ

تیسری اور چوتھی صدی کے شیعہ عالم کلینی [14] نے کتاب کافی، کے روضہ کے حصہ میں مکمل طور سے اس خطبہ کو ذکر کیا گیا ہے۔ اسی طرح الامالی شیخ صدوق جیسے مآخذ میں [15]، چوتھی صدی کے عالم[16] شیخ صدوق کی کتاب من لایحضره الفقیه، چوٹھی صدی کے فقیہ ابن شعبه حرانی کی کتاب تحف العقول[17] میں بھی اس کا کچھ حصہ آیا ہے۔ یہ خطبہ نہج البلاغہ میں نہیں آیا ہے۔‌[18] لیکن کتاب تمام نہج البلاغہ میں نقل ہوا ہے۔[19]

سند و اعتبار

خطبہ وسیلہ کو جابر بن یزید جعفی نے انسان محمد باقر علیہ السلام کے تو ذریعہ حضرت علی علیہ السلام سے نقل کیا ہے۔[20] جناب جابر، اصحاب امام محمد باقر علیہ السلام[21] اور اصحاب امام صادق علیہ السلام[22] میں سے تھے۔ اس کے باوجود علمائے رجال نے ان کی وثاقت یا عدم وثاقت میں اختلاف کیا ہے۔[23] احمد بن علی نجاشی ان کو «فی نفسه مختلط» (راوی کے ضعیف ہونے پر دلالت کرنے والی ایک تعبیر) کہا ہے اور ان کے راوی جیسے اس خطبہ کی سند میں موجود عمرو شمر کو،[24] ضعیف شمار کیا ہے[25] ابن غضائری نے جابر کو ثقه مانا ہے لیکن ان تمام لوگوں کو ضعیف قرار دیا ہے جو ان سے روایت نقل کرتے ہیں۔[26] علامه حلی نے ان کے بارے میں توقف اختیار کیا ہے یعنی ان میں سے کسی نظریہ کو دوسرے نظریہ پر فوقیت نہیں دی ہے۔[27] علامه مجلسی نے خطبہ وسیلہ کی سند کو ضعیف شمار کیا ہے؛ لیکن خطبہ کے مندرجات کی صحت و قوت نیز اس خطبہ کی شہرت کے سبب اس کو صحیح اور سند سے بے نیاز قرار دیا ہے۔ا[28]

متن اور ترجمہ

متن ترجمه
مُحَمَّدُ بْنُ عَلِی بْنِ مَعْمَرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِی بْنِ عُکایَةَ التَّمِیمِیّ عَنِ الْحُسَینِ بْنِ النَّضْرِ الْفِهْرِی عَنْ أَبِی عَمْرٍو الْأَوْزَاعِی عَنْ عَمْرِو بْنِ شِمْرٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ یَزِیدَ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَبِی جَعْفَرٍ ع فَقُلْتُ یا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ قَدْ أَرْمَضَنِی‏ اخْتِلَافُ الشِّیعَةِ فِی مَذَاهِبِهَا فَقَالَ یا جَابِرُ أَ لَمْ أَقِفْکَ عَلَى مَعْنَى اخْتِلَافِهِمْ مِنْ أَیْنَ اخْتَلَفُوا وَ مِنْ أَیِّ جِهَةٍ تَفَرَّقُوا قُلْتُ بَلَى یا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ قَالَ فَلَا تَخْتَلِفْ إِذَا اخْتَلَفُوا یا جَابِرُ إِنَّ الْجَاحِدَ لِصَاحِبِ الزَّمَانِ کالْجَاحِدِ لِرَسُولِ اللَّهِ ص فِی أَیَّامِهِ یا جَابِرُ اسْمَعْ وَ عِ قُلْتُ إِذَا شِئْتَ‏ قَالَ اسْمَعْ وَ عِ وَ بَلِّغْ حَیْثُ انْتَهَتْ بِکَ رَاحِلَتُکَ. جابر بن یزید کہتے ہیں کہ میں امام باقر علیہ السلام کی خدمت میں شرفیاب ہوااور آپ سے عرض کی اے فرزند رسول! اپنے مذہب کے سلسلہ میں شیعوں کے اندرونی اختلاف نے مجھے اندر سے جھلسا دیا ہے۔ آپ نے فرمایا اے جابر کیا تمہیں ان کے اختلاف کا مطلب بتاؤں کہ وہ لوگ کہاں سے اختلاف کا شکار ہوئے اور کس پہلو سے تفرقہ میں پڑگئے۔ میں نے کہا ہاں یا بن رسول اللہ، آپ نے فرمایا تو پھر اگر وہ اختلاف کریں تو تم اختلاف میں نہ پڑنا۔ اے جابر اپنے زمانے کے امام کا انکار کرنے والا اسی شخص کی طرح ہے جس نے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ) کے زمانے میں آپ کا انکار کیا۔ اے جابر سنو اور اچھی طرح ذہن نشین کرلو، میں نے کہا جیسا آپ کا حکم۔ فرمایا سنو اور اچھی طرح ذہن نشین کرکے جہاں تک تمہاری سواری جائے اسے پہنچادو۔


حوالہ جات

  1. مازندرانی، شرح الکافی، ۱۳۸۲ق، ج۱۱، ص۲۰۲.
  2. کلینى، الروضة من الكافی، ترجمه سیدهاشم رسولى محلاتى، ۱۳۶۴ش،‌ ج۱،‌ ص۲۵.
  3. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۸، ص۲۴ و ۲۵.
  4. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ھ، ج۸، ص۱۸.
  5. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ھ، ج۸، ص۱۸.
  6. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۸، ص۱۸.
  7. حسینی تهرانی، امام شناسی، ۱۴۲۶ش، ج۱۰، ص۱۴۵-۱۴۷.
  8. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۸، ص۲۴ و ۲۵.
  9. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۸، ص۲۷.
  10. نگاه کنید به:‌ کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۸، ص۲۷و۲۸.
  11. نگاه کنید به:‌ کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۸، ص۳۰.
  12. نگاه کنید به:‌ کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۸، ص۲۷-۳۰.
  13. حسینی تهرانی، امام شناسی، ۱۴۲۶ش، ج۱۰، ص۱۴۶.
  14. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۸، ص۱۸-۳۰.
  15. شیخ صدوق، الامالی، ۱۳۷۶ش، ص۳۲۰-۳۲۲.
  16. شیخ صدوق،‌ من لایحضره الفقیه، ۱۴۱۳ق، ج۴، ص۴۰۶.
  17. ابن شعبه حرانى،‌ تحف العقول، ۱۴۰۴ق، ص۹۳-۱۰۰.
  18. مکارم شیرازی، پیام امام امیرالمؤمنین(ع)، ۱۳۸۶ش، ج۱۲،‌ ص۲۱۹، ۲۳۳، ۲۲۹ و ۳۱۹.
  19. موسوی، تمام نهج البلاغه، ۱۳۷۶ش، ص۱۴۷، خطبه ۱۲.
  20. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۸، ص۱۸؛ شیخ صدوق، الامالی، ۱۳۷۶ش، ص۳۲۰.
  21. ابن شهر آشوب، مناقب آل ابی‌طالب، ۱۳۷۹ق، ج۴، ص۲۱۱.
  22. ابن شهر آشوب، مناقب آل ابی‌طالب، ۱۳۷۹ق، ج۴، ص۲۸۱.
  23. دیکھئے: علامه حلی، رجال العلامة الحلی، ۱۴۱۱ق، ص۳۵.
  24. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۸، ص۱۸؛ شیخ صدوق، الامالی، ۱۳۷۶ش، ص۳۲۰.
  25. نجاشی، رجال النجاشی، ۱۳۶۵ش، ص۱۲۸.
  26. ابن غضائری، الرجال، ۱۳۶۴ش، ص۱۱۰.
  27. علامه حلی، رجال العلامة الحلی، ۱۴۱۱ق، ص۳۵.
  28. مجلسی، مرآة العقول، ۱۴۰۴ق، ج۲۵؛ ص۲۵.

مآخذ

  • ابن شعبہ حرانى، حسن بن على، تحف العقول، تحقیق و تصحیح علی‌اکبر غفاری، قم، جامعہ مدرسین، چاپ دوم، ۱۴۰۴-۱۳۶۳ھ۔
  • ابن شہر آشوب مازندرانی، محمد بن علی، مناقب آل ابی‌طالب(ع)، قم، علامہ، چاپ اول، ۱۳۷۹ھ۔
  • ابن غضائری، احمد بن حسین، الرجال، تحقیق و تصحیح محمد رضا حسینی، قم، دارالحدیث، چاپ اول، ۱۳۶۴ہجری شمسی۔
  • حسینی تہرانی، سید محمدحسین، امام‌شناسی، مشہد،‌ علامہ طباطبایی، چاپ سوم، ۱۴۲۶ہجری شمسی۔
  • شیخ صدوق، محمد بن على، الأمالی، تہران، کتابچی، چاپ ششم، ۱۳۷۶ہجری شمسی۔
  • شیخ صدوق،‌ محمد بن على، من لایحضرہ الفقیہ، تحقیق و تصحیح علی‌اکبر غفاری، قم، دفتر انتشارات اسلامی، چاپ دوم، ۱۴۱۳ھ۔
  • علامہ حلی، حسن بن یوسف، رجال العلامة الحلی، تحقیق و تصحیح محمد صادق بحرالعلوم، نجف، دارالذخائر، چاپ دوم، ۱۴۱۱ھ۔
  • کلینى، محمد بن یعقوب، الروضة من الكافی، ترجمہ سیدہاشم رسولى محلاتى، تہران، انتشارات علمیہ اسلامیہ‏، چاپ اول، ۱۳۶۴ہجری شمسی۔
  • کلینى، محمد بن یعقوب، الکافی، تہران، الإسلامیة، چاپ چہارم، ۱۴۰۷ھ۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، پیام امام امیرالمؤمنین(ع)، تہران، دارالکتب الاسلامیہ، چاپ اول، ۱۳۸۶ہجری شمسی۔
  • موسوی، سید صادق، تمام نہج البلاغہ، مشہد، مؤسسہ امام صاحب الزمان(ع)، ۱۳۷۶ہجری شمسی۔
  • نجاشی، احمد بن علی، رجال النجاشی، قم، دفتر نشر اسلامی، چاپ ششم، ۱۳۶۵ہجری شمسی۔