خطبہ وسیلہ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
خطبہ وسیلہ
حدیث کے کوائف
موضوع: توصیف خداوندعالم، اخلاقی وعظ و نصیحت، وسیلہ کی اہمیت کا بیان، فضائل امام علی اور خلافت میں انحراف۔
صادر از: امام باقر علیہ السلام از حضرت علی علیہ السلام
اصلی راوی: جعفر بن یزید جعفی
شیعہ مآخذ: الکافی، الامالی شیخ صدوق، تحف العقول
مشہور احادیث
حدیث سلسلۃ الذہب.حدیث ثقلین.حدیث کساء.مقبولہ عمر بن حنظلہ.حدیث قرب نوافل.حدیث معراج. حدیث ولایت.حدیث وصایت.حدیث جنود عقل و جہل


خطبہ وسیلہ حضرت علی علیہ السلام سے منسوب خطبوں میں سے ایک ہے۔ اس اخلاقی وعظ کے خطبہ میں وسیلہ کی اہمیت کا بیان، اور فضائل امام علی، واقعہ غدیر اور خلافت میں انحراف جیسے موضوعات کا بیان ہے۔ کہتے ہیں کہ یہ خطبہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ کی رحلت کے سات دن بعد مدینہ میں پڑھا گیا اور چونکہ اس میں "وسیلہ" کا تذکرہ ہے لہذا "خطبہ وسیلہ" کے نام سے مشہور ہوگیا۔ وسیلہ کو قیامت میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ کا خاص مقام بیان کیا گیا ہے۔ یہ خطبہ نہج البلاغہ میں نہیں آیا ہے اور اس خطبہ کی سند بھی ضعیف شمار کی گئی ہے؛ لیکن محمد باقر مجلسی نے خطبہ کی شہرت اور اس کے مضامین کی وجہ سے اسے صحیح السند اور سند سے بے نیاز قرار دیا ہے۔

وجہ تسمیہ

کیونکہ حضرت علی نے اس خطبہ میں لفظ وسیلہ استعمال کیا ہے اور وسیلہ کی اہمیت اور کیفیت سے گفتگو کی ہے اسی لئے اس خطبہ کر خطبہ وسیلہ کہتے ہیں۔[1] کہا گیا ہے کہ وسیلہ، محشر میں پیغمبر اسلام کا ایک خاص مقام ہے۔[2] اس خطبہ میں بیان ہوا ہے کہ اللہ نے اپنے نبی سے مقام وسیلہ کا وعدہ کیا ہے۔ وہ مقام جو جنت کی سیڑھی کے قریب ہے اور وہ قرب الہی کے برترین درجوں میں ہے اور بڑی آرزؤں کی انتہا ہے، اور وہ مقام ہے جس کے ایک ہزار زینے ہیں اور رسول اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ ایک نور کے زینہ پر اور حضرت علی علیہ السلام اس کے نیچے والے زینہ پر ہیں۔[3]


وقت اور مقام

حضرت علی علیہ السلام نے خطبہ وسیلہ کو مدینہ میں رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ کی رحلت کے سات روز بعد لوگوں کے لئے بیان فرمایا[4] امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ نے یہ خطبہ اس وقت پڑھا جب آپ قرآن کی جمع آوری کو مکمل کرچکے تھے۔[5]

مندرجات

خطبہ وسیلہ اللہ کی حمد و ثنا اور صفات خدا کے ساتھ شروع ہوتا ہے۔[6] اور اس میں اخلاقی وعظ و نصیحت راہ سعادت اور اس کی اہمیت، اللہ کی مختلف نعمتوں سے بہرہ مندی، حضرت علیہ السلام کا فضل و مرتبہ، خلافت میں انحراف[7] مقام وسیله،[8] واقعه غدیر[9] وغیرہ کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے۔ خطبہ کے بعض حصوں میں مولا نے اپنے فضائل کی طرف اشارہ فرمایا ہے اور خود کو ذکر، سبیل، ایمان، قرآن، دین،[10] کشتی نوح، نبأ عظیم اور صدیق اکبر کہا ہے۔[11] امام نے خطبہ کے دوسرے حصہ میں حدیث «إِنَّ عَلِیّاً مِنِّی کهَارُونَ‏ مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِیَّ بَعْدِی» اور واقعہ غدیر سے استناد کرتے ہوئے اپنی خلافت کو ثابت کیا ہے اور ابوبکر و عمر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان دونوں کی مذمت کی ہے۔[12] کچھ لوگوں کی نظر میں خطبہ وسیلہ کے مضامین و مندرجات کے پیش نظر یہ خطبہ، شیعہ مکتب کی عظمت اور اس کے تعارف کے لیے کافی ہے۔[13]

خطبہ کے مآخذ

تیسری اور چوتھی صدی کے شیعہ عالم کلینی [14] نے کتاب کافی، کے روضہ کے حصہ میں مکمل طور سے اس خطبہ کو ذکر کیا گیا ہے۔ اسی طرح الامالی شیخ صدوق جیسے مآخذ میں [15]، چوتھی صدی کے عالم[16] شیخ صدوق کی کتاب من لایحضره الفقیه، چوٹھی صدی کے فقیہ ابن شعبه حرانی کی کتاب تحف العقول[17] میں بھی اس کا کچھ حصہ آیا ہے۔ یہ خطبہ نہج البلاغہ میں نہیں آیا ہے۔‌[18] لیکن کتاب تمام نهج‌البلاغه میں نقلہوا ہے۔[19]


سند و اعتبار

خطبہ وسیلہ کو جابر بن یزید جعفی نے انسان محمد باقر علیہ السلام کے تو ذریعہ حضرت علی علیہ السلام سے نقل کیا ہے۔[20] جناب جابر، اصحاب امام محمد باقر علیہ السلام[21] اور اصحاب امام صادق علیہ السلام[22] میں سے تھے۔ اس کے باوجود علمائے رجال نے ان کی وثاقت یا عدم وثاقت میں اختلاف کیا ہے۔[23] احمد بن علی نجاشی ان کو «فی نفسه مختلط» (راوی کے ضعیف ہونے پر دلالت کرنے والی ایک تعبیر) کہا ہے اور ان کے راوی جیسے اس خطبہ کی سند میں موجود عمرو شمر کو،[24] ضعیف شمار کیا ہے[25] ابن غضائری نے جابر کو ثقه مانا ہے لیکن ان تمام لوگوں کو ضعیف قرار دیا ہے جو ان سے روایت نقل کرتے ہیں۔[26] علامه حلی نے ان کے بارے میں توقف اختیار کیا ہے یعنی ان میں سے کسی نظریہ کو دوسرے نظریہ پر فوقیت نہیں دی ہے۔[27] علامه مجلسی نے خطبہ وسیلہ کی سند کو ضعیف شمار کیا ہے؛ لیکن خطبہ کے مندرجات کی صحت و قوت نیز اس خطبہ کی شہرت کے سبب اس کو صحیح اور سند سے بے نیاز قرار دیا ہے۔ا[28]

متن اور ترجمہ

خطبہ وسیلہ
متن ترجمہ
مُحَمَّدُ بْنُ عَلِی بْنِ مَعْمَرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِی بْنِ عُکایَةَ التَّمِیمِیّ عَنِ الْحُسَینِ بْنِ النَّضْرِ الْفِهْرِی عَنْ أَبِی عَمْرٍو الْأَوْزَاعِی عَنْ عَمْرِو بْنِ شِمْرٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ یَزِیدَ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَبِی جَعْفَرٍ ع فَقُلْتُ یا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ قَدْ أَرْمَضَنِی‏ اخْتِلَافُ الشِّیعَةِ فِی مَذَاهِبِهَا فَقَالَ یا جَابِرُ أَ لَمْ أَقِفْکَ عَلَى مَعْنَى اخْتِلَافِهِمْ مِنْ أَیْنَ اخْتَلَفُوا وَ مِنْ أَیِّ جِهَةٍ تَفَرَّقُوا قُلْتُ بَلَى یا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ قَالَ فَلَا تَخْتَلِفْ إِذَا اخْتَلَفُوا یا جَابِرُ إِنَّ الْجَاحِدَ لِصَاحِبِ الزَّمَانِ کالْجَاحِدِ لِرَسُولِ اللَّهِ ص فِی أَیَّامِهِ یا جَابِرُ اسْمَعْ وَ عِ قُلْتُ إِذَا شِئْتَ‏ قَالَ اسْمَعْ وَ عِ وَ بَلِّغْ حَیْثُ انْتَهَتْ بِکَ رَاحِلَتُکَ. جابر بن یزید کہتے ہیں کہ میں امام باقر علیہ السلام کی خدمت میں شرفیاب ہوااور آپ سے عرض کی اے فرزند رسول! اپنے مذہب کے سلسلہ میں شیعوں کے اندرونی اختلاف نے مجھے اندر سے جھلسا دیا ہے۔ آپ نے فرمایا اے جابر کیا تمہیں ان کے اختلاف کا مطلب بتاؤں کہ وہ لوگ کہاں سے اختلاف کا شکار ہوئے اور کس پہلو سے تفرقہ میں پڑگئے۔ میں نے کہا ہاں یا بن رسول اللہ، آپ نے فرمایا تو پھر اگر وہ اختلاف کریں تو تم اختلاف میں نہ پڑنا۔ اے جابر اپنے زمانے کے امام کا انکار کرنے والا اسی شخص کی طرح ہے جس نے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ) کے زمانے میں آپ کا انکار کیا۔ اے جابر سنو اور اچھی طرح ذہن نشین کرلو، میں نے کہا جیسا آپ کا حکم۔ فرمایا سنو اور اچھی طرح ذہن نشین کرکے جہاں تک تمہاری سواری جائے اسے پہنچادو۔
إِنَّ أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ع خَطَبَ النَّاسَ بِالْمَدِینَةِ بَعْدَ سَبْعَةِ أَیَّامٍ مِنْ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ ص وَ ذَلِک حِینَ فَرَغَ مِنْ جَمْعِ الْقُرْآنِ وَ تَأْلِیفِهِ فَقَالَ: بےشک حضرت علی علیہ السلام نے وفات رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ)کے سات دن بعد مدینہ میں لوگوں سے خطاب کیا اور یہ وہ وقت تھا جب آپ جمع قرآن اور اس کے یکجا کرنے کے امور سے فارغ ہوچکے تھے، تو آپ نے فرمایا:
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِی مَنَعَ الْأَوْهَامَ أَنْ تَنَالَ إِلَّا وُجُودَهُ وَ حَجَبَ الْعُقُولَ أَنْ تَتَخَیَّلَ ذَاتَهُ لِامْتِنَاعِهَا مِنَ الشَّبَهِ وَ التَّشَاکُلِ بَلْ هُوَ الَّذِی لَا یَتَفَاوَتُ فِی ذَاتِهِ وَ لَا یَتَبَعَّضُ بِتَجْزِئَةِ الْعَدَدِ فِی کمَالِهِ فَارَقَ الْأَشْیاءَ لَا عَلَى اخْتِلَافِ الْأَمَاکنِ وَ یَکونُ فِیهَا لَا عَلَى وَجْهِ الْمُمُازَجَةِ وَ عَلِمَهَا لَا بِأَدَاةٍ لَا یکونُ الْعِلْمُ إِلَّا بِهَا وَ لَیسَ بَینَهُ وَ بَینَ مَعْلُومِهِ عِلْمُ غَیرِهِ بِهِ کانَ عَالِماً بِمَعْلُومِهِ إِنْ قِیلَ کانَ فَعَلَى تَأْوِیلِ أَزَلِیَّةِ الْوُجُودِ وَ إِنْ قِیلَ لَمْ یَزَلْ فَعَلَى تَأْوِیلِ نَفْیِ الْعَدَمِ فَسُبْحَانَهُ وَ تَعَالَى عَنْ قَوْلِ مَنْ عَبَدَ سِوَاهُ وَ اتَّخَذَ إِلَهاً غَیرَهُ عُلُوّاً کبِیراً. تمام تعریفیں اس خدا کے لئے ہیں جس نے وہموں کو اپنی حقیقت تک پہنچنے سے روک دیا مگر بس اتنی مقدار کی سمجھ تک کہ وہ موجود ہے۔ اور عقلوں کے سامنے پردہ ڈال کر اپنی ذات کا خیال بنانے سے اس کو روک دیا کیونکہ وہ شباہت اور ہم شکل ہونے سے بالاتر ہے، بلکہ وہی ایسا خدا ہے جس کی حقیقت ذات میں فرق کا تصور ہی پیدا نہیں ہوسکتا ہے اور اس کے کمال میں گنتیوں کی طرح کی تقسیم نہیں ہوسکتی۔ وہ ہر چیز سے الگ ہے لیکن جگہوں کے فاصلہ کی طرح نہیں، ہر چیز میں ہے لیکن گھلنے ملنے کی طرح نہیں، اسے ہر چیز کا علم ہے لیکن ذرائع کے سبب نہیں کہ جن کے بغیر کوئی علم نہیں ہوتا، اس کے اور معلوم ہونے والی چیز کے درمیان کسی دوسرے کے علم کا فاصلہ نہیں ہے، وہ خود اپنی معلومات کا عالم ہے۔ اگر کہا جائے کہ "وہ تھا" تو یہ اس کے وجود کی ازلیت کی تاویل ہے۔ اور اگر کہا جائے کہ "وہ ہمیشہ رہے گا" تو یہ اس کے عدم سے پاک ہونے کی تاویل ہے۔ لہذا وہ ایسے شخص کی گفتار سے بہت زیادہ بلند و بالا اور پاک و پاکیزہ ہے جو اس کے علاوہ کسی اور کی پرستش کرے اور اس کے سوا کسی اور کو خدا بنالے۔
نَحْمَدُهُ بِالْحَمْدِ الَّذِی ارْتَضَاهُ مِنْ خَلْقِهِ وَ أَوْجَبَ قَبُولَهُ عَلَى نَفْسِهِ وَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِیکَ لَهُ وَ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَ رَسُولُهُ شَهَادَتَانِ تَرْفَعَانِ الْقَوْلَ وَ تُضَاعِفَانِ‏ الْعَمَلَ- خَفَّ مِیزَانٌ تُرْفَعَانِ مِنْهُ وَ ثَقُلَ مِیزَانٌ تُوضَعَانِ فِیهِ وَ بِهِمَا الْفَوْزُ بِالْجَنَّةِ وَ النَّجَاةُ مِنَ النَّارِ وَ الْجَوَازُ عَلَى الصِّرَاطِ وَ بِالشَّهَادَةِ تَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَ بِالصَّلَاةِ تَنَالُونَ الرَّحْمَةَ- أَکْثِرُوا مِنَ الصَّلَاةِ عَلَى نَبِیِّکُمْ‏ إِنَّ اللَّهَ وَ مَلائِکتَهُ یُصَلُّونَ عَلَى النَّبِی‏ یا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَیهِ وَ سَلِّمُوا تَسْلِیماً صَلَّى اللَّهُ عَلَیهِ وَ آلِهِ وَ سَلَّمَ تَسْلِیماً. ہم اس کی ایسی ستائش کرتے ہیں جس کے سبب وہ اپنے بندوں سے راضی ہو اور جسے قبول کرنے کو اس نے اپنے اوپر واجب کر رکھا ہے۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں، ایسی دو گواہیاں جو گفتار کو بلند اور کردار کو دوچنداں کردیں؛ میزان (کا وہ پلہ) ہلکا ہے جس سے یہ دو گواہیاں اٹھالی گئی ہوں، اور میزان (کا وہ پلہ) بھاری ہے جس میں یہ دو گواہیاں رکھ دی گئی ہوں، اور انھیں کے ذریعہ جنت کی کامیابی اور دوزخ سے نجات نیز پل صراط سے گزرنا ہے۔ اور (انھی دو) گواہیوں کے ذریعہ جنت میں داخل ہوگے اور صلوات کے ذریعہ رحمت کو پالوگے؛ اپنے نبی پر زیادہ صلوات بھیجا کرو، بےشک اللہ اور اس کے ملائکہ، نبی پر صلوات بھیجتے ہیں، اے ایمان لانے والوں ان پر صلوات بھیجا کرو اور سلام بھی جو سلام بھیجنے کا حق ہے۔ ان پر اور ان کی آل پر اللہ کا دورد و سلام ہو جو سلام کا حق ہے۔
أَیُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَا شَرَفَ أَعْلَى مِنَ الْإِسْلَامِ وَ لَا کرَمَ أَعَزُّ مِنَ التَّقْوَى وَ لَا مَعْقِلَ أَحْرَزُ مِنَ الْوَرَعِ وَ لَا شَفِیعَ أَنْجَحُ مِنَ التَّوْبَةِ وَ لَا لِبَاسَ أَجْمَلُ مِنَ الْعَافِیةِ وَ لَا وِقَایةَ أَمْنَعُ مِنَ السَّلَامَةِ وَ لَا مَالَ أَذْهَبُ بِالْفَاقَةِ مِنَ الرِّضَا بِالْقَنَاعَةِ وَ لَا کَنْزَ أَغْنَى مِنَ الْقُنُوعِ وَ مَنِ اقْتَصَرَ عَلَى بُلْغَةِ الْکفَافِ فَقَدِ انْتَظَمَ الرَّاحَةَ وَ تَبَوَّأَ خَفْضَ الدَّعَةِ وَ الرَّغْبَةُ مِفْتَاحُ التَّعَبِ وَ الِاحْتِکارُ مَطِیَّةُ النَّصَبِ وَ الْحَسَدُ آفَةُ الدِّینِ وَ الْحِرْصُ دَاعٍ إِلَى التَّقَحُّمِ‏ فِی الذُّنُوبِ وَ هُوَ دَاعِی الْحِرْمَانِ وَ الْبَغْیُ سَائِقٌ إِلَى الْحَینِ وَ الشَّرَهُ‏ جَامِعٌ لِمَسَاوِی الْعُیُوبِ رُبَّ طَمَعٍ خَائِبٍ وَ أَمَلٍ کاذِبٍ وَ رَجَاءٍ یُؤَدِّی إِلَى الْحِرْمَانِ وَ تِجَارَةٍ تَئُولُ إِلَى الْخُسْرَانِ أَلَا وَ مَنْ تَوَرَّطَ فِی الْأُمُورِ غَیرَ نَاظِرٍ فِی الْعَوَاقِبِ فَقَدْ تَعَرَّضَ لِمُفْضِحَاتِ النَّوَائِبِ‏ وَ بِئْسَتِ الْقِلَادَةُ الذَّنْبُ لِلْمُؤْمِنِ. اے لوگو اسلام سے بالاتر کوئی شرف نہیں ، تقوی سے عزتمند کوئی رتبہ نہیں، پرہیزگاری سے مضبوط کوئی ٹھکانہ نہیں، توبہ سے کامیاب کوئی سفارش کار نہیں، تندرستی سے خوبصورت کوئی لباس نہیں، سلامتی سے مضبوط کوئی بچاؤ نہیں اور قناعت پسندی سے زیادہ، فاقہ کو ختم کرنے والا کوئی مال نہیں نیز مقدر پر راضی رہنے سے زیادہ بےنیاز کرنے والا کوئی خزانہ نہیں۔ جس نے بھی گزر بسر بھر کی مقدار کو کافی سمجھا اس نے راحت کا انتظام کرلیا ہے اور مکمل آرام میں بیٹھ گیا ہے۔ دنیا کی طرف جھکاؤ پریشانیوں کی کنجی ہے، (مال دنیا) کو جمع کرکے رکھنا رنج و مصیبت کی سواری ہے، حسد دین کی آفت ہے، لالچ انسان کو گناہوں کی کھائی میں گرانے والا ہے اور یہی محرومی کا سبب بھی ہے، ظلم و ستم انسان کو نابودی کی طرف کھینچ لیتا ہے، لالچ تمام برے عیبوں کو لئے ہوئے ہے، اور کتنے نامراد ذائقے، جھوٹی آرزوئیں اور امیدیں ہیں جو محرومیت کی طرف کھینچ لیتی ہیں، اور کتنے سودے ہیں جو گھاٹے کی طرف مڑجاتے ہیں۔ آگاہ ہوجاؤ کہ جو انجام سوچے بغیر کاموں میں پڑگیا وہ رسوائی کے نتائج میں پڑگیا اور مومن کے لئے گناہ سے بدتر کوئی طوق نہیں۔
أَیُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَا کَنْزَ أَنْفَعُ مِنَ الْعِلْمِ وَ لَا عِزَّ أَرْفَعُ مِنَ الْحِلْمِ وَ لَا حَسَبَ أَبْلَغُ مِنَ الْأَدَبِ وَ لَا نَصَبَ أَوْضَعُ مِنَ الْغَضَبِ وَ لَا جَمَالَ أَزْیَنُ مِنَ الْعَقْلِ وَ لَا سَوْأَةَ أَسْوَأُ مِنَ الْکذِبِ‏ وَ لَا حَافِظَ أَحْفَظُ مِنَ الصَّمْتِ وَ لَا غَائِبَ أَقْرَبُ مِنَ الْمَوْتِ.

اے لوگو علم سے فائدہ مند کوئی خزانہ نہیں، حلم و بردباری سے بلند کوئی عزت نہیں، ادب سے بڑھ کر کوئی حسب نسب نہیں، غصہ سے پست کوئی رنج نہیں، عقل سے زیادہ رونق بخش کوئی خوبصورتی نہیں، جھوٹ سے بری کوئی برائی نہیں، خاموشی سے بڑا کوئی نگہبان نہیں، موت سے قریب کوئی غائب نہیں۔
أَیُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ مَنْ نَظَرَ فِی عَیْبِ نَفْسِهِ اشْتَغَلَ عَنْ عَیبِ غَیرِهِ وَ مَنْ رَضِیَ بِرِزْقِ اللَّهِ لَمْ یَأْسَفْ عَلَى مَا فِی یَدِ غَیرِهِ وَ مَنْ سَلَّ سَیْفَ الْبَغْیِ قُتِلَ بِهِ وَ مَنْ حَفَرَ لِأَخِیهِ بِئْراً وَقَعَ فِیهَا وَ مَنْ هَتَکَ حِجَابَ غَیرِهِ انْکَشَفَ عَوْرَاتُ بَیتِهِ‏ وَ مَنْ نَسِیَ زلَلَـه اسْتَعْظَمَ زَلَلَ غَیرِهِ وَ مَنْ أُعْجِبَ بِرَأْیِهِ ضَلَّ وَ مَنِ اسْتَغْنَى بِعَقْلِهِ زَلَّ وَ مَنْ تَکَبَّرَ عَلَى النَّاسِ ذَلَّ وَ مَنْ سَفِهَ عَلَى النَّاسِ شُتِمَ وَ مَنْ خَالَطَ الْأَنْذَالَ حُقِّرَ وَ مَنْ حَمَلَ مَا لَا یُطِیقُ عَجَزَ.

اے لوگو جو اپنے عیبوں کو دیکھنے لگا اس نے دوسروں کے عیب دیکھنا چھوڑ دیا، جو اللہ کے رزق پر راضی ہوگیا اس نے دوسروں کے ہاتھوں کی چیزوں پر افسوس نہیں کھایا، جس نے ظلم و بغاوت کی تلوار نکالی وہ اسی کے ذریعہ مارا گیا، جس نے اپنے بھائی کے لئے گڑھا کھودا وہ خود اس میں گر گیا، جس نے دوسروں کےراز کا پردہ چاک کیا اس کے گھر کے عیب کھل گئے، جو اپنی لغزشیں بھول گیا اسے دوسروں کی لغزشیں بڑی لگنے لگیں، جسے اپنی من مانی اچھی لگنے لگی وہ گمراہ ہوگیا، جو اپنی عقل کے سبب (دوسروں کے افکار سے) بے نیاز ہونے لگا وہ لغزشوں میں پڑگیا، جس نے لوگوں پر تکبر جتایا وہ ذلیل ہوگیا، جس نے لوگوں پر ناسمجھی کی نسبت لگائی اس نے برا بھلا سنا، جس نے گھٹیا لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا رکھا وہ بے قیمت ہوگیا، اور جس نے ایسی زمہ داری لی جس کی وہ طاقت نہیں رکھا تھا وہ بےبس ہوگیا۔

أَیهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَا مَالَ هُوَ أَعْوَدُ مِنَ الْعَقْلِ‏ وَ لَا فَقْرَ هُوَ أَشَدُّ مِنَ الْجَهْلِ وَ لَا وَاعِظَ هُوَ أَبْلَغُ مِنَ النُّصْحِ وَ لَا عَقْلَ کالتَّدْبِیرِ وَ لَا عِبَادَةَ کالتَّفَکُّرِ وَ لَا مُظَاهَرَةَ أَوْثَقُ مِنَ الْمُشَاوَرَةِ وَ لَا وَحْشَةَ أَشَدُّ مِنَ الْعُجْبِ وَ لَا وَرَعَ کالْکَفِّ عَنِ الْمَحَارِمِ وَ لَا حِلْمَ کالصَّبْرِ وَ الصَّمْتِ.

اے لوگو عقل سے زیادہ فائدہ مند کوئی مال نہیں ہے، نادانی سے سخت کوئی غربت نہیں ہے، نصیحت سے بڑھ کر کوئی واعظ نہیں، عقل کی طرح کوئی تدبیر نہیں، سوچنے کی طرح کوئی عبادت نہیں، مشورے سے مضبوط کوئی پشت پناہ نہیں، خود پسندی سےشدید کوئی گھبراہٹ نہیں،حرام سے بچنے کی طرح کوئی پرہیزگاری نہیں، صبر و سکوت کی طرح کوئی بردباری نہیں۔

أَیهَا النَّاسُ فِی الْإِنْسَانِ عَشْرُ خِصَالٍ یُظْهِرُهَا لِسَانُهُ شَاهِدٌ یُخْبِرُ عَنِ الضَّمِیرِ حَاکمٌ یَفْصِلُ بَینَ الْخِطَابِ وَ نَاطِقٌ یُرَدُّ بِهِ الْجَوَابُ وَ شَافِعٌ یُدْرَکُ بِهِ الْحَاجَةُ وَ وَاصِفٌ یُعْرَفُ بِهِ الْأَشْیاءُ وَ أَمِیرٌ یَأْمُرُ بِالْحَسَنِ وَ وَاعِظٌ یَنْهَى عَنِ الْقَبِیحِ وَ مُعَزٍّ تُسَکَّنُ بِهِ الْأَحْزَانُ‏ وَ حَاضِرٌ تُجْلَى بِهِ الضَّغَائِنُ‏ وَ مُونِقٌ تَلْتَذُّ بِهِ الْأَسْمَاعُ.

اے لوگو انسان کے اندر دس عادتیں ہیں جسے اس کی زبان ظاہر کردیتی ہے: ایسی گواہ ہے جو اندر کو بیان کرتی ہے، ایسی قاضی ہے جو حاضرین کے درمیان فیصلہ کرتی ہے، ایسی بولنے والی ہے جس کے ذریعہ جواب دیا جاتا ہے، ایسی سفارشی ہے جس کے ذریعہ ضرورت پوری ہوتی ہے، ایسی بیان کرنے والی ہے جس سے چیزوں کو پہچانا جاتا ہے، ایسی فرمانروا ہے جو اچھائی کا فرمان دیتی ہے، ایسی نصیحت کرنے والی ہے جو برائی سے روکتی ہے، ایسی تعزیت دینے والی ہے جس سے غم ہلکے ہوجاتے ہیں، ایسی حاضر ہے جس سے کینے چھٹ جاتے ہیں، ایسا حسین آلہ ہے جس سے کان لذت اٹھاتے ہیں۔

أَیهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَا خَیرَ فِی الصَّمْتِ عَنِ الْحُکمِ‏ کمَا أَنَّهُ لَا خَیرَ فِی الْقَوْلِ بِالْجَهْلِ وَ اعْلَمُوا أَیهَا النَّاسُ أَنَّهُ مَنْ لَمْ یَمْلِک لِسَانَهُ یَنْدَمْ وَ مَنْ لَا یَعْلَمْ َیَجْهَلْ وَ مَنْ لَا یَتَحَلَّمْ لَا یَحْلُمْ وَ مَنْ لَا یَرْتَدِعْ لَا یَعْقِلْ وَ مَنْ لَا یَعْلَمْ یُهَنْ وَ مَنْ یُهَنْ لَا یُوَقَّرْ وَ مَنْ لَا یُوَقَّرْ یَتَوَبَّخْ‏ وَ مَنْ یَکتَسِبْ مَالًا مِنْ غَیرِ حَقِّهِ یَصْرِفْهُ فِی غَیرِ أَجْرِهِ وَ مَنْ لَا یَدَعْ وَ هُوَ مَحْمُودٌ یَدَعْ وَ هُوَ مَذْمُومٌ‏ وَ مَنْ لَمْ یُعْطِ قَاعِداً مُنِعَ قَائِماً وَ مَنْ یَطْلُبِ الْعِزَّ بِغَیرِ حَقٍّ یَذِلَّ وَ مَنْ یَغْلِبْ بِالْجَوْرِ یُغْلَبْ وَ مَنْ عَانَدَ الْحَقَّ لَزِمَهُ الْوَهْنُ وَ مَنْ تَفَقَّهَ وُقِّرَ وَ مَنْ تَکَبَّرَ حُقِّرَ وَ مَنْ لَا یُحْسِنْ لَا یُحْمَدْ.

اے لوگو حکمت کےحوالے سے خاموشی میں کوئی بھلائی نہیں، جیساکہ نادانی کے حوالے سے بولنے میں کوئی بھلائی نہیں، اور اے لوگو جان لو کہ جو شخص اپنی زبان کو قابو میں نہیں رکھے گا وہ پچھتائے گا، اور جو جاننے کی کوشش نہیں کرے گا وہ جاہل رہ جائے گا، جو بردباری کی کوشش نہیں کرے گا وہ بردبار نہیں بن سکے گا، جو (برائی سے) بچنے کی کوشش نہیں کرے گا وہ عقلمندی نہیں کرے گا، جو علقمندی نہیں کرے گا وہ خوار ہوگا، جو خوار ہوگا وہ بے وقار ہوگا، جو بےوقار ہوگا اس کی سرزنش کی جائے گی، جو ناحق طریقے سے کوئی مال حاصل کرے گا وہ اسے بےفائدہ خرچ کرے گا، جو شرافت سے برائی نہیں چھوڑے گا اسے ذلیل ہوکر چھوڑنا پڑے گی، جو کسی بیٹھے کو نہ دے گا اس کو کھڑے نہیں ملے گا، جو ناحق طور سے عزت چاہے گا وہ ذلیل ہوگا، جو زور زبردستی سے غالب ہوگا وہ آخرکار مغلوب ہوجائے گا، جو جان بوجھ کر حق کا انکار کرے گا وہ ہلکا ہوجائے گا، جو غور و فکر کرے گا وہ باوقار ہوجائے گا، جو بڑا بنے گا وہ ذلیل و حقیر ہوجائے گا اور جو نیکی نہیں کرے گا اس کی تعریف نہیں ہوگی۔

أَیُّهَا النَّاسُ إِنَّ الْمَنِیّةَ قَبْلَ الدَّنِیَّةِ وَ التَّجَلُّدَ قَبْلَ التَّبَلُّدِ وَ الْحِسَابَ قَبْلَ الْعِقَابِ وَ الْقَبْرَ خَیرٌ مِنَ الْفَقْرِ وَ غَضَّ الْبَصَرِ خَیرٌ مِنْ کثِیرٍ مِنَ النَّظَرِ وَ الدَّهْرَ یَوْمٌ لَک وَ یوْمٌ عَلَیک فَإِذَا کانَ لَک فَلَا تَبْطَرْ وَ إِذَا کانَ عَلَیک فَاصْبِرْ فَبِکِلَیْهِمَا تُمْتَحَنُ‏ [وَ فِی نُسْخَةٍ وَ کِلَاهُمَا سَیُخْتَبَرُ].

اے لوگو (عزت کی) موت، (ذلت کی) زندگی سے پہلے (افضل) ہے؛ ہمت و دلیری سے کام لینا، بیٹھے رہنے سے پہلے ہے اور حساب کرلینا، عذاب میں پڑنے سے پہلے ہے۔ اور قبر، غربت سے بہتر ہے؛ آنکھیں بچانا بہت سے دیکھنے سے بہتر ہے۔ اور زمانہ کبھی تمہارے موافق ہے اور کبھی تمہارے خلاف ہے، لہذا جب تمہارے موافق ہو تو اتراؤ نہیں اور جب تمہارے خلاف ہو تو صبر سے کام لو کیونکہ دونوں کے ذریعہ تمہارا امتحان ہے (دوسرے نسخہ میں ہے کہ دونوں کا امتحان ہوگا)۔

أَیهَا النَّاسُ أَعْجَبُ مَا فِی الْإِنْسَانِ قَلْبُهُ وَ لَهُ مَوَادُّ مِنَ الْحِکْمَةِ وَ أَضْدَادٌ مِنْ خِلَافِهَا فَإِنْ سَنَحَ لَهُ الرَّجَاءُ أَذَلَّهُ الطَّمَعُ وَ إِنْ هَاجَ بِهِ الطَّمَعُ أَهْلَکَهُ الْحِرْصُ وَ إِنْ مَلَکَهُ الْیَأْسُ قَتَلَهُ الْأَسَفُ وَ إِنْ عَرَضَ لَهُ الْغَضَبُ اشْتَدَّ بِهِ الْغَیْظُ وَ إِنْ أُسْعِدَ بِالرِّضَى نَسِیَ التَّحَفُّظَ وَ إِنْ نَالَهُ الْخَوْفُ شَغَلَهُ الْحَذَرُ وَ إِنِ اتَّسَعَ لَهُ الْأَمْنُ اسْتَلَبَتْهُ الْعِزَّةُ [وَ فِی نُسْخَةٍ أَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ] وَ إِنْ جُدِّدَتْ لَهُ نِعْمَةٌ أَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ وَ إِنْ أَفَادَ مَالًا أَطْغَاهُ الْغِنَى وَ إِنْ عَضَّتْهُ فَاقَةٌ شَغَلَهُ الْبَلَاءُ [وَ فِی نُسْخَةٍ جَهَدَهُ الْبُکاءُ] وَ إِنْ أَصَابَتْهُ مُصِیبَةٌ فَضَحَهُ الْجَزَعُ وَ إِنْ أَجْهَدَهُ الْجُوعُ قَعَدَ بِهِ الضَّعْفُ وَ إِنْ أَفْرَطَ فِی الشِّبَعِ کَظَّتْهُ الْبِطْنَةُ فَکُلُّ تَقْصِیرٍ بِهِ مُضِرٌّ وَ کُلُّ إِفْرَاطٍ لَهُ مُفْسِدٌ.

اے لوگو انسان کے اندر سب سے حیرت انگیز اس کا دل ہے اور اس میں حکمت کے مادے ہیں اور حکمت کے برخلاف بھی کچھ مختلف چیزیں ہیں۔ لہذا اگر اسے امید ملی تو لالچ نے اسے رسوا کردیا، اور اگر اس پر لالچ کا ابال آیا تو بدنیتی نے اسے ہلاک کردیا، اور اگر مایوسی نے اس پر غلبہ پالیا تو افسوس نے اس کو مارڈالا، اگر اس نے بھڑک کر کچھ کیا تو اس کا غصہ مزید شعلہ ور ہوگیا، خوشنودی سے سعادت مندی ملی تو اسے بچائے رکھنا بھول گیا، اور خوف نے اسے آگھیرا تو (کار و کوشش سے) دوری میں مگن ہوگیا، اگر اسے آرام حاصل ہوگیا تو عزت اسے راس نہیں آئی (دوسرے نسخہ میں ہے کہ عزت طلبی نے اسے واپس لے لیا )، اگر دوبارہ اسے نعمت ملی تو عزت طلبی نے اسے واپس لے لیا، اگر کوئی مالی فائدہ ہوا تو بے نیازی نے اسے سرکش کردیا، اگر اسے فاقے کاٹ کھانے دوڑے تو بلا نے اسے مشغول کرلیا (دوسرے نسخہ میں ہے کہ گریہ نے اسے نیست و نابود کردیا) ، اگر اس پر کوئی مصیبت پڑی تو فریادوں نے اسے رسوا کردیا، اگر اس پر بھوک کی سختی آئی تو کمزوری اسے لیکر بیٹھ گئی، اگر زیادہ سیر ہوگیا تو توند نے اسے پریشان کرکے رکھ دیا، لہذا ہر طرح کی کوتاہی اس کے لئے نقصاندہ ہے اور ہر زیادتی تباہ کن ہے۔

أَیهَا النَّاسُ إِنَّهُ مَنْ فَلَّ ذَلَ‏ وَ مَنْ جَادَ سَادَ وَ مَنْ کثُرَ مَالُهُ رَأَسَ وَ مَنْ کثُرَ حِلْمُهُ‏ نَبُلَ وَ مَنْ أَفْکَرَ فِی ذَاتِ اللَّهِ تَزَنْدَقَ‏ وَ مَنْ أَکثَرَ مِنْ شَیْ‏ءٍ عُرِفَ بِهِ وَ مَنْ کَثُرَ مِزَاحُهُ اسْتُخِفَّ بِهِ وَ مَنْ کثُرَ ضِحْکُهُ ذَهَبَتْ هَیْبَتُهُ فَسَدَ حَسَبُ مَنْ لَیسَ لَهُ أَدَبٌ إِنَّ أَفْضَلَ الْفِعَالِ صِیانَةُ الْعِرْضِ بِالْمَالِ لَیسَ مَنْ جَالَسَ الْجَاهِلَ بِذِی مَعْقُولٍ مَنْ جَالَسَ الْجَاهِلَ فَلْیَسْتَعِدَّ لِقِیلٍ وَ قَالٍ لَنْ یَنْجُوَ مِنَ الْمَوْتِ غَنِیٌّ بِمَالِهِ وَ لَا فَقِیرٌ لِإِقْلَالِهِ.

اے لوگو جس نے سستی کی وہ رسوا ہوگیا، جس نے بخشش کی وہ قائد ہوگیا، جس کا مال زیادہ ہوا وہ سردار ہوگیا، جس کی برداشت زیادہ ہوئی وہ عالی رتبہ ہوگیا، جس نے ذات و حقیقت خدا میں سرکھپایا وہ لامذہب ہوگیا، جس نے کوئی کام زیادہ کیا وہ اسی سے مشہور ہوگیا، جس نے زیادہ مذاق کیا وہ اسی کی وجہ سے ہلکا ہوگیا اور جس کی ہنسی زیادہ ہوئی اس کی ہیبت ختم ہوگئی۔ جس کے پاس ادب نہ ہو اس کا حسب خراب ہوگیا۔ یقینا مال قربان کرکے عزت بچانا بہترین کام ہے، جاہل کے پاس اٹھنے بیٹھنے والا عقلمند نہیں ہوتا، جو جاہل کے ساتھ ہمنشین ہو وہ ہلڑ ہنگاموں کے لئے تیار رہے، کوئی امیر اپنے مال کے ذریعہ اور کوئی غریب اپنے غربت کے ذریعہ، موت سے نہیں بچ سکتا۔

أَیهَا النَّاسُ لَوْ أَنَّ الْمَوْتَ یُشْتَرَى لَاشْتَرَاهُ مِنْ أَهْلِ الدُّنْیا الْکرِیمُ الْأَبْلَجُ وَ اللَّئِیمُ الْمَلْهُوجُ‏.

اے لوگو اگر موت کو خریدا جاسکتا ہوتا تو ہنس مکھ بخشنے والا اور عیب دار کمینہ اسے خرید لیتے۔

أَیهَا النَّاسُ إِنَّ لِلْقُلُوبِ شَوَاهِدَ تُجْرِی الْأَنْفُسَ عَنْ مَدْرَجَةِ أَهْلِ التَّفْرِیطِ وَ فِطْنَةُ الْفَهْمِ‏ لِلْمَوَاعِظِ مَا یَدْعُو النَّفْسَ إِلَى الْحَذَرِ مِنَ الْخَطَرِ وَ لِلْقُلُوبِ خَوَاطِرَ لِلْهَوَى وَ الْعُقُولُ تَزْجُرُ وَ تَنْهَى وَ فِی التَّجَارِبِ عِلْمٌ مُسْتَأْنَفٌ وَ الِاعْتِبَارُ یَقُودُ إِلَى الرَّشَادِ وَ کَفَاکَ أَدَباً لِنَفْسِک مَا تَکْرَهُهُ لِغَیرِک وَ عَلَیک لِأَخِیک الْمُؤْمِنِ مِثْلُ الَّذِی لَک عَلَیهِ لَقَدْ خَاطَرَ مَنِ اسْتَغْنَى بِرَأْیهِ وَ التَّدَبُّرُ قَبْلَ الْعَمَلِ فَإِنَّهُ یُؤْمِنُک مِنَ النَّدَمِ وَ مَنِ اسْتَقْبَلَ وُجُوهَ الْآرَاءِ عَرَفَ مَوَاقِعَ الْخَطَإِ وَ مَنْ أَمْسَکَ عَنِ الْفُضُولِ عَدَلَتْ رَأْیهُ الْعُقُولُ‏ وَ مَنْ حَصَّنَ‏ شَهْوَتَهُ فَقَدْ صَانَ قَدْرَهُ وَ مَنْ أَمْسَک لِسَانَهُ أَمِنَهُ قَوْمُهُ وَ نَالَ حَاجَتَهُ وَ فِی تَقَلُّبِ الْأَحْوَالِ عِلْمُ جَوَاهِرِ الرِّجَالِ وَ الْأَیَّامُ تُوضِحُ لَک السَّرَائِرَ الْکامِنَةَ وَ لَیسَ فِی الْبَرْقِ الْخَاطِفِ مُسْتَمْتَعٌ لِمَنْ یَخُوضُ فِی الظُّلْمَةِ وَ مَنْ عُرِفَ بِالْحِکمَةِ لَحَظَتْهُ الْعُیُونُ بِالْوَقَارِ وَ الْهَیبَةِ وَ أَشْرَفُ الْغِنَى تَرْکُ الْمُنَى وَ الصَّبْرُ جُنَّةٌ مِنَ الْفَاقَةِ وَ الْحِرْصُ عَلَامَةُ الْفَقْرِ وَ الْبُخْلُ جِلْبَابُ الْمَسْکَنَةِ وَ الْمَوَدَّةُ قَرَابَةٌ مُسْتَفَادَةٌ وَ وَصُولٌ مُعْدِمٌ‏ خَیرٌ مِنْ جَافٍ مُکْثِرٍ وَ الْمَوْعِظَةُ کهْفٌ لِمَنْ وَعَاهَا وَ مَنْ أَطْلَقَ طَرْفَهُ کَثُرَ أَسَفُهُ‏ وَ قَدْ أَوْجَبَ الدَّهْرُ شُکرَهُ عَلَى مَنْ نَالَ سُؤْلَهُ وَ قَلَّ مَا یُنْصِفُک اللِّسَانُ فِی نَشْرِ قَبِیحٍ أَوْ إِحْسَانٍ‏ وَ مَنْ ضَاقَ خُلُقُهُ مَلَّهُ أَهْلُهُ وَ مَنْ نَالَ اسْتَطَالَ وَ قَلَّ مَا تَصْدُقُکَ الْأُمْنِیَّةُ وَ التَّوَاضُعُ یَکْسُوکَ الْمَهَابَةَ وَ فِی سَعَةِ الْأَخْلَاقِ کُنُوزُ الْأَرْزَاقِ کمْ مِنْ عَاکفٍ عَلَى ذَنْبِهِ فِی آخِرِ أَیامِ عُمُرِهِ‏ وَ مَنْ کَسَاهُ الْحَیاءُ ثَوْبَهُ خَفِیَ عَلَى النَّاسِ عَیبُهُ وَ انْحُ الْقَصْدَ مِنَ الْقَوْلِ فَإِنَّ مَنْ تَحَرَّى الْقَصْدَ خَفَّتْ عَلَیهِ الْمُؤَنُ‏ وَ فِی خِلَافِ النَّفْسِ رُشْدُکَ مَنْ عَرَفَ الْأَیامَ لَمْ یَغْفُلْ عَنِ الِاسْتِعْدَادِ أَلَا وَ إِنَّ مَعَ کُلِّ جُرْعَةٍ شَرَقاً وَ إِنَّ فِی کلِّ أُکْلَةٍ غَصَصاً- لَا تُنَالُ نِعْمَةٌ إِلَّا بِزَوَالِ أُخْرَى وَ لِکلِّ ذِی رَمَقٍ قُوتٌ وَ لِکلِّ حَبَّةٍ آکِلٌ وَ أَنْتَ قُوتُ الْمَوْتِ.

اے لوگو دلوں کے پاس ایسے (فطری) شواہد ہوتے ہیں جو نفسوں کو کوتاہی کرنے والوں کے راستے سے دور لے جاتے ہیں۔ اور نصیحتوں کے سمجھنے میں ذہانت اسی کو کہتے ہیں جو نفس انسان کو خطرے سے بچاسکے۔ اور دلوں میں خواہشات کے خیالات ہوتے ہیں اور عقلیں روکتی ٹوکتی ہیں، تجربہ میں نیا علم ہوتا ہے، اور عبرت لینے سے ہدایت کی طرف رہنمائی ہوتی ہے، اپنی تربیت کے لئے وہی کافی ہے کہ (اس کا دھیان رکھو) جو دوسرے کے لئے پسند نہیں کرتے، اور مومن بھائی کا تمارے اوپر اتنا ہی حق ہے جتنا تمہارا س کے اوپر ہے، جس نے اپنی رائے کے ذریعہ بے نیاز ہونا چاہا اس نے اپنے آپ کو خطرے میں ڈال دیا، غور و فکر کا مرحلہ عمل سے پہلے ہے کیونکہ وہ تمہیں شرمندگی سے بچاتا ہے، جس شخص نے مختلف آراء کو سامنے رکھا وہ خطاؤں کی جگہوں کو پہچان گیا، جو فضول گفتگو سے بچا اس کی رائے کو بڑے دانشمند نے صحیح جانا، جس نے اپنی شہوت پر قابو پایا اس نے اپنی قدر و قیمت کی حفاظت کرلی، جس نے اپنی زبان پر قابو پالیا اس کی قوم اس (کے شر) سے محفوظ ہوگئی اور وہ اپنی آرزو تک پہنچ گیا، اور حالات کی تبدیلی سے لوگوں کے جوہر پہچانے جاتے ہیں، زمانہ تمہیں چھپے راز تمہیں دکھا دیتا ہے، جو گہری تاریکی میں ڈوبا ہو اسے بجلی کی چکاچوند کا جھٹکا کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا، جو حکمت سے پہچانا جائے لوگ اسے وقار و ہیبت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ آرزووں کو چھوڑ دینا سب سے بڑی امیری ہے؛ صبر، فاقہ کی سپر ہے؛ لالچ، غربت کی علامت ہے؛ کنجوسی، غربت کا لباس ہے؛ محبت و دوستی، حاصل ہونے والی رشتہ داری ہے؛ خوش اخلاق فقیر، ظالم امیر سے بہتر ہے؛ نصیحت لینے والے کے لئے نصیحت ایک پناہگاہ ہے؛ جو اپنی نگاہوں کو آوارہ چھوڑ دے اس کا افسوس زیادہ ہوجائے گا؛ جس اپنی آرزو کو پہنچ جائے زمانہ اس کا شکر گزار ضرور ہوتا ہے؛ بہت کم ہوتا کہ زبان (دوسروں کی) تعریف یا تنقید کرنے میں آپ کو انصاف دے سکے؛ جس کا اخلاق تنگ ہوا اس کے رشتہ دار اسے ملال دیا؛ جو کسی آرزو تک پہنچ گیا وہ گردان فرازی کرنے لگا؛ آرزو بہت کم تم سے سچ بولتی ہے؛ خاکساری تمہیں وقار و ہیبت کا لباس پہنادے گی؛ خوش اخلاق میں رزق کے خزانے ہیں؛ کتنے اپنے گناہ پر اصرار کرنے والے اپنی زندگی کے آخری دنوں میں ہوتے ہیں؛ شرم جس کو لباس پہنائے اس کے عیب لوگوں کے لئے چھپے رہتے ہیں؛ گفتگو میں میانہ روی اختیار کرو کیونکہ جس نے بھی میانہ روی اختیار کی اس کے کام آسان ہوگئے؛ تمہاری رشد و ہدایت نفس کی مخالفت میں ہے؛ جو زمانہ کو پہچان لے وہ تیاری سے غافل نہیں ہوگا؛ خیال رہے کہ ہر گھونٹ میں اُچھو اور ہر لقمہ میں پھندا ہوسکتا ہے؛ کوئی بھی نعمت کسی دوسری نعمت سے محرومی کے بغیر گاصل نہیں ہوسکتی؛ ہر سانس لینے والے کا نوالہ ہے اور ہر دانے کا کھانے والا ہے اور تم موت کا نوالہ ہو؛

اعْلَمُوا أَیُّهَا النَّاسُ أَنَّهُ مَنْ مَشَى عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ فَإِنَّهُ یَصِیرُ إِلَى بَطْنِهَا وَ اللَّیلُ وَ النَّهَارُ یَتَنَازَعَانِ [یَتَسَارَعَانِ‏] فِی هَدْمِ الْأَعْمَارِ.

اے لوگو جان لو کہ جو بھی زمین کے اوپر چلا ہے وہ آخرکار اس کے پیٹ میں چلا جائے گا؛ اور رات اور دن زندگی کی توڑ پھوڑ کے لئے ایک دوسرے سے لڑ (مقابلہ کر) رہے ہیں۔

یَا أَیُّهَا النَّاسُ کُفْرُ النِّعْمَةِ لُؤْمٌ وَ صُحْبَةُ الْجَاهِلِ شُؤْمٌ إِنَّ مِنَ الْکرَمِ لِینَ الْکلَامِ وَ مِنَ الْعِبَادَةِ إِظْهَارَ اللِّسَانِ وَ إِفْشَاءَ السَّلَامِ إِیاک وَ الْخَدِیعَةَ فَإِنَّهَا مِنْ خُلُقِ اللَّئِیمِ لَیسَ کُلُّ طَالِبٍ یُصِیبُ وَ لَا کُلُّ غَائِبٍ یَئُوبُ لَا تَرْغَبْ فِیمَنْ زَهِدَ فِیک رُبَّ بَعِیدٍ هُوَ أَقْرَبُ مِنْ قَرِیبٍ سَلْ عَنِ الرَّفِیقِ قَبْلَ الطَّرِیقِ وَ عَنِ الْجَارِ قَبْلَ الدَّارِ أَلَا وَ مَنْ أَسْرَعَ فِی الْمَسِیرِ أَدْرَکهُ الْمَقِیلُ اسْتُرْ عَوْرَةَ أَخِیک کمَا تَعْلَمُهَا فِیک‏ اغْتَفِرْ زَلَّةَ صَدِیقِک لِیَوْمِ یَرْکَبُکَ عَدُوُّک مَنْ غَضِبَ عَلَى مَنْ لَا یَقْدِرُ عَلَى ضَرِّهِ طَالَ حُزْنُهُ وَ عَذَّبَ نَفْسَهُ مَنْ خَافَ رَبَّهُ کَفَّ ظُلْمَهُ [مَنْ خَافَ رَبَّهُ کُفِیَ عَذَابَهُ‏] وَ مَنْ لَمْ یَزِغْ‏ فِی کلَامِهِ أَظْهَرَ فَخْرَهُ وَ مَنْ لَمْ یَعْرِفِ الْخَیرَ مِنَ الشَّرِّ فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ الْبَهِیمَةِ إِنَّ مِنَ الْفَسَادِ إِضَاعَةَ الزَّادِ مَا أَصْغَرَ الْمُصِیبَةَ مَعَ عِظَمِ الْفَاقَةِ غَداً هَیهَاتَ هَیهَاتَ وَ مَا تَنَاکَرْتُمْ إِلَّا لِمَا فِیکمْ مِنَ الْمَعَاصِی وَ الذُّنُوبِ فَمَا أَقْرَبَ الرَّاحَةَ مِنَ التَّعَبِ وَ الْبُؤْسَ مِنَ النَّعِیمِ وَ مَا شَرٌّ بِشَرٍّ بَعْدَهُ الْجَنَّةُ وَ مَا خَیرٌ بِخَیرٍ بَعْدَهُ النَّارُ وَ کُلُّ نَعِیمٍ دُونَ الْجَنَّةِ مَحْقُورٌ وَ کُلُّ بَلَاءٍ دُونَ النَّارِ عَافِیةٌ وَ عِنْدَ تَصْحِیحِ الضَّمَائِرِ تُبْدُو الْکبَائِرُ تَصْفِیةُ الْعَمَلِ أَشَدُّ مِنَ الْعَمَلِ وَ تَخْلِیصُ النِّیَّةِ مِنَ الْفَسَادِ أَشَدُّ عَلَى الْعَامِلِینَ مِنْ طُولِ الْجِهَادِ هَیهَاتَ لَوْ لَا التُّقَى لَکُنْتُ أَدْهَى الْعَرَبِ.

اے لوگو ناشکری، پستی ہے؛ جاہل کی صحبت، بدشگونی ہے؛ یقینا نرم گفتگو، کرم و جود میں سے ہے، زبان کا اظہار اور آواز سے سلام کرنا، عبادت میں سے ہے؛ خبردار دھوکہ دہی سے دور رہنا کہ یہ پست لوگوں کی عادت ہے؛ ہر ڈھونڈنے والا اپنے مقصد تک نہیں پہنچتا؛ ہر غائب ہونے والا واپس نہیں آتا ہے؛ جو تم سے دور بھاگے (یعنی دنیا) اس سے دل نہ لگاو؛ کتنے دور والے ہیں جو پاس والوں کے مقابل، زیادہ قریب ہیں؛ راستے سے پہلے ساتھی کے بارے میں اور گھر سے پہلے پڑوسی کے بارے میں پوچھ لو؛ یاد رکھو کہ جو تیز راستہ چلا وہ آرام تک جلدی پہنچ گیا؛ اپنے بھائی کے عیب کو اس طرح چھپاو جیسے وہ عیب تمہیں اپنے ہی اندر ہونے کا علم ہو؛ اپنے دوست کی لغزش کو اس دن کے لئے نظر انداز کردو جس دن تمہارا دشمن تم پر غالب ہوجائے؛ جس نے ایسے شخص پر غصہ کیا جس پر بس نہ چل سکتا ہو اس کا غم بڑھ گیا اور اس نے خود کو پریشانی میں ڈال دیا؛ جو اپنے پروردگار سے ڈرا وہ خود کو ظلم سے روکا [ جو اپنے پروردگار سے ڈرا خدا نے اپنے عذاب کو اس سے پلٹادیا]؛ جس نے اپنی گفتگو میں انحراف نہ کیا اس نے اپنی بزرگی کا اظہار کیا؛ جو اچھے برے کی پہچان نہ رکھتا ہو وہ جانور کی طرح ہے؛ یقینا زاد راہ کو ضائع کرنا فساد کا مصداق ہے؛ کل [قیامت] کی عظیم نیازمندی کے مقابل میں [آج کی] مصیبت کتنی کم ہے؛ بہت فاصلہ ہے بہت، تم لوگ آپس میں اجنبی نہیں ہو مگر گناہ و معصیت کے سبب؛ آرام کتنا نزدیک ہے رنج سے؛ سختی کتنی قریب ہے نعمت سے؛ وہ بری چیز نہیں ہے جس کے بعد جنت ہو اور وہ اچھی چیز نہیں ہے جس کے بعد دوزخ ہو؛ جنت کے مقابل ہر نعمت، حقیر ہے اور دوزخ کے مقابل ہر بلا، عافیت ہے؛ اپنے اندر کو پاک کرتے وقت بڑے گناہ ظاہر ہوتے ہیں؛ عمل کو پاکیزگی کے ساتھ انجام دینا خود عمل سے سخت کام ہے؛ اہل عمل کے لئے اپنی نیت کو پاک رکھنا طویل جہاد سے زیادہ سخت ہے؛ بہت دور ہے بہت، اگر تقوی اور پرہیزگاری پیش نظر نہ ہوتی تو میں عرب کا سب سے بڑا سیاست داں ہوتا۔

أَیُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى وَعَدَ نَبِیهُ مُحَمَّداً ص الْوَسِیلَةَ وَ وَعْدُهُ الْحَقُ‏ وَ لَنْ یُخْلِفَ اللَّهُ وَعْدَهُ‏ أَلَا وَ إِنَّ الْوَسِیلَةَ عَلَى دَرَجِ الْجَنَّةِ وَ ذِرْوَةِ ذَوَائِبِ الزُّلْفَةِ وَ نِهَایَةِ غَایَةِ الْأُمْنِیَّةِ لَهَا أَلْفُ مِرْقَاةٍ مَا بَینَ الْمِرْقَاةِ إِلَى الْمِرْقَاةِ حُضْرُ الْفَرَسِ الْجَوَادِ مِائَةَ عَامٍ‏ وَ هُوَ مَا بَینَ مِرْقَاةِ دُرَّةٍ إِلَى مِرْقَاةِ جَوْهَرَةٍ إِلَى مِرْقَاةِ زَبَرْجَدَةٍ إِلَى مِرْقَاةِ لُؤْلُؤَةٍ إِلَى مِرْقَاةِ یاقُوتَةٍ إِلَى مِرْقَاةِ زُمُرُّدَةٍ إِلَى مِرْقَاةِ مَرْجَانَةٍ إِلَى مِرْقَاةِ کافُورٍ إِلَى مِرْقَاةِ عَنْبَرٍ إِلَى مِرْقَاةِ یَلَنْجُوجٍ‏ إِلَى مِرْقَاةِ ذَهَبٍ إِلَى مِرْقَاةِ غَمَامٍ إِلَى مِرْقَاةِ هَوَاءٍ إِلَى مِرْقَاةِ نُورٍ قَدْ أَنَافَتْ عَلَى کلِّ الْجِنَانِ وَ رَسُولُ اللَّهِ ص یوْمَئِذٍ قَاعِدٌ عَلَیهَا مُرْتَدٍ بِرَیْطَتَیْنِ‏ رَیْطَةٍ مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ وَ رَیْطَةٍ مِنْ نُورِ اللَّهِ عَلَیهِ تَاجُ النُّبُوَّةِ وَ إِکْلِیلُ الرِّسَالَةِ قَدْ أَشْرَقَ بِنُورِهِ الْمَوْقِفُ وَ أَنَا یوْمَئِذٍ عَلَى الدَّرَجَةِ الرَّفِیعَةِ وَ هِی دُونَ دَرَجَتِهِ وَ عَلَیَّ رَیْطَتَانِ رَیْطَةٌ مِنْ أُرْجُوَانِ النُّورِ وَ رَیْطَةٌ مِنْ کافُورٍ وَ الرُّسُلُ وَ الْأَنْبِیاءُ قَدْ وَقَفُوا عَلَى الْمَرَاقِی وَ أَعْلَامُ الْأَزْمِنَةِ وَ حُجَجُ الدُّهُورِ عَنْ أَیمَانِنَا وَ قَدْ تَجَلَّلَهُمْ حُلَلُ النُّورِ وَ الْکرَامَةِ لَا یَرَانَا مَلَکٌ مُقَرَّبٌ وَ لَا نَبِیٌّ مُرْسَلٌ إِلَّا بُهِتَ بِأَنْوَارِنَا وَ عَجِبَ مِنْ ضِیائِنَا وَ جَلَالَتِنَا وَ عَنْ یَمِینِ الْوَسِیلَةِ عَنْ یَمِینِ الرَّسُولِ ص غَمَامَةٌ بَسْطَةَ الْبَصَرِ یَأْتِی مِنْهَا النِّدَاءُ یا أَهْلَ الْمَوْقِفِ طُوبَى لِمَنْ أَحَبَّ الْوَصِیّ وَ آمَنَ بِالنَّبِیِّ الْأُمِّیِّ الْعَرَبِیِّ وَ مَنْ کفَرَ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ وَ عَنْ یَسَارِ الْوَسِیلَةِ عَنْ یَسَارِ الرَّسُولِ ص ظُلَّةٌ یَأْتِی مِنْهَا النِّدَاءُ یا أَهْلَ الْمَوْقِفِ طُوبَى لِمَنْ أَحَبَّ الْوَصِیَّ وَ آمَنَ بِالنَّبِیِّ الْأُمِّیِّ وَ الَّذِی لَهُ الْمُلْکُ الْأَعْلَى لَا فَازَ أَحَدٌ وَ لَا نَالَ الرَّوْحَ وَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ لَقِیَ خَالِقَهُ بِالْإِخْلَاصِ لَهُمَا وَ الِاقْتِدَارِ بِنُجُومِهِمَا- فَأَیقِنُوا یا أَهْلَ وَلَایةِ اللَّهِ بِبَیاضِ وُجُوهِکُمْ وَ شَرَفِ مَقْعَدِکُمْ وَ کرَمِ مَآبِکُمْ وَ بِفَوْزِکُمُ الْیَوْمَ‏ عَلى‏ سُرُرٍ مُتَقابِلِینَ* وَ یا أَهْلَ الِانْحِرَافِ وَ الصُّدُودِ عَنِ اللَّهِ عَزَّ ذِکرُهُ وَ رَسُولِهِ وَ صِرَاطِهِ وَ أَعْلَامِ الْأَزْمِنَةِ أَیْقِنُوا بِسَوَادِ وُجُوهِکمْ وَ غَضَبِ رَبِّکمْ جَزَاءً بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُونَ وَ مَا مِنْ رَسُولٍ سَلَفَ وَ لَا نَبِیٍّ مَضَى إِلَّا وَ قَدْ کانَ مُخْبِراً أُمَّتَهُ بِالْمُرْسَلِ الْوَارِدِ مِنْ بَعْدِهِ وَ مُبَشِّراً بِرَسُولِ اللَّهِ‏ -ص- وَ مُوصِیاً قَوْمَهُ بِاتِّبَاعِهِ وَ مُحَلِّیَهُ عِنْدَ قَوْمِهِ لِیَعْرِفُوهُ بِصِفَتِهِ وَ لِیَتَّبِعُوهُ عَلَى شَرِیعَتِهِ وَ لِئَلَّا یَضِلُّوا فِیهِ مِنْ بَعْدِهِ فَیَکونَ مَنْ هَلَک أَوْ ضَلَّ بَعْدَ وُقُوعِ الْإِعْذَارِ وَ الْإِنْذَارِ عَنْ بَیِّنَةٍ وَ تَعْیينِ حُجَّةٍ فَکانَتِ الْأُمَمُ فِی رَجَاءٍ مِنَ الرُّسُلِ وَ وُرُودٍ مِنَ الْأَنْبِیاءِ وَ لَئِنْ أُصِیبَتْ بِفَقْدِ نَبِیٍّ بَعْدَ نَبِیٍّ عَلَى عِظَمِ مَصَائِبِهِمْ وَ فَجَائِعِهَا بِهِمْ‏ فَقَدْ کانَتْ عَلَى سَعَةٍ مِنَ الْأَمَلِ وَ لَا مُصِیبَةٌ عَظُمَتْ وَ لَا رَزِیَّةٌ جَلَّتْ کَالْمُصِیبَةِ بِرَسُولِ اللَّهِ ص لِأَنَّ اللَّهَ خَتَمَ بِهِ الْإِنْذَارَ وَ الْإِعْذَارَ وَ قَطَعَ بِهِ الِاحْتِجَاجَ وَ الْعُذْرَ بَینَهُ وَ بَینَ خَلْقِهِ وَ جَعَلَهُ بَابَهُ الَّذِی بَینَهُ وَ بَینَ عِبَادِهِ وَ مُهَیمِنَهُ‏ الَّذِی لَا یَقْبَلُ إِلَّا بِهِ- وَ لَا قُرْبَةَ إِلَیهِ إِلَّا بِطَاعَتِهِ وَ قَالَ فِی مُحْکمِ کِتَابِهِ- مَنْ یُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطاعَ اللَّهَ وَ مَنْ تَوَلَّى‏ فَما أَرْسَلْناکَ عَلَیهِمْ حَفِیظاً فَقَرَنَ طَاعَتَهُ بِطَاعَتِهِ وَ مَعْصِیتَهُ بِمَعْصِیتِهِ فَکانَ ذَلِکَ دَلِیلًا عَلَى مَا فَوَّضَ إِلَیهِ وَ شَاهِداً لَهُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَهُ وَ عَصَاهُ وَ بَیَّنَ ذَلِک فِی غَیرِ مَوْضِعٍ مِنَ الْکتَابِ الْعَظِیمِ فَقَالَ تَبَارَک وَ تَعَالَى فِی التَّحْرِیضِ عَلَى اتَّبَاعِهِ وَ التَّرْغِیبِ فِی تَصْدِیقِهِ وَ الْقَبُولِ بِدَعْوَتِهِ- قُلْ إِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِی‏ یُحْبِبْکُمُ اللَّهُ‏ وَ یَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوبَکُمْ‏ فَاتِّبَاعُهُ ص مَحَبَّةُ اللَّهِ وَ رِضَاهُ غُفْرَانُ الذُّنُوبِ وَ کمَالُ الْفَوْزِ وَ وُجُوبُ الْجَنَّةِ وَ فِی التَّوَلِّی عَنْهُ وَ الْإِعْرَاضِ مُحَادَّةُ اللَّهِ وَ غَضَبُهُ وَ سَخَطُهُ وَ الْبُعْدُ مِنْهُ مُسْکِنُ النَّارِ وَ ذَلِک قَوْلُهُ‏ وَ مَنْ یَکفُرْ بِهِ مِنَ الْأَحْزابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ‏ یَعْنِی الْجُحُودَ بِهِ وَ الْعِصْیانَ لَهُ فَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَک اسْمُهُ امْتَحَنَ بِی عِبَادَهُ وَ قَتَلَ بِیدِی أَضْدَادَهُ وَ أَفْنَى بِسَیفِی جُحَّادَهُ وَ جَعَلَنِی زُلْفَةً لِلْمُؤْمِنِینَ وَ حِیاضَ مَوْتٍ عَلَى الْجَبَّارِینَ وَ سَیفَهُ عَلَى الْمُجْرِمِینَ وَ شَدَّ بِی أَزْرَ رَسُولِهِ وَ أَکْرَمَنِی بِنَصْرِهِ وَ شَرَّفَنِی بِعِلْمِهِ وَ حَبَانِی بِأَحْکامِهِ وَ اخْتَصَّنِی بِوَصِیَّتِهِ وَ اصْطَفَانِی بِخِلَافَتِهِ فِی أُمَّتِهِ فَقَالَ ص وَ قَدْ حَشَدَهُ‏ الْمُهَاجِرُونَ وَ الْأَنْصَارُ وَ انْغَصَّتْ‏ بِهِمُ الْمَحَافِلُ.

اے لوگو بیشک اللہ نے اپنے نبی محمد سے مقام "وسیلہ" کا وعدہ کیا ہے اور اس کا وعدہ حق ہے؛ یاد رہے کہ وسیلہ، جنت کی سیڑھی پر ہے؛ (ممکن ہے لفظ "علی" در حقیقت "اعلی" رہا ہو اور لکھنے میں الف نہ لکھا گیا ہو تو ترجمہ یہ ہوگا کہ وسیلہ، جنت کی اعلی ترین سیڑھی ہے)؛ اور قرب و وصال حق کے برترین درجات میں اور ہر آرزو کی آخری حد ہے؛ اس کے ہزار زینے ہیں اور ایک زینہ سے دوسرے زینے کا فاصلہ سو سال تیز رفتارگھوڑے کی دوڑ کے برابر ہے؛ ایک زینہ مروارید، دوسرا زینہ گوهر پھر زینہ زبرجد، زینہ لؤلؤ، زینہ یاقوت، زینہ ‏ زمرد، زینہ مرجان، زینہ کافور، زینہ عنبر، زینہ عود، زینہ طلا، زینہ ابر، زینہ هوا، زینہ نور ہے اور یہ زینہ ساری جنت سے قریب ہے؛ رسول اللہ اس روز اس زینہ پر بیٹھے ہوں گے اور دو لباس میں ملبوس ہوں گے ایک لباس رحمت الہی کا ہوگا اوت دوسرا نور خدا کا ہوگا؛ آپ کے سر پر تاج پیغمبری اور دستار رسالت ہوگا؛ آپ کے نور سے سارا صحرائے محشر نورانی ہوجائے گا؛ اس دن میں بھی بلندترین زینہ پر آپ سے ایک زینہ نیچے ہوں گا؛ میں بھی دو لباس پہنے ہوں گا ایک لباس نورانی گل ارغوان کا ہوگا اور دوسرا کافور کا ہوگا؛ انبیاء و رسل دوسرے زینوں پر کھڑے ہوں گے؛ زمانے کی نامور ہستیاں اور روزگار کی حجتیں ہمارے داہنے طرف ہوں گی؛ ان کو نور و کرامت کے عمدہ لباس نے ڈھکا ہوگا؛ ہمیں فرشتہ مقرب یا نبی مرسل نہیں دیکھے گا مگر یہ کہ ہمارے نور دیکھ کر مبہوت رہ جائے گا اور ہماری ضیاء و جلالت سے حیرت زدہ ہوجائے گا؛ مقام وسیلہ کے داہنی طرف رسول اللہ کے دائیں جانب ایک بادل ہوگا جو نگاہوں کی وسعت کے برابر پھیلا ہوگا؛ اس سے آواز آئے گی: اے اہل محشر خوشا بحال اس کے لئے جس نے وصی (پیغمبر) کو دوست رکھا اور نبی امی عربی پر ایمان لایا اور جس نے انکار کیا اس کی وعدہ گاہ دوزخ ہے؛ اور وسیلہ کے بائیں جانب رسول اللہ کے بائیں طرف دوسرا بادل ہوگا، اس سے ندا آئے گی: اے اہل محشر خوشا بحال اس کے لئے جس نے وصی (پیغمبر) کو دوست رکھا اور نبی امی پر ایمان لایا؛ اس ذات کی قسم جس کے لئے اقتدار اعلی ہے، کوئی کامیاب نہ ہوگا اور آسائش و جنت کو نہیں دیکھے گا مگر جس نے ان دونوں کی محبت میں اللہ سے ملاقات کی اور ان کے ستاروں [ائمہ] کی اقتدا کی۔ اے اللہ کی ولایت والو اپنی روسفیدی، اپنی نشستگاہ کے شرف، اپنی واپسی کی منزل کے وقار اور اس دن آمنے سامنے بچھے تخت پر اپنی کامیابی کا یقین رکھو۔ اے انحراف والو اور اللہ عزّ ذکرہ، اس کے رسول، اس کی صراط اور زمانے کے بزرگوں سے لوگوں کو روکنے والو اپنی روسیاہی اور اپنے اعمال کی سزا کے طور پر اللہ کے غضب کا یقین رکھو۔ ماضی میں کوئی رسول یا پیغمبر نہیں تھا مگر یہ کہ س نے اپنے بعد آنے رسول کی اطلاع اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کی خوشخبری دی، اپنی قوم کو ان کی پیروی کی سفارش کی، اپنی قوم کے لئے ان کے صفات بیان کئے تاکہ ان کو صفات کے ذریعہ پہچان سکیں، ان کی شریعت کی پیروی کریں، ان کے بعد گمراہ نہ ہوں، ورنہ جو بھی ہلاک یا گمراہ ہو وہ دلیل و حجت الہی کے بارے میں عذر ختم ہونے اور خبردار کرنے کے بعد ہو۔ اس لئے امتیں ہمیشہ انبیاء کے ورود اور رسولوں کی امید میں تھیں اور اگر کسی نبی کے بعد اس کے بچھڑنے کی مصیبت سے دوچار ہوتے تھے تو اگرچہ ان کا نہ ہونا بڑی مصیبت اور واقعہ تھا لیکن انھیں (آئندہ آنے والے پیغمبر کی) بڑی امید بھی رہتی تھی؛ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کی رحلت سے بڑی کوئی مصیبت اور اس سے ناگوار کوئی واقعہ نہیں کیونکہ اللہ نے خبردار کرنے اور عذر ختم کرنے کا سلسلہ ختم کردیا؛ اس طرح احتجاج کرنے اور خلق و خالق کے درمیان عذر لانے کو منقطع کردیا؛ آپ کو اپنے اور مخلوق کے درمیان ایک دروازے (وسیلہ) اور ایک نگہبان کے طور قرار دیا کہ ان کے بغیر کوئی چیز قبول نہ کرے، اس کے دربار میں حاضری نہیں ہوسکتی مگر ان کی اطاعت کے ذریعہ اور اس نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے کہ: " جو رسول کی اطاعت کرے گا اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جو منہ موڑ لے گا تو ہم نے آپ کو اس کا ذمہ دار بناکر نہیں بھیجا ہے " (نساء/۸۰) اس طرح اپ کی پیروی کو اپنی پیروی سے اور آپ کی نافرمانی کو اپنی نافرمانی سے جوڑ دیا؛ لہذا یہی (آیت) اس پر دلیل ہے آپ کو کیا عطا کیا گیا ہے اور یہی اس کے لئے شاہد ہے کہ کس نے اس کی اتباع کی ہے اور کس نے نافرمانی کی ہے؛ اور اس کو اس نے کتاب عظیم میں متعدد بار ذکر کیا ہے لہذا آپ کی اتباع پر ابھارنے اور آپ کی تصدیق اور آپ کی دعوت قبول کرنے کی ترغیب دلانے کے لئے فرماتا ہے: " اے پیغمبر! کہہ دیجئے کہ اگر تم لوگ اللہ سے محبّت کرتے ہو تو میری پیروی کرو- خدا بھی تم سے محبّت کرے گا اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا"۔ (آل‌ عمران/۳۱) ۔ اس طرح آپ کی پیروی اللہ کی محبت ہے اور آپ کی خوشنودی گناہوں کا کفارہ، مکمل کامیابی اور جنت کے واجب ہونے کا سبب ہے؛ آپ سے منہ موڑنا اور آپ کو نظر انداز کرنا اللہ سے مقابلہ، اس کے غضب، اس کی ناراضگی اور اس سے دوری کا سبب ہے نیز انسان کو دوزخ میں جگہ دینے والا ہے۔ اور اللہ کے فرمان کا بھی یہی مطلب ہے جہاں ارشاد ہے: " اور جو لوگ اس کا انکار کرتے ہیں ان کاٹھکانہ جہنم ّہے" (هود/ ۱۷)۔ اور کفر سے مراد آپ کا انکار اور نافرمانی ہے اس لئے کہ اللہ نے میرے ذریعہ اپنے بندوں کا امتحان کیا؛ میرے وسیلہ سے اپنے مخالفین کو مارا؛ میری شمشیر سے اپنے منکرین کو نابود کیا؛ مجھے مومنین کے لئے وسیلہ تقرب بنایا؛ مجھے سرکشوں کے لئے موت کا گڑھا اور مجرموں کے سر پر تلوار قرار دیا؛ میرے ذریعہ رسول اللہ کی کمر کسی؛ اور ان کی نصرت کے ذریعہ مجھے محترم کیا؛ ان کے علم کے ذریعہ مجھے شرف بخشا؛ ان کے احکام کے ذریعہ مجھے عطا کیا؛ ان کی وصیت کو مجھ سے مخصوص کیا؛ ان کی امت میں ان کی خلافت کے لئے مجھے چنا؛ تو جب مہاجرین و انصار نے آپ کو گھیر رکھا تھا اور بزم میں جگہ بہت تنگ تھی اس وقت آپ نے فرمایا:

حوالہ جات

  1. مازندرانی، شرح الکافی، ۱۳۸۲ق، ج۱۱، ص۲۰۲.
  2. کلینى، الروضة من الكافی، ترجمه سیدهاشم رسولى محلاتى، ۱۳۶۴ش،‌ ج۱،‌ ص۲۵.
  3. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۸، ص۲۴ و ۲۵.
  4. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ھ، ج۸، ص۱۸.
  5. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ھ، ج۸، ص۱۸.
  6. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۸، ص۱۸.
  7. حسینی تهرانی، امام شناسی، ۱۴۲۶ش، ج۱۰، ص۱۴۵-۱۴۷.
  8. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۸، ص۲۴ و ۲۵.
  9. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۸، ص۲۷.
  10. نگاه کنید به:‌ کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۸، ص۲۷و۲۸.
  11. نگاه کنید به:‌ کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۸، ص۳۰.
  12. نگاه کنید به:‌ کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۸، ص۲۷-۳۰.
  13. حسینی تهرانی، امام شناسی، ۱۴۲۶ش، ج۱۰، ص۱۴۶.
  14. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۸، ص۱۸-۳۰.
  15. شیخ صدوق، الامالی، ۱۳۷۶ش، ص۳۲۰-۳۲۲.
  16. شیخ صدوق،‌ من لایحضره الفقیه، ۱۴۱۳ق، ج۴، ص۴۰۶.
  17. ابن شعبه حرانى،‌ تحف العقول، ۱۴۰۴ق، ص۹۳-۱۰۰.
  18. مکارم شیرازی، پیام امام امیرالمؤمنین(ع)، ۱۳۸۶ش، ج۱۲،‌ ص۲۱۹، ۲۳۳، ۲۲۹ و ۳۱۹.
  19. موسوی، تمام نهج البلاغه، ۱۳۷۶ش، ص۱۴۷، خطبه ۱۲.
  20. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۸، ص۱۸؛ شیخ صدوق، الامالی، ۱۳۷۶ش، ص۳۲۰.
  21. ابن شهر آشوب، مناقب آل ابی‌طالب، ۱۳۷۹ق، ج۴، ص۲۱۱.
  22. ابن شهر آشوب، مناقب آل ابی‌طالب، ۱۳۷۹ق، ج۴، ص۲۸۱.
  23. دیکھئے: علامه حلی، رجال العلامة الحلی، ۱۴۱۱ق، ص۳۵.
  24. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۸، ص۱۸؛ شیخ صدوق، الامالی، ۱۳۷۶ش، ص۳۲۰.
  25. نجاشی، رجال النجاشی، ۱۳۶۵ش، ص۱۲۸.
  26. ابن غضائری، الرجال، ۱۳۶۴ش، ص۱۱۰.
  27. علامه حلی، رجال العلامة الحلی، ۱۴۱۱ق، ص۳۵.
  28. مجلسی، مرآة العقول، ۱۴۰۴ق، ج۲۵؛ ص۲۵.