حدیث علی مع الحق

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
حدیث علی مع الحق
حدیث علی مع الحق.jpg
حدیث کے کوائف
موضوع: حضرت علیؑ کی عصمت اور پیغمبر اکرمؐ کے بعد آپ کی جانشینی نیز دوسرے صحابہ پر آپ کی فضیلت و برتری۔
صادر از: پیغمبر اسلامؐ
راویان: عبداللہ بن عباس، عایشہ، عمار یاسر، ابوذر غفاری، سعد بن عبادہ وغیرہ
اعتبارِ سند: متواتر
شیعہ مآخذ: الکافی، الارشاد، کفایۃ الاثر
سنی مآخذ: صحیح ترمذی، تاریخ بغداد، تاریخ مدینہ دمشق، تذکرۃ الخواص، تفسیر الکبیر
مشہور احادیث
حدیث سلسلۃ الذہب.حدیث ثقلین.حدیث کساء.مقبولہ عمر بن حنظلہ.حدیث قرب نوافل.حدیث معراج. حدیث ولایت.حدیث وصایت.حدیث جنود عقل و جہل

حدیث عَلِیٌّ مَعَ الْحَقِّ وَالْحَقُّ مَعَ عَلِیٍّ، پیغمبر اسلامؐ کی ایک حدیث ہے جس میں امام علیؑ کو ہمیشہ حق اور حق کو ہمیشہ حضرت علیؑ کی ساتھ لازم و ملزم قرار دیا گیا ہے۔ اس حدیث کا مفہوم مختلف تعبیروں کے ساتھ پیغمبر اکرمؐ سے نقل ہوا ہے۔ ان میں سے بعض تعبیریں شیعہ اور اہل سنت دونوں منابع میں تواتر کے ساتھ نقل ہوئی ہیں۔ اس کے باوجود ابن تیمیہ نے اس حدیث کے پیغمبر اکرمؐ سے صادر ہونے کی تردید کی ہے۔

عمر بن خطاب کے بعد خلیفہ منتخب کرنے کے لئے بنائی گئی چھ رکنی کمیٹی میں حضرت علیؑ نے خلافت پر اپنی حقانیت کو ثابت کرنے کے لئے اسی حدیث سے احتجاج کیا ہے۔ اسی طرح بعض اصحاب اور اہل سنت علماء نے بھی امام علیؑ کے کردار کی توجیہ کے لئے اس حدیث سے استناد کئے ہیں۔ از این حدیث، برتری امام علی(ع) بر دیگر صحابه، عصمت، وجوب اطاعت و اولویت داشتن وی برای امامت و جانشینی پیامبر(ص) و نیز ممنوعیت سب وی برداشت شده است.

اس حدیث سے دوسرے صحابہ پر امام علیؑ کی برتری، آپؑ کی عصمت، آپ کی اطاعت کا واجب ہونا، آپ پر سب و لعن کا حرام ہونا اور امامت و خلافت کے لئے آپ کا سزاوار ہونا ثابت ہوتا ہے۔

متن اور مضامین

امیر المؤمنین حضرت علیؑ کے فضائل میں سے ایک آپؑ کا ہمیشہ حق کے ساتھ ہونا ہے جس کی طرف پیغمبر اسلام حضرت محمدؐ کی ایک حدیث میں اشارہ ہوا ہے۔ اس حدیث میں آیا ہے کہ: علی مع الحق و الحق معہ؛  (ترجمہ: علی حق کے ساتھ ہیں اور حق علی کے ساتھ ہے[1] یہ حدیث مختلف تعبیروں کے ساتھ پیغمبر اکرمؐ سے مختلف مناسبتوں میں نقل ہوئی ہے۔[2] علامہ حلی اس بات کے معتقد ہیں کہ اس سلسلے میں احادیث اتنی زیادہ ہیں کہ تواتر کی حد تک ہیں جو قابل شمار بھی نہیں ہیں۔[3] [نوٹ 1] اس حدیث کی مختلف تعبیریں مختلف حدیثی کتابوں جیسے کشف الیقین،[4] کشف الغمہ،[5] بحار الانوار،[6] الغدیر[7] اور میزان الحکمہ[8] وغیرہ میں آئی ہیں۔ سید ہاشم بحرانی نے کتاب غایۃالمرام کی دو فصلوں میں 26 موارد میں اس حدیث اور اس جیسی دیگر احادیث سے بحث کی ہیں۔[9]

اعتبار

بعض علماء کے مطابق ان میں سے بعض احادیث یقینی[10]، فریقین[11] کے یہاں مورد اتفاق [12] اور متواتر ہیں۔[13] اسی طرح کہا جاتا ہے کہ ان میں سے بعض احادیث کا متن نہایت معتبر اور ان کا متواتر اور یقینی ہونا شیعہ اور اہل محدثین کے نزدیک ثابت ہیں۔[14] اسی طرح ان احاادیث کے راویوں پر بھی کوئی اعتراض وارد نہیں ہے۔[15]

ابن ابی‌ الحدید اس حدیث کی سند کو صحیح اور قطعی قرار دیتے ہیں؛[16] چنانچہ "علی مع الحق" کی عبارت پر مشتمل بعض احادیث صحاح ستہ[17] اور اہل سنت کی دوسری کتابوس میں موجود ہیں اور بعض ان کی تعداد 130 تک بتاتے ہیں۔[18]

ابن تیمیہ کا دعوا

ابن تیمیہ کتاب منہاج السنۃ میں کہتے ہیں کہ اس حدیث کو کسی نے پیغمبر اکرمؐ سے کوئی ضعیف سند کے ساتھ بھی نقل نہیں کیا ہے۔ وہ اس حدیث کے نقل کرنے پر علامہ حلی کی مذمت کرتے ہوئے انہیں جھوٹا قرار دیتا ہے۔[19] شیعہ محققین نے اس کے جواب میں صحابہ کی ان احایث کی طرف اشارہ کرتے ہیں جسے انہوں نے اس سلسلے میں پیغمبر اکرمؐ سے نقل کی ہیں۔[20] اسی طرح علامہ امینی کتاب الغدیر میں ابن تیمیہ کی باتوں کو نقل کرنے کے بعد اہل‌سنت کے بزرگ علماء اور ان کی معتبر کتابوں سے کئی احادیث اس سلسلے میں نقل کرتے ہیں۔[21]

راوی

حدیث "علی مع الحق" کو خود امام علیؑ سمیت 23 اصحاب نے نقل کی ہیں[22] من جملہ ان میں خلیفہ اول،[23] سعد بن عبادہ،[24] ابوذر غفاری،[25] مقداد،[26] سلمان فارسی،[27] عمار یاسر،[28] ابوموسی اشعری،[29]ابوایوب انصاری،[30] سعد بن ابی‌وقاص،[31] عبداللہ بن عباس،[32] جابر بن عبداللہ انصاری،[33] حذیفۃ بن یمان[34] عایشہ[35] اور ام سلمہ[36] شامل ہیں۔

اہل‌ بیتؑ سے منقول احادیث میں امام صادقؑ نے اپنے آباء و اجداد سے اس حدیث کو نقل فرمایا ہے۔[37]

احتجاجات

حضرت علیؑ اور دیگر صحابہ نے مختلف مواقع پر حدیث "علی مع الحق" کے ساتھ احتجاج کئے ہیں:

  • چھ رکنی کمیٹی میں؛ خلیفہ دوم کے بعد خلیفہ منتخب کرنے کے لئے بنائی گئی چھ رکنی کمیٹی میں حضرت علیؑ نے دوسروں پر اپنی برتری اور فضیلت کو ثابت کرنے کے لئے اس حدیث سی استناد کیا اور اس کمیٹی میں موجود دیگر افراد سے اس کے صحیح ہونے کی تصدیق کرنے کو کہا اور سب نے اس کی تصدیق بھی کی ہیں۔[38]
  • جنگ جمل؛ محمد بن ابی‌ بکر،[39] عبداللہ بن بدیل اور ان کی بھائی محمد[40] جنگ جمل کے بعد عایشہ کے پاس گئے اور ان کی طرف سے حضرت علیؑ حق پر ہونے کے سلسلے میں نقل ہونے والی حدیث کی وجہ سے ان کی سرزنش کی۔ عایشہ نے جنگ نہروان کے بعد اس جنگ میں حضرت علیؑ کے موقف کے صحیح ہونے پر اسی حدیث سے استناد کی۔[41]
  • جنگ صفین؛ پیغمبر اکرمؐ کے صحابی ابوایوب انصاری نے جنگ صفین میں امام علیؑ کے مخالفین کے سامنے پیغمبر اسلامؐ کی زبانی عمار یاسر کا امام علیؑ کے ساتھ ہونے اور حق بھی امام کے ساتھ ہونے کے ذریعے استدلال کی ہیں۔[42] اسی طرح سعد بن ابی‌ وقاص نے بھی معاویہ کے مقابلے میں اس حدیث سے استدلال کیا حالانکہ امام علیؑ کے ساتھ بھی ان کا رویہ کوئی اچھا نہیں تھا۔[43]

اہل سنت علماء جیسے احمد بن حنبل،[44] ابن ابی‌الحدید،[45] ابن جوزی،[46] اور سبط بن جوزی[47] نے اس حدیث سے استناد کرتے ہوئے حضرت علیؑ کی تعریف اور آپ کے موقف کی درستی کی گواہی دی ہیں۔

مفہوم

مسلمان علماء حدیث "علی مع الحق" کی مختلف تفاسیر کرتے ہیں:

علیؑ حق و باطل کا معیار

امام علیؑ کو حق کے ساتھ لازم و ملزوم، حق‌ بین، حق‌ گو اور حق کو باطل سے جدا کرنے کا معیار قرار دیا جاتا ہے۔[48] بعض علماء اس حدیث سے استناد کرتے ہوئے امام علیؑ کے مخالفین کو گمراہ اور دین سے خارج قرار دیتے ہیں۔‌[49] اسی طرح بعض علماء اس حدیث سے استناد کرتے ہوئے صرف اور صرف امام علیؑ کے پیروکاروں کو فرقہ ناجیہ قرار دیتے ہیں۔[50] اہل سنت مفسر فخر رازی اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جس شخص نے بھی دینی امور میں علی ابن ابی طالب کی اقتداء کی وہ ہدایت یافتہ ہے۔[51] چنانچہ اس حدیث کے ضمن میں آیا ہے کہ پیغمبر اکرمؐ نے عمار یاسر سے فرمایا: اگر تمام انسان ایک طرف چلے جائیں اور امام علیؑ دوسری طرف، تو تم اسی سمت کو اختیار کرو جس سمت میں علیؑ گئے ہیں کیونکہ علیؑ کا راستہ حق کا راستہ ہو گا۔[52]

امام علیؑ کی بلافصل خلافت و امامت

شیعہ علماء اس بات کے معتقد ہیں کہ حضرت علیؑ کو حق کے ساتھ لازم و ملزوم قررا دینے والی احادیث سے دوسرے تمام صحابہ پر ہر حوالے سے حضرت علیؑ کی فضیلت اور برتری نیز پیغمبر اکرمؐ کے بعد امت کی رہبریت اور امامت و خلافت کے لئے آپ کی شائستگی ثابت ہوتی ہے۔[53] کیونکہ اگر حضرت علیؑ علمی، اخلاقی اور سیاسی حوالے سے سب سے بلند و برتر مقام پر فائز نہ ہوتے تو آپ کبھی بھی پیغمبر اسلامؐ کے ان احادیث کا مخاطب اور مصداق قرار نہ پاتے۔[54]

علامہ مجلسی کے مطابق معتزلہ ان احادیث سے استناد کرتے ہوئے باقی تمام صحابہ پر حضرت علیؑ کی فضیت اور برتری کے قائل ہیں۔[55]

امام علیؑ کی عصمت

شیخ مفید کے مطابق پیغمبر اکرمؐ کی طرف سے امام علیؑ کو ان صفات کا حامل قرار دینا اس بات کی ضمانت ہے کہ نہ آپ احکام الہی میں کبھی خطا اور غلطی کے مرتکب ہونگے[56] اور نہ لوگوں کو دین کے حوالے سے گمراہی میں مبتلا کریں گے۔[57] بعض علماء اس حدیث میں بغیر کسی قید و شرط کے امام علیؑ کو حق کے ساتھ لازم و ملزوم قرار دئے جانے[58] کو آپ کی عصمت اور پاکیزگی کے دلائل میں سے ایک قرار دیتے ہیں[59] اور کہتے ہیں کہ آپ کی سیرت اور کردار[60] زندگی کے تمام علمی، عملی، شرعی، عرفی، سیاسی، سماجی اور اخلاقی میدان میں ہر حوالے سے خدشہ ناپذیر ہیں؛[61] اس بنا پر کسی قسم کی غلطی اور گناہ کا ارتکاب آپ کی سیرت میں ممکن ہی نہیں بلکہ محال ہے؛[62] کیونکہ اگر زندگی کے کسی بھی شعبے میں کوئی معمولی سا گناہ اور غلطی کا ارتکاب آپ اور حق میں موجود ملازمے کے خاتمے کا سبب بنے گا اس صورت میں پیغمبر اکرمؐ کے قول میں نقص آئے گا جو امکان پذیر نہیں ہے۔[63]

امام اطاعت کا واجب ہونا اور آپ سے دشمنی کی ممانعت

اس حدیث کی رو سے دوسرے تمام مسلمانوں پر بغیر کسی چون و چرا کے امام علیؑ کی اطاعت کرنا واجب ہے۔[64] بعض علماء ان احادیث کو امام علیؑ کی نہایت فضیلت، کرامت اور عظمت کی دلیل قرار دیتے ہوئے اس بات کے معتقد ہیں کہ کم ترین چیز جو اس حدیث سے سمجھ آتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت علیؑ کے ساتھ جنگ کرنا، آپ پر سب و لعن کرنا یا آپ کے ساتھ دشمنی کا اظہار کرنا حرام اور ممنوع ہیں۔[65]

خلیفہ دوم کے لئے اس حدیث کی مشابہ حدیث جعل کرنا

بعض اہل سنت علماء نے اس حدیث سے مشابہ احادیث کو پیغمبر اکرمؐ سے خلیفہ دوم کے لئے بھی جعل کرنے کی کوشش کی ہیں جس کے مطابق حضرت محمدؐ نے خلیفہ دوم پر رحمت کی دعا کے ساتھ فرمایا عمر حق بات کہنے والا ہے اگرچہ حق اسے ترک بھی کریں۔[66]

اس سلسلے میں بعض محققین اس بات کے معتقد ہیں کہ چونکہ حدیث علی مع الحق سند اور مضمون کے اعتبار سے قابل انکار یا تضعیف نہیں ہے اس لئے آپ کے دشمنوں نے اس حوالے سے آپ کے مد مقابل دوسروں کے لئے بھی فضائل اور مناقب جعل کرنے یا آپؑ کی فضیلت میں وارد ہونے والی احادیث کے آخر بعض مطالب ذکر کرنے کی کوشش ہیں تاکہ ایسی فضیلتیں آپ سے پہلے والے خلفاء کے لئے بھی ثابت ہوں اور صرف آپ میں منحصر نہ رہے۔[67]

حوالہ جات

  1. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۱، ص۲۹۴؛ خزاز قمی، کفایۃ الأثر، ۱۴۰۱ق، ص۲۰؛ ابن حیون، شرح الأخبار، ۱۴۰۹ق، ج۲، ص۶۰؛ شیخ مفید، الفصول المختارۃ، ۱۴۱۳ق، ص۹۷۔
  2. تنکابنی، ضیاء القلوب، ۱۳۸۲ش، ج۲، ص۲۰۳۔
  3. علامہ حلی، کشف الیقین، ۱۴۱۱ق، ص۲۳۷۔
  4. علامہ حلی، کشف الیقین، ۱۴۱۱ق، ص۲۳۳-۲۳۶۔
  5. اربلی، کشف الغمۃ، ۱۳۸۱ق، ج۱، ص۱۴۶-۱۴۸۔
  6. مجلسی، بحار الأنوار، ۱۴۰۴ق، ج۳۸، ص۲۹-۴۰۔
  7. امینی، الغدیر، ۱۴۱۶ق، ج۳، ص۲۵۱-۲۵۶۔
  8. محمدی ری‌شہری، میزان الحکمۃ، ۱۴۲۲ق، ج۱، ص۱۸۴۔
  9. آمدی، غایۃ المرام، ۱۴۱۳ق، ج۵، ص۲۸۲-۲۹۱۔
  10. میلانی، شرح منہاج الکرامۃ، ۱۳۸۶ش، ج۲، ص۹۵۔
  11. طالقانی، منہج الرشاد، ۱۴۱۱ق، ج۱، ص۳۰ و۳۱۔
  12. طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۱۲، ص۱۱۰۔
  13. حر عاملی، إثبات الہداۃ، ۱۴۲۲ق، ج۲، ص۳۱۸۔
  14. فقیہ ایمانی، حق با علی است، ۱۳۷۷ق، ص۴۷۔
  15. شیخ مفید، الجمل، ۱۴۱۳ق، ص۸۱۔
  16. ابن ابی‌الحدید، شرح نہج البلاغہ، ۱۴۰۴ق، ج۲، ص۲۹۷؛ ج۱۸، ص۷۲-۷۳۔
  17. ترمذی، سنن الترمذی، بیروت، ج۵، ص۶۳۳۔
  18. برای اطلاعات بیشتر نگاہ کنید بہ: فقیہ ایمانی، حق با علی است، ۱۳۷۷ش، ص۴۹-۵۸۔
  19. ابن تیمیہ، منہاج السنہ، ۱۴۰۶ق، ج۴، ص۲۳۸۔
  20. امینی، نظرۃ فی کتاب منہاج السنۃ النبویۃ، ص۱۰۴؛ فقیہ ایمانی، حق با علی است، ۱۳۷۷ش، ص۹۸۔
  21. امینی، الغدیر، ۱۴۱۶ق، ج۳، ص۲۵۱-۲۵۶۔
  22. رضوانی، شیعہ‌شناسی و پاسخ بہ شبہات، ۱۳۸۴ش، ج۱، ص۵۵؛ فقیہ ایمانی، حق با علی است، ۱۳۷۷ش، ص۴۸-۴۹۔
  23. طبرسی، الاحتجاج، ۱۴۰۳ق، ج ۱، ص۸۸۔
  24. حرعاملی، اثبات الہدی، ۱۴۲۲ق، ج۳، ص۲۹۸؛ طبری، کامل البہائی، ۱۴۲۶ق، ج۱، ص۳۲۵؛ شوشتری، إحقاق الحق، ۱۴۰۹ق، ج۲، ص۳۴۸۔
  25. اسکافی، نقض العثمانیہ، ۱۳۷۸ش، ص۲۲۸؛ شجری جرجانی، ترتیب الأمالی الخمیسیۃ، ۱۴۲۲ق، ج۱، ص۱۸۹۔
  26. شوشتری، إحقاق الحق، ۱۴۰۹ق، ج۴، ص۲۷۔
  27. ابن عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، ۱۴۱۵ق، ج۴۲، ص۴۱؛ ہلالی، کتاب سلیم بن قیس، ۱۴۰۵ق، ص۸۸۱؛ شیخ مفید، الإرشاد، ۱۴۱۳ق، ج۱، ص۳۲۔
  28. اسکافی، المعیار و الموازنۃ، ۱۴۰۲ق، ص۳۵–۳۶؛ متقی ہندی، کنز العمال، ۱۴۰۱ق، ج۱۱، ص۶۱۳۔
  29. ابن مردویہ، مناقب علی(ع)، ۱۴۲۴ق، ص۱۱۵۔
  30. خطیب بغدادی، تاریخ بغداد، ۱۴۱۷ق، ج۱۳، ص۱۸۸؛ ابن عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، ۱۴۱۵ق، ج۴۲، ص۴۷۲؛ ابن العدیم، بغیۃ الطلب، بیروت، ج۱، ص۲۹۲۔
  31. ابن عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، ۱۴۱۵ق، ج۲۰، ص۳۶۱؛ ہیثمی، مجمع الزوائد، ۱۴۱۴ق، ج۷، ص۲۳۵۔
  32. حموی الشافعی، فرائد السمطین، ۱۴۰۰ق، ج۱، ص۱۷۷؛ قندوزی، ینابیع المودۃ، ۱۴۲۲ق، ج۲، ص۳۱۱؛ ابن عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، ۱۴۱۵ق، ج۴۲، ص۴۲؛ گنجی الشافعی، کفایۃ الطالب، ۱۴۰۴ق، ص۱۸۷؛ ذہبی، میزان الاعتدال، ۱۳۸۲ق، ج۲، ص۳؛ ابن حجر عسقلانی، لسان المیزان، ۱۳۹۰ق، ج۲، ص۴۱۴؛ حسکانی، شواہد التنزیل، ۱۴۱۱ق، ج۱، ص۲۴۶۔
  33. قندوزی، ینابیع المودۃ، ۱۴۲۲ق، ج۱، ص۱۷۳۔
  34. خوارزمی، المناقب، ۱۴۱۱ق، ص۱۷۷؛ ابن طاوس، الطرائف، ۱۴۰۰ق، ج۱، ص۱۰۳۔
  35. ابن مردویہ، مناقب علی(ع)، ۱۴۲۴ق، ص۱۱۵؛ علامہ حلی، نہج الحق، ۱۹۸۲م، ص۲۲۵؛ اربلی، کشف الغمۃ، ۱۳۸۱ق، ج۱، ص۱۵۴۔
  36. حاکم نیشابوری، مستدرک الصحیحین، ۱۴۱۱ق، ج۳، ص۱۲۹؛ ابن مردویہ، مناقب علی(ع)، ۱۴۲۴ق، ص۱۱۵؛ خطیب بغدادی، تاریخ بغداد، ۱۴۱۷ق، ج۱۴، ص۳۲۲؛ ابن عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، ۱۴۱۵ق، ج۴۲، ص۴۴۹؛ ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، ۱۴۰۷ق، ج۷، ص۳۶۰۔
  37. حامدحسین، عبقات الانوار، ۱۳۶۶ش، ج۱، ص۲۲۲۔
  38. علامہ حلی، کشف الیقین، ۱۴۱۱ق، ص۴۲۵؛ علامہ حلی، نہج الحق، ۱۹۸۲م، ص۳۹۴؛ ابن مغازلی، مناقب أہل البیت(ع)، ۱۴۲۷ق، ص۱۸۹؛ علامہ حلی، منہاج الکرامۃ، ۱۳۷۹ش، ص۹۴۔
  39. ابن قتیبہ، الامامہ و السیاسہ، ۱۴۱۰ق، ج۱، ص۹۸؛ ابن شہرآشوب، مناقب آل أبی‌طالب(ع)، ۱۳۷۹ق، ج۳، ص۶۲؛ مجلسی، بحار الأنوار، ۱۴۰۴ق، ج۳۸، ص۲۸۔
  40. شیخ مفید، الجمل، ۱۴۱۳ق، ص۴۳۳۔
  41. اربلی، کشف الغمۃ، ۱۳۸۱ق، ج۱، ص۱۴۷؛ مجلسی، بحار الأنوار، ۱۴۰۴ق، ج۳۳، ص۳۳۲؛ ج۳۸، ص۳۵۔
  42. خطیب بغدادی، تاریخ بغداد، ۱۴۱۷ق، ج۱۳، ص۱۸۸؛ ابن عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، ۱۴۱۵ق، ج۴۲، ص۴۷۲؛ ابن العدیم، بغیۃ الطلب، بیروت، ج۱، ص۲۹۲۔
  43. ابن عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، ۱۴۱۵ق، ج۲۰، ص۳۶۱؛ ہیثمی، مجمع الزوائد، ۱۴۱۴ق، ج۷، ص۲۳۵۔
  44. ابن عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، ۱۴۱۵ق، ج۴۲، ص۴۱۹۔
  45. ابن أبی‌الحدید، شرح نہج البلاغۃ، ۱۴۰۴ق، ج۹، ص۸۸۔
  46. ابن جوزی، صید الخاطر، ۱۴۲۵ق، ج۱، ص۳۹۷۔
  47. سبط بن جوزی، تذکرہ الخواص، ۱۴۱۸ق، ص۳۵۔
  48. فقیہ ایمانی، حق با علی است، ۱۳۷۷ش، ص۴۷۔
  49. حرعاملی، إثبات الہداۃ، ۱۴۲۲ق، ج۲، ص۳۱۸؛ محدث ارموی، تعلیقات نقض، ۱۳۵۸ش، ج۲، ص۷۱۲؛ سند، الصحابۃ بین العدالۃ و العصمۃ، ۱۴۲۶ق، ص۲۰۳
  50. تیجانی سماوی، الشیعۃ ہم أہل السنۃ، ۱۴۲۸ق، ص۱۱۴۔
  51. فخر رازی، تفسیر الکبیر، ۱۴۲۰ق، ج۱، ص۱۸۰۔
  52. ابن طاوس، الطرائف، ۱۴۰۰ق، ج۱، ص۱۰۴؛ اربلی، کشف الغمہ، ۱۳۸۱ق، ج۱، ۱۴۳؛ علامہ حلی، نہج الحق، ۱۹۸۲م، ص۲۲۴۔
  53. نمونہ کے لئے ملاحظہ کریں: طبرسی، إعلام الوری، ۱۳۹۰ق، ص۱۵۹؛ مغنیہ، الجوامع و الفوارق، ۱۴۱۴ق، ص۹۲-۹۳۔
  54. فقیہ ایمانی، حق با علی است، ۱۳۷۷ش، ص۱۳۷۔
  55. مجلسی، بحار الأنوار، ۱۴۰۴ق، ج۳۸، ص۲۹۔
  56. شیخ مفید، الفصول المختارۃ، ۱۴۱۳ق، ص۳۳۹۔
  57. شیخ مفید، الفصول المختارۃ، ۱۴۱۳ق، ص۲۱۱۔
  58. حکیم، الإمامۃ و أہل البیتؑ، ۱۴۲۴ق، ص۲۲۵۔
  59. طوسی، تلخیص الشافی، ۱۳۸۲ش، ج۲، ص۲۵۷؛ مغنیہ، الجوامع و الفوارق، ۱۴۱۴ق، ص۹۲؛ مجلسی، حق الیقین، تہران، ص۱۳۶؛ سبحانی، رسائل و مقالات، ۱۴۲۵ق، ج۵، ص۳۸۲۔
  60. سند، الصحابۃ بین العدالۃ و العصمۃ، ۱۴۲۶ق، ص۲۰۳۔
  61. ابن عطیہ، أبہی المراد، ۱۴۲۳ق، ج۱، ص۸۰۷؛ مقدس اردبیلی، حدیقۃ الشیعۃ، ۱۳۸۳ش، ج۱، ص۳۲۷۔
  62. سبحانی، الأضواء، قم، ص۳۸۹؛ بحوث فی الملل و النحل، قم، ج۶، ص۲۷۴۔
  63. فقیہ ایمانی، حق با علی است، ۱۳۷۷ش، ص۱۴۵-۱۴۶۔
  64. ابن عطیہ، أبہی المراد، ۱۴۲۳ق، ج۱، ص۵۶۹؛ تنکابنی، ضیاء القلوب، ۱۳۸۲ش، ج۲، ص۲۰۳؛ کاشف الغطاء، العقائد الجعفریۃ، ۱۴۲۵ق، ص۵۳۔
  65. طوسی، تلخیص الشافی، ۱۳۸۲ش، ج۲، ص۱۳۶۔
  66. بزار، مسند البزار، ۱۴۰۹ق، ج ۶، ص۹۸؛ ترمذی، سنن الترمذی، بیروت، ج۵، ص۶۳۳؛ ابن عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، ۱۴۱۵ق، ج ۴۴، ص۱۲۶۔
  67. فقیہ ایمانی، حق با علی است، ۱۳۷۷ش، ص۱۰۱۔
  1. ان احادیث میں سے بعض درج ذیل ہیں۔
    • عَلِی مَعَ الْحَقِّ وَالْحَقُّ مَعَ عَلِی وَ لَنْ یتَفَرَّقَا حَتَّی یرِدَا عَلَی الْحَوْضَ یوْمَ الْقِیامَۃِ(ابن عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، ۱۴۱۵ق، ج۴۲، ص۴۴۹؛ خطیب بغدادی، تاریخ بغداد، ۱۴۱۷ق، ج۱۴، ص۳۲۲۔)
    • رَحِمَ اللَّہُ عَلِیا اَللَّہُمَّ أَدِرِ الْحَقَّ مَعَہُ حَیثُما دَارَ(ترمذی، سنن ترمذی، بیروت، ج۵، ص۶۳۲۔)
    • اَلْحَقُّ مَعَ ذَا اَلْحَقُّ مَعَ ذَا۔(ابویعلی، مسند أبی‌یعلی، ۱۴۰۴ق، ج۲، ص۳۱۸؛ ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ۱۴۱۵ق، ج۲، ص۴۴۹؛ ہیثمی، مجمع الزوائد، ۱۴۱۴ق، ص۲۳۵؛ متقی ہندی، کنز العمال، ۱۴۰۱ق، ص۶۲۱۔)
    • لَم یزَل عَلِی بنُ أبی طالِبٍ مَعَ الحَقِّ وَالحَقُّ مَعَہُ حَیثُ کانَ(ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ۱۴۱۵ق، ج۴۲، ص۴۱۹۔)
    • عَلِی مَعَ الْحَقِّ اَوِ الْحَقُّ مَعَ عَلِی حَیثُمَا دَارَ(ہیثمی، مجمع الزوائد، ۱۴۱۴ق، ج۷ ص۲۳۵۔)
    • عَلِی مَعَ القُرآنِ وَ القُرآنُ مَعَ عَلِی، لَن یفتَرِقا حَتّی یرِدا عَلَی الحَوضَ۔(زمخشری، ربیع الأبرار، ۱۴۱۲ق، ج۲، ص۱۷۳۔)
    • فَوَاللّہ إنَکَ لَعلَی الْحَقِّ وَالْحَقُّ مَعَک(حاکم نیشابوری، مستدرک الصحیحین، ۱۴۱۱ق، ج۳، ص۱۲۹۔)

مآخذ

  • آمدی، سیف‌الدین، غایۃ المرام فی علم الکلام، بیروت، دارالکتب العلمیۃ، ۱۴۱۳ھ۔
  • ابن ابی‌الحدید، عبدالحمید بن ہبۃ اللہ، شرح نہج البلاغۃ، قم، مکتبۃ آیۃ اللہ المرعشی النجفی، ۱۴۰۴ھ۔
  • ابن تیمیہ حرانی، احمد بن عبدالحلیم، منہاج السنۃ النبویۃ فی نقض کلام الشیعۃ القدریۃ، تحقیق محمد رشاد سالم، جامعۃ الإمام محمد بن سعود الإسلامیۃ، ۱۴۰۶ھ۔
  • ابن جوزی، أبوالفرج عبدالرحمن بن علی، صید الخاطر، دمشق، دارالقلم، ۱۴۲۵ھ۔
  • ابن جوزی، سبط، تذکرۃ الخواص، قم، منشورات الشریف الرضی، ۱۴۱۸ھ۔
  • ابن حجر عسقلانی، احمد بن علی، لسان المیزان، تحقیق دائرۃ المعرف النظامیۃ، بیروت، مؤسسۃ الأعلمی للمطبوعات، چاپ دوم، ۱۳۹۰ھ۔
  • ابن حیون، نعمان بن محمد، شرح الأخبار فی فضائل الأئمۃ الأطہار(ع)، قم، جامعہ مدرسین، ۱۴۰۹ھ۔
  • ابن شہرآشوب مازندرانی، محمد بن علی، مناقب آل ابی‌طالب، قم، علامہ، ۱۳۷۹ھ۔
  • ابن طاوس، سید رضی‌الدین، الطرائف فی معرفۃ مذاہب الطوائف، قم، نشر خیام، ۱۴۰۰ھ۔
  • ابن عساکر، علی بن حسن، تاریخ مدینۃ دمشق و ذکر فضلہا و تسمیۃ من حلہا من الاماثل، تحقیق علی شیری، بیروت، دارالفکر، ۱۴۱۵ھ۔
  • ابن عطیہ، جمیل حمود، أبہی المراد فی شرح مؤتمر علماء بغداد، بیروت، مؤسسۃ الأعلمی، ۱۴۲۳ھ۔
  • ابن قتیبہ دینوری، عبداللہ بن مسلم، الإمامۃ و السیاسۃ معروف بہ تاریخ الخلفاء، تحقیق علی شیری، بیروت، دارالأضواء، ۱۴۱۰ھ۔
  • ابن کثیر دمشقی، اسماعیل بن عمر، البدایۃ و النہایۃ، بیروت،دار الفکر، ۱۴۰۷ھ۔
  • ابن مردویہ اصفہانی، احمد بن موسی، مناقب علی بن أبی طالب(ع)، قم،‌دار الحدیث، چاپ دوم، ۱۴۲۴ھ۔
  • ابن مغازلی، علی بن محمد، مناقب أہل البیت(ع)، تہران، المجمع العالمی للتقریب بین المذاہب الإسلامیۃ، ۱۴۲۷ھ۔
  • ابن‌العدیم، عمر بن احمد، بغیۃ الطلب فی تاریخ حلب، تحقیق سہیل زکار، بیروت، دارالفکر، بی‌تا۔
  • ابویعلی موصلی، احمد بن علی، مسند أبی یعلی،‌ دمشق،دار المأمون للتراث، تحقیق حسین سلیم أسد، ۱۴۰۴ھ۔
  • اربلی، علی بن عیسی، کشف الغمۃ فی معرفۃ الأئمۃ، تبریز، بنی ہاشمی، ۱۳۸۱ھ۔
  • اسکافی، محمد بن عبداللہ، المعیار و الموازنۃ فی فضائل الإمام أمیر المؤمنین علی بن أبی طالب صلوات اللہ علیہما، بیروت، ۱۴۰۲ھ۔
  • اسکافی، محمد بن عبداللہ، نقض العثمانیۃ، قم، مکتبۃ آیۃ اللہ المرعشی، ۱۳۷۸-۱۳۸۳ش۔
  • امینی، عبدالحسین، الغدیر فی الکتاب و السنۃ و الأدب، قم، مرکز الغدیر للدراسات الاسلامیہ، ۱۴۱۶ھ۔
  • امینی، نظرۃ فی کتاب منہاج السنۃ النبویۃ، بہ کوشش احمد کنانی، تہران، نشر مشعر، بی‌تا۔
  • بزار، احمد بن عمرو، البحر الزخار (مسند البزار)، تحقیق محفوظ الرحمن زین اللہ، بیروت، مؤسسۃ علوم القرآن، ۱۴۰۹ھ۔
  • ترمذی، محمد بن عیسی، سنن الترمذی، ‌بیروت،‌ دار إحیاء التراث العربی، تحقیق أحمد محمد شاکر، ۱۹۹۸م۔
  • تنکابنی، محمد بن عبدالفتاح، ضیاء القلوب، قم، مجمع ذخائر اسلامی، ۱۳۸۲ش۔
  • تیجانی سماوی، محمد، الشیعۃ ہم أہل السنۃ، قم، مؤسسۃ أنصاریان، چاپ دہم، ۱۴۲۸ھ۔
  • حاکم نیشابوری، محمد بن عبداللہ، مستدرک الصحیحین، تحقیق مصطفی عبدالقادر عطا،‌ بیروت، دارالکتب العلمیۃ، ۱۴۱۱ھ۔
  • حر عاملی، محمد بن حسن، إثبات الہداۃ، بیروت، مؤسسۃ الأعلمی، ۱۴۲۲ھ۔
  • حسکانی، عبیداللہ بن عبداللہ، شواہد التنزیل لقواعد التفضیل، تہران، مجمع إحیاء الثقافۃ الإسلامیۃ، ۱۴۱۱ھ۔
  • حکیم، سید محمدباقر، الإمامۃ و أہل البیت(ع) النظریۃ و الإستدلال، قم، المرکز الإسلامی المعاصر، ۱۴۲۴ھ۔
  • حموی شافعی، ابراہیم بن سعدالدین، فرائد السمطین فی فضائل المرتضی و البتول و السبطین و الأئمۃ من ذریتہم(ع)، قم، مؤسسۃ المحمود، ۱۴۰۰ھ۔
  • خزاز قمی، علی بن محمد، کفایۃ الأثر فی النص علی الأئمۃ الإثنی عشر، قم، انتشارات بیدار، ۱۴۰۱ھ۔
  • خطیب بغدادی، احمد بن علی، تاریخ بغداد، تحقیق مصطفی عبدالقادر عطا، بیروت، دارالکتب العلمیہ، ۱۴۱۷ھ۔
  • خوارزمی، موفق بن احمد، المناقب، قم، جامعہ مدرسین، چاپ دوم، ۱۴۱۱ھ۔
  • ذہبی، شمس الدین محمد بن أحمد، میزان الاعتدال فی نقد الرجال، تحقیق علی محمد البجاوی، بیروت، دارالمعرفۃ للطباعۃ والنشر، ۱۳۸۲ھ۔
  • رضوانی، علی‌اصغر، شیعہ‌شناسی و پاسخ بہ شبہات، تہران، نشر مشعر، چاپ دوم، ۱۳۸۴ش۔
  • زمخشری، جاراللہ، ربیع الأبرار ونصوص الأخیار بیروت، مؤسسۃ الأعلمی، ۱۴۱۲ھ۔
  • سبحانی، جعفر، الأضواء علی عقائد الشیعۃ الإمامیۃ، قم، مؤسسہ امام صادق(ع)، بی‌تا۔
  • سبحانی، جعفر، بحوث فی الملل و النحل، قم، مؤسسۃ النشر الإسلامی، گوناگون۔
  • سبحانی، رسائل و مقالات، قم، مؤسسۃ الإمام الصادق(ع)، چاپ دوم، ۱۴۲۵ھ۔
  • سند، شیخ محمد، الصحابۃ بین العدالۃ و العصمۃ، قم، لسان الصدق، چاپ اول، ۱۴۲۶ھ۔
  • شجری جرجانی، یحیی بن حسین، ترتیب الأمالی الخمیسیۃ، تحقیق محمد حسن محمد حسن إسماعیل، بیروت، ‌دارالکتب العلمیۃ، ۱۴۲۲ھ۔
  • شوشتری، قاضی نوراللہ، إحقاق الحق و إزہاق الباطل، قم، مکتبۃ آیۃ‌اللہ المرعشی النجفی، ۱۴۰۹ھ۔
  • شیخ مفید، محمد بن محمد، الإرشاد فی معرفۃ حجج اللہ علی العباد، قم، کنگرہ شیخ مفید، ۱۴۱۳ھ۔
  • شیخ مفید، محمد بن محمد، الجمل و النصرۃ لسید العترۃ فی حرب البصرۃ، قم، المؤتمر العالمی للشیخ المفید، ۱۴۱۳ھ۔
  • شیخ مفید، محمد بن محمد، الفصول المختارۃ، قم، المؤتمر العالمی للشیخ المفید، ۱۴۱۳ھ۔
  • طالقانی، محمدنعیم، منہج الرشاد فی معرفۃ المعاد، مشہد، آستان قدس رضوی، ۱۴۱۱ھ۔
  • طباطبایی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، قم، دفتر انتشارات اسلامی جامعۀ مدرسین حوزہ علمیہ قم، چاپ پنجم، ۱۴۱۷ھ۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، إعلام الوری بأعلام الہدی، تہران، اسلامیہ، چاپ سوم، ۱۳۹۰ھ۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، الإحتجاج، مشہد، نشر المرتضی، ۱۴۰۳ھ۔
  • طبری، حسن بن علی، کامل البہائی، تعریب محمد شعاع فاخر، قم، المکتبۃ الحیدریۃ، ۱۴۲۶۔
  • طوسی، محمد بن حسن، تلخیص الشافی، قم، انتشارات المحبین، ۱۳۸۲ش۔
  • علامہ حلی، حسن بن یوسف، کشف الیقین فی فضائل أمیر المومنین(ع)، تہران، وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی، ۱۴۱۱ھ۔
  • علامہ حلی، حسن بن یوسف، منہاج الکرامۃ فی معرفۃ الإمامۃ، مشہد، مؤسسۃ عاشورا، ۱۳۷۹ش۔
  • علامہ حلی، حسن بن یوسف، نہج الحق و کشف الصدق، بیروت، دارالکتاب اللبنانی، ۱۹۸۲م۔
  • فخررازی، محمد بن عمر، مفاتیح الغیب، بیروت،‌دار احیاء التراث العربی، چاپ سوم، ۱۴۲۰ھ۔
  • فقیہ ایمانی، مہدی، حق با علی است، قم، دفتر تبلیغات اسلامی، ۱۳۷۷ش۔
  • قندوزی، سلیمان بن ابراہیم، ینابیع المودۃ لذو القربی، قم، نشر اسوہ، چاپ دوم، ۱۴۲۲ھ۔
  • کاشف‌الغطاء، شیخ جعفر، العقائد الجعفریۃ، قم، مؤسسۃ أنصاریان، چاپ سوم، ۱۴۲۵ھ۔ استفادہ بیشتر
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تہران، دارالکتب الإسلامیۃ، چاپ چہارم، ۱۴۰۷ھ۔
  • گروہ معارف و تحقیقات اسلامی، حدیث غدیر، سند گویای ولایت، قم، مدرسہ امام علی بن ابی طالب(ع)، چاپ ہشتم، بی‌تا۔
  • گنجی شافعی، محمد بن یوسف، کفایۃ الطالب فی مناقب علی بن أبی طالب، تہران،‌دار إحیاء تراث أہل البیت(ع)، چاپ دوم، ۱۴۰۴ھ۔
  • متقی الہندی، علی بن حسام، کنزالعمال فی سنن الأقوال والأفعال، تحقیق: بکری حیانی، صفوۃ السقا، بیروت، مؤسسۃ الرسالۃ، چاپ ہفتم، ۱۴۰۱ھ۔
  • مجلسی، محمدباقر، بحارالأنوار، بیروت، مؤسسۃ الوفاء، ۱۴۰۴ھ۔
  • مجلسی، محمدباقر، حق الیقین، تہران، انتشارات اسلامیہ، بی‌تا۔
  • محدث ارموی، میرجلال‌الدین، تعلیقات نقض، تہران، انتشارات انجمن آثار ملی، ۱۳۵۸ش۔
  • محمدی ری‌شہری، محمد، میزان الحکمۃ، قم،‌ دارالحدیث، ۱۴۲۲ھ۔
  • مغنیہ، محمدجواد، الجوامع و الفوارق بین السنۃ و الشیعۃ، بیروت، مؤسسۃ عزالدین، ۱۴۱۴ھ۔
  • مقدس اردبیلی، احمد بن محمد، حدیقۃ الشیعۃ، قم، انتشارات انصاریان، چاپ سوم، ۱۳۸۳ش۔
  • میرحامدحسین، عبقات الأنوار فی إثبات إمامۃ الأئمۃ الأطہار، اصفہان، کتابخانہ امیرالمؤمنین، چاپ دوم، ۱۳۶۶ش۔
  • میلانی، سید علی، شرح منہاج الکرامۃ فی معرفۃ الإمامۃ، قم، مرکز الحقائق الإسلامیۃ، ۱۳۸۶ش۔
  • ہلالی، سلیم بن قیس، کتاب سلیم بن قیس الہلالی، قم، الہادی، ۱۴۰۵ھ۔
  • ہیثمی، علی بن أبی‌بکر، مجمع الزوائد و منبع الفوائد، تحقیق حسام الدین القدسی، قاہرہ، مکتبۃ القدسی، ۱۴۱۴ھ۔