قاعدین

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

قاعِدین دین اسلام کا ایک ایسا گروہ ہے جو امام علیؑ کے دوران خلافت وجود میں آیا، جنہوں نے خلیفہ سوم کی خونریزی کے وقت نہ تو عثمان کے خون خواہوں کا ساتھ دیا اور نہ ہی امام علیؑ کے طرف داروں کا ساتھ۔ قاعدین ایک ایسے گروہ والے تھے جو بہت ہی سطحی فکر اور جمود فکری کا شکار تھے کہ جن میں حق و باطل کی شناخت کی بھی طاقت نہیں تھی۔

عبداللہ بن عمر، سعد بن ابی‌وقّاص اور ابوموسی اشعری جیسے افراد اس گروہ کے اہم افراد تھے۔ جنگ جمل میں قاعدین نے لوگوں کو امام علی (ع) کی پیروی نہ کرنے کی ترغیب دی اور بعض اوقات لوگوں کے جنگ جمل میں شامل کا سبب بھی بنے۔ نیز وہ لوگ جنگ صفین میں بھی معاویہ کے خلاف لشکر امام علیؑ کی فتح میں بھی رکاوٹ بنے تھے۔

امام علیؑ نے قاعدین کی ملامت تو کی ہے لیکن کبھی ان کے خلاف لشکر کشی نہیں کی۔ بعض محققین کے مطابق افکار قاعدین، حکومت امام علیؑ سے پہلے بھی تھی اور حکومت کے بعد بھی جاری رہی۔

مقام و اہمیت

تیسرے خلیفہ کے قتل کے بعد مسلمانوں کے ایک گروہ نے امام علیؑ پر الزام لگایا کہ انہوں نے عثمان کی جان کو باغیوں سے بچانے سے انکار کر دیا اور اس الزام پر اعتماد کرتے ہوئے امام علیؑ کے ساتھ جنگ کے لئے آمادہ ہوئے۔[1] اسی جنگ میں بعض صحابہ نے عثمان کے خون خواہوں اور امام علیؑ کے طرفداروں کے درمیان غیر جانب دارانہ رویہ اختیار کیا کہ جس کی بنا پر وہ قاعدین کے نام سے مشہور ہو گئے۔[2]

کچھ علماء کے مطابق قاعدین نے دونوں مسلمان گروہوں کی حمایت کرنے سے انکار خوف یا دوسری وجہ سے نہیں بلکہ سماجی و سیاسی حالات سے کیا۔[3] اور اسلامی معاشرہ میں نئے افکار کو جنم دیا۔[4] علماء کا ماننا ہے کہ قاعدین کے رہنماؤں کی سماجی حیثیت اور پیغمبر اکرمؐ کے زمانے میں ان کی مثبت تاریخ، امام علی کی خلافت کے دوران لوگوں میں ان کی سوچ کو پھیلانے کا باعث بنی۔[5]

قاعدین ایک ایسے گروہ والے تھے جو بہت ہی سطحی فکر اور جمود فکری کا شکار تھے کہ جن میں حق و باطل کی شناخت کی طاقت بھی نہیں تھی۔[6] مصنفین کے مطابق اگرچہ قاعدین کے بزرگوں کے درمیان آپس میں نظریاتی اور عقائدی اختلاف شدید تھا لیکن انہوں نے عثمان کے قتل کے بعد غیر جانبداری کے لئے ایک مشترکہ نقطہ نظر کو انتخاب کیا۔[7]

تاریخ

لفظ قاعدین قرآن میں بنی اسرائیل کے ایک گروہ کے لئے استعمال ہوا ہے جس نے جہاد کے لئے موسیٰ کی پیروی کرنے اور مقدس سرزمین میں داخل ہونے سے انکار کر دیا تھا۔[8] اور چالیس سال تک بیابان میں پریشان و بے حال پھرتے رہے۔[9] اسی طرح یہ لفظ قرآن[10] میں ان لوگوں کے لئے بھی استعمال ہو ہے جو کسی بھی دلیل کی وجہ سے جنگوں میں شرکت نہیں کرتے۔[11]

پیغمبر اکرمؐ کی حکومت کے زمانہ میں بعض مسلمان صرف راحت و آرام کی خاطر جنگ شرکت نہیں کرتے تھے۔[12] صحابہ، غزوہ تبوک میں شرکت سے پہلے اپنے گھر والوں سے رخصت ہونے کے لئے جاتے[13] اور ان میں سے کچھ، اپنی بیویوں اور بچوں کا سامنا کرنے اور جنگ کی مشکلات کو یاد کرنے کے بعد، جہاد میں حصہ لینے کے طاقت پیدا نہ کر سکے اور گھر میں ہی بیٹھ گئے۔[14] غزوہ تبوک سے واپس آنے کے بعد، رسول اللہؐ، قاعدین کے ساتھ سختی سے پیش آئے۔[15]

اہم افراد

عبداللہ بن عمر، سعد بن ابی‌وقاص، ابوموسی اشعری، اُسامۃ بن زید اور محمد بن مَسلَمہ قاعدین کے رہبروں میں سے تھے۔[16] وہ لوگ قتل عثمان کے بعد معاویہ کی بیعت نہیں کرنا چاہتے تھے اور امام علیؑ کی بیعت سے بھی پرہیز کیا۔[17] قاعدین کے رہنماؤں نے اپنے ہاتھوں کو ان لوگوں کے خون سے آلودہ نہیں ہونے دیا جنہوں نے "لا الہ الا اللہ" کہا اور اس بات پر مُصِر تھے کہ جب تک معاشرے میں شکوک و شبہات کی فضا قائم ہے اور حق واضح نہیں ہو جاتا تب تک صبر کرنا چاہئے۔[18] شیخ مفید کے مطابق سعد بن ابی وقاص، حسد اور خلافت کی لالچ کی وجہ سے امام علیؑ کی مدد کرنے سے گریز کرتا رہا۔[19]

بعض علماء کے مطابق قاعدین کے رہبروں میں ابو موسیٰ اشعری کے عمل اور فکر کا دائرہ دوسروں کے مقابلے میں زیادہ اور نمایاں تھا۔[20] یہاں تک کہ امام علیؑ نے نماز کے قنوت میں اس پر لعنت بھی کی۔[21] بعض تجزیہ کاروں کے مطابق ابو موسیٰ اشعری کے اقدامات نے تاریخ کا رخ بدل دیا۔[22] وہ عثمان کے دور میں کوفہ کا حاکم بنا اور [ملک اشتر] کی تجویز پر امام علیؑ کی حکومت کے بعد اسی عہدے پر باقی رہا۔[23] امام علیؑ نے جنگ جمل کے دوران اسے ایک خط لکھا اور اس سے کہا کہ وہ باغیوں کو شکست دینے کے لئے فوجیں تیار کرے؛[24] لیکن ابو موسی نے حکم امام پر عمل کرنے سے منع کر دیا جس کے نتیجہ میں امام حسن مجتبیؑ نے امام علیؑ کے حکم سے اسے معزول کر دیا۔[25]

امام علیؑ کی حکومت پر اثر

امام علیؑ کے ساتھ قاعدین کا عدم تعلھ، امام علیؑ کی حکومت کو کمزور کرنے کی ایک وجہ سمجھا جاتا ہے۔[26] علماء کے مطابق وہ عملی طور پر امام علیؑ کے دشمنوں کے ساتھ تھے اور ان کی حکومت کے خاتمے کا سبب بھی بنے۔[27] قاعدین اس وقت بہت سرگرم عمل تھے، کچھ تو حکومت مخالف تحریکوں کی قیادت بھی کر رہے تھے۔[28]بعض علماء کے تجزیے کے مطابق قاعدین، سیاسی معتزلیوں کے خیالات کی بنیاد پر وجود میں آئے تھے جس کا نتیجہ خود تفکرات معتزلہ ہیں۔[29] جیسا کہ حکومت بنی امیہ قاعدین کے اقدامات کی مرہون منت ہے۔[30]

جنگ جمل

جنگ جمل میں قاعدین نے لوگوں کو امام علیؑ کی پیروی نہ کرنے کی دعوت دی تھی[31] اور ان میں سے بعض نے مسلمانوں کی خونریزی کی وجہ امام علی (ع) کو قرار دیا تھا۔[32] قاعدین کی سازش، وقت کے ساتھ زیادہ پیچیدہ ہونے اور ان کے اور امام علیؑ کے دشمنوں کے درمیان صحیح حدود کا تعین کرنے کی اطلاع تاریخ میں درج ہے۔[33] کچھ لوگ، جیسے کعب ابن سور، جو ابتدا میں قاعدین کے گروہ میں سے تھے، بعد میں جمل کے ساتھیوں میں شامل ہو گئے اور امام علیؑ کے مقابلہ میں آ گئے۔[34] اسامہ بن زید، جو کہ قاعدین کے رہنماؤں میں سے ایک تھا، جھوٹی خبریں پیش کرکے لوگوں کے اصحاب جمل میں ملحق ہونے کا سبب بنا۔[35] امام علیؑ، جنگ جمل کے بعد بصرہ کے امور کو منظم کر کے کوفہ کے شہر میں داخل ہوئے اور ایک خطبے میں انہوں نے جنگ جمل میں شریک قاعدین کی ملامت کی۔[36]

جنگ صفین

جنگ صفین کے دوران، قاعدین نے معاویہ کی فوج پر امام علیؑ کی فوج کی فتح میں رکاوٹ بن گئے تھے۔[37] لیلت الہریر کے واقعہ کے بعد، جس میں امام علیؑ کی فوج اور معاویہ کی فوج کے درمیان ایک بہت سخت جنگ ہوئی تھی، اشعث بن قیس کندی جو امام علیؑ کی فوج کا کمانڈر تھا اس نے اس جنگ میں مرنے والوں کو یاد کرتے ہوئے اپنے دوستوں کو اس بات سے ڈرایا کہ عرب مکمل طور پر نابود ہو جائیں گے۔[38] معاویہ نے جب جنگ کا رخ اپنے خلاف دیکھا تو، اشعث کی ہمراہی اور اس کی باتوں کی تائید کرتے ہوئے حکمیت کی تجویز پیش کر دی۔[39] شام کی فوج نے عمرو بن عاص اور لشکر اشعث نے قاعدین کے رہبر ابو موسی اشعری کو حکمیت کے لئے انتخاب کر لیا۔[40] عمرو بن عاص نے ابو موسی اشعری کو دھوکے دیتے ہوئے شرائط کے بر خلاف معاویہ کو صاحب حق قرار دے دیا۔[41] حکمیت کے ساتھ ہی معاویہ اور اس کے لشکر کو نجات مل گئی اور امام علیؑ کے لشکر میں پھوٹ پڑ گئیاور ایک نئے فتنہ نے جنم لے لیا جس کا نام تھا خوارج۔[42] محققین کے مطابق اگرچہ شروع میں قاعدین کی تعداد بہت زیادہ نہیں تھی، لیکن صفین کی جنگ کے بعد ان کی تعداد میں اضافہ ہو گیا اس لئے کہ صفین کی جنگ میں قتل و غارت کا ایک اہم ترین نتیجہ قاعدین کی نشوونما بتائی گئی ہے۔[43]

امام علیؑ کی نگاہ

امام علیؑ کی حکومت کے دوران قاعدین نے انہیں تنہا چھوڑ دیا اور ان کی حکومت کو بھی متزلزل کر دیا لیکن امام نے کبھی ان کے ساتھ جنگ نہیں کی۔[44] البتہ امام علیؑ نے ان لوگوں کو اپنے خطبہ میں مورد ملامت قرار دیا ہے۔[45] امامؑ کے مطابق ان لوگوں نے اگرچہ باطل کی مدد نہیں کی لیکن حق کو کمزور اور ضعیف کر دیا ہے۔[46]

قاعدین کا خاتمہ

امام علیؑ کی شہادت کے بعد قاعدین کی سرگرمی بھی ختم ہو گئی۔[47] ابو موسی اشعری نے سنہ 49 ہجری قمری میں معاویہ سے ملاقات کی اور اس کی حکومت کی تائید بھی کر دی۔[48] جس وقت حجاج بن یوسف ثقفی، عبد اللہ بن زبیر سے جنگ کے لئے مدینہ میں داخل ہوا تو عبداللہ بن عمر رات کے وقت حجاج کے پاس بیعت کرنے چلا گیا تھا۔[49] حجاج نے بھی اپنا پیر چادر کے اندر سے باہر کر دیا اور عبداللہ بن عمر نے بجائے ہاتھ کے پیروں پر بیعت کر لی۔[50] بعض محققین کے مطابق عبداللہ ابن عمر کی موت کے بعد اگرچہ قاعدین ختم ہو گئے لیکن ان کی فکر ایک نئے اور کہیں زیادہ پیچیدہ انداز میں جاری رہی۔[51] بعض محققین کے تجزیہ کے مطابق ابن عباس، محمد بن حنفیہ اور عبداللہ بن جعفر کا امام حسینؑ کی مدد نہ کرنے کو قاعدین کی حکومت کا ہی ایک تسلسل سمجھا جاتا ہے۔[52]

داود رنجبران کی کتاب در راه نشستگان

مونوگراف

قاعدین اور حکومت امام علیؑ پر ان کا اثر جیسے متعدد مقالات اور کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔ جیسے:

  • «در راہ نشستگان: بررسی نقش حزب قاعدین در تخریب حکومت امیرالمومنین (ع)» جسے داود رنجبران نے سات فصل[53] میں مرتب کیا جو دفتر نشر معارف (نہاد نمایندگی مقام معظم رہبری در دانشگاہ‌ہا سے متعلق ہے) سے زمستان 1394 ہجری شمسی میں چھاپی گئی۔[54]
  • «نقش قاعدین در حکومت امام علی(ع)» جسے ابراہیم خراسانی پاریزی نے مرتب کیا ہے جس میں مصنف نے تفکر قاعدین اور حکومت امام علیؑ میں ان کا اثر کیا تھا، اس بات پر بحث کی ہے۔[55]

حوالہ جات

  1. ذہبی، تاریخ الاسلام، ۱۴۱۳ھ، ج۳، ص۴۸۳ و ۴۸۴۔
  2. خادملو، «قاعدین: دلایل، انگیزہ‌ہا و نتایج عملکرد آنان در زمان خلافت علی(ع)»، ص۱۸۔
  3. خادملو، «قاعدین: دلایل، انگیزہ‌ہا و نتایج عملکرد آنان در زمان خلافت علی(ع)»، ص۲۰۔
  4. خادملو، «قاعدین: دلایل، انگیزہ‌ہا و نتایج عملکرد آنان در زمان خلافت علی(ع)»، ص۱۸۔
  5. محدثی، فرہنگ غدیر، ۱۳۸۷ش، ص۴۷۹؛ فتح قبادپور، «سیرہ امام علی(ع) در مواجہہ با قاعدین»، ص۵۔
  6. خادملو، «قاعدین: دلایل، انگیزہ‌ہا و نتایج عملکرد آنان در زمان خلافت علی(ع)»، ص۲۱۔
  7. خادملو، «قاعدین: دلایل، انگیزہ‌ہا و نتایج عملکرد آنان در زمان خلافت علی(ع)»، ص۴۸۔
  8. سورہ مائدہ، آیہ ۲۰-۲۴۔
  9. سورہ ماندہ، آیہ ۲۵ و ۲۶۔
  10. نمونہ کے طور پر دیکھئے سورہ نساء، آیہ ۹۵؛ سورہ توبہ، آیہ ۴۶و ۸۶۔
  11. آخوندی و دیگران، اصطلاحات نظامی در فقہ اسلامی، ۱۳۷۸ش، ص۱۰۰۔
  12. جودکی، «قاعدین»، ۱۳۸۰ش، ج۹، ص۱۴۔
  13. جودکی، «قاعدین»، ۱۳۸۰ش، ج۹، ص۱۴۔
  14. جودکی، «قاعدین»، ۱۳۸۰ش، ج۹، ص۱۴۔
  15. جودکی، «قاعدین»، ۱۳۸۰ش، ج۹، ص۱۴۔
  16. محدثی، فرہنگ غدیر، ۱۳۸۷ش، ص۴۷۸ و ۴۷۹؛ عباسی، «تأثیر کشتار صفین بر گسترش قاعدین»، ص۵۰۔
  17. جودکی، «قاعدین»، ۱۳۸۰ش، ج۹، ص۱۶۔
  18. دینوری، الاخبار الطوال،‌ ۱۳۶۸ش، ص۱۴۲ و ۱۴۳۔
  19. مفید، الجمل، ۱۴۱۳ھ، ص۹۷۔
  20. جودکی، قاعدین، ۱۳۸۰ش، ج۹، ص۱۹۔
  21. ابن‌ابی‌الحدید، شرح نہج البلاغۃ، ۱۴۰۴ھ، ج۱۳، ص۳۱۵؛ ابن‌شاذان، الایضاح، دانشگاہ تہران، ص۶۳ و ۶۴۔
  22. خادملو، «قاعدین: دلایل، انگیزہ‌ہا و نتایج عملکرد آنان در زمان خلافت علی(ع)»، ص۳۷۔
  23. بلاذری، انساب الاشراف،‌ ۱۴۱۷ھ، ج۲، ص۲۳۰۔
  24. نہج البلاغہ، تصحیح صبحی صالح، نامہ۶۳، ص۴۷۱۔
  25. بلاذری، انساب الاشراف،‌ ۱۴۱۷ھ، ج۲، ص۲۳۱۔
  26. خادملو، «قاعدین: دلایل، انگیزہ‌ہا و نتایج عملکرد آنان در زمان خلافت علی(ع)»، ص۲۱۔
  27. جودکی، «قاعدین»، ۱۳۸۰ش، ج۹، ص۱۵۔
  28. جودکی، «قاعدین»، ۱۳۸۰ش، ج۹، ص۱۵۔
  29. خادملو، «قاعدین: دلایل، انگیزہ‌ہا و نتایج عملکرد آنان در زمان خلافت علی(ع)»، ص۴۸۔
  30. خادملو، «قاعدین: دلایل، انگیزہ‌ہا و نتایج عملکرد آنان در زمان خلافت علی(ع)»، ص۴۹۔
  31. بلاذری، انساب الاشراف،‌ ۱۴۱۷ھ، ج۲، ص۲۳۱۔
  32. جودکی، «قاعدین»، ۱۳۸۰ش، ج۹، ص۲۱۔
  33. جودکی، «قاعدین»، ۱۳۸۰ش، ج۹، ص۲۱۔
  34. ابن‌سعد، الطبقات الکبری، ۱۹۶۸م، ج۷، ص۹۳؛ ابن‌جوزی، المنتظم، ۱۴۱۲ھ، ج۵، ص۱۱۶۔
  35. جودکی، «قاعدین»، ۱۳۸۰ش، ج۹، ص۲۴ و ۲۵۔
  36. فتح قبادپور، «سیرہ امام علی(ع) در مواجہہ با قاعدین»، ص۹۔
  37. جودکی، «قاعدین»، ۱۳۸۰ش، ج۹، ص۳۰ و ۳۱۔
  38. منقری، وقعۃ صفین، ۱۳۸۲ھ، ص۴۸۰ و ۴۸۱۔
  39. منقری، وقعۃ صفین، ۱۳۸۲ھ، ص۴۸۱۔
  40. یعقوبی، تاریخ یعقوبی، دار صادر، ج۲، ص۱۸۹؛ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغۃ، ۱۴۰۴ھ، ج۲، ص۲۵۶۔
  41. ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغۃ، ۱۴۰۴ھ، ج۲، ص۲۵۶۔
  42. جودکی، «قاعدین»، ۱۳۸۰ش، ج۹، ص۳۰ و ۳۱۔
  43. عباسی و وکیلی، «تأثیر کشتار صفین بر گسترش قاعدین»، ص۶۱۔
  44. خادملو، «قاعدین: دلایل، انگیزہ‌ہا و نتایج عملکرد آنان در زمان خلافت علی(ع)»، ص۴۹؛ فتح قبادپور، «سیرہ امام علی(ع) در مواجہہ با قاعدین»، ص۵۔
  45. فتح قبادپور، «سیرہ امام علی(ع) در مواجہہ با قاعدین»، ص۵۔
  46. نہج البلاغہ، تصحیح صبحی صالح، حکمت ۱۸، ص۴۷۱۔
  47. جودکی، «قاعدین»، ۱۳۸۰ش، ج۹، ص۳۲۔
  48. جودکی، «قاعدین»، ۱۳۸۰ش، ج۹، ص۳۲۔
  49. جودکی، «قاعدین»، ۱۳۸۰ش، ج۹، ص۳۶۔
  50. بلاذری، انساب الاشراف،‌ ۱۴۱۷ھ، ج۱۰، ص۴۴۷ و ۴۴۸۔
  51. جودکی، «قاعدین»، ۱۳۸۰ش، ج۹، ص۳۶۔
  52. جودکی، «قاعدین»، ۱۳۸۰ش، ج۹، ص۳۶۔
  53. رنجبران، در راہ نشستگان: بررسی نقش حزب قاعدین در تخریب حکومت امیرالمومنین (ع)، ۱۳۹۴ش، ص۲۱۔
  54. رنجبران، در راہ نشستگان: بررسی نقش حزب قاعدین در تخریب حکومت امیرالمومنین (ع)، ۱۳۹۴ش، سرشناسہ۔
  55. «نقش قاعدین در حکومت علی(ع)»، سایت کتابخانہ بنیاد نہج البلاغہ.


مآخذ

  • آخوندی، مصطفی و دیگران، اصطلاحات نظامی در فقہ اسلامی، تہران، مرکز چاپ ستاد نمایندگی ولی فقیہ در سپاہ، ۱۳۷۸ھجری شمسی۔
  • ابن ابی الحدید، عبدالحمید بن ہبۃاللہ‏، شرح نہج البلاغہ، قم، کتابخانہ آیت‌اللہ مرعشی نجفی(رہ)، ۱۴۰۴ھ۔
  • ابن جوزی، عبدالرحمن بن علی،‌ المنتظم فی تاریخ الامم و الملوک، بیروت، دار الکتب العلمیہ، ۱۴۱۲ھ۔
  • ابن سعد، محمد، الطبقات الکبری،‌ بیروت، دار الصادر، ۱۹۶۸ء.
  • ابن شاذان، فضل، الایضاح، تہران، دانشگاہ تہران، بےتا.
  • بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، بیروت، دار الفکر، ۱۴۱۷ھ۔
  • جودکی، حجت‌اللہ، «قاعدین»، در دانشنامہ امام علی(ع)، تہران، پژوہشگاہ فرہنگ و ارشاد اسلامی، ۱۳۸۰ھجری شمسی۔
  • خادملو، مہدی‌رضا، «قاعدین: دلایل، انگیزہ‌ہا و نتایج عملکرد آنان در زمان خلافت علی(ع)»، در مجلہ نامہ تاریخ پژوہان، شمارہ۱۲، زمستان۱۳۸۶ھجری شمسی۔
  • دینوری، احمد بن داود، الاخبار الطوال، قم، منشورات رضی، ۱۳۶۸ھجری شمسی۔
  • ذہبی، محمد بن احمد،‌ تاریخ الاسلام و وفیات المشاہیر والاعلام، بیروت، دار الکتاب العربی، ۱۴۱۳ھ۔
  • رنجبران، داود، در راہ نشستگان: بررسی نقش حزب قاعدین در تخریب حکومت امیرالمومنین (ع)، قم، دفتر نشر معارف، چاپ اول، ۱۳۹۴ھجری شمسی۔
  • شریف الرضی، محمد بن حسین، نہج البلاغہ، مصحح: صبحی صالح، قم، ہجرت، ۱۴۱۴ھ۔
  • عباسی، علی‌اکبر و وکیلی، ہادی، «تأثیر کشتار صفین بر گسترش قاعدین»، در مجلہ تاریخ اسلام در آینہ پژوہش، شمارہ۳۴، بہار و تابستان ۱۳۹۲ھجری شمسی۔
  • فتح قبادپور جہان‌آباد، علی، «سیرہ امام علی(ع) در مواجہہ با قاعدین»، در مجلہ مطالعات تقریبی مذاہب اسلامی، شمارہ ۱۶، تابستان ۱۳۸۸ھجری شمسی۔
  • محدثی، جواد، فرہنگ غدیر، قم، معروف، ۱۳۸۷ھجری شمسی۔
  • مفید، محمد بن محمد بن نعمان، الجمل و النصرۃ لسید العترۃ فی حرب البصرۃ، قم، کنگرہ شیخ مفید، ۱۴۱۳ھ۔
  • منقری، نصر بن مزاحم، وقعۃ صفین، قاہرہ، الموسسۃ العربیۃ الحدیثۃ،‌۱۳۸۲ھ۔
  • «نقش قاعدین در حکومت علی(ع)»، سایت کتابخانہ بنیاد نہج البلاغہ، تاریخ درج مطلب: ۳۰ آبان ۱۳۷۶ش، تاریخ بازدید: ۳ شہریور ۱۴۰۰ھجری شمسی۔
  • یعقوبی، احمد، تاریخ الیعقوبی، بیروت، دار الصادر، بے‌تا.