شوذب

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
شَوذَب
معلومات شخصیت
نام: شَوذَب مولی شاکر
مشہور اقارب: عابس بن ابی‌ شبیب شاکری
مقام سکونت: کوفہ
شہادت: 10 محرم 61ھ
شہادت کی کیفیت: عمر بن سعد کا لشکر کے ہاتھوں
مقام دفن: کربلا
اصحاب: امام حسینؑ
سماجی خدمات: مسلم کے خطوط کو امام حسینؑ تک پہنچانا • راوی

شَوذَب مولی شاکر شہدائے کربلا میں سے تھے اور مسلم بن عقیل کے خط کو امام حسینؑ تک پہنچانے والے آپ تھے۔ وہ مکہ سے امام حسینؑ کے قافلے میں کربلا تک آئے۔ عاشورا کے دن حنظلۃ بن اسعد شبامی کے بعد شہادت کے مقام پر فائز ہوئے۔ ان کا نام زیارت رجبیہ امام حسینؑ اور اس زیارت الشہدا میں آیا ہے جس میں شہدائے کربلا پر سلام بھیجا گیا ہے۔

قبیلہ شاکر کا ہم پیمان

تاریخی اور رجالی منابع میں شوذب کو "مولی شاکر" کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔[1] محدث نوری کے مطابق "شاکر" یمن کے "ہَمْدان" قبیلے کی ایک شاخ تھی جن کا نسب شاکر بن ربیعۃ بن مالک تک پہنچتا ہے، مولی عربی میں اگرچہ غلام کو کہا جاتا ہے لیکن شوذب، عابس کا غلام یا تابع نہیں تھا بلکہ اس قبیلے (قبیلہ عابس) کا «نَزیل»[نوٹ 1] یا «ہم‌ پیمان»[نوٹ 2] تھے۔[2] لیکن محمد مہدی شمس‌ الدین نے کتاب انصار الحسین[3] میں ان کو شاکر بن عبداللہ ہمدانی شاکری کا اور ملا حسین واعظ کاشفی[4] نے ان کو عابس بن ابی‌ شبیب شاکری کا غلام قرار دیا ہے۔ اسی طرح محمد بن جریر طبری نے عاشورا کے دن شوذب اور عابس کے درمیان ہونے والی ایک گفتگو نقل کی ہے جو اس بات کی دلیل بن سکتی ہے کہ وہ عابس کے غلام تھے۔ عابس نے ان سے کہا: "اگر تم سے زیادہ میرے نزدیک کوئی اور عزیز ہوتا تو میں اسے خود سے پہلے میدان میں بھیجتا"۔[5]

محمد بن طاہر سماوی کے مطابق شوذب شیعہ بزرگان اور حفاظ احادیث میں سے تھے اور امام علیؑ سے حدیث نقل کرتے تھے۔[6]

واقعہ کربلا میں شہید ہونا

شوذب، عابس بن ابی شبیب شاکری کے ساتھ کوفہ سے مسلم بن عقیل کا خط لے کر مکہ امام حسینؑ کے پاس پہنچے اور مکہ سے امام کے ساتھ کربلا آئے۔[7] انہوں نے روز عاشورا حنظلۃ بن اسعد شبامی کے بعد جام شہادت نوش کیا۔[8] تاریخی منابع میں میدان میں جانے سے پہلے عابس کے ساتھ ان کی گفتگو نقل ہوئی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ عابس سے پہلے امام حسینؑ کی دفاع کے لئے میدان میں گئے تھے۔[9]

زیارت رجبیہ امام حسینؑ جس میں شہدائے کربلا کا نام لیا گیا ہے، میں "السَّلَامُ عَلَی سُوَیدٍ مَوْلَی شَاکر" کے عنوان سے ان پر سلام بھیجا گیا ہے۔[10] اسی طرح زیارت الشہدا میں شوذب مولی شاکر کے نام سے ان کو یاد کیا گیا ہے۔[11]

متعلقہ صفحات

حوالہ جات

  1. ملاحظہ کری: طبری، تاریخ الامم و الملوک، ۱۳۸۷ق، ج۵، ص۴۴۳؛ شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۱۰۵؛ طوسی، رجال الطوسی، ۱۳۷۳ش، ص۱۰۱۔
  2. نوری، لؤلؤ و مرجان، ۱۳۸۸ش، ص۲۲۲۔
  3. شمس‌ الدین، انصار الحسین، ۱۴۰۷ق، ص۷۹۔
  4. کاشفی، روضۃ الشہداء، کتاب فروشی اسلامی، ص۳۰۶۔
  5. طبری، تاریخ الامم و الملوک، ۱۳۸۷ق، ص۴۴۳-۴۴۴۔
  6. سماوی، ابصار‌العین، ۱۳۸۴ش، ص۱۱۷۔
  7. سماوی، ابصارالعین، ۱۳۸۴ش، ص۱۱۷۔
  8. شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۱۰۵؛ ابن اثیر، الکامل، ۱۳۸۵ش، ج۴، ص۷۳۔
  9. طبری، تاریخ الامم و الملوک، ۱۳۸۷ق، ص۴۴۳-۴۴۴۔
  10. ابن طاووس، اقبال الاعمال، ۱۳۷۶ش، ج۳، ص۳۴۶۔
  11. ابن طاووس، الاقبال الاعمال، ۱۳۷۶ش، ج۳، ص۷۹۔
  1. نزیل اس شخص کو کہا جاتا تھا جو مختلف دلائل کی بنا پر اپنے قبیلے سے کسی دوسرے قبیلے کی طرف ہجرت کرتا ہے اور اس قبیلے کے رسم کے مطابق عمل کرتا ہے اور اس قبیلے کا فرد شمار ہوتا تھا۔
  2. جب کوئی شخص اپنی حفاظت کی خاطر کسی طاقتور قبیلے کے پاس چلا جاتا تھا اور اس قبیلے کے ساتھ ہم پیمان ہو جاتا تھا اور وہ قبیلہ اس کی حفاظت کرتا تھا۔

مآخذ

  • ابن اثیر، علی بن ابی‌ کرم، الکامل فی التاریخ، بیروت، دارصادر، ۱۳۸۵ق/۱۹۶۵ء
  • ابن طاووس، سید علی بن موسی، إقبال‎ الأعمال، تصحیح جواد قیومی اصفہانی، قم، دفتر تبلیغات اسلامی، ۱۳۷۶ش۔
  • سماوی، محمد بن طاہر، ابصارالعین فی انصار الحسین، تحقیق محمد جعفر طبسی، قم، زمزم ہدایت، ۱۳۸۴ش۔
  • شمس ‌الدین، محمد مہدی، انصارالحسین، مؤسسہ‌البعثہ، ۱۴۰۷ق۔
  • شیخ مفید، محمد بن محمد، الإرشاد فی معرفۃ حجج‌اللہ علی العباد، قم، کنگرہ شیخ مفید، ۱۴۱۳ق۔
  • طبری، محمد بن جریر، تاریخ الأمم و الملوک، تحقیق محمد ابوالفضل ابراہیم، بیروت، دارالتراث، ۱۳۸۷ق/۱۹۶۷ء
  • طوسی، محمد بن حسن، رجال الطوسی، تصحیح جواد قیومی اصفہانی، قم، مؤسسہ النشر الاسلامی، ۱۳۷۳ش۔
  • نوری، میرزا حسین، لؤلؤ و مرجان در شرط اول پلہ و دوم روضہ‌ خوانان، تہران، آفاق، ۱۳۸۸ش۔