ستون حرس
ستون حَرَسْ (یعنی پہرہ والا ستون) سے مراد مسجد نبوی کے ستونوں میں سے ایک ستون ہے جو حجرہ پیغمبر اکرمؐ کے نزدیک واقع ہے۔ امام علیؑ رات کو اس ستون کے پاس پہرہ دیا کرتے تھے تاکہ کوئی شخص پیغمبر خداؐ کو نقصان نہ پہنچائے۔ یہ ستون امام علیؑ کے ستون کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ امام علیؑ کی جانب سے پیغمبر اکرمؐ کی حفاظت کے اہتمام کی وجہ یہ تھی کہ آنحضرتؐ کی زندگی کے آخری ایام میں آپ کی حفاظت کے لئے کچھ محافظ مقرر کئے گئے تھے تاکہ کوئی آپ کو نقصان نہ پہنچا سکے۔
اس ستون کی جگہ پر امام علیؑ نماز بھی ادا کیا کرتے تھے؛ اسی وجہ سے یہ مقام، علی ابن ابی طالب کی جائے نماز کے نام سے بھی مشہور ہوا۔ یہ ستون امام علیؑ کی طرف منسوب ہونے کی وجہ سے ایک عرصہ مدینہ کے سادات اس کے پاس نماز پڑھنے کے لیے جمع ہوتے تھے۔ مسجد نبوی کے تعمیر نو کے دوران ستون حرس حضرت محمدؐ کے روضے کے ساتھ متصل ہوگیا۔

تعارف
ستون حَرَس یا ستون محرّس جو ستون امام علیؑ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے،[1] عصر پیغمبرؐ میں مسجد نبوی کے احاطے اور رسول خداؐ کے حجرہ کے قریب واقع تھا۔[2] لفظ «حَرَسْ» «حِراست» سے ماخوذ ہے اور یہ حفاظت کرنے اور تحفظ فراہم کرنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔[3] پیغمبر خداؐ کی زندگی کے آخری ایام میں آپؐ کی حفاظت کے لیے کچھ محافظ مقرر کیے گئے تھے۔[4] جس وقت پیغمبر اسلامؐ اپنے گھر میں داخل ہوتے،[5] آپؐ کی حفاظت پر مامور محافظین اس ستون کے آس پاس میں کھڑے ہو کر آپؐ کی حفاظت کرتے تھے۔[6]
ستون حرس مسجد نبوی میں واقع ستون سریر کے شمال میں[7] اور رسول خداؐ کے ضریح سے متصل ہے؛[8] اس لیے زائرین اس کے پاس نماز نہیں پڑھ سکتے۔[9] اس ستون کا نام بھی اس پر لکھا ہوا ہے۔[10]

اہل سنت کی بعض حدیثی کتب کے نقل کے مطابق آیت تبلیغ کے نزول کے بعد: "...اور اللہ آپؐ کی لوگوں (کے شر) سے حفاظت کرے گا ۔۔۔"،[11] اللہ تعالیٰ نے خود رسول خداؐ کی حفاظت کی ذمہ داری لے لی لہذا آپؐ کی زندگی میں کسی کو پھر سے حفاظت کرنے پر ضرورت باقی نہیں رہی۔[12] بعض محققین کا خیال ہے کہ اہل سنت کی جانب سے اس طرح نقل کیے جانے کا اصل مقصد یہ ہے کہ آیت تبلیغ کا واقعہ غدیر سے ناطہ ختم کیا جائے؛ اسی وجہ سے اسے پیغمبر اکرمؐ کی حفاظت سے متعلق قرار دیا گیا ہے۔[13]
امام علیؑ کی طرف نسبت
ستون حرس علی ابن ابی طالبؑ کے ستون کے نام سے بھی جانا جاتا ہے؛[14] کیونکہ راتوں کو امام علیؑ اپنی تلوار[15] کے ساتھ حجرہ پیغمبر اکرمؐ کے آس پاس اس ستون کے قریب پہرہ دیا کرتے تھے تاکہ نبی اکرم کو کوئی نقصان نہ پہنچ پائے۔[16] بعض تاریخی نقل کے مطابق اس مقام پر دوسرے لوگ بھی پیغمبر اکرمؐ کی حفاظت پر مامور تھے۔[17] اس ستون کے پاس امام علیؑ نماز ادا کیا کرتے تھے[18] اس لیے یہ مقام مصلائے امام علیؑ کے نام سے بھی مشہور ہے۔[19] یہ جگہ امام علیؑ کی طرف منسوب ہونے کی وجہ سے مدینہ کے سادات ایک عرصہ تک نماز کے لیے یہاں جمع ہوا کرتے تھے۔[20]
مسجد نبوی کے ستون
عصر پیغمبر خداؐ میں مسجد نبوی میں کھجور کے تنوں سے بنے چند ستون تھے۔ روضۃ النبی میں واقع کئی ستون مشہور بھی ہیں۔[21] ان ستونوں میں سے ہر ایک کی اپنی مشہور تاریخی کہانی ہے۔[22] کھجور کے تنے سے بنے یہ ستون بعد میں مسجد نبوی کی تعمیر نو کے بعد پتھر کے ستونوں میں تبدیل ہوگئے۔[23] پتھر سے بنائے گئے ستونوں کو سابقہ مقام پر نصب کیے گئے ہیں۔[24] سنہ 1404ھ میں سعودی حکومت کے دور میں تعمیر نو کے دوران ان ستونوں کو سفید سنگ مرمر سے ڈھانپ دیا گیا اس طرح یہ ستون دیگر ستونوں سے ممتاز قرار پائے۔[25]
متعلقہ مضامین
حوالہ جات
- ↑ المنقری، وفاء الوفاء بأخبار دار المصطفی، قم، ج2، ص45۔
- ↑ صبری باشا، موسوعۃ مرآۃ الحرمین الشریفین و جزیرۃ العرب 2004ء، ج3، ص236۔
- ↑ مُہری، احسن القصص، 1399شمسی، ج1، ص468۔
- ↑ قرائتی، درس ہایی از قرآن، تہران ج1، ص1814۔
- ↑ عاملی، الصحیح من سیرۃ الإمام علی (علیہ السلام)، 2009ء، ج2، ص310۔
- ↑ خیاری، تاریخ معالم المدینۃ المنورۃ قدیماً و حدیثاً، 1419ھ، ج1، ص85
- ↑ «8 أساطین فی الروضۃ الشریفۃ»، الوطن۔
- ↑ «8 أساطین فی الروضۃ الشریفۃ»، الوطن۔
- ↑ حسن شراب، فرہنگ اعلام جغرافیایی-تاریخی در حدیث و سیرہ نبوی، 1383شمسی، ج1، ص40۔
- ↑ «8 أساطین فی الروضۃ الشریفۃ»، الوطن۔
- ↑ سورہ مائدہ، آیہ67۔
- ↑ جعفریان، آثار اسلامی مکہ و مدینہ، 1387شمسی، ج1، ص223۔
- ↑ جمعی از محققان، آیات الغدیر، 1377شمسی، ج1، ص187-189۔
- ↑ ربانی خلخالی، امّ البنین علیہا السلام النّجم الساطع فی مدینۃ النبیّ الأمین، ج1، ص212۔
- ↑ مُہری، احسن القصص، 1399شمسی، ج1، ص469۔
- ↑ صبری باشا، موسوعۃ مرآۃ الحرمین الشریفین و جزیرۃ العرب 2004ء، ج3، ص236۔
- ↑ قرائتی، درس ہایی از قرآن، تہران، ج1، ص1814۔
- ↑ جعفریان، آثار اسلامی مکہ و مدینہ، 1387شمسی، ج1، ص223۔
- ↑ حسن شراب، فرہنگ اعلام جغرافیایی - تاریخی در حدیث و سیرہ نبوی، 1383شمسی، ج1، ص40۔
- ↑ صبری باشا، موسوعۃ مرآۃ الحرمین الشریفین و جزیرۃ العرب 2004ء، ج3، ص236۔
- ↑ «ما ہی "الأساطین" التی ارتبطت بتاریخ المسجد النبوی»، العربیہ۔
- ↑ «ما ہی "الأساطین" التی ارتبطت بتاریخ المسجد النبوی»، العربیہ۔
- ↑ «8 أساطین فی الروضۃ الشریفۃ»، الوطن۔
- ↑ «ما ہی "الأساطین" التی ارتبطت بتاریخ المسجد النبوی»، العربیہ۔
- ↑ «ما ہی "الأساطین" التی ارتبطت بتاریخ المسجد النبوی»، العربیہ۔
مآخذ
- «8 أساطین فی الروضۃ الشریفۃ»، الوطن، تاریخ بازدید: 22 دی 1403ھ۔
- جمعی از محققان، آیات الغدیر (بحث في خطب حجہ الوداع و تفسير آيات الغدير)، قم، مركز المصطفي للدراسات الاسلاميہ، 1377ہجری شمسی۔
- حسن شراب، محمد محمد، فرہنگ اعلام جغرافیایی تاریخی در حدیث و سیرہ نبوی، ترجمہ: حمیدرضا شیخی، تحقیق: محمدرضا نعمتی، تہران، مشعر، 1383ہجری شمسی۔
- خیاری، احمد یاسین احمد، تاریخ معالم المدینۃ المنورۃ قدیما و حدیثا، عربستان سعودی، الأمانۃ العامۃ للإحتفال بمرور مائۃ عام علی تأسیس المملکۃ، 1419ھ۔
- ربانی خلخالی، علی، أم البنین علیہا السلام النجم الساطع فی مدینۃ النبی الأمین، تحقیق: علی اشرف، قم، دار الکتاب الإسلامی، 2007ء۔
- صبری باشا، ایوب، موسوعۃ مرآۃ الحرمین الشریفین و جزیرۃ العرب ترجمہ ماجدہ معروف، حسین مجیب المصری، عبدالعزیز عوض، قاہرہ، دارالآفاق العربیۃ، 2004ء۔
- عاملی، سید جعفر مرتضی، الصحیح من سیرۃ الإمام علی(ع)، بیجا، مرکز مطالعات اسلامی، 2009ء۔
- قرائتی، محسن، درسہایی از قرآن، تہران، موسسہ فرہنگی درسہایی از قرآن بی تا۔
- «ما ہی "الأساطین" التی ارتبطت بتاریخ المسجد النبوی»، العربیہ، تاریخ بازدید: 22 دی 1403ھ۔
- المنقری، نصر بن مزاحم، وفاء الوفاء بأخبار دار المصطفی، قم، مکتبۃ آیۃ اللہ المرعشی النجفی، بیتا۔
- مہری، محمدجواد، احسن القصص، قم، مکث اندیشہ، 1399ہجری شمسی۔