مناجات شعبانیہ

ویکی شیعہ سے
مناجات شعبانیہ
کوائف
مأثور/غیرمأثور:مأثور
صادرہ از:امام علی علیہ السلام
راوی:ابن خالویہ
شیعہ منابع:اقبال الاعمال
مونوگرافی:شرح مناجات شعبانیہ (محمد محمدی گیلانی) • شرح و تفسیر اخلاقی مناجات شعبانیہ (حسین مظاهری) • نجوای عارفانہ شرحی بر مناجات شعبانیہ (محمد باقر تحریری)
مشہور دعائیں اور زیارات
دعائے توسلدعائے کمیلدعائے ندبہدعائے سماتدعائے فرجدعائے عہددعائے ابوحمزہ ثمالیزیارت عاشورازیارت جامعہ کبیرہزیارت وارثزیارت امین‌اللہزیارت اربعین


دعا و مناجات

مُناجاتِ شَعبانیہ وہ مناجات ہے جسے ابن‌ خالویہ نے امام علیؑ سے نقل کیا ہے۔ اس مناجات کو شیعہ ائمہؑ پابندی کے ساتھ ماہ شعبان میں پڑھا کرتے تھے۔ یہ مناجات اللہ کے نیک بندوں کا اپنے معبود کے ساتھ راز و نیاز کا کامل ترین نمونہ ہے۔

یہ مناجات بطور مرسل نقل ہوئی ہے؛ لیکن علامہ مجلسی نے اس کی سند کو معتبر قرار دیا ہے۔ علمائے رجال اس مناجات کے راوی ابن خالویہ کی بھی توثیق کرتے ہیں۔ شیعیان اہل بیتؑ بھی ائمہ معصومینؑ کی پیروی کرتے ہوئے ماہ شعبان میں مناجات شعبانیہ کی قرائت کا اہتمام کرتے ہیں۔

اہمیت

مناجات شعبانیہ امام علیؑ سے نقل ہوئی ہے[1] اور احادیث کے مطابق ائمہ معصومینؑ شعبان کے مہینے میں پابندی سے اس دعا کی قرائت کا اہتمام کرتے رہے ہیں۔[2] مشہور و معروف شیعہ عارف اور استادِ اخلاق میرزا جواد ملکی تبریزی کہتے ہیں کہ مناجات شعبانیہ خدا کے ساتھ بندوں کی گفتگو، دعا اور استغفار کے آداب نیز بہت سے معارف و علوم پر مشتمل ہے۔[3] انسان اس مناجات کے ذریعے اسلام میں دعا اور مناجات کی اہمیت اور عظمت سے واقف ہوتا ہے۔ یہ دعا خدا کی معرفت اور خدا سے عشق و محبت کے سوا کچھ نہیں ہے۔ یہ مناجات ائمہ معصومینؑ کی سطح کی دعا ہے اور اس میں بعض ایسی تعبیریں پائی جاتی ہیں جن کے ادرک کا تصور بھی ہمارے لئے مشکل ہے من جملہ یہ کہ: «الہی! ہَبْ لی کمالَ الْانْقِطاعِ الَیک وَ انِرْ ابْصارَ قُلوبِنا بِضِیاءِ نَظَرِہا الَیک حَتّی تَحْرِقَ ابْصارُ الْقُلوبِ حُجُبَ النّورِ فَتَصِلَ الی مَعْدِنِ الْعَظَمَةِ وَ تَصیرَ ارْواحُنا مُعَلَّقَةً بِعِزِّ قُدْسِک... الہی وَ الْحِقْنی بِنورِ عِزِّک الْابْہَجِ فَاکونَ لَک عارِفاً وَ عَنْ سِواک مُنْحَرِفاً.»[4]

شیعہ مرجع تقلید آیت اللہ جوادی آملی اس بات کے معتقد ہیں کہ مناجات شعبانیہ میں موجود بلند و بالا تعلیمات کی وجہ سے دعا ور مناجات کی باب میں اس مناجات کو مناجات کبیرہ کا نام دیا جا سکتا ہے۔ اس مناجات کے ذریعے ہم خدا کی بارگاہ سے طلب بھی کر رہے ہوتے ہیں اور ناز و نخرے بھی؛ مثلا یہ کلام کہ جسے ہم نے ائمہ معصومینؑ سے سیکھے ہیں کہ اگر قیامت کے دن خدا ہم سے کہے کہ تم نے کیوں گناہ انجام دی تو ہم کہیں گے آپ نے کیوں میری اس گناہ کو بخش نہیں دیا؟ آپ مزید کہتے ہیں کہ کہ سال بھر کی مسنون دعا اور مناجات میں سے کسی میں بھی مناجات شعبانیہ کی طرح نہیں ہے کہ ہم پہلے خدا سے خدا کی طرف سیر و سلوک کی درخواست کریں، شروع میں خدا کو پکار پکار کر درخواست کریں اور جب خدا کے نزدیک ہو جائے تو اس وقت پکارنے کا مقام نہیں ہے پھر مناجات اور گڑگڑانا شروعت کریں اور جب خدا کے بہت قریب پہنچ جائے تو اس وقت خاموش ہو جائے تاکہ خدا خود ہم سے گفتگو کریں۔[5]

مضامین

مجموعی طور پر مناجات شعبانیہ میں مطرح ہونے والے مضامین درج ذیل ہے:

  • دعا کی اہمیت اور اس کا مقام(و اسمع دعائی اذا دعوتک)
  • علم الہی کا حصول(تعلم ما فی نفسی)
  • انسان اور کائنات پر مقدرات الہی کی حکمرانی (و قد جرت مقادیرک علیّ)
  • خداوند متعال کی رزاقیت(ان حرمتنی فمن ذاالذی یرزقنی)
  • خدا کی رحمت کی وسعت اور اس پر امید(ان کنت غیر مستأهلٍ لرحمتک...)
  • خدا کی ستّاریت اور قیامت کے دن انسان کو اس کی شدید ضرروت(الهی قد سترت علیّ ذنوباً...)
  • خداوند متعال کی کریمانہ عذرپذیری (یا اکرم من اعتذر الیه...)
  • خدا کی رحمت پر امید رکھنا(فقد کبر فی جنبک رجائک اَملی)
  • گناہوں اور عمر اور جوانی کو غفلت میں فنا کرنے کا اعتراف(وقد افنیتُ عمری ...)
  • تہذیب اور خودسازی میں خدا کی محبت کا کردار (...الّا فی وقت ایقظتنی لمحبتک)
  • قُرب الہی کے اثرات(الهی ان من تعرّف بک...)
  • عجز و ناتوانی کا اعتراف (الهی و انا عبدک الضعیف)
  • لوگوں سے منقطع ہو کر خدا کی طرف راغب ہونے کی درخواست(الهی هب لی کمال الانقطاع الیک)
  • خدا پر توکل، یقین، خدا کی معرفت اور خدا سے خوف کے اثرات (...فاصفح عنی بحسن توکلی علیک...).[6]

سند

کتاب شرح مناجات شعبانیہ، تحریر: محمد محمدی گیلانی۔

شیعہ کتب ادعیہ میں اس مناجات کو ابن خالویہ سے نقل کئے ہیں اور انہوں نے اسے مرسل طور پر امیرالمومنین حضرت علیؑ سے نقل کیا ہے۔[7]ابتدائی منابع میں حسین بن احمد بن خالویہ (متوفی:370ھ) کی مناجات شعبانیہ کے راوی کے طور پر معرفی کی گئی ہے۔[8] علامہ مجلسی نے مناجات شعبانیہ کی سند کو معتبر قرار دیا ہے۔[9] لیکن بعض محدثین نے علی بن محمد بن یوسف بن مہجور مکنی بہ «ابن خالویه» کو مناجات شعبانیہ کے راوی قرار دیا ہے۔[10] ان کے مطابق یہ صحیح نہیں ہے اور پہلی بار سید بن طاووس کے استاد «ابن النجار» سے یہ اشتباہ سرزد ہوئی ہے اور سید بن طاووس (متوفی:664ھ) نے کتاب اقبال الاعمال میں اسے اپنے استاد سے نقل کیا ہے اور دوسروں نے سید ابن طاووس سے نقل کیا ہے۔[11]کہا گیا ہے کہ علی بن محمد بن خالویہ نجاشی کے استاد تھے۔[12] نجاشی ان کو شیعہ اور مورد اطمینان قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ انہوں نے رجب، شعبان اور رمضان کے اعمال میں تین کتابیں تحریر کی ہیں۔[13] علامہ حلی اور دیگر بزرگان نے بھی ان کی توثیق کی ہیں۔[14] احتمال دیا گیا ہے کہ شاید حسین بن خالویه(متوفی:370ھ)[15] اور علی بن محمد بن خالویہ کی کنیت میں تشابہ اور ہم عصر ہونا ابن النجار کے مذکورہ اشتباہ کا سبب بنا ہو۔[16]

شرحیں

شرح و تفسیرهایی بر مناجات شعبانیه نوشته شده است که برخی از آنها عبارتند از:

  • شرح مناجات شعبانیہ، بقلم: محمد محمدی گیلانی، نشر سایہ، تہران، 1373 ہجری شمسی۔
  • شرح و تفسیر اخلاقی مناجات شعبانیہ، بقلم: حسین مظاہری، دو مجلدات میں۔
  • نجوای عارفانہ شرحی بر مناجات شعبانیہ، بقلم: محمد باقر تحریری، نشر حر، تہران، 1389ہجری شمسی۔
  • جلوہ گاہ عرفان؛ شرح مناجات شعبانیہ، بقلم: محمد ہادی عبد خدایی، مشهد، بنیاد پژوهش‌های آستان قدس رضوی،‌ چاپ اول، ‌1384ہجری شمسی۔

متن اور ترجمہ

متن ترجمہ
بِسْمِ اللَّـہِ الرَّ‌حْمَـٰنِ الرَّ‌حِيمِ

اَللّـہُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّد وَآلِ مُحَمَّد، وَاسْمَعْ دُعائي اِذا دَعَوْتُكَ، وَاْسمَعْ نِدائي اِذا نادَيْتُكَ، وَاَقْبِلْ عَليَّ اِذا ناجَيْتُكَ، فَقَدْ ہَرَبْتُ اِلَيْكَ، وَوَقَفْتُ بَيْنَ يَدَيكَ مُسْتَكيناً لَكَ مُتَضرِّعاً اِلَيْكَ، راجِياً لِما لَدَيْكَ ثَوابي، وَتَعْلَمُ ما في نَفْسي، وَتَخْبُرُ حاجَتي، وَتَعْرِفُ ضَميري، وَلا يَخْفى عَلَيْكَ اَمْرُ مُنْقَلَبي وَمَثْوايَ، وَما اُريدُ اَنْ اُبْدِئَ بِہِ مِنْ مَنْطِقي، واَتَفَوَّہُ بِہِ مِنْ طَلِبَتي، وَاَرْجُوہُ لِعاقِبَتي، وَقَدْ جَرَتْ مَقاديرُكَ عَليَّ يا سَيِّدي فيما يَكُونُ مِنّي اِلى آخِرِ عُمْري مِنْ سَريرَتي وَعَلانِيَتي، وَبِيَدِكَ لا بِيَدِ غَيْرِكَ زِيادَتي وَنَقْصي وَنَفْعي وَضرّي. اِلـہي اِنْ حَرَمْتَني فَمَنْ ذَا الَّذي يَرْزُقُني، وَاِنْ خَذَلْتَني فَمَنْ ذَا الَّذي يَنْصُرُني. اِلـہي اَعُوذُ بِكَ مِنَ غَضَبِكَ وَحُلُولِ سَخَطِكَ. اِلـہي اِنْ كُنْتُ غَيْرَ مُسْتاْہِل لِرَحْمَتِكَ فَاَنْتَ اَہْلٌ اَنْ تَجُودَ عَليَّ بِفَضْلِ سَعَتِكَ. اِلـہي كَأَنّي بِنَفْسي واقِفَةٌ بَيْنَ يَدَيْكَ وَقَدْ اَظَلَّہا حُسْنُ تَوَكُّلي عَلَيْكَ، فَقُلْتَ ما اَنْتَ اَہْلُہُ وَتَغَمَّدْتَني بِعَفْوِكَ. اِلـہي اِنْ عَفَوْتَ فَمَنْ اَوْلى مِنْكَ بِذلِكَ، وَاِنْ كانَ قَدْ دَنا اَجَلي وَلَمْ يُدْنِني مِنْكَ عَمَلي فَقَدْ جَعَلْتُ الاِقْرارَ بِالذَّنْبِ اِلَيْكَ وَسيلَتي. اِلـہي قَدْ جُرْتُ عَلى نَفْسي في النَّظَرِ لَہا، فَلَہا الْوَيْلُ اِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَہا، اِلـہي لَمْ يَزَلْ بِرُّكَ عَلَيَّ اَيّامَ حَياتي فَلا تَقْطَعْ بِرَّكَ عَنّي في مَماتي. اِلـہي كَيْفَ آيَسُ مِنْ حُسْنِ نَظَرِكَ لي بَعْدَ مَماتي، وَاَنْتَ لَمْ تُوَلِّني إلاّ الْجَميلَ في حَياتي. اِلـہي تَوَلَّ مِنْ اَمْري ما اَنْتَ اَہْلُہُ، وَعُدْ عَلَيَّ بِفَضْلِكَ عَلى مُذْنِب قَدْ غَمَرَہُ جَہْلُہُ. اِلـہي قَدْ سَتَرْتَ عَلَيَّ ذُنُوباً في الدُّنْيا وَاَنَا اَحْوَجُ اِلى سَتْرِہا عَلَيَّ مِنْكَ في الآخْرةِ، اِذْ لَمْ تُظْہِرْہا لاَِحَد مِنْ عِبادِكَ الصّالِحينَ، فَلا تَفْضَحْني يَوْمَ الْقِيامَةِ عَلى رُؤُوسِ الأشْہادِ. اِلـہي جُودُكَ بَسَطَ اَمَلي، وَعفْوُكَ اَفْضَلُ مِنْ عَمَلي. اِلـہي فَسُرَّني بِلِقائِكَ يَوْمَ تَقْضي فيہِ بَيْنَ عِبادِكَ. اِلـہىِ اعْتِذاري اِلَيْكَ اعْتِذارُ مَنْ لَمْ يَسْتَغْنِ عَنْ قَبُولِ عُذْرِہِ، فَاقْبَلْ عُذْري يا اَكْرَمَ مَنِ اعْتَذَرَ اِلَيْہِ الْمُسيئُونَ، اِلـہي لا َتَرُدَّ حاجَتي، وَلا تُخَيِّبْ طَمَعي، وَلا تَقْطَعْ مِنْكَ رَجائي وَاَمَلي. اِلـہي لَوْ اَرَدْتَ ہَواني لَمْ تَہْدِني، وَلَوْ اَرَدْتَ فَضيحَتي لَمْ تُعافِني. اِلـہي ما اَظُنُّكَ تَرُدُّني في حاجَة قَدْ اَفْنَيْتُ عُمْري في طَلَبَہا مِنْكَ. اِلـہي فَلَكَ الْحَمْدُ اَبَداً اَبَداً دائِماً سَرْمَداً، يَزيدُ وَلا يَبيدُ كَما تُحِبُّ وَتَرْضى. اِلـہي اِنْ اَخَذْتَني بِجُرْمي اَخَذْتُكَ بِعَفْوِكَ، وَاِنْ اَخَذْتَني بِذُنُوبي اَخَذْتُكَ بِمَغْفِرَتِكَ، وَاِنْ اَدْخَلْتَني النّارَ اَعْلَمْتُ اَہْلَہا اَنّي اُحِبُّكَ. اِلـہي اِنْ كانَ صَغُرَ في جَنْبِ طاعَتِكَ عَمَلي فَقَدْ كَبُرَ في جَنْبِ رَجائِكَ اَمَلي. اِلـہي كيف اَنْقَلِبُ مِنْ عِنْدِكَ بِالَخْيبَةِ مَحْروماً، وَقَدْ كانَ حُسْنُ ظَنّي بِجُودِكَ اَنْ تَقْلِبَني بِالنَّجاةِ مَرْحُوماً. اِلـہي وَقَدْ اَفْنَيْتُ عُمْري في شِرَّةِ السَّہْوِ عَنْكَ، وَاَبْلَيْتُ شَبابي في سَكْرَةِ التَّباعُدِ مِنْكَ. اِلـہي فلَمْ اَسْتَيْقِظْ اَيّامَ اغْتِراري بِكَ وَرُكُوني اِلى سَبيلِ سَخَطِكَ. اِلـہي وَاَنَا عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدِكَ قائِمٌ بَيْنَ يَدَيْكَ، مُتَوَسِّلٌ بِكَرَمِكَ اِلَيْكَ. اِلـہي اَنَا عَبْدٌ اَتَنَصَّلُ اِلَيْكَ، مِمَّا كُنْتُ اُواجِہُكَ بِہِ مِنْ قِلَّةِ اسْتِحْيائي مِنْ نَظَرِكَ، وَاَطْلُبُ الْعَفْوَ مِنْكَ اِذِ الْعَفْوُ نَعْتٌ لِكَرَمِكَ. اِلـہي لَمْ يَكُنْ لي حَوْلٌ فَانْتَقِلَ بِہِ عَنْ مَعْصِيَتِكَ إِلاّ في وَقْت اَيْقَظْتَني لَِمحَبَّتِكَ، وَكَما اَرَدْتَ اَنْ اَكُونَ كُنْتُ، فَشَكَرْتُكَ بِاِدْخالي في كَرَمِكَ، وَلِتَطْہيرِ قَلْبي مِنْ اَوْساخِ الْغَفْلَةِ عَنْكَ. اِلـہي اُنْظُرْ اِلَيَّ نَظَرَ مَنْ نادَيْتَہُ فَاَجابَكَ، وَاْستَعْمَلتُہُ بِمَعونَتِكَ فَاَطاعَكَ، يا قَريباً لا يَبْعُدُ عَنِ المُغْتَرِّ بِہِ، وَيا جَواداً لايَبْخَلُ عَمَّنْ رَجا ثَوابَہُ. اِلـہي ہَبْ لي قَلْباً يُدْنيہِ مِنْكَ شَوْقُہُ، وَلِساناً يُرْفَعُ اِلَيْكَ صِدْقُہُ، وَنَظَراً يُقَرِّبُہُ مِنْكَ حَقُّہُ. اِلـہي إنَّ مَنْ تَعَرَّفَ بِكَ غَيْرُ مَجْہُول، وَمَنْ لاذَ بِكَ غَيْرُ مَخْذُول، وَمَنْ اَقْبَلْتَ عَلَيْہِ غَيْرُ مَمْلُول. اِلـہي اِنَّ مَن انْتَہَجَ بِكَ لَمُسْتَنيرٌ، وِاِنَّ مَنِ اعْتَصَمَ بِكَ لَمُسْتَجيرٌ، وَقَدْ لُذْتُ بِكَ يا اِلـہي فَلا تُخَيِّبْ ظَنّي مِنْ رَحْمَتِكَ، وَلا تَحْجُبْني عَنْ رَأفَتِكَ. اِلـہي اَقِمْني في اَہْلِ وِلايَتِكَ مُقامَ مَنْ رَجَا الزِّيادَةَ مِنْ مَحَبَّتِكَ، اِلـہي وَاَلْہِمْني وَلَہاً بِذِكْرِكَ اِلى ذِكْرِكَ وَہَمَّتي في رَوْحِ نَجاحِ اَسْمائِكَ وَمَحَلِّ قُدْسِكَ، اِلـہي بِكَ عَلَيْكَ إلاّ اَلْحَقْتَني بِمَحَلِّ اَہْلِ طاعَتِكَ وَالْمَثْوىَ الصّالِحِ مِنْ مَرْضاتِكَ، فَاِنّي لا اَقْدِرُ لِنَفْسي دَفْعاً، وَلا اَمْلِكُ لَہا نَفْعاً. اِلـہي اَنَا عَبْدُكَ الضَّعيفُ الْمُذْنِبُ، وَمَمْلُوكُكَ الْمُنيبُ، فَلا تَجْعَلْني مِمَّنْ صَرَفتَ عَنْہُ وَجْہَكَ، وَحَجَبَہُ سَہْوُہُ عَنْ عَفْوِكَ. اِلـہي ہَبْ لي كَمالَ الانْقِطاعِ اِلَيْكَ، وَاَنِرْ اَبْصارَ قُلُوبِنا بِضِياءِ نَظَرِہا اِلَيْكَ، حَتّى تَخْرِقَ اَبْصارُ الْقُلُوبِ حُجُبَ النُّورِ فَتَصِلَ اِلى مَعْدِنِ الْعَظَمَةِ، وَتَصيرَ اَرْواحُنا مُعَلَّقَةً بِعِزِّ قُدْسِكَ. اِلـہي وَاْجَعَلْني مِمَّنْ نادَيْتَہُ فَاَجابَكَ، وَلاحَظْتَہُ فَصَعِقَ لِجَلالِكَ، فَناجَيْتَہُ سِرّاً وَعَمِلَ لَكَ جَہْراً. اِلـہي لَمْ اُسَلِّطْ عَلى حُسْنِ ظَنّي قُنُوطَ الاِْياسِ، وَلاَ انْقَطَعَ رَجائي مِنْ جَميلِ كَرَمِكَ. اِلـہي اِنْ كانَتِ الْخَطايا قَدْ اَسْقَطَتْني لَدَيْكَ، فَاصْفَحْ عَنّي بِحُسْنِ تَوَكُّلي عَلَيْكَ. اِلـہي اِنْ حَطَّتْني الذُّنوبُ مِنْ مَكارِمِ لُطْفِكَ، فَقَدْ نَبَّہَني الْيَقينُ اِلى كَرَمِ عَطْفِكَ. اِلـہي اِنْ اَنَامَتْنِي الْغَفْلَةُ عَنِ الاسْتْعِدادِ لِلِقائِكَ، فَقَدْ نَبَّہَتْني الْمَعْرِفَةُ بِكَرَمِ آلائِكَ، اِلـہي اِنْ دَعاني اِلى النّارِ عَظيْمُ عِقابِكَ، فَقَدْ دَعاني اِلَى الْجَنَّةِ جَزيلُ ثَوابِك،َ اِلـہي فَلَكَ اَسْأَلُ وَاِلَيْكَ اَبْتَہِلُ وَاَرْغَبُ، وَاَساَلُكَ اَنْ تُصَلِّيَ عَلى مُحَمَّد وَآلِ مُحَمَّد، وَاَنْ تَجْعَلَني مِمَّنْ يُديمُ ذِكَرَكَ، وَلا يَنْقُضُ عَہْدَكَ، وَلايَغْفُلُ عَنْ شُكْرِكَ، وَلا يَسْتَخِفُّ بِاَمْرِكَ. اِلـہي وَاَلْحِقْني بِنُورِ عِزِّكَ الأبْہَجِ، فَاَكُونَ لَكَ عارِفاً، وَعَنْ سِواكَ مُنْحَرِفاً، وَمِنْكَ خائِفاً مُراقِباً، ياذَا الْجَلالِ وَالاِكْرامِ، وَصَلَّى اللہُ عَلى مُحَمَّد رَسُولِہِ وَآلِہِ الطّاہِرينَ وَسَلَّمَ تَسْليماً كَثيراً۔

اللہ کے نام سے جو بہت رحم والا نہایت مہربان ہے

خدایا! درود بھیج محمد و آل محمد پر اور سن میری دعا جب میں تجھے پکاروں اور سن میری پکار جب میں تجھے ندا کروں، اور میری طرف رخ کر جب میں تجھ سے راز و نیاز کروں؛ پس میں بھاگ کر آیا ہوں تیری طرف، اور بےچارگی کی حالت میں اور تیری بارگاہ میں گڑگڑا رہا ہوں، پرجزا کی امید لئے تیری درگاہ میں کھڑا ہوں، اپنے ثواب کی امید لئے ہوئے ہوں جو تیرے پاس ہے، جبکہ تو جانتا ہے جو کچھ تیرے دل میں ہے، تو میری حاجت کی خبر رکھتا ہے اور میرے ضمیر کو پہچانتا ہے، آخرت کی طرف میرے پلٹنے اور میرے خانہ آخرت کی حالت تجھ سے نہاں نہیں ہے، اور جو کچھ میں زبان پر لانا چاہتا ہوں اور جو حاجتیں میں بیان کرنا چاہتا ہوں، اور جس چیز کی میں اپنے انجام و عاقبت کے لئے امید رکھتا ہوں، وہ تجھ پر مخفی نہیں ہے؛ اور یقینا تیری تقدیر جاری ہوئی ہے مجھ پر اے میرے سید، ان امور کے بارے میں جو آخرِ عمر تک مجھ سے سرزد ہوگا، میرے رازدارانہ اور اعلانیہ اعمال میں سے؛ اور صرف تیرے ہاتھ میں ہے نہ کہ تیرے بغیر کسی اور کے ہاتھ میں، میری بیشیاں اور کمیاں، اور میرا سود و زیاں؛ بارخدایا! اگر تو مجھے محروم کردے تو کون ہے جو مجھے رزق دے گا؟ اگر تو نے مجھے اکیلا چھوڑا تو کون ہے جو میری مدد کرے گا؟ اے میرے معبود میں تیری پناہ مانگتا ہوں تیرے غضب سے، اور تیری ناخوشنودی اور ناراضگی اتر آنے سے، اے میرے معبود! اگر میں رحمت کی اہلیت نہیں رکھتا تو تو اہل ہے کہ مجھ پر اپنی زائد فراوانی سے مجھ پر عنایت فرما؛ اے میرے معبود! گویا میں اپنا تمام تر وجود لے کر تیرے سامنے آکھڑا ہوا ہوں؛ جبکہ تیری ذات پر توکل کا سایہ مجھ پر چھایا ہوا ہے، کیونکہ تو نے فرمایا ہے [پس تو نے کیا] وہی جس کا تو ہی اہل ہے، اور تو نے مجھے دامن عفو میں پناہ دی؛ اے میرے معبود! اگر تو نے مجھے بخش دیا تو وہ کون ہوسکتا ہے جو عفو کرنے کا تجھ سے زیادہ لائق ہو؟ اور اگر میری موت قریب آئی ہو اور میرا عمل مجھے تیرے قریب نہ کرسکا ہو تو میں نے اپنے اقرار بہ گناہ کو تیری بارگاہ میں اپنا وسیلہ قرار دیا ہے؛ اے میرے خدا! میں نے اپنے نفس کی پیروی کرکے اس پر ستم روا رکھا ہے، تو افسوس ہے اس پر اگر تو نے اس کی مغفرت کا ساماں نہیں کیا؛ اے میرے معبود! میری زندگی کے ایام میں تیرا احسان مجھ پر مسلسل جاری رہا، پس مرتے دم مجھ پر اپنا احسان منقطع نہ فرما؛ میرے معبود! میں مرنے کے بعد تیرے حُسنِ توجہ سے کیونکر مایوس ہوں گا! حالانکہ ایام حیات میں تو نے سوائے نیکی کے، میری سرپرستی نہیں فرمائی؛ میرے معبود! میرے امور و معاملات کو کچھ طرح سے اپنے ہاتھ لے کہ جس طرح کہ تیرے شایان شان ہے، اور میری طرف اپنے فضل کے ساتھ پلٹ آ، ایسے گنہگار کی جانب جس کے جہل و نادانی نے اس کے سراپے کا احاطہ کرلیا ہے؛ اے میرے معبود! تو نے دنیا میں میرے ایسے گناہ پوشیدہ رکھے جن کی پردہ پوشی کا میں آخرت میں کہیں زیادہ محتاج ہوں؛ [اے میرے معبود بےشک تو نے مجھ پر احسان کیا کہ] تو نے دنیا میں اپنے کسی بھی نیک بندے پر میرے گناہ ظاہر نہیں کئے، تو مجھے روز قیامت لوگوں کے سامنے رسوا نہ فرما؛ اے میرے معبود! تیری عطابخشی نے میری آرزؤوں کو وسعت دی، اور تیری بخشش نے میرے عمل پر برتری پائی؛ اے میرے معبود! تو تو مجھے اپنے دیدار سے سرور عطا فرما اس دن جب تو اپنے بندوں کے درمیان فیصلے کرتا ہے؛ خداوندا! تیری بارگاہ سے میری معذرت اس شخص کی معذرت جیسی ہے جس کو معذرت کی قبولیت نے بےنیاز نہیں کیا [اور اس کا ‏عذر قبول نہیں ہوا] پس میرا ‏عذر قبول فرما اے وہ کریم ترین ذات جس کی بارگاہ سے بدکار لوگ معذرت کرتے ہیں؛ اے میرے معبود! میری حاجت کو ردّ نہ فرما، اور میری طمع کو ناامیدی سے ہمکنار نہ فرما، اور اپنی کریم ذات سے میری امید و آرزو منقطع نہ فرما؛ اے میرے معبود! اگر تو میری خواری اور بےوقعتی کا خواہاں ہوتا، تو میری راہنمائی نہ فرماتا اور اگر میری رسوائی کا خواہاں ہوتا تو میری حفاظت نہ کرتا؛ میرے معبود! میرا تجھ پر یہ گمان نہیں ہے کہ تو اس حاجت میں مجھے اپنی درگاہ سے [خالی ہاتھ] لوٹائے گا جس کی طلب میں، میں نے پوری عمر صرف کی ہے؛ اے میرے معبود! بس تیرے لئے ہے حمد ہمیشہ ہمیشہ کے لئے، ابد تک، دائماً اور بے انتہا، ایسی حمد و سپاس، جس میں مسلسل اضافہ ہو اور وہ ناقابل فنا ہو جس طرح کو تو پسند کرے اور تیری خوشنودی کا باعث ہو؛ اگر تو مجھے میرے جرم پر پکڑے گا تو میں تیرے عفو کا سہارا لوں گا، اور اگر تو مجھے میرے گناہوں کی بنا پر پکڑے گا تو میں تیری مغفرت کا سہارا لوں گا، اور اگر تو مجھے دوزخ میں داخل کرے گا تو میں اہل دوزخ کو بتا دوں گا کہ میں تیرا حبدار ہوں؛ بار خدایا! اگر میرا کردار و عمل تیری طاعت کے مقابلے میں کم ہے تو بےشک تیری بخشش کے پیش نظر، میری امید و آرزو بہت بڑی ہے؛ اے میرے معبود! کیونکر تیری بارگاہ سے مایوس ہوکر خالی ہاتھ پلٹوں گا حالانکہ تیری جود و سخا اور بخشش پر میرا حسن ظنّ یہ تھا کہ تو مجھے نجات دے کر اور مجھ پر رحم کرکے پلٹائے گا؛ اے میرے خدا! میں اپنی زندگی تجھ سے غافل ہوکر لاپروائی میں گنوائی اور اپنے ایام نوجوانی کو تجھ سے دوری کے نشۂ غفلت میں بڑھاپے تک پہنچایا؛ اے میرے معبود! پس میں تیرے سامنے غرور و جرات کے ایام میں خواب غفلت سے بیدار نہیں ہوا اور اپنے اشتیاقات کے دنوں میں تیرے ناراض ہونے کو توجہ نہیں دی؛ اے میرے معبود! بہرحال میں تیرا بندہ اور تیرے بندے کا فرزند ہوں، تیرے ہی لطف و کرم کو وسیلۂ بنا کر تیری درگاہ میں کھڑا ہوں؛ اے میرے معبود! میں کچھ اس قسم کا بندہ ہوں جو کہ تیری درگاہ میں ـ جبکہ بیزار ہوں ان چیزوں سے جو میں تیرے پاس، تجھ سے کم حیائی کی بنا پر، لایا ہوں، اور میں عفو و بخشش کا سوالی ہوں، کیونکہ عفو تیرے کرم ہی کا وصف ہے؛ اے میرے معبود! مجھ میں کوئی جنبش، کوئی حرکت نہیں ہے جس کے وسیلے سے میں اپنے آپ کو تیری نافرمانی کی حدود سے نکال باہر کروں، سوا اس وقت کے جب تو مجھے جگا کر اپنی محبت کی طرف توجہ دلاتا ہے، اور میں ہوجاؤں اسی طرح جس طرح کہ تو چاہتا ہے، تو میں تیرا شکر کرتا ہوں کہ تو نے مجھے اپنے کرم میں داخل کیا اور میرے قلب کو غفلت کی غلاظتوں سے پاک کیا؛ اے میرے معبود! مجھ پر نظر کر، اس شخص کی سی نظر جس کو تو نے پکارا تو اس نے اجابت کی، اور تو نے اپنی مدد سے کسی کام پر لگایا تو اس نے تیری اطاعت کی، اے وہ قریب جو فریب خوردہ فرد سے دوری اختیار نہیں کرتا، اور وہ بہت عطا کرنے والے جو اس کے ثواب کی امید رکھنے والے کو عطا کرنے میں کمی نہیں کرتا؛ اے میرے معبود! مجھے ایسا دل عطا کر جس کا اشتیاق اسے تیرے قریب کر لے، اور ایسی زبان جس کی سچائی تیری جانب اوپر کو لائی جائے، اور ایسی نگاہ جس کی حقانیت اسے تیرے دائرہ قرب میں داخل کرے؛ اے میرے معبود! بے شک جو بےشک جو تیرے واسطے سے پہچانا گیا وہ گمنام نہیں رہتا، اور جو تیری پناہ میں آیا وہ بےیار و مددگار نہیں رہتا، اور جس کی طرف تو نے رخ کیا وہ غلام نہیں بنتا؛ اے میرے معبود! بےشک جو تیری طرف بڑھے اس کا راستہ روشن ہے، اور جو تجھ سے پناہ مانگے وہ پناہ یافتہ ہے، اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں اور بےشک تیری پناہ میں آیا ہوں؛ اے میرے معبود! پس تیری رحمت پر میرے گمان کو نا امیدی سے دوچار نہ فرما، اور اپنی مہر و محبت سے مجھے باز نہ رکھ؛ اے میرے معبود! مجھے تیرے اہل ولایت و محبت میں قرار دے، ان لوگوں کی مانند جنہوں اپنی امید تیری محبت بڑھنے سے وابستہ کررکھی ہے؛ اے میرے معبود! اپنی یاد کی برکت سے اپنی یاد اور اپنے ذکر کی شیفتگی الہام کرتے رہنا، اور میری ہمت کو تیرے ناموں کی کامیابی کی نسیم اور تیرے ہاں مرتبۂ قدس میں قرار دے؛ اے میرے معبود! تجھے تیری ذات کا واسطہ، مجھے اپنے طاعت گزاروں کے مرتبے اور تیری خوشنودی کے نتیجے میں شائستہ منزلت تک پہنچا دے، کیونکہ میں نہ تو نقصان سے بچاؤ کی قدرت رکھتا ہوں اور نہی ہی اپنی منفعت کا مالک ہوں؛ اے میرے معبود! میں تیرا کمزور اور گنہگار بندہ اور تیری درگاہ میں پلٹ آنے اور توبہ کرنے والا غلام ہوں، مجھے ایسے لوگوں کے زمرے میں قرار نہ دے جن سے تو نے منہ موڑا ہے، اور نہ ہی ان لوگوں کے زمرے میں، جنہیں ان کی خطاؤں نے تیرے عفو کی طرف توجہ دینے سے غافل رکھا ہے؛ اے میرے معبود! مخلوقات سے جدائی [اور ان سے تیرے بغیر دوسروں سے امید منقطع کرنے] میں مجھے ایسا کمال عطا فرما کہ میں مکمل طور پر تجھ تک پہنچ سکوں اور ہمارے دلوں کی بصارتوں کو تیری طرف متوجہ رہنے کے نور سے روشنی عطا کرتے رہنا، یہاں تک کہ دل کی آنکھیں نور کے پردوں کو پار کرلیں [اور روشنی کے حجابوں کو ہٹا دیں] اور عظمت کے سرچشموں سے جا ملیں، اور ہماری روحیں تیرے مقام قدس کی بلندیوں سے لٹک جائیں؛ اے میرے معبود! مجھے ان بندوں کے زمرے میں قرار دے جن کو تو نے پکارا، تو انھوں نے اجابت کی، اور تو نے انہیں توجہ دی، تو وہ تیری عظمت و جلالت کے سامنے مدہوش ہوئے اور ان سے رازداری میں کلام کیا اور انھوں نے ظاہر میں عمل تیری رضا کی خاطر عمل کیا؛ اے میرے معبود! میں نے [تیری طرف کی رحمت میں شامل ہونے سے] ناامیدی اور [کوئی رحمت میرے شامل ہونے سے] مایوسی کو اپنے حسن ظن پر مسلط نہیں ہونے دیا ہے، اور تیرے بہت خوبصورت لطف و کرم سے میری امید و توقع منقطع نہیں ہوئی ہے؛ اے میرے معبود! اگر میری خطاؤں نے مجھے تیری نظروں سے گرا دیا ہے تو تجھ پر میرے بہترین توکل کے واسطے، مجھ سے چشم پوشی فرما؛ اے میرے معبود! اگر گناہوں نے مجھے تیرے لطف کی بخششوں کی منزل سے تنزلی دی ہے تو بھی تیری عنایت کے کرم پر میرے یقین نے مجھے ہوشیار رکھا ہے؛ اے میرے معبود! تیری بارگاہ میں حاضر ہوکر تیرے دیدار کے لئے تیاری سے غفلت نے مجھے سُلا دیا ہے تو بےشک تیری کریمانہ نعمتوں کی معرفت نے مجھے جگا دیا ہے؛ اے میرے معبود اگر تیری سخت سزا نے مجھے جہنم کی طرف بلایا ہے، تو بےشک تیرے نمایاں ثواب نے مجھے جنت کی سمت آنے کی دعوت دی ہے؛ اے میرے معبود! تجھ سے سوال کرتا ہوں، اور تیری بارگاہ میں آہ و زاری کرتا ہوں اور تیری طرف راغب و مشتاق ہوں، اور تجھ سے التجا کرتا ہوں کہ درود بھیج دے محمد اور آل محمد پر اور مجھے قرار دے ان لوگوں میں سے جو دائماً تیرا ذکر کرتے اور تجھے یاد رکھتے ہیں، اور تیرا عہد نہیں توڑتے، اور تیرے شکر سے غافل نہیں ہوتے اور جو تیرے فرمان کو سبک اور بےوقعت نہیں سمجھتے؛ اے میرے معبود! اور مجھے اپنی عزت کے بہت خوبصورت اور خوش کن نور تک پہنچا دے، تا کہ میں تیری معرفت حاصل کروں، اور تیرے غیر سے روگردان ہوجاؤں اور تجھ سے خائف اور خبردار رہوں، اے عظمت و بزرگی کے مالک، اور خدا کا بہت بہت درود و سلام ہو محمد(ؐ اور آپ(ؐ کے پاک خاندان پر۔

متعلقہ مضامین

حوالہ جات

  1. ابن طاووس، اقبال الاعمال، 1417ق، ص197؛ مجلسی، بحارالانوار، 1403ق، ج91، ص97؛ مجلسی، زادالمعاد، 1423ق، ص47.
  2. قمی، مفاتیح الجنان، 1369ش، مناجات ائمہ علیہم‌السلام در شعبان.
  3. ملکی تبریزی، المراقبات، 1416ق، ص130
  4. مطہری، مجموعہ آثار، 1389ش، ج22، ص734-733.
  5. پایگاہ آیت‌اللہ جوادی آملی
  6. ملاحظہ کریں: قمی، مفاتیح الجنان، مناجات شعبانیه.
  7. ابن طاووس، اقبال الاعمال، 1417ق/1996م، ص197؛ مجلسی، بحارالانوار، ج91، ص97؛ مجلسی، زادالمعاد، 1423ق/2003م، ص47؛ سماہیجی، الصحیفۃ العلویۃ و التحفۃ المرتضویۃ، 1393ق، ص85، قمی، مفاتیح الجنان، 1369ش، ص283
  8. ملاحظہ کریں:ابن طاووس، اقبال الاعمال، 1417ق، ص197.
  9. مجلسی، زادالمعاد، 1423ق، ص47.
  10. شفیعی، «مناجات شعبانیه و سند آن»، پایگاه اطلاع‌رسانی حوزه.
  11. شفیعی، «مناجات شعبانیه و سند آن»، پایگاه اطلاع‌رسانی حوزه.
  12. ابطحی، تهذیب المقال، 1417ق، ج1، ص36
  13. نجاشی، رجال نجاشی، مؤسسة النشر الاسلامی، ج2، ص100.
  14. شفیعی، «مناجات شعبانیه و سند آن»، پایگاه اطلاع‌رسانی حوزه.
  15. خوانساری، روضات الجنات، 1390ش، ج3، ص150؛ آقابزرگ تهرانی، نوابغ الرواة، دار الکتاب العربی، ص105.
  16. شفیعی، «مناجات شعبانیه و سند آن»، پایگاه اطلاع‌رسانی حوزه.

مآخذ

  • آقابزرگ تهرانی، نوابغ الرواة فی رابعة المئات، بیروت، دار الکتاب العربی، بی‌تا.
  • ابطحی، سید محمدعلی، تهذیب المقال، قم، 1417ھ.
  • ابن طاووس، علی بن موسی، اقبال الاعمال، بیروت، موسسة اعلمی للمطبوعات، 1417ھ/1996ء.
  • خمینی، سید روح الله، صحیفه امام، تهران، مؤسسه تنظیم و نشر آثار امام خمینی، 1378ہجری شمسی.
  • خوانساری، محمدباقر، روضات الجنات، قم، اسماعیلیان، 1390ہجری شمسی.
  • سماهیجی، عبدالله بن صالح، الصحیفة العلویة و التحفة المرتضویة، تهران، انتشارات اسلامی، 1393ھ.
  • شفیعی، حسین، «مناجات شعبانیه و سند آن»، پایگاه اطلاع‌رسانی حوزه، به نقل از: مجله پیام حوزه، ش 15، پاییز 1376ش، تاریخ بازدید: 27 اسفند 1399ہجری شمسی.
  • قمی، عباس، مفاتیح الجنان، تهران، مرکز نشر فرهنگی رجاء، 1369ہجری شمسی.
  • کلبرگ، اتان، کتابخانه ابن طاووس و احوال و آثار او، ترجمه علی قرائی و رسول جعفریان، قم، کتابخانه آیت الله العظمی مرعشی نجفی، 1371ہجری شمسی.
  • مجلسی، محمدباقر، بحارالانوار، بیروت، داراحیاء‌التراث العربی، چاپ دوم، 1403ھ.
  • مجلسی، محمدباقر، زادالمعاد، بیروت، چاپ علاءالدین اعلمی، 1423ھ/2003ء.
  • محمدی گیلانی، محمد، شرح مناجات شعبانیه، تهران، سایه، 1373ہجری شمسی.
  • مطهری، مرتضی، مجموعه آثار، تهران، انتشارات صدرا، 1389ہجری شمسی.
  • ملکی تبریزی، جواد، المراقبات، بیروت، دارالاعتصام، 1416ھ.
  • نجاشی، احمد بن علی، رجال، قم، مؤسسة النشر الاسلامی، بی‌تا.

بیرونی روابط