محسن بن علی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
محسن بن علیؐ
نام محسن بن علیؑ
وجہ شہرت اولاد حضرت علی و حضرت فاطمہ(س)
شہادت گیارھویں صدی ہجری
وجہ شہادت سقط
مدفن ایک حدیث کے مطابق حضرت علیؑ کے دولت سرا میں
والد حضرت علیؑ
والدہ حضرت فاطمہ
مشہور اقارب امام علیؑ و حضرت زہرا(س)
مشہور امام زادے
حضرت عباس، حضرت زینب، حضرت معصومہ، علی اکبر، علی اصغر، عبد العظیم حسنی، احمد بن موسی، سید محمد، سیدہ نفیسہ

محسن بن علی حضرت علیؑ اور حضرت فاطمہ(س) کی پانچویں فرزند ہیں جو ابو بکر کے طرفداروں کی طرف سے خلافت کے ابتدائی ایام میں حضرت علیؑ سے بیعت لینے کیلئے ان کے گھر پر ہجوم کے وقت سقط ہوئے۔ ان کی شہادت کی تاریخ واضح نہیں۔ اسلامی تاریخ کے محقق محمد ہادی یوسفی غروی (ولادت: 1327 ش) بعض تاریخی شواہد کی روشنی میں حضرت فاطمہؑ کے گھر پر حملہ اور سقط محسن کو رسول اللہ کے وصال کے 50 دن یا اس کے بعد مانتے ہیں۔ البتہ بعض افراد ربیع الاول کی ابتدائی تاریخوں کو ایام محسنیہ کا نام دے کر ان میں عزاداری کرتے ہیں۔ اہل تشیع میں اس کام کی قدمت نہ ہونے نیز اصلی مناسبتوں کے کم رنگ ہونے کے خدشے کے پیش نظر مراجع تقلید اس کام کی تائید نہیں کرتے ہیں۔

محسن بن علی کے سلسلہ میں عربی و فارسی میں کتابیں لکھی گئی ہیں۔ سید محمد مہدی موسوی خرسان کی تالیف کتاب المحسن السبط مولودٌ أم سقطٌ ان میں قابل ذکر ہے۔

امام علی و حضرت فاطمہ کے فرزند

محسن امام علی (ع) و حضرت فاطمہ زہرا کے فرزند ہیں۔[1] مختلف شیعہ و اہل سنت مصادر میں انہیں امام علی و حضرت فاطمہ کی اولاد میں شمار کیا گیا ہے۔[2] روایات کے مطابق ان کا یہ نام آنحضرت (ص) نے رکھا تھا۔[3] اور یہ نام مشبر (حضرت ہارون کے فرزند) کے نام کے ہم پلہ ہے۔[4] ابن حجر عسقلانی (متوفی 852 ھ) کے بقول: اہل سنت سیرت نگاروں نے یہ نام مُحَسّن ذکر کیا ہے۔[5]

شہادت

محسن کی وفات کی کیفیت کے سلسلہ میں اختلاف نظر پایا جاتا ہے۔ شیعہ مصادر میں ان کی شہادت کا سبب ان کا سقط ہونا ذکر ہوا ہے۔[6] اہل سنت منابع میں ان کی وفات کے سلسلہ میں مات صغیرا،[7] مات و ھو صغیر[8] و غیرہ[9] جیسی تعبیرات نقل ہوئی ہیں۔ جس سے یہ مطلب اخذ ہوتا ہے کہ وہ زندہ اس دنیا میں وارد ہوئے۔ اہل سنت عالم ابن حزم اندلسی (متوفی 456 ھ) کے مطابق، ولادت کے فورا بعد ان کی وفات ہوگئی۔[10] حالانکہ محمد بن عبد الکریم شہرستانی (متوفی 548 ھ) نے اپنی کتاب الملل و النحل میں بزرگ معتزلی عالم ابراہیم بن سیار المعروف نظام معتزلی (متوفی 221 ھ) کے حوالے نقل کیا ہے کہ فاطمہ (ع) کے پہلو پر عمر بن خطاب کی ضربت محسن کے سقط کا سبب بنی۔[11] اسی طرح سے شارح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید معتزلی (متوفی 656 ھ) نے اپنے استاد ابو جعفر نقیب سے اپنے مناظرہ میں حضرت علی (ع) سے بیعت لینے کے واقعہ میں سقط محسن کی طرف اشارہ کیا ہے۔[12]

اہل سنت کتب میں منقول بعض روایات کے مطابق، محسن کی ولادت آنحضرت (ص) کی زندگی میں ہوئی ہے۔[13]

تاریخ شہادت

محسن حضرت فاطمہؑ کے گھر پر حملہ میں سقط ہوئے ہیں۔[14] تاریخ اسلام کے محقق محمد ہادی یوسفی غروی (ولادت: 1327 ش) تاریخی شواہد کی بنیاد پر یہ مانتے ہیں کہ حضرت فاطمہ کے گھر پر حملہ کا واقعہ سقیفہ بنی ساعدہ اور ابوبکر کی بیعت کے فورا بعد پیش نہیں آیا ہے بلکہ آنحضرت (ص) کی رحلت کے تقریبا 50 دن یا اس سے زیادہ کے بعد پیش آیا ہے۔[15] اس کے باوجود بعض افراد ربیع الاول کے ابتدائی ایام کو ایام محسنیہ سے منسوب کرکے عزاداری کرتے ہیں۔[16] مراجع تقلید میں آیت اللہ مکارم شیرازی (ولادت: 1305 ش) کے بقول: بہتر ہے کہ ایام محسنیہ منعقد نہ ہوں کیونکہ شیعوں میں اس کا رواج نہیں رہا ہے۔ اس کا انعقاد دوسری اہم مناسبتوں کے کم رنگ ہونے کا سبب بنے گا۔[17]

قاضی عبد الجبار معتزلی (متوفی 415 ھ) کی گزارش کے مطابق، بعض شیعہ مصر، دمشق، بغداد، الرملہ، عکا، صور، عسقلان و جبل البسماق کے علاقوں میں حضرت فاطمہ اور ان کے فرزند محسن کی عزاداری کرتے تھے۔[18]

محل دفن

تاریخی منابع میں محسن کے مقام دفن کی طرف اشارہ نہیں ہوا ہے۔ البتہ اس روایت کی بنیاد پر جس کا ذکر کتاب جامع النورین میں آیا ہے: حضرت علی (ع) نے حضرت فاطمہ کی خادمہ فضہ سے فرمایا: محسن کے جسد کو اپنے گھر میں دفنا دو۔[19]

عذابِ قاتل

کامل الزیارات میں منقول روایت کے مطابق، قیامت کے روز خاندان رسول خدا میں سے سب سے پہلے محسن کا واقعہ خدا کے سامنے پیش ہوگا اور اس کے قاتل کا حساب لیا جائے گا۔[20]

مونوگرافی

محسن بن علی کے سلسلہ میں لکھی گئی عربی و فارسی کتابیں:

  • المحسن السبط مولودٌ أم سقطٌ؛ مولف سید محمد مہدی موسوی خرسان، عربی کتاب ہے جو مرکز الابحاث العقائدیہ کی طرف سے سنہ 1430 ھ میں 626 صفحہ میں شائع ہوئی ہے۔[21] مولف نے تاریخی متون کے تطبیقی مطالعہ سے یہ نتیجہ پیش کیا ہے کہ سقط محسن حضرت علی کے گھر پر حملہ کے دن ان ضربات و اذیت کی وجہ سے ہوا ہے جو حضرت فاطمہ پر وارد ہوئے ہیں۔[22]
  • غنچہ یاس؛ محسن بن علی، مولف: مہدی فاطمی، فارسی و عربی زبان میں سنہ 1386 ش میں نشر ہوئی ہے۔[23]
  • محسن بن علی؛ مولف: علی‌ اصغر رضوانی۔[24]
  • المحسن بن فاطمة الزهراء؛ مولف عبد المحسن عبد الزهراء القطیفی۔[25]
  • مسافر دریا حضرت محسن بن علی؛ مولف صادق داوری۔[26]

متعلقہ مضامین

حوالہ جات

  1. برای نمونہ نگاه کریں: یعقوبی، تاریخ یعقوبی، دار صادر، ج۲، ص۲۱۳؛ قاضی نعمان، شرح الاخبار، ۱۴۱۴ق، ج۳، ص۸۸؛ شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۱، ص۳۵۵؛ ابن‌ صوفی، المجدی، ۱۴۲۲ق، ص۱۹۳.
  2. ابن‌ حنبل، مسند، ۱۴۲۱ق، ج۲، ص۱۵۹، ۲۴۶؛ بخاری، الادب المفرد، ۱۴۰۹ق، ص۲۸۶؛ ابن‌ قتیبة، المعارف، ۱۹۹۲م، ص۲۱۱؛ بلاذری، انساب‌ الاشراف، ۱۳۹۴ق، ج۲، ص۱۸۹؛ طبری، تاریخ الامم و الملوک، ۱۳۸۷ق، ج۵، ص۱۵۳؛ حاکم نیشابوری، المستدرک علی الصحیحین، ۱۴۱۱ق، ج۳، ص۱۸۰ ابن‌ حزم اندلسی، جمهرة انساب العرب، ۱۴۰۳ق، ص۱۶؛ ابن‌ اثیر، اسد الغابة، ۱۴۰۹ق، ج۴، ص۲۹۹-۳۰۰؛ سبط بن جوزی، تذکرة الخواص، ۱۴۱۸ق، ص۵۷؛ ابن‌ کثیر، البدایة و النهایة، ۱۴۰۸ق، ج۷، ص۳۶۷؛ ابن‌ حجر عسقلانی، الاصابہ، ۱۴۱۵ق، ج۶، ص۱۹۱.
  3. شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۱، ص۳۵۵
  4. ابن‌ حنبل، مسند، ۱۴۲۱ق، ج۲، ص۱۵۹، ۲۴۶؛ شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۱، ص۳۵۵.
  5. ابن‌ حجر عسقلانی، الاصابہ، ۱۴۱۵ق، ج۶، ص۱۹۱.
  6. نگاه کریں: شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۱، ص۳۵۵.
  7. ابن‌ اثیر، اسد الغابة، ۱۴۰۹ق، ج۴، ص۳۰۰.
  8. ابن‌ قتیبة، المعارف، ۱۹۹۲م، ص۲۱۱.
  9. مقدسی، البدء و التاریخ، مکتبة الثقافة الدینیة، ج۵، ص۷۵.
  10. ابن‌ حزم اندلسی، جمهرة انساب العرب، ۱۴۰۳ق، ص۳۸.
  11. شهرستانی، الملل و النحل، ۱۳۶۴ش، ج۱، ص۷۱.
  12. ابن‌ ابی‌ الحدید، شرح نهج‌ البلاغة، ۱۴۰۴ق، ج۱۴، ص۱۹۲–۱۹۳.
  13. ابن‌ اثیر، اسد الغابة، ۱۴۰۹ق، ج۴، ص۲۹۹؛ ابن‌ حنبل، مسند، ۱۴۲۱ق، ج۲، ص۱۵۹، ۲۴۶؛ ابن عبدالبر، الاستیعاب، ۱۴۱۲ق، ج۱، ص۳۸۴.
  14. مفید، الاختصاص، ۱۴۱۳ق، ص۱۸۵؛ خصیبی، الهدایة الکبری، ۱۴۱۹ق، ص۴۰۸؛ ابن‌ ابی‌ الحدید، شرح نهج‌ البلاغة، ۱۴۰۴ق، ج۱۴، ص۱۹۲–۱۹۳؛ شهرستانی، الملل و النحل، ۱۳۶۴ش، ج۱، ص۷۱.
  15. یوسفی غروی، «تاریخ هجوم بہ خانہ حضرت زهرا»، ص۹-۱۴.
  16. «اتفاقات هفتہ اول بعد از ماه صفر، ریشہ و اصل همہ مصائب جهان اسلام است»، پایگاه اطلاع‌ رسانی حضرت آیت‌ الله العظمی سید صادق روحانی.
  17. «نظر حضرت‌ عالی در مورد برگزاری مراسم ایّام محسنیہ بہ صورت عمومی در سطح شهر چیست؟»، پایگاه اطلاع‌ رسانی دفتر حضرت آیت‌ الله العظمی مکارم شیرازی.
  18. قاضی عبد الجبار، تثبیت دلائل النبوة، ۱۴۲۷ق، ج۲، ص۵۹۵.
  19. سبزواری، ملا اسماعیل، جامع النورین، ص۲۰۶
  20. ابن قولویہ، کامل الزیارات، النص، ص۳۳۴
  21. موسوی خرسان، المحسن السبط مولودٌ أم سقطٌ، ۱۴۳۰ق، شناسنامہ کتاب.
  22. الموسوی الخرسان، المحسن السبط مولود أم سقط، ۱۴۳۰ق، ص۲۰۷.
  23. غنچہ یاس، شبکہ جامع کتاب گیسوم
  24. محسن بن علی (ع)، مؤسسہ خانہ کتاب ایران و ادبیات ایران
  25. المحسن‌ بن‌ فاطمہ الزهراء مؤسسہ خانہ کتاب ایران.
  26. مسافر دریا: حضرت محسن بن علی، شبکہ جامع کتاب گیسوم.


مآخذ

  • ابن ابی الحدید(م۶۵۶ق), شرح نہج البلاغہ، تحقیق حمحد ابوالفضل ابراہیم، قاہره، ط۲,‌دار احیاء الکتب العربیہ, قاہره, ۱۳۸۷ق/۱۹۶۷م افست قم ۱۴۰۴ھ۔
  • ابن اثیر, عز الدین علی بن ابی الکرم (م۶۳۰ق)، اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ، تہران، اسماعیلیان, بی‌تا۔
  • ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، بیروت، دار صادر-‌دار بیروت، ۱۳۸۵ق/۱۹۶۵ء۔
  • ابن حبان بستی (م ۳۵۴ق)، کتاب الثقات، چاپ أول، بیروت، مؤسسۃ الکتب الثقافیہ، (مجلس دائرة المعارف العثمانیہ۔ بحیدر آباد الدکن الہند)، ۱۳۹۳ھ۔
  • ابن حجر، احمد بن علی العسقلانی (م۸۵۲ق)، الاصابہ فی تمییز الصحابہ، تحقیق، الشیخ عادل احمد عبد الموجودالشیخ علی محمد معوض, بیروت، ط۱، دارالکتب العلمیہ, ۱۴۱۵ق/۱۹۹۵ء۔
  • ابن حزم، ابومحمد علی بن احمد بن حزم الاندلسی (م۴۵۶)، جمہرة انساب العرب، تحقیق لجنہ من العلماء، ط ۱، بیروت،‌ دار الکتب العلملیہ، ۱۴۰۳ ق/۱۹۸۳ء۔
  • ابن دمشقی، شمس الدین أبی البرکات محمد بن أحمد الدمشقی الباعونی الشافعی (م ۸۷۱ ه)، جواهر المطالب فی مناقب الإمام علی بن أبی طالب علیہ السلام، تحقیق: الشیخ محمد باقر المحمودی، قم، مجمع إحیاء الثقافہ الاسلامیہ، الطبعہ الأولی، ۱۴۱۵ھ۔
  • ابن شہر آشوب, محمد بن علی مازندرانی (م۵۸۸ه)، مناقب آل ابی طالب، تحقیق لجنہ من اساتذه النجف, نجف، مکتبہ الحیدریہ,۱۳۷۶ق/۱۹۵۶ء۔
  • ابن صباغ، علی بن محمد بن أحمد المالکی المکی (م ۸۵۵ هق) الفصول المہمة فی معرفۃ الأئمہ، تحقیق: علیہ سامی الغریری، قم،‌دار الحدیث، ۱۳۷۹ ش، ص۱۲۵۔
  • ابن عبد البر، یوسف بن عبد الله قرطبی، (م۴۶۳ق)، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، تحقیق, الشیخ علی محمد معوض-الشیخ عادل احمد عبد الموجود، ط۱، بیروت،‌ دار الکتب العلمیہ, ۱۴۱۵ق/۱۹۹۵ء۔
  • ابن عساکر، الحافظ أبی القاسم علی بن الحسن بن ہبة الله الشافعی المعروف بابن عساکر(م ۵۷۱ ق)، ترجمہ الإمام الحسن بن علی بن أبی طالب علیہما السلام من تاریخ مدینۃ دمشق، تحقیق: الشیخ محمد باقر المحمودی، بیروت، موسسہ المحمودی للطباعہ و النشر، الطبعہ الاولی،۱۴۰۰ق/ ۱۹۸۰ء۔
  • ابن عساکر، ترجمہ الإمام الحسین علیہ السلام من تاریخ مدینہ دمشق، تحقیق: الشیخ محمد باقر المحمودی، قم، مجمع إحیاء الثقافۃ الاسلامیہ، الطبعہ الثانیہ، ۱۴۱۴ ه۔
  • ابن قتیبہ، عبد الله بن مسلم دینوری، المعارف، تحقیق, ثروت عکاشہ, ط۱, قم، منشورات الشریف الرضی, ۱۴۱۵ ق/۱۳۷۳ ش۔
  • ابن کثیر، ابوالفداء اسماعیل بن کثیر الدمشقی(م۷۷۴ق), تحقیق, علی شیری, البدایہ والنہایہ، ط۱, بیروت،‌دار احیاء التراث العربی, ۱۴۰۸ھ۔
  • ابوالفداء، اسماعیل بن عباد، المختصر فی اخبار البشر۔
  • أحمد بن حنبل، مسند و بہامشہ منتخب کنز العمال فی سنن الأقوال والافعال، بیروت،‌دار صادر، بی‌تا۔
  • اربلی، ابو الحسن علی بن عیسی بن أبی الفتح الأربلی (م ۶۹۳ ه)، کشف الغمہ فی معرفہ الأئمہ، بیروت،‌دار الأضواء، ط ۲، ۱۴۰۵ ه/ ۱۹۸۵ م،
  • بخاری، امام محمد بن إسماعیل، (م ۲۵۶ ه(، الأدب المفرد، بیروت، مؤسسہ الکتب الثقافیہ، الطبعہ الأولی، ۱۴۰۶ ه - ۱۹۸۶ء۔
  • بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، تحقیق, سہیل زکار و ریاض زرکلی, ط ۱, بیروت،‌دار الفکر, ۱۴۱۷ ق/۱۹۹۶ء۔
  • بیہقی, احمد بن الحسین بن علی,(م۴۵۸ق), السنن الکبری، بیروت،‌دار الفکر, بی‌تا۔
  • خصیبی، أبی عبد الله الحسین بن حمدان (م۳۳۴ هق)، الہدایہ الکبری، بیروت، مؤسسہ البلاغ للطباعہ والنشر والتوزیع، لبنان۔ الطبعہ الرابعہ، ۱۴۱۱ ه - ۱۹۹۱ م، ص۳۹۲ و ص۴۱۷۔
  • ذہبی، شمس الدین محمد بن عثمان(م ۷۴۸ق)، سیر اعلام النبلاء، تحقیق, شعیب الارنووط-ابراہیم الزبیق,ط۹, بیروت، موسسہ الرسالہ, ۱۴۱۳ ھ۔
  • دولابی، ابوبشر احمد بن حماد(م۳۱۰), الذریۃ الطاہره، تحقیق,سعد المبارک حسن, ط۱, کویت،‌دار السلفیہ, ۱۴۰۷ق، ص۶۱ -۶۲۔
  • زرندی، جمال الدین محمد بن یوسف بن الحسن بن محمد الزرندی الحنفی المدنی (م ۷۵۰ق)، نظم درر السمطین فی فضائل المصطفی والمرتضی والبتول والسبطین، بی‌جا، الطبعۃ الأولی، ۱۳۷۷ ه - ۱۹۵۸ء۔
  • سبط بن جوزی، تذکرة الخواص۔
  • سبزواری،ملااسماعیل، جامع النورین، تہران، علمیہ اسلامیہ، بی‌تا، ص ۲۰۶۔
  • سید مرتضی، الشافي في الإمامہ، شريف مرتضى‏، مؤسسہ الصادق ع‏، تہران‏، 1410 ق‏، چاپ دوم‏، تحقيق و تعليق از سيد عبد الزہراء حسينى‏۔
  • شیخ طوسی، تلخيص الشافي‏، انتشارات المحبين‏، قم‏، 1382 ش‏، چاپ اول‏، ملاحظات مقدمہ و تحقيق از حسين بحر العلوم‏۔
  • صفوری شافعی، عبد الرحمن بن عبد السلام(۸۹۴ق)،نزہۃ المجالس ومنتخب النفائس، المطبعہ الکاستلیہ، مصر، ۱۲۸۳ھ۔
  • شامی، محمد بن یوسف صالحی(م۹۴۲ق), سبل الہدی والرشاد فی سیره خیر العباد، تحقیق, الشیخ عادل احمد عبد الموجود, بیروت، ط۱,‌دار الکتب العلمیہ, ۱۴۱۴ق، ج ۶، ص۳۵۸ و ج ۱۱، ص۵۰ و ص۵۵۔
  • شہرستانی، أبی الفتح محمد بن عبد الکریم بن أبی بکر أحمد (م ۴۷۹ - ۵۴۸)، الملل والنحل، تحقیق: محمد سید گیلانی، بیروت،‌دار المعرفہ، بی‌تا۔
  • شیخ مفید, محمدبن‌نعمان, (م ۴۱۳ق)، الارشاد، تحقیق, موسسہ آل‌البیت لتحقیق‌التراث, قم، ط ۱, دارالمفید, قم بی‌تا۔
  • طبرسی, الفضل بن الحسن(م۵۴۸ ه), اعلام الوری باعلام الہدی، تحقیق, موسسہ آل البیت لاحیاء التراث,قم، ط۱,موسسہ آل البیت, ۱۴۱۷ھ۔
  • طبری، محمد بن جریر (م ۳۱۰)، تاریخ الرسل والامم والملوک، تحقیق : مراجعة وتصحیح وضبط : نخبة من العلماء الأجلاء، الطبعه الرابعہ، بیروت، مؤسسہ الأعلمی للمطبوعات، ۱۴۰۳ - ۱۹۸۳ م،قوبلت هذه الطبعة علی النسخة المطبوعة بمطبعة "بریل" بمدینة لندن فی سنہ ۱۸۷۹ م)۔
  • طبری، محمدبن جریر(م قرن ۴)، دلائل الامامہ، تحقیق قسم الدراسات الإسلامیہ - مؤسسہ البعثہ، قم، مؤسسہ البعثہ، ۱۴۱۳ھ۔
  • طبری، احمد بن عبد اللہ(م ۶۹۴ق)، ذخائر العقبی، قاہره، مکتبہ القدسی لصاحبہا حسام الدین القدسی، عن نسخہ دار الکتب المصریہ، ونسخہ الخزانہ التیموریہ، تہران، انتشارات جہان، ۱۳۵۶۔
  • علوی, علی بن محمد العلوی العمری النسابہ(مق ۵), المجدی فی انساب الطالبیین، تحقیق, احمد مہدوی دامغانی, قم، ط۱, مکتبہ المرعشی, ۱۴۰۹ھ۔
  • قاضی نعمان, ابوحنیفه نعمان بن محمد التمیمی المغربی(م۳۶۳ق), شرح الاخبار فی فضائل الائمۃ الاطہار، تحقیق, السید محمد الحسینی الجلالی, قم، ط۲, موسسہ النشر الاسلامی,۱۴۱۴ق، ج ۳، ص۸۸۔
  • قندوزی، الشیخ سلیمان بن إبراہیم الحنفی (۱۲۲۰ - ۱۲۹۴ ه)، ینابیع المودة لذوی القربی، تحقیق: سید علی جمال أشرف الحسینی، تہران،‌دار الأسوة للطباعہ والنشر، الطبعہ الأولی، ۱۴۱۶ ه۔ ھ۔
  • کوفی، محمد بن سلیمان الکوفی القاضی، مناقب الامام أمیر المؤمنین علی بن أبی طالب علیہ السلام، تحقیق: الشیخ محمد باقر المحمودی، قم، مجمع احیاء الثقافہ الاسلامیہ، الطبعہ الأولی، محرم الحرام ۱۴۱۲ ھ۔
  • مسعودی, علی بن الحسین(م۳۴۶) مروج الذہب و معادن الجوہر، قم، ط۲,‌دار الہجره, ۱۳۶۳ ش/۱۹۶۵ء۔
  • نویری، احمد بن شہاب، نهایۃ الارب(فارسی)، ج ۵، ۲۵۷ – ۲۵۸۔
  • نیشابوری، محمد بن محمد حاکم (م۴۰۵ق), المستدرک علی الصحیحین، تحقیق, یوسف المرعشلی, بیروت،‌دار المعرفہ, ۱۴۰۶ھ۔
  • ہلالی، سلیم‌بن قیس، کتاب سلیم‌بن قیس الہلالی، تحقیق محمدباقر انصاری، قم، ہادی چاپ اول، ۱۴۰۵ھ۔
  • ہیثمی،الحافظ نور الدین علی بن أبی بکر (م ۸۰۷ ق)، مجمع الزوائد و منبع الفوائد، بیروت،‌دار الکتب العلمیہ، ۱۴۰۸ ه۔ - ۱۹۸۸ء۔
  • یعقوبی، احمد بن واضح(م۲۸۲), تاریخ الیعقوبی، بیروت،‌دار صادر, بی‌تا۔
  • یوسفی غروی، محمدہادی، موسوعہ التاریخ الاسلامی، قم، مجمع الفکر الاسلامی، ۱۴۲۹ھ۔