جون بن حوی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
گنج شہدا

جون بن حوی، حضرت ابو ذر کے سیاہ فام غلام اور شہدائے کربلا میں سے ہیں۔ سنہ 61 ہجری 10 محرم کے روز حضرت امام حسین ؑ نے انہیں میدان جنگ میں جانے سے روکا تو انہوں نے کہا: خدا کی قسم! میں آپ سے ہر گز جدا نہیں ہوں گا یہاں تک کہ میرا خون آپ کے خون سے مل نہ جائے۔[1] جون ان افراد میں سے ایک ہیں جن کی شہادت کے بعد حضرت امام حسین ؑ خود ان کی نعش مبارک پہ پہنچے اور ان کیلئے دعا کی۔[2]

تعارف

وہ افریقہ کے علاقے نوبہ کے رہنے والے تھے۔ وہ فضل بن عباس بن عبد المطلب کے غلام تھے جنہیں حضرت علی نے خرید کر حضرت ابو ذر کو بخش دیا تھا۔ وہ حضرت ابو ذر کے وفات سنہ 32 ہجری تک ان کے ساتھ ربذہ میں رہے پھر اس کے بعد حضرت علی کی خدمت میں آئے اور اہل بیت کے ساتھ رہنے لگے۔ ایسے لگتا ہے کہ وہ اسلحہ بنانے اور اسے مرمت کرنے کی مہارت رکھتے تھے چونکہ حضرت امام سجاد ؑ سے منقول ہے کہ وہ شب عاشور حضرت امام حسین ؑ کے خیمہ میں آپ کی تلوار جنگ کیلئے تیار کر رہے تھے۔[3]


آپ کا نام شیخ مفید نے «جُوَین»[4]، بلاذری[5] و طبری[6]«حُوَی»، ابن شہر آشوب نے «جُوَین بن ابی‌ مالک»[7] و ابوالفرج اصفہانی[8] و شیخ طوسی[9] و سید بن طاووس نے[10] «جَون» ذکر کیا ہے۔

روز عاشور

روز عاشور حضرت امام حسین ؑ کے میدان میں جانے سے منع کرنے پر انہوں نے کہا خدا کی قسم جب تک میرا خون آپ کے خون سے مل نہیں جاتا میں آپ سے جدا نہیں ہوں گا۔[11]

عمرو بن قرظہ کی شہادت کے بعد [12] اور دوسری روایت کے مطابق حضرت امام حسین ؑ کی معیت میں نماز جماعت کے پڑھے جانے کے بعد[13] امام سے اجازت لے کر میدان روانہ ہوئے رجز پڑھا اور 25 افراد[14] کو قتل کرنے کے بعد شہید ہوئے۔

منقول ہوا ہے کہ حضرت امام حسین ان کے جسد مبارک پہنچے اور اس طرح ان کیلئے دعا کی: اَللّهُمَّ بَیِّض وَجهَهُ وَ طَیِّب ریحَهُ وَ احشُرهُ مَعَ الأبرارِ وَ عَرِّف بَینَهُ و بَینَ مُحمدٍ و آلِ مُحمدٍ[15]

ان کی میت کو حضرت امام حسین ؑ کی قبر کی پاینتی کی جانب دفن کیا گیا۔ علامہ مجلسی نے ایک روایت کی بنا پر نقل کیا ہے کہ ان کے دفن کے دس روز بعد ان کا جسد ظاہر ہوا اور اس سے عطر کی خوشبو پھوٹ رہی تھی۔[16] ۔آپ کا نام زیارت ناحیہ میں آیا ہے : اَلسَّلَامُ عَلَى جَوْنٍ مَوْلَى أَبِي‌ ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ

حوالہ جات

  1. اعیان الشیعہ، ج۱، ص۶۰۵
  2. اعیان الشیعہ، ج۱، ص۶۰۵؛ نفس المہموم، شیخ عباس قمی، ص۲۶۳
  3. الارشاد، مفید، ج۲، ص۹۳؛ تاریخ طبری، ج۵، ص۴۲۰
  4. الارشاد، ج۲، ص۹۳
  5. انساب الاشراف، بلاذری، ج۳، ص۱۹۶.
  6. تاریخ الطبری، ج۴، ص۴۲۰
  7. مناقب ابن شہرآشوب، ج۴، ص۱۰۳
  8. مقاتل الطالبیین، ص۱۱۳
  9. رجال طوسی، ص۹۹
  10. الملہوف علی قتلی الطفوف، ص۱۶۳
  11. اعیان الشیعہ، ج۱، ص۶۰۵
  12. الملہوف علی قتلی الطفوف، ص۱۶۳
  13. دایره المعارف تشیع، ص۵۲۱
  14. مناقب شہر آشوب، ج۴، ص۱۰۳
  15. اعیان الشیعہ، ج۱، ص۶۰۵؛ نفس المہموم، شیخ عباس قمی، ص۲۶۳
  16. بحار الأنوار (ط - بيروت)، ج‏45، ص: 23


مآخذ

  • الارشاد فی معرفہ حجج الله علی العباد، شیخ مفید، چاپ کنگره شیخ مفید، اول، قم، ۱۴۱۳ق.
  • أنساب الأشراف، احمد بن یحیی بلاذری،‌دار الفکر، اول، بیروت،۱۴۱۷ق.
  • تاريخ الأمم و الملوك‏، محمد بن جرير طبرى‏، دار التراث‏، بيروت‏، دوم، 1387 ق‏.
  • مقاتل الطالبيين‏، ابوالفرج اصفہانى‏، دار المعرفہ، بيروت‏.
  • المناقب، ابن شہر آشوب، علامہ، قم‏، 1379 ق‏.
  • أعيان الشيعہ، سيد محسن امين عاملى‏، دار التعارف‏، بيروت‏، 1403 ق‏.
  • مجلسی، محمد باقر (1110ق)، بحار الانوار، دار احیاءالتراث العربی، بیروت، 1403ش، چاپ دوم.