کوہ رضوی

ویکی شیعہ سے

کوہ رَضْویٰ، مدینہ کے قریب اس پہاڑ کو کہا جاتا ہے جسے بعض شیعہ احادیث میں زمانہ غیبت میں امام زمانہ(عج) کا محل زندگی قرار دیا گیا ہے۔[1] دعائے ندبہ کے ایک جملے میں اس پہاڑ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے:

لَیتَ شِعْرِی أَینَ اسْتَقَرَّتْ بِک النَّوَی بَلْ أیُّ أَرْضٍ تُقِلُّک أَوْ ثَرَی، أَ بِرَضْوَی أَوْ غَیرِھا أَمْ ذِی طُوًی (ترجمہ: اے کاش مجھے معلوم ہوتا کہ آپ کہاں تشریف رکھتے ہیں؟ اور کس سر زمین میں ہم آپ کو تلاش کریں؟ آیا کوہ رضوی پر زندگی بسر کرتے ہیں؟ یا کسی اور جگہ یا ذی طوی میں؟[2])

کوہ رضوی کوہ تہامہ میں سے ہے[3] جو مکہ اور مدینہ[4] کے درمیان شہر ینبع البحر کے شمال مشرق میں واقع ہے۔ سرخ رنگ کا یہ پہاڑ دریا کے ساحل سے ملا ہوا ہے۔ اس پہاڑ اور دریا کے درمیان کوئی آبادی نہیں ہے۔[5] کہا جاتا ہے کہ کوہ رضوی ایک بلند و بالا پہاڑ ہے جہاں پانی اور درخت وافر مقدار میں موجود ہیں۔[6]

محمد بن حنفیہ کی مہدویت کے قائلین اس بات کے معتقد تھے کہ وہ بھی اسی پہاڑ میں رہتے ہیں۔[7]

حوالہ جات

  1. طوسی، الغیبہ، ۱۴۱۱ق، ص۱۶۳۔
  2. ابن مشہدی، المزار الکبیر، ۱۴۱۹ق، ص۵۸۱۔
  3. حمیری، الروض المعطار، ۱۹۸۴م، ص۲۶۹۔
  4. بغدادی، مراصد الاطلاع، ۱۴۱۲ق، ج۲، ص۶۲۰۔
  5. شراب، المعالم الاثیرہ، ۱۴۱۱ق، ص۱۲۹۔
  6. حموی، معجم البلدان، ۱۹۹۵م، ج۳، ص۵۱۔
  7. حموی، معجم البلدان، ۱۹۹۵م، ج۳، ص۵۱؛ بغدادی، مراصد الاطلاع، ۱۴۱۲ق، ج۲، ص۶۲۰؛ حمیری، الروض المعطار، ۱۹۸۴م، ص۲۶۹۔

مآخذ

  • ابن مشہدی، محمد بن جعفر، المزار الکبیر، مصحح: قیومی اصفہانی، جواد، قم، دفتر انتشارات اسلامی، ۱۴۱۹ھ۔
  • بغدادی، عبدالمؤمن بن عبدالحق، مراصد الاطلاع علی اسماء الامکنۃ و البقاع، بیروت، دارالجیل، ۱۴۱۲ھ۔
  • حموی بغدادی، یاقوت، معجم البلدان، بیروت، دارصادر، ۱۹۹۵م۔
  • حمیری، محمد بن عبدالمنعم، الروض المعطار فی خبر الاقطار، بیروت، مکتبہ لبنان، ۱۹۸۴م۔
  • شراب، محمد محمدحسن، المعالم الأثیرۃ فی السنۃ و السیرۃ، دمشق، دارالقلم، ۱۴۱۱ھ۔
  • طوسی، محمد بن حسن، الغیبۃ، مصحح: تہرانی، عباداللہ و ناصح، علی احمد، قم، دارالمعارف الإسلامیۃ، ۱۴۱۱ھ۔