قرآن ناطق

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

قرآن ناطق، ایک روائی تعبیر ہے جسے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ، حضرت علیؑ اور دیگر اہل بیت علیہم السلام کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس تعبیر کی شہرت حضرت علیؑ کے لئے دوسروں سے زیادہ ہے۔ اس تعبیر کے سبب کو یوں بیان کیا گیا ہے کہ یہ لوگ قرآن کا عملی تجسم ہیں اور قرآن کے ظاہر و باطن تک پہنچ چکے ہیں نیز اس ہدایت کو دوسروں تک بھی پہنچا سکتے ہیں۔

قرآن ناطق کے مصادیق

نہج البلاغہ میں سید رضی کے نقل کے مطابق، حضرت علیؑ قرآن کے بارے میں فرماتے ہیں کہ آپ اس سے بولنے کو کہیں گے تو ہرگز نہیں بولے گا لیکن میں تم کو اس کی خبر دے سکتا ہوں۔[1] اسی طرح بعد کے منابع کے مطابق حضرت علیؑ نے اپنے آپ کو «قرآن ناطق»[2] اور «کلام اللہ الناطق» کہا ہے۔[3]

بعض متاخر منابع میں ہے کہ سپاہ معاویہ نے جنگ صفین میں جب اس بہانہ سے قرآن کو نیزوں پر بلند کیا کہ ہم قرآن کی حکمیت پر راضی ہیں تو حضرت علیؑ نے فرمایا: أنَا الْقُرآنُ النّاطِق؛ میں قرآن ناطق ہوں۔[4]

حضرت کا وہ رخ آئینہ صورت خالق گر صبح کہیں وہ کبھی کاذب کبھی صادق
مہتاب تو مبروص ہے سورج کو تپ دق قرآن بھی خاموش ہے یہ مصحف ناطق
اس رخ کا جہاں میں کوئی ثانی نہیں آیا قرآں پئے اعجاز بیانی نہیں آیا [5]

مذکورہ اشعار سے واضح ہے کہ اردو زبان میں مصحف ناطق بھی مستعمل ہے:

قرآن ناطق کی تعبیر، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ[6] اور اہل بیت علیہم السلام[7] کے لئے کلی طور سے استعمال ہوئی ہے۔ اسی طرح بعض مقامات پر خود قرآن کریم کے لئے بھی قرآن ناطق کی تعبیر نقل ہوئی ہے۔[8]

قرآن ناطق کا مطلب

محققین و مفسرین نے تعبیر «قرآن ناطق» کو مندرجہ ذیل مفاہیم کی طرف اشارہ قرار دیا ہے:

  • تجسم عملی قرآن: بعض مفسرین کا نظریہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ، حضرت علیؑ اور دیگر اہل‌ بیت علیہم السلام قرآن کا عملی تجسم ہیں۔ یہ لوگ اس وجہ سے قرآن ناطق کہے جاتے ہیں کیونکہ مکمل طور سے قرآن پر عمل کرنے والے ہیں۔[6]
  • تأویل قرآن کو بیان کرنے والے: بعض مفسرین کہتے ہیں کہ قرآن میں کچھ آیتیں ایسی ہیں جن کی حقیقت کو عام آدمی نہیں پا سکتا۔ لیکن چونکہ اہل بیت علیہم السلام نے اپنے پورے وجود کے ساتھ قرآن کو درک کیا ہے اور قرآن کے اغراض و مقاصد کے ساتھ ساتھ ہیں[9] لہذا وہ آیات قرآنی کی حقیقت کو بیان کر سکتے ہیں۔[10]

حوالہ جات

  1. سید رضی، نہج‌البلاغۃ، ۱۴۱۴ھ، ص۲۲۳۔
  2. بروجردی، تفسیر الصراط المستقیم، ۱۴۱۶ھ، ج۳، ص۱۱۸۔
  3. مجلسی، بحار الأنوار، ۱۴۰۳ھ، ج۳۰، ص۵۴۶۔
  4. قندوزی، ینابیع المودۃ، ۱۴۲۲ھ، ج۱، ص۲۱۴۔
  5. سید جواد حسین شمیم امرہوی، مرثیہ: میں زینت اورنگ سلیمان سخن ہوں
  6. 6.0 6.1 مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۴ش، ج۲۴، ص۱۹۳۔
  7. حسینی ہمدانی، انوار درخشان، ۱۴۰۴ھ، ج۱۸، ص۲۲۳۔
  8. مجلسی، بحار الأنوار، ۱۴۰۳ھ، ج۳۲، ص۳۶۰۔
  9. مغنیہ، تفسیر الکاشف، ۱۴۲۴ھ، ج۱، ص۳۹۔
  10. مغنیہ، تفسیر الکاشف، ۱۴۲۴ھ، ج۱، ص۹-۱۰۔

مآخذ

  • برقعی، محمد باقر، سخنوران نامی معاصر ایران، قم،‌ نشر خرم، ۱۳۷۳شمسی ہجری
  • بروجردی، سید حسین، تفسیر الصراط المستقیم، تحقیق: بروجردی، غلام رضا مولانا، مؤسسہ انصاریان، قم، چاپ اول، ۱۴۱۶ھ۔
  • حسینی ہمدانی، سید محمد حسین، انوار درخشان، تحقیق: بہبودی، محمد باقر، کتاب فروشی لطفی، تہران، چاپ اول، ۱۴۰۴ھ۔
  • سید رضی، محمد بن حسین، نہج‌البلاغۃ، محقق: صبحی صالح، قم، ہجرت، چاپ اول، ۱۴۱۴ھ۔
  • قندوزی، سلیمان بن ابراہیم، ینابیع المودہ لذو القربی، محقق: علی بن جمال اشرف حسینی، قم،‌ دار الاسوہ، ۱۴۲۲ھ۔
  • مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، بیروت،‌ دار إحیاء التراث العربی، چاپ دوم، ۱۴۰۳ھ۔
  • مغنیہ، محمد جواد، تفسیر الکاشف،‌ دار الکتب الإسلامیۃ، تہران، چاپ اول، ۱۴۲۴ھ۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران،‌ دار الکتب الإسلامیۃ، چاپ اول، ۱۳۷۴شمسی ہجری