حسن مثنی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
حسن مثنی
نام حسن بن حسن بن علی بن ابی طالبؑ
وجہ شہرت امام حسنؑ کے فرزند
لقب حسن مثنی
وفات 85 ھ تک حیات
مدفن جنت البقیع
سکونت مدینہ، کوفہ
والد امام حسن ؑ
والدہ خَوْلَہ بنت منظور بن زَبّان فَزاری۔
شریک حیات فاطمہ۔
اولاد عبداللہ محض، ابراہیم غمر، حسن مثلث و داود۔
مشہور امام زادے
حضرت عباس، حضرت زینب، حضرت معصومہ، علی اکبر، علی اصغر، عبد العظیم حسنی، احمد بن موسی، سید محمد، سیدہ نفیسہ

حسن‌ بن‌ حسن‌ بن‌ علی بن ابی‌ طالب (حیات تا سنہ 85 ھ)، حسن مثنی کے نام سے معروف، امام حسن علیہ السلام کے بیٹے ہیں۔ جن کی شادی امام حسین علیہ السلام کی بیٹی فاطمہ سے ہوئی۔ آپ علویوں کے بزرگ سمجھے جاتے تھے۔

حسن مثنی کربلا کے میدان میں زخمی ہوئے اور اپنے ماموں اسماء بن خارجہ فزاری کے توسط سے اس معرکے سے نجات حاصل کر سکے۔ کوفہ میں اپنے ماموں کے زیر نگرانی صحت یاب ہوئے۔ اس کے بعد کوفہ سے مدینہ واپس آگئے۔

حجاج بن یوسف کے خلاف عبد الرحمان بن محمد بن اشعث کی شورش میں آپ نے عبد الرحمان کا ساتھ دیا۔ حسن مثنی اپنے زمانِ حیات میں حضرت علی علیہ السلام کے موقوفات کے متولی تھے۔ حسن مثنی کے امامت کا دعوی کرنے کے سلسلہ میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ زیدیہ مکتب کے بعض مآخذ اور ملل و نحل کے علما نے انہیں زیدیوں کا امام قرار دیا ہے۔

نام و نسب

آپ کے والد امام حسنؑ شیعوں کے دوسرے امام ہیں۔ آپ کی والدہ کا نام خَوْلَہ بنت منظور بن زَبّان فَزاری تھا۔[1] سنہ 36 ھ میں محمد بن طلحہ بن عبید اللہ کے جنگ جمل میں قتل ہونے کے بعد امام حسنؑ کے عقد میں آئیں۔[2] حسن مثنی کی کنیت ابو محمد تھی[3]۔


ازواج و اولاد

امام حسینؑ کی بیٹی فاطمہ آپ کی زوجہ تھیں۔ امام حسین نے واقعہ کربلا سے پہلے اپنی بیٹی کا عقد حسن مثنی سے کیا۔[4] جس کی تفصیل درج ذیل ہے:

حسن مثنی نے امام حسین ؑ سے ان کی بیٹیوں میں سے ایک بیٹی کا رشتہ مانگا۔[5] امام نے فرمایا: میری بیٹیوں فاطمہ اور سکینہ میں سے جسے چاہو انتخاب کر سکتے ہو۔ حسن مثنی نے شرم کی وجہ سے کچھ نہ کہا۔ لیکن امام نے فاطمہ کا عقد حسن مثنی سے کر دیا۔[6] ابن فندق کے بقول یہ شادی امام حسینؑ کی شہادت کے سال انجام پائی۔[7] امام حسینؑ کی شہادت سنہ 61 ہجری کی 10 محرم کو ہوئی۔ اس لحاظ سے زیادہ احتمال یہی ہے کہ عاشورا سے کچھ مدت پہلے 60 ہجری میں ہی مکہ میں انجام پائی۔ پس اس بنا پر حسن مثنی اپنی زوجہ فاطمہ بنت الحسین کے ہمراہ کربلا میں موجود تھے۔[8]

اولاد

حضرت فاطمہ سے ان کی اولاد عبد اللہ محض، ابراہیم عمر، حسن مثلث تھے۔ ان تینوں فرزندوں کی وفات عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور کے زندان میں ہوئی۔[9] پھر ان کے بعد عبد اللہ بن حسن ایک عالم اور ادیب شخص تھے جنہوں نے عباسیوں کے خلاف تحریکوں کی قیادت کی۔[10] نفس زکیہ کے نام سے مشہور ہونے والے محمد اور قتیل باخَمْرا کے نام سے مشہور ابراہیم بھی ان کی نسل میں سے ہیں۔

واقعۂ عاشورا

حسن مثنی واقعۂ کربلا میں موجود تھے ابو مخنف کی احمد بن ابراہیم حسنی سے منقول روایت کے مطابق اس وقت آپ کی عمر 19 یا 20 سال تھی۔[11] روز عاشورا آپ نے بڑی بہادری کے ساتھ امام حسینؑ کی معیت میں جنگ کی اور زخمی ہو کر اسیر ہوئے۔ لیکن اپنے ماموں اسماء بن خارجہ فزاری کے توسط سے نجات پائی اور کوفہ میں ان کی زیر نگرانی آپ کا علاج ہوا۔ صحت یاب ہونے کے بعد مدینہ واپس آگئے۔[12]

نقلِ حدیث

حسن مثنی اپنے والد حضرت امام حسنؑ اور بعض دوسرے افراد سے روایت نقل کرتے ہیں۔[13]

متولی موقوفات امام علی

حضرت علی ؑ کی وصیت [14] کے مطابق حسن مثنی مدینے میں حضرت علی ؑ کے موقوفات کے شرعی متولی تھے۔[15]

حجاج بن یوسف ثقفی جب مدینے کا حاکم تھا تو اس نے حسن مثنی سے تقاضا کیا کہ وہ اس کے چچا عمر بن علی کو ان موقوفات کی تولیت میں شریک قرار دے لیکن چونکہ یہ تولیت حضرت فاطمہ زہراؑ کی اولاد سے مخصوص تھی اس لئے آپ نے انکار کیا اور شام میں عبد الملک بن مروان کے پاس گئے جہاں اموی خلیفہ نے بھی حجاج کو اس کام سے منع کیا۔[16]

حسن مثنی نے اپنے بعد ان موقوفاتِ کی تولیت اپنے فرزند عبد اللہ کے سپرد کی لیکن منصور عباسی نے عبد اللہ کو قید کر دیا اور ان موقوفات کی تولیت اپنے اختیار میں لے لی۔[17]

عبد الرحمان بن محمد کی معاونت

جب عبد الرحمان بن محمد بن اشعث کندی نے حجاج بن یوسف ثقفی کے خلاف علم بغاوت بلند کیا اور اپنے آپ کو خلیفہ نامزد کرنے کا ارادہ کیا تو چونکہ لوگ اس وقت خلافت صرف قرشی شخص کی نسبت قبول کرنے کو تیار تھے، اس نے اس کے متعلق علویوں کے بزرگوں حضرت امام سجادؑ اور حسن مثنی سے خط و کتابت کی۔ امام سجادؑ نے اس کے اس تقاضے کو رد کر دیا اور حسن مثنی نے بھی حکومت کے خلاف بغاوت کرنے والوں کے بیعت توڑنے کے احتمال کی بنا پر اسے رد کیا لیکن عبد الرحمان بن محمد کے مسلسل اصرار کی بنا پر اسے قبول کر لیا اور اس کے ساتھ بعنوان خلیفہ انکی بیعت ہوئی۔ عراق کے مشہور علما عبدالرحمان بن ‌ابی لیلی، شعبی، محمد بن سیرین و حسن بصری نے ان کی بیعت کی۔[18]اور حسن مثنی الرضا کے نام سے ملقَب ہوئے۔

لیکن شیخ مفید کے مطابق حسن مثنی نے ہرگز امامت کا دعوی نہیں کیا اور نہ ہی کسی نے ان کے بارے میں ایسا دعوی کیا ہے۔[19]

مکتب زیدیہ

زیدی مذہب میں حسن مثنی کو زیدیوں کے امام کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔[20]

شہادت

سنہ 85 ہجری میں ابن اشعث کے قتل کے بعد حسن مثنی مخفی ہو گئے لیکن آخرکار ولید بن عبد الملک کے ساتھیوں نے انہیں مسموم کیا اور قتل کرنے کے بعد جنازے کو مدینہ بھیجا اور انہیں بقیع میں دفن کیا گیا۔[21]

صحیح بخاری میں ایک روایت منقول ہے جس کی بنا پر فاطمہ بنت الحسین نے ان کے مزار پر قبہ کی تعمیر کروائی۔[22]

متعلقہ مضامین

حوالہ جات

  1. مصعب‌ بن عبداللّہ، نسب قریش، ص۴۶؛ ابن قتیبہ، المعارف، ص۱۱۲؛ طبری، ج۵، ص۴۶۹
  2. ابن‌ عنبہ، عمدة الطالب، ص۹۸؛ قس ابن ‌قتیبہ، المعارف، ص۱۱۲.
  3. ابن‌ عنبہ، عمدة الطالب، ص۹۸
  4. رجوع کریں: مصعب‌ بن‌ عبداللّه، نسب قریش، ص۵۱؛ حسنی، المصابیح، ص۳۷۹.
  5. المنتظم، ج۷، ص۱۸۳
  6. مفید، ارشاد، ص۳۶۶
  7. ابن فندق، لباب الانساب، ص۳۸۵
  8. قاضی، تحقیقی درباره اولین اربعین، ص۳۷۷
  9. ابن‌ سعد، ج۵، ص۳۱۹؛ بلاذری، انساب‌ الاشراف، ج۲، ص۴۰۳ـ۴۰۴؛ ابن‌ عنبہ، عمدۃ الطالب فی انساب آل ابی طالب، ص۱۰۱.
  10. رجوع کریں: ابو الفرج اصفہانی، ج۲۱، ص۸۵ـ۹۳
  11. رجوع کریں: مقتل، ص۳۷۹؛ قس طبری، ج۵، ص۴۶۹.
  12. رجوع کنید بہ حسنی، المصابیح، ص۳۷۹؛ مفید، الارشاد فی معرفۃ حجج‌اللّه علی العباد، ج۲، ص۲۵؛ ابن ‌طاووس، ص۶۳
  13. رجوع کریں: ابن ‌عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج۱۳، ص۶۱ـ۶۲.
  14. مصعب‌ بن عبداللّه، نسب قریش، ص۴۶؛ حسنی، ص۳۸۴
  15. مصعب‌ بن عبداللّه، نسب قریش، ص۴۶؛ بلاذری، انساب‌ الاشراف، ج۲، ص۴۰۳؛ مفید، ج۲، ص۲۳.
  16. مصعب‌ بن عبداللّه، نسب قریش، ص۴۶ـ۴۷؛ بلاذری؛ حسنی، المصابیح، ص۳۸۴؛ ابن‌ عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج۱۳، ص۶۵؛ ابن‌ عنبہ، عمدة الطالب فی انساب آل ابی طالب، ص۹۹.
  17. حسنی، المصابیح، ص۳۸۳؛ مُحَلِّی، الحدائق الوردیۃ فی مناقب ائمة الزیدیۃ، ج۲، ص۲۳۸
  18. حسنی، المصابیح، ص۳۸۰ـ۳۸۱
  19. مفید، الارشاد فی معرفۃ حجج‌ اللّه علی العباد، ج۲، ص۲۶
  20. حسنی، المصابیح، ص۳۷۹؛ محلی، الحدائق الوردیۃ فی مناقب ائمۃ الزیدیۃ، ج۲، ص۲۳۵.
  21. حسنی، المصابیح، ص۳۸۲؛ ابن‌ عنبہ، عمدة الطالب فی انساب آل ابی طالب، ص۱۰۰.
  22. صحیح بخاری، کتاب الجنائز، باب۶۱؛ فتح الباری فی شرح صحیح بخاری، ج۳، ص۲۵۵، باب۶۱


مآخذ

  • ابن‌ عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، چاپ علی شیری، بیروت، ۱۴۱۵ـ۱۴۲۱/ ۱۹۹۵ـ۲۰۰۱.
  • ابن‌ عنبہ، عمدة الطالب فی انساب آل ابی طالب، چاپ محمد حسن آل طالقانی، نجف، ۱۳۸۰/۱۹۶۱.
  • ابن فندق، بیہقی علی بن زید، لباب الأنساب و الألقاب و الأعقاب، محقق رجایی، مہدی، کتابخانہ آیت اللہ مرعشی نجفی(ره)، قم.
  • ابن ‌قتیبہ، المعارف، چاپ ثروت‌ عکاشہ، قاہره، ۱۹۶۰.
  • ابو الفرج‌ اصفہانی. مقاتل الطالبین۔
  • احمد بن یحیی بلاذری، انساب ‌الاشراف، چاپ محمود فردوس ‌العظم، دمشق، ۱۹۹۶ـ۲۰۰۰.
  • احمد بن ابراہیم حسنی، المصابیح، چاپ عبداللّه حوثی، صنعا.
  • طبری، تاریخ، بیروت.
  • حُمید بن احمد مُحَلِّی، الحدائق الوردیہ فی مناقب ائمہ الزیدیہ، چاپ مرتضی بن زید محطوری حسنی، صنعا ۱۴۲۳/۲۰۰۲.
  • قاضی طباطبایی، محمد علی، تحقیق درباره اول اربعین حضرت سید الشہدا علیہ ‌السلام، وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی؛ سازمان چاپ وانتشارات، تہران، ۱۳۸۳.
  • مصعب بن عبداللّه، کتاب نسب قریش، چاپ لوی پرووانسال، قاہره، ۱۹۵۳.
  • محمد بن محمد مفید، الارشاد فی معرفۃ حجج‌ اللّه علی العباد، قم، ۱۴۱۳.
  • مفید، ارشاد، ترجمہ محمد باقر محمودی، انتشارات اسلامیہ، ۱۳۸۰ش.