مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:امام علیؑ اور خلفاء کی بیعت

ویکی شیعہ سے

امام علیؑ اور خلفاء کی بیعت، امام علیؑ کی جانب سے خلفائے ثلاثہ ابوبکر، عمر اور عثمان کی بیعت کرنے یا نہ کرنے کا معاملہ تاریخ اسلام کے ابتدائی دور کے متنازعہ مسائل میں شمار ہوتا ہے۔

اہل سنت کے مطابق امام علیؑ نے اپنی مرضی سے تینوں خلفاء کی بیعت کی تھی اور یہ بیعت تینوں خلفاء کی مشروعیت کی علامت سمجھی جاتی ہے، جبکہ شیعہ عقیدے کے مطابق امامت ایک الہی منصب ہے جو بیعت سے آزاد ہے۔ شیعہ علماء یا تو اصل بیعت کو تسلیم نہیں کرتے یا پھر اسے جبر، اکراہ، تقیہ اور اسلامی معاشرے کے اتحاد کو برقرار رکھنے کی مصلحت قرار دیتے ہیں۔ کچھ تاریخی روایات جن میں حضرت فاطمہ (سلام اللہ علیہا) کے گھر پر حملہ بھی شامل ہے، بیعت کے جبری ہونے کے ثبوت کے طور پر پیش کی گئی ہیں۔

شیعہ علما اس بات پر بھی یقین رکھتے ہیں کہ امام علیؑ نے اگرچہ سقیفہ بنی ساعدہ کے واقعے میں پیغمبر اسلامؐ کی جانشینی کے اپنے حق کا حوالہ دیا، لیکن اسلامی معاشرے میں پھوٹ پڑنے سے بچنے اور بقدر کافی اعوان و انصار کی عدم موجودگی کے پیش نظر عملی طور پر اپنے حق کو حاصل کرنے سے گریز کیا۔

اہمیت

امام علیؑ کی جانب سے خلفائے ثلاثہ کی بیعت اسلام کے ابتدائی دور کے اختلافی مسائل میں سے ایک ہے[1] اور شیعہ اور اہل سنت کے درمیان متنازعہ موضوعات میں شامل ہے۔[2] یہ موضوع دونوں مکاتب فکر کی کلامی، تاریخی اور فرق و مذاہب سے مربوط تصانیف میں زیر بحث آیا ہے۔[3]

اہل سنت امام علیؑ کی اس بیعت کو اختیاری، مذکورہ خلفاء کی سیاسی مشروعیت کی علامت اور پیغمبر اسلامؐ کی رحلت کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی اختلافات کے خاتمے کا ذریعہ قرار دیتے ہیں۔[4] شیعہ نقطہ نگاہ سے امامت ایک الہی منصب ہے جو لوگوں کی بیعت پر موقوف نہیں ہے۔[5] اس بنا پر بعض شیعہ علما نے امام علیؑ کی خلفاء کے ساتھ بیعت کو سرے سے تسلیم ہی نہیں کرتے ہیں، جبکہ بعض علماء اگرچہ اصل بیعت کو تسلیم کرتے ہیں لیکن اسے جبر، اکراہ یا تقیہ پر حمل کرتے ہیں۔[6] تاہم، شیخ صدوق (متوفی 381 ہجری) نے امام مہدی (عج) سے منسوب ایک توقیع نقل کی ہے جس میں ائمہ معصومینؑ کی اپنے وقت کے حکمرانوں کے ساتھ بیعت کرنے کا ذکر آیا ہے۔[7] لیکن شیعہ مورخ سید جعفر مرتضی عاملی (متوفی 1441 ہجری) نے اس قسم کی بیعت کو غیر اختیاری اور جبری قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس قسم کی بیعتوں سے مذکورہ حکمرانوں کی مشروعیت ثابت نہیں ہوتی ہے۔[8]

بیعت کا مفہوم

نہج البلاغہ کے شارح محمد تقی جعفری (متوفی 1377 شمسی) بیعت کو رعایا اور حکمرانوں کے درمیان ایک آگانہ اور اختیاری معاہدہ قرار دیتے ہیں جو شرائط پوری نہ ہوں تو اپنی حیثیت کھو دیتا ہے۔[9] محمد تقی مصباح یزدی (متوفی 1399 شمسی) کے مطابق اہل سنت کے یہاں بیعت حکومت کی مشروعیت کا منبع ہے، جبکہ شیعہ نقطہ نگاہ سے بیعت الہی مشروعیت کے حامل حکمران کے ساتھ وفاداری کا محض اعلان ہے۔[10]

کیا امام علیؑ نے خلفاء کی بیعت کی تھی؟

شیعہ علما امام علیؑ کی خلفاء کے ساتھ بیعت کے بارے میں دو موقف رکھتے ہیں:

بیعت نہ کرنا

بعض شیعہ علماء جیسے شیخ مفید[11] اور سید مرتضی[12] (متوفی 436 ہجری) کا عقیدہ ہے کہ امام علیؑ نے کبھی بھی خلفاء کی بیعت نہیں کی۔ شیعہ متکلم خواجہ نصیر الدین طوسی (متوفی 672 ہجری) [13] اور اہل سنت مؤرخ خواندمیر (متوفی 942 ہجری) نے اسی نظرے کو شیعہ عقیدے کے طور پر نقل کیا ہے۔[14] شیخ مفید اپنے موقف پر یوں استدلال کرتے ہیں کہ اگر بیعت واجب ہوتی تو امام علیؑ کا ابوبکر کی بیعت میں تاخیر کرنا خطا یا دشمنی پر مبنی ہوگا جو کسی معصوم کی شان میں قابل قبول نہیں ہے۔[15]

شیخ مفید کے اس قول کو بعض مورخین اختیاری بیعت کی نفی پر حمل کرتے ہیں، کیونکہ جبری بیعت حقیقی بیعت شمار نہیں ہوتی۔[16] مقاتل بن عطیہ (متوفی 505 ہجری) کے مطابق اگر ابوبکر نے امام علیؑ کے بندھے ہوئے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا ہو تو بھی یہ عمل بیعت کی علامت نہیں ہے کیونکہ بندھا ہوا ہاتھ بیعت سے انکار اور اسے قبول نہ کرنے پر دلالت کرتا ہے۔[17]

شیخ طوسی (متوفی 460 ہجری) نے ایک روایت نقل کی ہے جس کے مطابق امام علیؑ نے ابوبکر کی بیعت سے انکار کرتے ہوئے اپنے آپ کو پیغمبر اکرمؐ کے جانشین کے طور پر متعارف کرایا ہے۔[18] محمد باقر مجلسی (متوفی 1110 ہجری) بھی اس بات کے متعقد ہیں کہ امام علیؑ نے ابوبکر کی خلافت کے چھ ماہ بعد بھی ان کی بیعت نہیں کی ہے۔[19]

اس نظریے کے مطابق خلفائے ثلاثہ کے دور خلافت میں امام علیؑ کی حکمت عملی اور گوشہ نشینی کو مصلحت کی بجائے اپنے حق سے چشم پوشی سے تعبیر کیا گیا ہے۔[20] البتہ یہ نظریہ امامؑ کی پیروی کرتے ہوئے خلفاء کی بیعت سے گریز کرنے والوں کے بارے میں کسی واضح موقف پیش نہ کرنے کی بنا پر بھی مورد توجہ قرار پایا ہے۔[21]

جبری بیعت

بعض شیعہ مصادر میں نقل ہوا کہ خلفاء کے ساتھ امام علیؑ کی بیعت دباؤ اور دھمکیوں کے تحت ہوئی تھی۔[22] شیعہ مورخ رسول جعفریان کے مطابق بعض اہل سنت بھی اسی نظریے کے قائل ہیں۔[23] اہل سنت کی بعض متون میں سقیفہ کے سرکردہ افراد کی طرف سے امام علیؑ کو ابوبکر کی بیعت پر مجبور کرنے کی دھمکیوں کا ذکر ہے۔[24] تیسری صدی ہجری کے شیعہ متکلم طبری اس سلسلے میں سات(7) احادیث نقل کی ہیں جو ابوبکر کی بیعت کرانے میں جبر و اکراہ کے کارفرما ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔[25] اسی طرح بلاذری (متوفی 279 ہجری) نے نقل کیا ہے کہ امام علیؑ کی عثمان کے ساتھ بیعت بھی عبدالرحمن بن عوف کی دھمکی کے تحت ہوئی تھی۔[26]

ابراہیم بن محمد ثقفی کوفی (متوفی 283 ہجری) نے اپنی کتاب الغارات میں امام علیؑ کے ایک خط کا حوالہ دیا ہے جو مجبوری کی حالت میں بیعت کی نشاندہی کرتا ہے۔[27] نہج البلاغہ کے مکتوب نمبر 28 میں بھی امام علیؑ نے بیعت پر مجبور ہونے کو اپنی مظلومیت کی علامت قرار دیا ہے۔[28] مستشرق اور اسلام شناس ول فریڈ میڈلنگ (متوفی 2023ء) کا خیال ہے کہ حضرت علیؑ کا ابوبکر کی حکمرانی کو ظاہری طور پر قبول کرنا اختلافات کے حل و فصل ہونے کا نتیجہ نہیں تھا اور ابوبکر خود بھی اس بات سے واقف تھا کہ یہ قبولیت اکراہ کی حالت میں ہوئی ہے۔[29]

جبری بیعت کی روایات

بعض شیعہ مصادر میں سقیفہ بنی ساعدہ کے واقعے کے بعد حضرت فاطمہ (سلام اللہ علیہا) کے گھر پر حملہ ہونے کا ذکر ملتا ہے جس کا مقصد امام علیؑ سے ابوبکر کی بیعت لینا تھا۔[30] بعض صحابہ بھی بیعت سے انکار کرتے ہوئے امام علیؑ کے ساتھ حضرت فاطمہ (سلام اللہ علیہا) کے گھر میں بطور احتجاج بیٹھے ہوئے تھے۔[31] عمر بن خطاب نے گھر کو آگ لگانے کی دھمکی دے کر علیؑ کو مجبوراً ابوبکر کے پاس لے گیا۔[32] بعض اہل سنت مصادر میں بھی جزوی اختلافات کے ساتھ حضرت فاطمہ (سلام اللہ علیہا) کے گھر پر حملے کے واقعہ نقل ہوا ہے۔[33]

کتاب الامامۃ و السیاسۃ میں ابن قتیبہ دینوری (متوفی 276 ہجری) کے مطابق امام علیؑ نے ابوبکر کی بیعت اس وقت کی جب انہیں قتل کی دھمکی دی گئی۔[34] علی بن حسین مسعودی (متوفی 346 ہجری) کے مطابق علی بن ابی طالبؑ کو بیعت کے لئے زبردستی ابوبکر کے پاس لے جایا گیا اور ان کا ہاتھ زبردستی پکڑ کر آگے کیا گیا، لیکن ان کی انگلیاں بند تھیں جنہیں کوئی کھول نہ سکا اور ابوبکر نے ان کے بندھے ہوئے ہاتھ کو پکڑ کر اسی کو بیعت شمار کیا۔[35]

جبری بیعت یا خاموشی کی وجوہات

شیعہ علماء کے مطابق امام علیؑ کے طرف سے خلفاء کی بیعت نہ کرنا یا بیعت میں تأخیر کرنا درحقیقت امت مسلمہ کے عظیم تر مفاد کی پاسداری اور اسلامی معاشرے میں پیدا ہونے والے ممکنہ اختلاف اور افتراق کی روک تھام کے لئے تھا۔[36] بعض روایات سے پتہ چلتا ہے کہ امام علیؑ نے ابوبکر کے خلاف قیام کرنے سے منع کیا[37] اور محض اسلامی معاشرے کے اتحاد کو برقرار رکھنے کے لیے ان کی بیعت کی۔[38]

بلاذری کے مطابق عثمان کا خیال تھا کہ حضرت علیؑ کی طرف سے خلفاء کی بیعت نہ کرنا اسلامی معاشرے کی وحدت اور اتحاد نیز ردہ کی جنگوں میں مسلمانوں کی عدم شرکت کا باعث بنا جس کے بعد علیؑ نے بیعت کر لی۔[39] سید مرتضی[40] اور شیخ طوسی[41] کے مطابق امام علیؑ ایسے نازک مرحلے پر کھڑے تھے جہاں ان کے سامنے دو ہی راستے تھے: یا ابوبکر کی بیعت کریں یا اسلامی معاشرے کی ارتداد اور شیرازہ بکھرنے کو برداشت کریں۔ شیعہ تاریخی محقق رسول جعفریان کے مطابق حکومت وقت کو یہ توقع تھی کہ جس طرح علیؑ نے بیعت کی ہے، اسی طرح وہ رَدَّہ کی جنگوں میں بھی تعاون کریں گے، لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔[42]

تاریخی روایات سے پتہ چلتا ہے کہ امام علیؑ کو خلفاء کی بیعت نہ کرنے میں بقدر کافی حمایت حاصل نہیں تھی[43] اور صرف محدود تعداد میں آپ کے اصحاب آپ کے ساتھ قیام کے لئے تیار تھے۔[44] طبری نقل کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرمؐ نے حضرت علیؑ سے عہد لیا تھا کہ اگر حق کو حاصل کرنے میں اعوان و انصار کی کمی پیش آئے تو صبر کریں اور خاموشی اختیار کریں۔[45]

خلفاء کے ساتھ امام علیؑ کی بیعت اہل سنت کی نظر میں

اہل سنت علما کہتے ہیں کہ امام علیؑ نے اپنی مرضی اور بغیر کسی اکراہ کے خلفاء کے ساتھ بیعت کی تھی اور امام علیؑ کی طرف سے خلفاء کا ساتھ دینا ان کی تائید اور ان کی حکومت اور خلافت کو مشروعیت بخشنے کی علامت تھی۔ [46] نہج البلاغہ کے شارحین ابن ابی الحدید معتزلی[47] اور رشید رضا (متوفی 1354 ہجری) کا خیال ہے کہ امام علیؑ نے اسلامی معاشرے کے اتحاد کو برقرار رکھنے کے لیے ابوبکر کی بیعت کی[48]، حالانکہ ابن ابی الحدید کے مطابق آپؑ خلافت کے لئے زیادہ مستحق تھے۔[49]

سید حامد حسین لکھنوی کے مطابق اہل سنت کے معتبر مصادر میں امام علیؑ کی طرف سے ابوبکر کی بیعت میں تاخیر سے متعلق نقل ہونے والی احادیث، سقیفہ کے بنیادی عقیدے(ابوبکر کی بیعت پر امت کا اجماع) کو مجروح کرتی ہیں۔[50]

بیعت کی جگہ اور وقت

بیعت کی جگہ کے بارے میں روایات مختلف ہیں[51] اور اس میں مسجد نبوی،[52] مسجد اور دولت سرا کا درمیانی راستہ،[53] سعد بن عبادہ کا گھر[54] اور امام علیؑ کا دولت سرا[55] شامل ہیں۔ وقت کے بارے میں بھی روایات مختلف ہیں۔ شیخ مفید کے مطابق تمام مسلمانوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ بیعت فوری طور پر نہیں ہوئی تھی بلکہ کم از کم تین دن کی تاخیر کے ساتھ ہوئی تھی۔[56] تاریخی مصادر میں بیعت کا وقت مختلف صورتوں میں آیا ہے:

بعض مصادر نے یہ بھی نقل کیا ہے کہ امام علیؑ نے جب تک حضرت فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا) زندہ رہیں بیعت نہیں کی۔[61] اس بنا پر بیعت کا وقت پیغمبر اکرمؐ کی وفات کے ستر دن سے زیادہ[62] یا چھ ماہ بعد [63] تھا۔

سید شفیع ہاشمی کی کتاب حضرت امام علی(ع) کی خلفا کے ساتھ بیعت کا جائزہ

مونوگراف

امام علیؑ کی خلفاء کے ساتھ بیعت کے بارے میں کئی تصانیف لکھی گئی ہیں، جن میں شامل ہیں:

  • بررسی بیعت حضرت امام علیؑ با خلفا، سید شفیع ہاشمی کی تصنیف، جو بیعت کے تصور اور اس کے تحقق یا عدم تحقھ، امام علیؑ کی خلفاء کے ساتھ بیعت کی وجوہات اور کیفیت پر بحث کرتی ہے۔[64]
  • ماجرای بیعت، سید علیرضا حسینی کی کتاب، جو اہل سنت متون میں ابوبکر کے ساتھ امام علیؑ کی بیعت کی دو اہم روایات کے سندی اور محتوائی جائزے پر مشتمل ہے۔[65]
  • مظلومی گمشدہ در سقیفہ، علی لباف کی تالیف، جس کے جلد چہارم امام علیؑ کی خلفاء کے ساتھ بیعت پر مبنی ہے۔[66]

متعقلہ صفحات

حوالہ جات

  1. اورعی مؤمنی، «بیعت امام علی با خلفا»، ص163۔
  2. ہاشمی، بررسی بیعت حضرت امام علی(ع) با خلفا، 1390شمسی، ص12۔
  3. نمونہ کے لئے ملاحظہ کریں: سید مرتضی، الشافی فی الامامہ، 1407ھ، ج3، ص237؛ ابن‌حزم، الفصل، 1416ھ، ج3، ص79۔
  4. بخاری، صحیح البخاری، 1410ھ، ج6، ص396؛ قشیری، مسلم بن حجاج، صحیح مسلم، 1412ھ، ج3، ص1381؛ ابن‌عبد البر، الاستیعاب، 1412ھ، ج3، ص973۔
  5. ابن‌میثم، النجاۃ فی القیامۃ، 1417ھ، ص69۔
  6. فخری، تاریخ تشیع از صدر اسلام تا پایان دورہ خلفای راشدین، 1388شمسی، ص129۔
  7. شیخ صدوق، کمال‌الدین، 1395ھ، ج2، ص485۔
  8. عاملی، الصحیح من سیرۃ الإمام علی علیہ‌السلام، 1430ھ، ج9، ص314۔
  9. جعفری، شرح و تفسیر نہج البلاغہ، 1376شمسی، ج3، ص18۔
  10. مصباح یزدی، پرسش‌ہا و پاسخ‌ہا، 1391شمسی، ص29۔
  11. شیخ مفید، سلسلۃ مؤلفات الشیخ المفید، 1414ھ، ج2، ص56۔
  12. سید مرتضی، الشافی فی الامامۃ، 1407ھ، ج3، ص239۔
  13. خواجہ نصیرالدین طوسی، علی(ع) میزان الحق، 1386شمسی، ص199۔
  14. خواندمیر، تاریخ حبیب السیر، 1380شمسی، ج1، ص447۔
  15. شیخ مفید، سلسلۃ مؤلفات الشیخ المفید، 1414ھ، ج2، ص56۔
  16. کورانی، سیرہ‌نامہ امیرالمؤمنین، 1401شمسی، ج1، ص668۔
  17. ابن‌عطیہ، ابہی المداد، 1423ھ، ج1، ص203۔
  18. شیخ طوسی، الامالی، 1414ھ، ص568۔
  19. مجلسی، بحارالانوار، 1403ھ، ج28، ص366۔
  20. لباف، مظلومی گمشدہ در سقیفہ، 1385شمسی، ج4، ص149۔
  21. فخری، تاریخ تشیع از صدر اسلام تا پایان دورہ خلفای راشدین، 1388شمسی، ص130۔
  22. برای نمونہ نگاہ کنید بہ: عسکری، نقش عایشہ در تاریخ اسلام، 1390شمسی، ج1، ص105؛ عاملی، الصحیح من سیرۃ الإمام علی علیہ‌السلام، 1430ھ، ج9، ص308؛ بیضون، رفتارشناسی امام علی در آیینہ تاریخ، 1379شمسی، ص34؛ حسینی میلانی، جواہر الکلام، ج1، ص337۔
  23. جعفریان، تاریخ و سیرہ سیاسی امیرمؤمنان علی بن ابی‌طالب(ع)، 1380شمسی، ص19 و نیز بنگرید: غلامی، پس از غروب، 1388شمسی، ص187۔
  24. برای نمونہ نگاہ کنید بہ: ابن‌قتیبۃ الدینوری، الامامۃ و السیاسۃ، 1410ھ، ج1، ص30-33؛ سلطان الواعظین شیرازی، شب‌ہای پیشاور، 1379شمسی، ص507-517۔
  25. طبری، المسترشد فی الامامۃ، 1415ھ، ص373-384۔
  26. بلاذری، جمل من انساب الاشراف، 1417ھ، ج6، ص128۔
  27. ثقفی، الغارات، 1395ھ، ج1، ص306۔
  28. سید رضی، نہج البلاغہ، 1407ھ، ص387-388۔
  29. مادلونگ، جانشینی حضرت محمد(ص)، 1377شمسی، ص80۔
  30. برای نمونہ نگاہ کنید بہ: ہلالی، کتاب سلیم بن قیس، 1407ھ، ص40؛ مسعودی، اثبات الوصیۃ، 1417ھ، ص146؛ عیاشی، تفسیر العیاشی، 1380ھ، ج2، ص67۔
  31. یعقوبی، تاریخ الیعقوبی، دار صادر، ج2، ص124۔
  32. ابن‌قتیبہ، الامامۃ و السیاسۃ، 1410ھ، ج1، ص30-31۔
  33. برای نمونہ نگاہ کنید بہ: صفدی، الوافی بالوفیات، 1420ھ، ج6، ص15؛ ذہبی، سیر اعلام النبلاء، 1405ھ، ج15، ص578؛ ابن حجر عسقلانی، لسان المیزان، 2002م، ج1، ص609۔
  34. ابن‌قتیبۃ الدینوری، الامامۃ و السیاسۃ، 1410ھ، ج1، ص31۔
  35. مسعودی، اثبات الوصیۃ، 1417ھ، ص146۔
  36. بیضون، رفتارشناسی امام علی در آیینہ تاریخ، 1379شمسی، ص40-41۔
  37. طبری، تاریخ الامم و الملوک، بیروت، ج3، ص209۔
  38. ابن‌شہرآشوب، المناقب، نشر علامہ، ج1، ص263؛ غلامی، پس از غروب، 1388شمسی، ص192۔
  39. بلاذری، انساب الاشراف، دارالمعارف، ج1، ص587۔
  40. سید مرتضی، الشافی فی الامامۃ، 1407ھ، ج3، ص243-244۔
  41. شیخ طوسی، تلخیص الشافی، 1382شمسی، ج3، ص79۔
  42. جعفریان، حیات فکری و سیاسی امامان شیعہ، 1381شمسی، ص53۔
  43. جوہری بصری، السقیفۃ و فدک، مکتبۃ نینوی الحدیثۃ، ص69۔
  44. یعقوبی، تاریخ الیعقوبی، دار صادر، ج2، ص126۔
  45. طبری، المسترشد فی الامامۃ، 1415ھ، ص370-373۔
  46. برای نمونہ نگاہ کنید بہ: بخاری، صحیح البخاری، 1410ھ، ج6، ص396-397؛ ابن‌حنبل، فضائل الصحابۃ، 1403ھ، ج1، ص336؛ قشیری، صحیح مسلم، 1412ھ، ج3، ص1381؛ ابن‌عبدالبر، الاستیعاب، 1412ھ، ج3، ص973؛ ابن‌تیمیۃ، منہاج السنۃ النبویۃ، 1406ھ، ج5، ص490 و ج8، ص293۔
  47. ابن‌ابی‌الحدید، شرح نہج البلاغۃ، مکتبۃ المرعشی، ج11، ص111-113۔
  48. رضا، تفسیر المنار، 1414ھ، ج8، ص224؛ ابن‌ابی‌الحدید، شرح نہج البلاغۃ، مکتبۃ المرعشی، ج11، ص111-113۔
  49. ابن‌ابی‌الحدید، شرح نہج البلاغۃ، مکتبۃ المرعشی، ج11، ص111-113۔
  50. کنتوری، عبقات الانوار، 1404ھ، ج2، ص287۔
  51. اورعی مؤمنی، «بیعت امام علی با خلفا»، ص166۔
  52. ہلالی، کتاب سلیم بن قیس الہلالی، 1407ھ، ص45؛ بخاری، صحیح البخاری، 1410ھ، ج6، ص396۔
  53. بلاذری، انساب الاشراف، دارالمعارف، ج1، ص585۔
  54. ابن‌کثیر، البدایۃ و النہایۃ، دارالفکر، ج5، ص249؛ ابن‌عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، 1415ھ، ج30، ص277۔
  55. ابن‌عبد ربہ، العقد الفرید، 1407ھ، ج5، ص14۔
  56. شیخ مفید، سلسلۃ مؤلفات الشیخ المفید، 1414ھ، ج2، ص56۔
  57. ابن‌کثیر، البدایۃ و النہایۃ، دارالفکر، ج6، ص302۔
  58. طبری، تاریخ الامم و الملوک، بیروت، ج3، ص207؛ مسعودی، إثبات الوصیۃ، 1417ھ، ص146۔
  59. بلاذری، انساب الاشراف، دارالمعارف، ج1، ص586؛ ابن‌عبد البر، الاستیعاب، 1412ھ، ج3، ص974۔
  60. یعقوبی، تاریخ الیعقوبی، دار صادر، ج2، ص126۔
  61. جوہری بصری، السقیفۃ و فدک، مکتبۃ نینوی الحدیثۃ، ص61۔
  62. مسعودی، مروج الذہب، 1409ھ، ج2، ص309؛ ابن‌قتیبۃ الدینوری، الامامۃ و السیاسۃ، 1410ھ، ج1، ص31۔
  63. طبری، تاریخ الامم و الملوک، بیروت، ج3، ص208۔
  64. ہاشمی، بررسی بیعت حضرت امام علی(ع) با خلفا، 1390شمسی، ص12-13۔
  65. حسینی، ماجرای بیعت، 1389شمسی، ص9-10۔
  66. لباف، مظلومی گمشدہ در سقیفہ، 1385شمسی، ج4، شناسنامہ کتاب۔

مآخذ

  • ابن‌تیمیۃ الحرانی، احمد بن عبدالحلیم، منہاج السنۃ النبویۃ، جامعۃ الامام محمد بن سعود الإسلامیۃ، 1406ھ/1986ء۔
  • ابن‌ابی‌الحدید، عبدالحمید بن ہبۃ اللہ، شرح نہج البلاغۃ، قم، مکتبۃ آیۃ اللہ العظمی المرعشی النجفی، بےتا۔
  • ابن‌حجر عسقلانی، احمد بن علی، لسان المیزان، بیروت، دار البشائر الإسلامیۃ، 2002ء۔
  • ابن‌حزم، علی بن احمد، الفصل فی الملل و الأہواء و النحل، بیروت، دارالکتب العلمیۃ، 1416ھ۔
  • ابن‌حنبل، احمد بن محمد، فضائل الصحابۃ، بیروت، مؤسسۃ الرسالۃ، 1403ھ۔
  • ابن‌شہرآشوب، محمد بن علی، المناقب، قم، نشر علامہ، بےتا۔
  • ابن‌عبدالبر، یوسف بن عبداللہ، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، بیروت، دارالجیل، 1412ھ۔
  • ابن‌عبد ربہ، احمد بن محمد، العقد الفرید، بیروت، دارالکتب العلمیۃ، 1407ھ۔
  • ابن‌عساکر، علی بن حسین، تاریخ مدینۃ دمشق، بیروت، دارالفکر، 1415ھ۔
  • ابن‌عطیہ، مقاتل، أبہی المداد فی شرح مؤتمر علماء بغداد، بیروت، الاعلمی فی المطبوعات، 1423ھ۔
  • ابن‌قتیبۃ الدینوری، عبداللہ بن مسلم، الامامۃ و السیاسۃ، بیروت، دارالاضواء، 1410ھ۔
  • ابن‌کثیر، اسماعیل بن عمر، البدایۃ و النہایۃ، بیروت، دارالفکر، بےتا۔
  • ابن‌میثم بحرانی، میثم بن علی، النجاۃ فی القیامۃ فی تحقیق أمر الإمامۃ، قم، مجمع الفکر الاسلامی، 1417ھ۔
  • اورعی مؤمنی، عبداللہ، «بیعت امام علی(ع) با خلفا»، موسوعہ رد شبہات 5: امام علی(ع) 2، تہران، نشر مشعر، 1395ہجری شمسی۔
  • بخاری، محمد بن اسماعیل، صحیح البخاری، قاہرۃ، جمہوریۃ مصر العربیۃ. وزارۃ الاوقاف. المجلس الاعلی للشئون الاسلامیۃ. لجنۃ إحیاء کتب السنۃ، 1410ھ۔
  • بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، مصر، دارالمعارف، بےتا۔
  • بلاذری، احمد بن یحیی، جمل من انساب الاشراف، بیروت، دارالفکر، 1417ھ۔
  • بیضون، ابراہیم، رفتارشناسی امام علی در آیینہ تاریخ، 1379ش
  • ثقفی، ابراہیم بن محمد، الغارات، تہران، انجمن آثار ملی، 1395ھ۔
  • جعفری، محمدتقی، ترجمہ و تفسیر نہج البلاغہ، تہران، دفتر نشر فرہنگ اسلامی، 1376ہجری شمسی۔
  • جعفریان، رسول، تاریخ خلفا، قم، دلیل ما، 1380ہجری شمسی۔
  • جعفریان، رسول، تاریخ و سیرہ سیاسی امیرمؤمنان علی بن ابی‌طالب(ع)، قم، دلیل ما، 1380ہجری شمسی۔
  • جعفریان، رسول، حیات فکری و سیاسی امامان شیعہ، قم، انصاریان، 1381ہجری شمسی۔
  • جوہری بصری، احمد بن عبدالعزیز، السقیفۃ و فدک، مکتبۃ نینوی الحدیثۃ، بےتا۔
  • حسینی میلانی، علی، جواہر الکلام فی معرفۃ الإمامۃ والإمام، قم، الحقایق، 1389ہجری شمسی۔
  • حسینی، علیرضا، ماجرای بیعت، قم، دلیل ما، 1389ہجری شمسی۔
  • خواجہ نصیرالدین طوسی، محمد بن محمد، علی(ع) میزان الحق، تہران، مرکز فرہنگی انتشاراتی منیر، 1386ہجری شمسی۔
  • خواندمیر، غیاث‌الدین بن ہمام‌الدین، تاریخ حبیب السیر، تہران، خیام، 1380ہجری شمسی۔
  • ذہبی، محمد بن احمد، سیر اعلام النبلاء، بیروت، مؤسسۃ الرسالۃ، 1405ھ۔
  • رضا، محمد رشید، تفسیر القرآن الحکیم (تفسیر المنار)، بیروت، دارالمعرفۃ، 1414ھ۔
  • سلطان الواعظین شیرازی، محمد، شب‌ہای پیشاور در دفاع از حریم تشیع، تہران، دار الکتب الاسلامیۃ، 1379ہجری شمسی۔
  • سید رضی، محمد بن حسین، نہج البلاغہ، تصحیح صبحی الصالح، قم، دارالہجرۃ، 1407ھ۔
  • سید مرتضی، علی بن حسین، الشافی فی الامامۃ، تہران، موسسۃ الصادق(ع)، 1407ھ۔
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، کمال‌الدین و تمام النعمۃ، تہران، اسلامیہ، 1395ھ۔
  • شیخ طوسی، محمد بن حسن، الامالی، قم، مؤسسۃ البعثۃ، 1414ھ۔
  • شیخ طوسی، محمد بن حسن، تلخیص الشافی، قم، محبین، 1382ہجری شمسی۔
  • شیخ مفید، محمد بن محمد، سلسلۃ مؤلفات الشیخ المفید، بیروت، دارالمفید، 1414ھ۔
  • صفدی، خلیل بن ایبک، الوافی بالوفیات، بیروت، دار إحیاء التراث، 1420ھ۔
  • طبری، محمد بن جریر، المسترشد فی الامامۃ، تہران، مؤسسۃ الثقافۃ الإسلامیۃ لکوشانپور، 1415ھ۔
  • طبری، محمد بن جریر، تاریخ الامم و الملوک، بیروت، بےنا، بےتا۔
  • عاملی، سید جعفر مرتضی، الصحیح من سیرۃ الإمام علی علیہ‌السلام، بیروت، المرکز الإسلامی للدراسات، 1430ھ۔
  • عسکری، مرتضی، نقش عایشہ در تاریخ اسلام، قم، موسسہ علمی فرہنگی علامہ عسکری، 1390ہجری شمسی۔
  • عیاشی، محمد بن مسعود، تفسیر العیاشی، تحقیق سید ہاشم رسولی محلاتی، تہران، المطبعۃ العلمیۃ، پہلی اشاعت، 1380ھ۔
  • غلامی، یوسف، پس از غروب، قم، نجم الہدی، 1388ہجری شمسی۔
  • فخری، محمد، تاریخ تشیع از صدر اسلام تا پایان دورہ خلفای راشدین، مشہد، ایلیا فخر، 1388ہجری شمسی۔
  • کنتوری، میرحامدحسین، عبقات الانوار، قم، غلامرضا مولانا بروجردی، 1404ھ۔
  • کورانی، علی، سیرہ‌نامہ امیرالمؤمنین، تہران، انٹرنیشنل پرنت اور پبلیشر، 1401ہجری شمسی۔
  • لباف، علی، مظلومی گمشدہ در سقیفہ، تہران، منیر، 1385ہجری شمسی۔
  • مادلونگ، ویلفرد، جانشینی حضرت محمد(ص)، مشہد، آستان قدس رضوی. اسلامی تحقیقاتی مرکز، 1377ہجری شمسی۔
  • مجلسی، محمدباقر بن محمدتقی، بحارالانوار، بیروت، دار إحیاء التراث العربی، 1403ھ۔
  • مسعودی، علی بن حسین، مروج الذہب، قم، دارالہجرۃ، 1409ھ۔
  • مسعودی، علی بن حسین، إثبات الوصیۃ للإمام علی بن أبی طالب، قم، انصاریان، 1417ھ۔
  • مصباح یزدی، محمدتقی، پرسش‌ہا و پاسخ‌ہا، قم، موسسہ آموزشی پژوہشی امام خمینی(رہ)، 1391ہجری شمسی۔
  • ہاشمی، سید شفیع، بررسی بیعت حضرت امام علی(ع) با خلفا، قم، آثار نفیس، 1390ہجری شمسی۔
  • ہلالی، سلیم بن قیس، کتاب سلیم بن قیس الہلالی، تہران، موسسۃ البعثۃ، 1407ھ۔
  • یعقوبی، احمد بن اسحاق، تاریخ الیعقوبی، بیروت، دار صادر، بےتا۔