مندرجات کا رخ کریں

امین عباسی

ویکی شیعہ سے
محمد امین عباسی
کوائف
ناممحمد
لقبامین
تاریخ پیدائشسنہ 170ھ
والدہارون عباسی
والدہزبیدہ
اولادموسی، عبد اللہ
وفاتسنہ 198ھ (سامرا)
مدفنبغداد
حکومت
سمتخلافت عباسی کا چھٹا خلیفہ
سلسلہبنی عباس
آغازسنہ 193ھ
انجامسنہ 198ھ
معاصرامام رضاؑ
مرکزبغداد
قبل ازمامون عباسی
بعد ازہارون عباسی


امین عباسی (حکمرانی: سنہ 193ھ سے 198ھ تک) جو محمد امین کے نام سے مشہور تھے اور خلافت عباسی کے چھٹے خلیفہ تھے جنہوں نے تقریباً پانچ سال حکومت کی۔ ان کی حکمرانی کا دور امام رضاؑ کی امامت کے ساتھ معاصر تھا۔ امین کی حکومت عیش و عشرت، انتظامی امور سے بے اعتنائی اور اپنے بھائی مامون کے ساتھ تنازعات کی وجہ سے نمایاں رہی۔ یہ اختلاف ہارون الرشید کی طرف سے دونوں بھائیوں کے درمیان اقتدار کی تقسیم کی حکمت عملی کا نتیجہ تھا اور آخر کار ایک خانہ جنگی کی شکل اختیار کرگیا، جو سنہ 198ھ میں امین کے قتل اور مامون کی اقتدار پر ممکنہ گرفت کے ساتھ ختم ہوا۔ یہ کشمکش عباسی خلافت کے اندر عرب اور ایرانی مختلف دھڑوں کے درمیان سیاسی تضاد کی علامت کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔

امین اور مامون کے درمیان تنازعات نے امین کی توجہ دیگر امور، بشمول امام رضاؑ اور شیعیانِ اہل بیتؑ کی بلاواسطہ مخالفت جیسی ممکنہ سرگرمیوں سے ہٹا دی۔ اس نوعیت کی صورتحال سے امام رضاؑ کو اپنی سرگرمیوں کو وسعت دینے کانسبتاً ایک بہتر موقع فراہم ہوا۔ ان اہم ترین اقدامات میں وکالتی نظام کی بحالی اور مضبوطی، شیعہ عقائد کی برملا ترویج اور عوامی حمایت کی بنیادوں کو مستحکم کرنا وغیرہ شامل تھے۔

خلافت عباسی کا چھٹا خلیفہ

محمد بن ہارون، ملقب بہ امین، خلافت عباسی کے چھٹے خلیفہ تھے۔[1] ان کی کنیت ابو عبد اللہ[2] اور ابو موسیٰ[3] بیان کی گئی ہے۔ وہ سنہ 170 ھ[4] یا سنہ 171 ھ[5] میں بغداد کے رصافہ نامی علاقے میں پیدا ہوئے۔ ان کی خلافت تقریباً چار سال اور آٹھ مہینے تک رہی،[6] جو امام رضاؑ کی امامت کے دور کی معاصر تھی۔[7] حکومتی امور کے انتظامات کی ذمہ داری فضل بن ربیع کے پاس تھی۔[8] "تاریخ مختصر الدول" نامی کتاب کے مصنف کے مطابق، امین عباسی کے حکومتی طرز عمل میں حکمت و عدالت ناپید تھیں نیز انہیں کوئی قابل ذکر تجربہ بھی نہیں تھا۔[9] انہیں 27 سال کی عمر میں قتل کر دیے گئے۔[10]

خاندان اور رشتہ دار

ہارون الرشید کا بیٹا محمد امین، خلافت عباسی کے پانچویں خلیفہ تھے۔[11] ان کی والدہ، ام جعفر زبیدہ، عباسی خاندان سے تعلق رکھتی تھیں اور خلیفہ منصور عباسی کی پوتی تھیں۔[12] بعض تاریخی مصادر کے مطابق، اسلامی خلافت کی تاریخ میں صرف دو خلیفہ ایسے تھے جن کے ماں اور باپ دونوں ہاشمی تھے؛ پہلا حضرت علی ابن ابی طالبؑ اور دوسرا محمد امین تھے۔[13] ان کا سب سے مشہور بھائی مامون تھا، جو ان کے بعد خلیفہ بنا۔[14]

امین کے دو بیٹے تھے؛ ایک کا نام موسیٰ اور دوسرےکا نام عبد اللہ تھا[15]۔ موسیٰ جو "الناطق بالحق" کے نام سے مشہور ہوا، ان کا ولی عہد مقرر ہوالیکن وہ چودہ سال کی عمر میں انتقال کرگیا۔ عبد اللہ شاعر تھا اور اس کے ذریعے امین کی نسل آگے بڑھی اور اس نے معتمد کا دور بھی دیکھا۔[16]

بنی‌عباس
خلفا
نام مدت سلطنت
ابو العباس سفاح 132-136
عبداللہ منصور 136-158
مہدی عباسی 158-169
ہادی عباسی 169-170
ہارون رشید 170-193
محمد امین 193-198
مامون عباسی 198-218
معتصم عباسی 218-227
واثق عباسی 227-232
متوکل عباسی 232-247
منتصر عباسی 247-248
مستعین عباسی 248-252
معتز عباسی 252-255
مهتدی عباسی 255-256
معتمد عباسی 256-278
معتضد عباسی 278-289
مکتفی 289-295
مقتدر 295-320
قاهر 320-322
راضی 322-329
متقی 329-333
مستکفی 334-333
مطیع 334-363
طائع 363-381
قادر 381-422
عبدالله قائم 422-467
مقتدی 467-487
مستظهر 487-512
مسترشد 512-529
منصور راشد 529-530
مقتفی 530-555
مستنجد 555-566
مستضی 566-575
الناصر لدین الله 575-622
ظاهر 622-623
مستنصر 623-640
مستعصم 640-656
وزرا و امرای سرشناس
ابومسلم خراسانیابوسلمہ خلالیحیی بن خالد برمکیفضل بن یحیی برمکیجعفر بن یحیی برمکیحمید بن قحطبہ طائیعلی بن عیسی بن ماہانفضل بن ربیعفضل بن سہلطاہر بن حسین
ہم عصر شخصیات
جعفر بن محمدصادقموسی بن جعفر کاظمعلی بن موسی رضامحمد بن علی جوادعلی بن محمد ہادیحسن بن علی عسکریم ح م د بن الحسن المہدی
اہم واقعات
محمد نفس زکیہ کا قیامواقعہ فخ


ذاتی خصوصیات

امین اپنی مخصوص ظاہری وجاہت، سخاوت[17] اور شعر و ادب سے دلچسپی کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا۔[18] اپنے دورِ حکومت میں انہوں نے اپنے بھائیوں اور خاندان سے فاصلہ اختیار کیے رکھا اور ان کے ساتھ ساتھ اپنے سپہ سالاروں کی نسبت بھی بے اعتنائی برتی۔[19] وہ اہم امور میں دوسروں پر انحصار کرتے تھے اور ایسے افراد پر اعتماد کرتے تھے جو اس کے خیر اندیش نہ تھے۔[20]

بعض تاریخی مصادر کے مطابق امین کو زیورات اور عیش و عشرت سے حد سے زیادہ لگاؤ تھا اور وہ اسلامی سرزمینوں کے مختلف علاقوں سے فنکاروں کو اپنے دربار میں بلاتے تھے۔[21] بعض تاریخی مصادر میں انہیں ناپختہ فیصلوں، حکمت عملی سے تُہی رویّوں،[22] عیش و نوش میں افراط[23] اور اس مد میں بھاری اخراجات نیز نماز کی طرف کم توجہی کی بنا پر تنقید کا نشانہ بنایے گئے ہیں۔[24] امین عوام کی نظروں سے اوجھل رہنے کی کوشش کرتے تھے اور لوگوں میں کم و بیش ہی حاضر ہوتے تھے۔ [25]

ہارون عباسی کی جانب سے ولی عہدی

جب امین پانچ سال کی عمر میں داخل ہوا[26] تو ہارون عباسی نے اسے اپنا پہلا ولی عہد اور مأمون کو دوسرا ولی عہد مقرر کیا۔[27]باوجود اس کے کہ ہارون مأمون کی ولی عہدی میں دلچسپی رکھتا تھا،[28] امین کی والدہ کے اثر و رسوخ اور عباسی اکابرین کی حمایت کے باعث امین کو بھی ولی عہدی دینے کا فیصلہ کیا گیا۔[29]

ہارون نے مکہ میں حج کے مناسک ادا کرنے کے بعد حکومت کو اپنے تین بیٹوں کے درمیان تقسیم کیا۔[30] امین کو عراق اور شام کے علاقوں کی نگرانی سونپی گئی جبکہ عباسی حکومت کے قلمرو کے دیگر حصے مأمون اور مؤتمن کے سپرد کیے گئے۔[31] انہوں نے امین اور مأمون کی ذمہ داریوں سے متعلق ایک دستاویز کعبہ میں آویزاں کی[32] اور اس معاہدے کے خطوط اپنے حکومتی عُمّال کو ارسال کیے۔[33] تاہم اس دستاویز کا اپنی جگہ سے گر جانا لوگوں کے نزدیک اس معاہدے کی ناپائیداری کی علامت سمجھا گیا۔[34]

خلافت سے زوال تک

محمد امین سنہ 193ھ میں ہارون کی وفات کے بعد مسند خلافت پر فائز ہوئے اور سنہ 198ھ تک عالمِ اسلام پر حکومت کرتا رہے۔[35] خلافت کے آغاز میں اسلامی علاقوں کے تمام لوگوں سمیت[36] خراسان میں موجود مأمون نے بھی ان کی بیعت کی۔[37] لیکن کچھ عرصے بعد دونوں بھائیوں کے درمیان تنازعات اور اختلافات پیدا ہوئے جو بالآخر خانہ جنگی میں بدل گئے۔[38] اس صورتِ حال نے اسلامی سرزمینوں میں بدامنی کو جنم دیا اور مسلمانوں میں تفرقہ اور کمزوری پیدا ہوئی۔[39] اس کے ساتھ ساتھ شدید مختلف جہتوں سے بکثرت نقصانات بھی ہوئے اور بغداد، جو خلافت کا دارالحکومت اور علم، ادب اور تجارت کا مرکز تھا، وسیع پیمانے پر تباہی کا شکار ہوا۔[40]

مأمون کے ساتھ تصادم

امین نے ابتدا میں مأمون کو تجویز دی کہ وہ رے اور خراسان کے بعض علاقوں کی حکومت سے دستبردار ہوجائے جو اس کے والد کے زمانے میں اسے دی گئی تھیں، لیکن مأمون نے اس تجویز کو رد کر دیا۔[41] امین نے خطوط کے ذریعے مأمون[42] اور خراسان کے گورنروں کو[43] اپنے دربار میں حاضر ہونے کا حکم دیا، مگر انہوں نے ان کی اطاعت نہ کی۔ چنانچہ انہوں نے اس عہدنامے کے برخلاف، جو اس کے والد نے اقتدار کی تقسیم کے لیے لیا تھا، سنہ 198ھ[44] میں مأمون کو معزول کر کے اپنے بیٹے موسیٰ کو ان کا جانشین مقرر کر دیا۔[45] اسی طرح امین نے مؤتمن کو بھی ان تمام ذمہ داریوں سے ہٹا دیا جو ہارون کے دور میں اسے سونپی گئی تھیں۔[46] اس کے بعد مأمون نے امین سے تعلقات منقطع کر دیے، خطبوں میں اس کا نام حذف کر دیا[47] اور خود کو امیر المومنین کہلوانا شروع کر دیا۔[48]

دونوں بھائیوں کے درمیان لڑائیاں تقریباً تین سال تک جاری رہیں[49] اور آخرکار ایرانیوں کی حمایت، طاہر بن حسین اور ہرثمہ بن اعین جیسے کمانڈروں کی تدابیر کے باعث مأمون کو کامیابی حاصل ہوئی۔[50] یہ کشمکش بغداد کی فتح اور سنہ 198ھ میں امین کے قتل پر ختم ہوئی۔[51] ایک روایت کے مطابق امام رضاؑ نے امین کے مأمون کے ہاتھوں قتل ہونے کی پیشنگوئی کی تھی۔[52]

مأمون کے ساتھ اختلافات کی وجوہات

امین اور مأمون کے درمیان اختلافات کی جڑیں ان کے والد کی اس وصیت سے ملتی ہیں جس میں اقتدار کی تقسیم دونوں کے درمیان طے کی گئی تھی۔[53] اس کے علاوہ عباسی خلافت کے ڈھانچے میں عربوں اور اہل فارس کے درمیان اقتدار کی کشمکش کو بھی اس تنازع کا ایک مؤثر سبب قرار دیا گیا ہے۔[54] امین عرب عناصر اور عباسی خاندان پر انحصار کرتا تھا[55] اور اس کا وزیر فضل بن ربیع عربوں کی بالادستی برقرار رکھنے کے لیے کوشاں تھا۔[56] اس کے برعکس مأمون کو خراسان میں سکونت کے بموجب خراسانیوں کی حمایت حاصل تھی جو اہل بیتؑ سے محبت رکھتے تھے؛ مأمون ان کی رضامندی حاصل کرنے کے لیے اپنے آپ کو شیعہ ظاہر کرتا تھا۔[57] مأمون کا وزیر فضل بن سہل ایرانی رجحانات کا نمائندہ تھا اور وہ مأمون کو امین کے خلاف ابھارتا رہتا تھا۔[58]

امین عباسی کے دور میں امام رضاؑ اور شیعوں کے حالات

ابوالفرج اصفہانی کے مطابق، امین کے دورِ حکومت میں، سابق خلفا کے برخلاف، خاندانِ ابوطالب کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں آئی۔ امین کی تعش پسندی اور مأمون کے ساتھ اس کی کشمکش کے باعث وہ اس خاندان سے متعلق امور کی طرف متوجہ نہ ہوسکا۔[59]

کہا جاتا ہے کہ اس صورتِ حال کی وجہ سے [امام رضاؑ]] کو یہ موقع فراہم ہوا کہ امامؑ شیعی افکار کی ترویج اور انہیں مضبوط کرنے کے لیے بڑھ چڑھ کر کام کریں۔[60] اس دور میں امام رضاؑ نے وکالتی نظام کو ازسرِنو منظم کیا اور تشیع کی علانیہ تبلیغ کو وسعت دی[61] اور عوامی بنیادوں اور سماجی روابط کو مضبوط کیا۔[62] نیز امامت کے موضوع پر اہم معارف بیان کیے اور تقیہ کے بغیر امامت سے متعلق مسائل کی وضاحت کی۔[63]

بعض محققین کے نزدیک امین کے دور کے سیاسی و سماجی تنازعات، بالخصوص مأمون کے ساتھ اس کی کشمکش نے ایسے حالات پیدا کیے جن کے باعث مشرقی علاقوں میں شیعی تحریکوں اور اہل بیتؑ کے حامیوں کو نسبتاً کم دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔[64] کہتے ہیں کہ مأمون نے امین کا مقابلہ کرنے اور اس کی حکومت کو کمزور کرنے کے لیے ان تحریکوں کے ساتھ رواداری کی حکمت عملی اختیار کی اور حتیٰ کہ ایران میں اہلِ بیتؑ کے معتدل محبان سے امین کے خلاف فائدہ اٹھایا۔ اس حکمت عملی کا بالواسطہ طور پر فائدہ امام رضاؑ کے حق میں ہوا جس سے امامؑ کی فعالیتوں کے لیے سازگار فضا فراہم ہوئی۔[65]

حوالہ جات

  1. آیینہ‌وند، ادبیات سیاسی تشیع، 1387شمسی، ص291۔
  2. ابن‌کثیر، البدایة و النہایة، 1407ھ، ج‌10، ص241۔
  3. مسعودی، التنبیہ‌ و الإشراف، قاہرہ، ص300؛ ابن‌جوزی، المنتظم، 1412ھ، ج‌9، ص218۔
  4. ابن‌کثیر، البدایة و النہایة، 1407ھ، ج‌10، ص241۔
  5. ابن‌جوزی، المنتظم، 1412ھ، ج‌9، ص218۔
  6. یعقوبی، تاریخ‌ یعقوبی، بیروت، ج‌2، ص442؛ دینوری، الأخبار الطوال، 1368شمسی، ص400۔
  7. جمعی از نویسندگان، فرہنگ شیعہ، 1386شمسی، ص117۔
  8. ابن‌اعثم، الفتوح، 1411ھ، ج‌8، ص403۔
  9. ابن‌عبری، تاریخ‌ مختصر الدول، 1992ء، ص134۔
  10. یعقوبی، تاریخ‌ یعقوبی، بیروت، ج‌2، ص442؛ دینوری، الأخبار الطوال، 1368شمسی، ص400۔
  11. ابن‌کثیر، البدایة و النہایة، 1407ھ، ج‌10، ص241۔
  12. ابن‌عمرانی، الإنباء، 1421ھ، ص89۔
  13. یعقوبی، تاریخ‌ یعقوبی، بیروت، ج‌2، ص433؛ ابن‌عمرانی، الإنباء، 1421ھ، ص89۔
  14. دینوری، الأخبار الطوال، 1368شمسی، ص400۔
  15. یعقوبی، تاریخ‌ یعقوبی، بیروت، ج‌2، ص442؛ ابن‌حزم، جمہرة أنساب‌ العرب، 1403ھ، ص24۔
  16. ابن‌حزم، جمہرة أنساب‌ العرب، 1403ھ، ص24۔
  17. مسعودی، التنبیہ‌ و الإشراف، قاہرہ، ص302۔
  18. ابن‌کثیر، البدایة و النہایة، 1407ھ، ج‌10، ص241؛ سیوطی، تاریخ الخلفاء، 1417ھ، ص351۔
  19. سیوطی، تاریخ الخلفاء، 1417ھ، ص356؛ ابن‌عبری، تاریخ‌ مختصر الدول، 1992ء، ص134۔
  20. مسعودی، التنبیہ‌ و الإشراف، قاہرہ، ص302۔
  21. جان‌احمدی، تاریخ فرہنگ و تمدن اسلامی، 1386شمسی، ص197۔
  22. سیوطی، تاریخ الخلفاء، 1417ھ، ص351؛ ابن‌عمرانی، الإنباء، 1421ھ، ص89۔
  23. مسعودی، التنبیہ‌ و الإشراف، قاہرہ، ص302۔
  24. ابن‌کثیر، البدایة و النہایة، 1407ھ، ج‌10، ص241-242، بہ نقل از دیگران۔
  25. ابن‌اعثم، الفتوح، 1411ھ، ج‌8، ص403۔
  26. ابن‌مسکویہ، تجارب‌ الأمم، 1379شمسی، ج‌3، ص506۔
  27. طبری، تاریخ الامم و الملوک، 1387ھ، ج‌8، ص269؛ ابن‌قتیبہ، الإمامة و السیاسة، 1410ھ، ج‌2، ص232۔
  28. ابن‌قتیبة دینوری، الإمامة و السیاسة، 1410ھ، ج‌2، ص232۔
  29. ابن‌تغری بردی،‌ النجوم الزاہرة، مصر، ج2، ص81۔
  30. طبری، تاریخ الامم و الملوک، 1387ھ، ج‌8، ص275؛ ابن‌خلدون، تاریخ‌ ابن‌خلدون، 1408ھ، ج‌3، ص279۔
  31. طبری، تاریخ الامم و الملوک، 1387ھ، ج‌8، ص275؛ ابن‌کثیر، البدایة و النہایة، 1407ھ، ج‌10، ص187؛ ابن‌خلدون، تاریخ‌ ابن‌خلدون، 1408ھ، ج‌3، ص279۔
  32. ابن‌مسکویہ، تجارب‌ الأمم، 1379شمسی، ج‌3، ص528۔
  33. طبری، تاریخ الامم و الملوک، 1387ھ، ج‌8، ص283۔
  34. ابن‌مسکویہ، تجارب‌ الأمم، 1379شمسی، ج‌3، ص528۔
  35. ابن‌حبیب، المحبر، بیروت، ص39؛ دینوری، الأخبار الطوال، 1368شمسی، ص392-400؛ ابن‌کثیر، البدایة و النہایة، 1407ھ، ج‌10، ص241۔
  36. حسن، تاریخ سیاسی اسلام، 1376شمسی، ج‌2، ص76۔
  37. مسعودی، التنبیہ‌ و الإشراف، قاہرہ، ص300۔
  38. طبری، تاریخ الامم و الملوک، 1387ھ، ج‌8، ص374۔
  39. سیوطی، تاریخ الخلفاء، 1417ھ، ص353؛ حسن، تاریخ سیاسی اسلام، 1376شمسی، ج‌2، ص77۔
  40. سیوطی، تاریخ الخلفاء، 1417ھ، ص353؛ حسن، تاریخ سیاسی اسلام، 1376شمسی، ج‌2، ص77۔
  41. ابن‌عمرانی، الإنباء، 1421ھ، ص89۔
  42. یعقوبی، تاریخ‌ یعقوبی، بیروت، ج‌2، ص436؛ مسعودی، التنبیہ‌ و الإشراف، قاہرہ، ص300۔
  43. یعقوبی، تاریخ‌ یعقوبی، بیروت، ج‌2، ص436۔
  44. یعقوبی، تاریخ‌ یعقوبی، بیروت، ج‌2، ص436۔
  45. طبری، تاریخ الامم و الملوک، 1387ھ، ج‌8، ص374-375۔
  46. ابن‌مسکویہ، تجارب‌ الأمم، 1379شمسی، ج‌4، ص31۔
  47. طبری، تاریخ الامم و الملوک، 1387ھ، ج‌8، ص375؛ ابن‌خلدون، تاریخ‌ ابن‌خلدون، 1408ھ، ج‌3، ص291۔
  48. ابن‌خلدون، تاریخ‌ ابن‌خلدون، 1408ھ، ج‌3، ص294؛ سیوطی، تاریخ الخلفاء، 1417ھ، ص352۔
  49. رفیعی، زندگی ائمہ(ع)، تہران، ص225۔
  50. طبری، تاریخ الامم و الملوک، 1387ھ، ج‌8، ص373-495۔
  51. برای اطلاعات بیشتر رجوع کنید بہ: ابن‌قتیبہ، المعارف، 1992ء، ،ص386؛ یعقوبی، تاریخ‌ یعقوبی، بیروت، ج‌2، ص336-442؛ طبری، تاریخ الامم و الملوک، 1387ھ، ج‌8، ص373-495؛‌ ابن‌اعثم، الفتوح، 1411ھ، ج‌8، ص406-416؛ دینوری، الأخبار الطوال، 1368شمسی، ص400؛ ابن‌کثیر، البدایة و النہایة، 1407ھ، ج‌10، ص240۔
  52. شیخ صدوق، عیون أخبار الرضا(ع)، 1378ھ، ج‏2، ص209؛ طبرسی، إعلام الوری، 1390ھ، ص323۔
  53. طبری، تاریخ الامم و الملوک، 1387ھ، ج‌8، ص374۔
  54. حسن، تاریخ سیاسی اسلام، 1376شمسی، ج‌2، ص166۔
  55. جعفریان، تاریخ تشیع در ایران، 1387ش، ص217۔
  56. حسن، تاریخ سیاسی اسلام، 1376شمسی، ج‌2، ص166۔
  57. حسینی شاہرودی، تاریخ زندگانی امام جواد(ع)، تہران، ص143۔
  58. حسن، تاریخ سیاسی اسلام، 1376شمسی، ج‌2، ص166۔
  59. ابوالفرج اصفہانی، مقاتل‌ الطالبیین، بیروت، ص420۔
  60. احمدی، تاریخ امامان شیعہ، 1389شمسی، ص218۔
  61. احمدی، تاریخ امامان شیعہ، 1389شمسی، ص218۔
  62. رفیعی، زندگی ائمہ(ع)، تہران، ص225۔
  63. جعفریان، حیات فکری و سیاسی امامان شیعہ(ع)، قم، ص459۔
  64. احمدی، تاریخ امامان شیعہ، 1389شمسی، ص218۔
  65. احمدی، تاریخ امامان شیعہ، 1389شمسی، ص218۔

مآخذ

  • آیینہ‌وند، صادق، ادبیات سیاسی تشیع، تہران، نشر علم، 1387ہجری شمسی۔
  • ابوالفرج اصفہانی، علی بن حسین، مقاتل الطالبیین، تحقیق سید احمد صقر، بیروت، دارالمعرفة، بی‌تا۔
  • ابن‌اعثم، احمد، الفتوح، تحقیق علی شیری، بیروت، دارالأضواء، 1411ھ۔
  • ابن‌تغری بردی،‌ یوسف، النجوم الزاہرة فی ملوک مصر و القاہرة، مصر، وزارة الثقافة والإرشاد القومی، بی‌تا۔
  • ابن‌جوزی، عبدالرحمن بن علی، المنتظم فی تاریخ الأمم و الملوک، تحقیق محمد عبدالقادر عطا و مصطفی عبدالقادر عطا، بیروت، دارالکتب العلمیہ، 1412ھ۔
  • ابن‌حبیب، محمد بن حبیب، المحبر، بیروت، دارالآفاق الجدیدة، بی‌تا۔
  • ابن‌حزم، علی بن احمد، جمہرة أنساب العرب، تحقیق لجنة من العلماء، بیروت، دارالکتب العلمیة، 1403ھ۔
  • ابن‌خلدون، عبدالرحمن بن محمد، تاریخ ابن خلدون: المسمی بکتاب العبر و دیوان المبتدأ و الخبر فی أیام العرب و العجم و البربر و من عاصرہم من ذوی السلطان الأکبر، بیروت، دارالفکر، چاپ دوم، 1408ھ۔
  • ابن‌عبری، غریغوریوس الملطی، تاریخ مختصرالدول، تحقیق انطون صالحانی الیسوعی، بیروت،‌ دارالشرق، چاپ سوم، 1992م۔
  • ابن‌عمرانی، محمد بن علی، الإنباء فی تاریخ الخلفاء، تحقیق قاسم السامرائی، قاہرہ، دارالآفاق العربیة، 1421ھ۔
  • ابن‌قتیبہ دینوری، عبداللہ بن مسلم، الإمامة و السیاسة المعروف بتاریخ الخلفاء، تحقیق علی شیری، بیروت، دارالأضواء، 1410ھ۔
  • ابن‌قتیبہ دینوری، عبداللہ بن مسلم، المعارف، تحقیق ثروت عکاشة، قاہرہ، الہیئة المصریة العامة للکتاب، چاپ دوم، 1992ء۔
  • ابن‌کثیر، اسماعیل بن عمر، البدایہ و النہایہ، بیروت، دارالفکر، 1407ھ۔
  • ابن‌مسکویہ، ابوعلی، تجارب الامم، تحقیق ابو القاسم امامی، تہران، سروش، 1379ہجری شمسی۔
  • احمدی، حمید، تاریخ امامان شیعہ، قم، دفتر نشر معارف، 1389ہجری شمسی۔
  • جان‌احمدی، فاطمہ، تاریخ فرہنگ و تمدن اسلامی، تحقیق مہدی نجف، قم، دفتر نشر معارف، 1386ہجری شمسی۔
  • جعفریان، رسول، تاریخ تشیع در ایران، تہران، نشر علم، 1387ہجری شمسی۔
  • جعفریان، رسول، حیات فکری و سیاسی امامان شیعہ(ع)، قم، انصاریان، چاپ ششم، بی‌تا۔
  • جمعی از نویسندگان، فرہنگ شیعہ، قم، زمزم ہدایت، چاپ دوم، 1386ہجری شمسی۔
  • حسن، حسن ابراہیم، تاریخ سیاسی اسلام، ترجمہ: ابوالقاسم پایندہ، تہران، جاویدان، چاپ نہم، 1376ہجری شمسی۔
  • حسینی شاہرودی، محمد، تاریخ زندگانی امام جواد(ع)، تہران، ادارہ آموزش‌ہای عقیدتی سیاسی نمایندگی ولی فقیہ در سپاہ، بی‌تا۔
  • دینوری، احمد بن داود، الأخبار الطوال، تحقیق عبد المنعم عامر مراجعہ جمال الدین شیال، قم، منشورات الرضی، 1368ش‌۔
  • رفیعی، علی، زندگی ائمہ(ع)، تہران، مرکز پژوہشکدہ تحقیقات سپاہ، بی‌تا۔
  • سیوطی، عبدالرحمن بن ابی‌بکر، تاریخ الخلفاء، دمشق، دارالبشائر، 1417ھ۔
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، عیون أخبار الرضا(ع)، تہران، نشر جہان، 1378ھ۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، إعلام الوری بأعلام الہدی، تہران، اسلامیہ، چاپ سوم، 1390ھ۔
  • طبری، محمد بن جریر، تاریخ الامم و الملوک، تحقیق محمد أبو الفضل ابراہیم‌، بیروت، دارالتراث، چاپ دوم، 1387ھ۔
  • مسعودی، علی بن حسین، التنبیہ و الإشراف، تصحیح عبداللہ اسماعیل الصاوی، قاہرہ، ‌دارالصاوی، بی‌تا۔
  • یعقوبی، احمد بن ابی‌یعقوب، تاریخ الیعقوبی، بیروت،‌ دار صادر، بی‌تا۔