مندرجات کا رخ کریں

خطبہ لیلۃ الہریر

ویکی شیعہ سے
خطبہ لیلۃ الہریر
خطبہ لیلۃ الہریر
حدیث کے کوائف
موضوعسپاہیوں کو جنگ کی ترغیب
صادر ازامام علیؑ
شیعہ مآخذالفتوح، وقعۃ الصفین
اہل سنت مآخذالامامۃ والسیاسۃ
مشہور احادیث
حدیث سلسلۃ الذہبحدیث ثقلینحدیث کساءمقبولہ عمر بن حنظلۃحدیث قرب نوافلحدیث معراجحدیث ولایتحدیث وصایتحدیث جنود عقل و جہلحدیث شجرہ


خطبۂ لیلۃ الہریر، امام علیؑ کے خطبوں میں سے ایک ہے جسے آپؑ نے لیلۃ الہریر، جنگ صفین کی ایک رات اپنے سپاہیوں کو معاویہ کے لشکر کے مقابلے میں جہاد جاری رکھنے کی ترغیب اور انہیں حوصلہ دینے کے لئے ارشاد فرمایا۔[1] "لیلۃ الہریر" اس رات کو کہا جاتا ہے جس میں امام علیؑ کے سپاہیوں کے حملوں کی وجہ سے معاویہ کے لشکریوں سے کتّوں کی مانند آوازیں بلند ہونے لگیں تھیں۔[2]

یہ خطبہ ماہ صفر کی 12 تاریخ[3] (اور بعض روایات کے مطابق 10 یا 17 صفر کی رات سنہ 37 ہجری)[4] کو نماز عشاء کے بعد،[5] ارشاد فرمایا۔

خطبہ حمد و ثنائے الٰہی سے آغاز ہوتا ہے۔[6] امام علیؑ اپنے اصحاب کو ذکر خدا، نماز، تلاوت قرآن اور دعا کی سفارش کرتے ہیں،[7] اور انہیں جنگ میں احتیاط، صبر، استقامت اور صداقت کی دعوت دیتے ہیں۔[8] اس کے بعد امامؑ دشمن کی کمزوریوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنے لشکر کو حوصلہ دیتے ہیں کہ جس طرح انہوں نے جنگ کے آغاز میں شجاعت و جانفشانی دکھائی، اسی طرح اختتام تک ثابت قدم رہیں، اور انجامِ کار کو تقدیر الٰہی پر چھوڑ دیں۔[9]

خطبۂ لیلۃ الہریر شیعہ[10] اور اہل سنت[11] دونوں فریقوں کے منابع میں منقول ہے۔ اس خطبے کو سب سے پہلے سلیم بن قیس ہلالی (وفات: 76ھ) نے "کتاب سلیم بن قیس" میں نقل کیا۔[12] اس کے بعد نصر بن مزاحم منقری (وفات: 212ھ) نے اپنی کتاب "وقعۃ صفین[13] اور ابن قتیبہ دینوری نے "الامامۃ والسیاسۃ"[14] میں نقل کیا ہے۔ اس خطبے کا مکمل متن ابن اعثم کوفی کی کتاب الفتوح (تألیف: چوتھی صدی ہجری) میں آیا ہے۔

نہج البلاغہ میں بھی "لیلۃ الہریر" کے عنوان سے ایک خطبہ منقول ہے، تاہم محدثین کے مطابق یہ خطبہ، مذکورہ خطبے سے مختلف ہے۔[15] ابن ابی الحدید، شارحِ نہج البلاغہ کے مطابق یہ خطبہ "لیلۃ الہریر" کے بعد کے ایام میں،[16] جبکہ عمادالدین طبری (چھٹی صدی ہجری کے مورخِ) کے مطابق جنگ صفین کے آغاز میں ارشاد فرمایا ہے۔[17]

متن اور ترجمہ

متن ترجمه

خطبَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَصْحَابَهُ بَعْدَ أَنْ صَلَّى عِشَاءَ الآخِرَةِ فَقَالَ:

امیر المؤمنین حضرت علىؑ نے نماز عشاء سے فارغ ہونے کے بعد ایک خطبہ دیا جس کی تفصیل یوں ہے:

الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي يُبَرِمُ مَا قَضَى وَقَدَّرَ، فَمَا أَبْرَمَ فَلَا يَنْقُضُهُ النَّاقِضُونَ، وَمَا نَقَضَ فَلَنْ يُبَرِمَهُ الْمُبَرِمُونَ،

حمد و ثنا اس اللہ جلّ جلالہ ہی کے لیے ہے، جس نے تقدیر اور قضا و قدر کے بنیادی نظام کو اس قدر محکم اور اٹل بنایا ہے کہ کوئی بھی مخلوق، خواہ جو بھی ہو، اس کی قدرت و اختیار میں یہ بات نہیں کہ وہ اس کے مقرر کردہ حکم میں کسی طرح کا نقض پیدا کرے یا اس کے قائم کردہ قضا کے بنیادی ڈھانچے میں کوئی خلل ڈال سکے۔

مَعَ أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَوْ شَاءَ لَمَا اخْتَلَفَ اثْنَانِ مِنْ خَلْقِهِ، وَلَا تَنَازَعَتِ الْأُمَّةُ فِي شَيْءٍ مِنْ أَمْرِهِ، وَلَا جَحَدَ الْمَفْضُولُ حَقَّ الْفَاضِلِ، وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا اقْتَتَلُوا، وَلَكِنَّ اللَّهَ يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ،

حالانکہ اگر خدا چاہتا تو دو انسان بھی آپس میں اختلاف نہ کرتا، اور نہ دنیا میں کسی کے درمیان نزاع و دشمنی پیدا ہوتی اور باطل پرست حق کا انکار نہ کرتے اور پست درجہ اپنے سے بالاتر کی ملامت نہ کرتا چنانچه خداوند تعالیٰ فرماتا ہے: اور اگر خدا چاہتا تو وہ آپس میں قتال نہ کرتے، لیکن اللہ جو چاہتا ہے وہی کرتا ہے۔

وَقَدْ سَاقَتْنَا وَهَؤُلَاءِ الْمَقَادِيرُ إِلَى هَذَا الْمَكَانِ، وَنَحْنُ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى بِمَنْظَرٍ وَمَسْمَعٍ،

ہمیں اللہ کی ازلی تقدیر نے اس مقام تک پہنچایا ہے اور ہم سب خدا کے محضر میں ہیں وہ ہمیں دیکھ اور سن رہا ہے۔

وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ لَانْتَقَمَ وَكَانَ مَعَهُ التَّغْيِيرُ وَلَكِنَّهُ جَعَلَ الدُّنْيَا دَارَ الْأَعْمَالِ وَالْآخِرَةَ دَارَ الْقَرَارِ لِيَجْزِيَ الَّذِينَ أَسَاءُوا بِمَا عَمِلُوا وَيَجْزِيَ الَّذِينَ أَحْسَنُوا بِالْحُسْنَى،

اور اگر وہ چاہتا تو نیکوکاروں کو ان کے اعمال کا بدلہ اسی دنیا میں دے دیتا اور بدکاروں کو ان کے گناہوں کی سزا بھی اسی میں عطا فرماتا؛ لیکن اُس نے دنیا کو عمل کا گھر اور آخرت کو قرار و جزا کا گھر بنایا ہے، چنان‌کہ ارشاد ہوا: تاکہ اللہ برے عمل کرنے والوں کو ان کے اعمال کے مطابق بدلہ دے، اور نیکوکاروں کو بہترین جزا عطا فرمائے۔

أَلَا وَإِنَّكُمْ تُقَاتِلُونَ عَدُوَّكُمْ غَدًا فَاطْلُبُوا اللَّيْلَةَ الْقِيَامَ وَأَكْثِرُوا فِيهَا مِنْ تِلَاوَةِ الْقُرْآنِ وَاذْكُرُوا اللَّهَ وَاسْأَلُوهُ النَّصْرَ، وَعَلَيْكُمْ بِالْحَذَرِ وَالْحَزْمِ وَالْصَّبْرِ وَكُونُوا صَادِقِينَ،

جان لو کہ کل تمہیں اپنے دشمنوں سے جنگ کرنی ہے۔ پس آج شب کچھ وقت بیدار رہو، خدا کو یاد کرو، نماز پڑھو، قرآن کی تلاوت کرو، اور خداوندِ متعال سے نصرت و کامیابی کی دعا کرو۔ اور جب کل میدانِ کارزار میں قدم رکھو، تو پوری سنجیدگی و استقامت سے لڑو، اور صبر و ثبات کو کامیابی و نجات کا وسیلہ سمجھو۔

أَلَا! وَقَدْ بَلَغَ بِكُمْ وَبِعَدُوِّكُمْ مَا قَدْ رَأَيْتُمْ وَلَمْ يَبْقَ مِنْهُمْ إِلَّا آخِرَ نَفَسٍ

تم دیکھ رہے ہو کہ تمہارے اور تمہارے دشمنوں کے درمیان معاملہ کس حد تک پہنچ چکا ہے؛ دشمن کی طاقت ٹوٹ چکی ہے۔

فَإِنَّ الْأُمُورَ إِذَا أَقْبَلَتْ اعْتَبِرُوا آخِرَهَا بِأَوَّلِهَا

یاد رکھو، اعمال کی قدر و قیمت اُن کے انجام پر منحصر ہے؛ اور وہ کام جس کا انجام اس کے آغاز کی طرح نیک نہ ہو، اس میں کوئی بھلائی نہیں۔

وَقَدْ صَبَرَ لَكِنَّ الْقَوْمَ عَلَى غَيْرِ دِينٍ حَتَّى بَلَغُوا فِيكُمْ مَا بَلَغُوا، وَأَنَا غَادٍ عَلَيْهِمْ غَدًا وَمُحَاكِمُهُمْ إِلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ

وہ قوم (یعنی دشمن) باطل پر ہے، مگر دیکھو کہ وہ کس قدر کوشش کر رہے ہیں! جان لو کہ کل صبح ہم جنگ کے لیے روانہ ہوں گے، تاکہ فتنے کی آگ بجھ جائے، اور خدا ہمارے درمیان فیصلہ فرمائے، اور وہی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے: «حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَنَا وَ هُوَ خَيْرُ الْحَاكِمِينَ»۔[18]


حوالہ جات

  1. ابن‌اعثم کوفی، الفتوح، 1411ھ، ج3، ص171۔
  2. سبحانی، فروغ ولایت، 1380ش، ص601۔
  3. بلاذری، أنساب الأشراف، 1417ھ، ج2، ص323۔
  4. سبحانی، فروغ ولایت، 1380ش، ص601۔
  5. ابن‌اعثم کوفی، الفتوح، 1411ھ، ج3، ص171۔
  6. ابن‌اعثم کوفی، الفتوح، 1411ھ، ج3، ص171۔
  7. ابن‌اعثم کوفی، الفتوح، 1411ھ، ج3، ص171۔
  8. ابن‌اعثم کوفی، الفتوح، 1411ھ، ج3، ص171۔
  9. ابن‌اعثم کوفی، الفتوح، 1411ھ، ج3، ص171۔
  10. المنقری، وقعة صفین‏، 1404ق‏، ص476۔
  11. ابن‌کثیر، البدایة و النهایة، بیروت، ج7، ص261۔
  12. قیس هلالی، کتاب سلیم بن قیس الهلالی، 1405ھ، ج2، ص807۔
  13. المنقری، وقعة صفین‏، 1404ق‏، ص476۔
  14. ابن‌قتیبة دینوری، الامامة والسیاسة، 1410ھ، ج1، ص143۔
  15. نهج‌البلاغه، تصحیح صبحی صالح، خطبه66، ص97۔
  16. ابن‌ابی‌الحدید، شرح نهج‌البلاغه، 1404ھ، ج5، ص175۔
  17. طبری، بشاره المصطفی لشیعه المرتضی، 1383ھ، ص141۔
  18. متسوفی هروی، ترجمه الفتوح ابن‌اعثم، 1411ھ، ج3، ص171۔

مآخذ

  • ابن‌ابی‌الحدید، عبدالحمید بن هبةالله، شرح نهج‌البلاغه، تصحیح، محمد ابوالفضل ابراهیم، قم، کتابخانه عمومی آیت‌الله مرعشی نجفی، پہلی اشاعت، 1404ھ۔
  • ابن‌اعثم کوفی، احمد، الفتوح، تحقیھ، علی شیری، بیروت، دارالأضواء، پہلی اشاعت، 1411ھ۔
  • ابن‌قتیبة دینوری، عبدالله بن مسلم، الامامة والسیاسة، محقق: علی شیری، بیروت، دار الأضواء، پہلی اشاعت، 1410ھ۔
  • ابن‌کثیر، اسماعیل بن عمر، البدایة و النهایة، بیروت، دارالفکر، بی‌تا۔
  • المنقری، نصر بن مزاحم، وقعة صفین‏، تصحیح: عبدالسلام محمد هارون، قم، مکتبة آیةالله المرعشی النجفی، دوسری اشاعت‏، 1404ق‏.
  • سبحانی تبریزی، جعفر، فروغ ولایت: تاریخ تحلیلی زندگانی امیرالمومنین علی(ع)، قم، مؤسسه امام صادق(ع)، 1380ہجری شمسی۔
  • طبری، محمد بن ابی‌القاسم، بشاره المصطفی لشیعه المرتضی، نجف، المکتبه الحیدریه، دوسری اشاعت، 1383ھ۔
  • قیس هلالی، سلیم، کتاب سلیم بن قیس الهلالی، مصحح، محمد انصاری، قم، الهادی، پہلی اشاعت، 1405ھ۔
  • مستوفی هروی، محمد بن احمد، ترجمه الفتوح ابن‌اعثم، مصحح غلامرضا طباطبایی مجد، تهران، سازمان انتشارات و آموزش انقلاب اسلامى‏، 1372ہجری شمسی۔