مندرجات کا رخ کریں

خولہ حنفیہ

ویکی شیعہ سے
خولہ حنفیہ
کوائف
نامخولہ بنت جعفر بن قیس
لقب/کنیتحنفیہ
نسببنی حنیفہ
مشہور اقاربامام علیؑمحمد بن حنفیہ
سکونتمدینہ
آرامگاہعراق کے صوبہ دیالی کے علاقہ قرہ تپہ میں ان سے منسوب ایک مزار
علمی معلومات
دیگر معلومات

خولہ حنفیہ (متوفیہ: 35ھ) امام علیؑ کی زوجہ اور محمد بن حَنَفیہ کی والدہ تھیں۔ منابع کے مطابق آپ ردہ کی جنگوں کے دوران خلیفہ اول کی خلافت کے دوران اسیر ہوئی۔ لیکن شیعہ علماء جیسے سید مرتضی ان کے ارتداد کی نفی کرتے ہوئے انہیں ایک مسلمان اور آزاد خاتون قرار دیتے ہیں جو امام علیؑ کی زوجیت میں آگئی تھیں۔

امام علی کے ساتھ ان کی شادی اور خلافت ابو بکر میں رابطہ

اہل‌ سنت کے بعض علماء امام علیؑ کی طرف سے خولہ کو ابوبکر کی خلافت کے دوران مال غنیمت کے طور پر قبول کئے جانے کو امام علیؑ کی طرف سے ابوبکر کی خلافت کو قبول کرنے کی نشانی قرار دیتے ہیں۔[1] اس کے مقابلے میں شیعہ علماء جیسے سید مرتضی اس نظریے کو (خولہ کا کافر اور اسیر ہونا) رد کرتے ہوئے انہیں ایک مسلمان خاتون قرار دیتے ہیں جنہیں امام علیؑ نے اسیری سے آزادی دلا دی تھی اور یہ بات ابوبکر کی خلافت کو قبول کرنے اور نہ کرنے کے ساتھ کوئی ربط نہیں ہے۔[2]شیعہ منابع میں بھی امام باقرؑ سے مروی ایک حدیث سے استناد کرتے ہوئے خولہ کے ارتداد اور اسیری کی نفی کی گئی ہے۔[3] اسی طرح ابن‌حزم (متوفی: 456ھ) اپنی کتاب «الاِحکام فی أصول الأحکام» میں خولہ اور ان کے خاندان کے ارتداد کے حوالے سے عمر اور ابوبکر کے درمیان اختلاف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ عمر نے ابوبکر کی وفات کے بعد خولہ سے متعلق ان کے حکم کو کالعدم قرار دیا ہے۔[4]

سوانح حیات اور نسب

خولہ بنت جعفر بن قیس قبیلہ بنی‌ حنیفہ سے تھیں۔[5] حنیفۃ بن لُجَیم[6] یا حنفیۃ بن لجیم سے منسوب ہونے کی بنا پر خولہ حنفیہ کے نام سے مشہور ہوئیں۔[7] خولہ سنہ 35ھ میں انتقال کر گئیں۔[8] عراق کے صوبہ دیالی کے قرہ‌تپہ نامی علاقے میں ان سے منسوب ایک مزار ہے۔[9] خدا نے امام علیؑ کو خولہ سے ایک بیٹا عطا کیا جو محمد بن حنفیہ کے نام سے جانے جاتے تھے۔[10] شیعہ اور اہل‌ سنت احادیث کے مطابق پیغمبر اکرمؐ نے امام علیؑ کو اجازت دی تھی کہ وہ خولہ سے ہونے والے اپنے فرزند کا نام آپؐ کے نام اور کنیت پر رکھے۔[11]

امام علیؑ کی زوجہ یا کنیز؟

خولہ کا امام علیؑ کے ساتھ نسبت کے بارے میں (کنیز یا زوجہ) اختلاف پایا جاتا ہے۔[12] سید مرتضی، ابن‌شہر آشوب اور قطب‌الدین راوندی جیسے شیعہ علماء ایک حدیث سے استناد کرتے ہوئے اس بات کے معتقد ہیں ہیں کہ امام علیؑ نے خولہ کے ساتھ شادی کی تھی۔[13] بعض اہل سنت منابع میں بھی اسی نظریے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔[14] اس روایت کے مطابق ابوبکر نے خولہ کو امام علیؑ کے سپرد کیا۔ امام علیؑ نے انہیں اسماء بنت عمیس کے سپرد کیا اس کے بعد اپنے بھائی (عقیل یا جعفر) کے توسط سے انہیں شادی کا پیغام بھیجا اور حق مہر معین کرنے بعد باقاعدہ عقد پڑھ ان سے شادی کی۔[15]

اس قول کے مقابلے میں بعض خولہ کو امام علیؑ کی کنیز قرار دیتے ہیں۔ اہل سنت مورخ بلاذُری نے پیغمبر اکرمؐ کی حیات مبارکہ میں خولہ کے اسیر ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ خولہ مال غنیمت کے طور پر امام علیؑ تک پہنچی تھیں۔[16] کلینی (متوفی: 329ق) نے امام علیؑ سے ایک خط نقل کیا ہے جس میں بھی پیغمبر اکرمؐ کی حیات مبارکہ میں خولہ کی اسیری کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔[17]

مورخین کا ایک اور گروہ انہیں ردہ کی جنگوں کی قیدی قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق ابوبکر کی خلافت کے دوران خالد بن ولید نے زکات ادا نہ کرنے پر ان کے شوہر کو قتل کیا، پھر ابوبکر نے خولہ کو مال غنیمت کے طور پر امام علیؑ کے حوالے کیا۔[18] اسی طرح بعض مورخین انہیں جنگ یمامہ کی قیدی قرار دیتے ہیں۔[19] ابن‌کلبی اس بات کے معتقد ہیں کہ خولہ ابوبکر کی خلافت کے دوران ایک عرب قبیلے کے توسط سے اسیر ہوئی تھی نہ جنگ یمامہ میں۔[20]

اسماء بنت عمیس سے بھی ایک روایت نقل ہوئی ہے جس کے مطابق امام علیؑ نے یمن سے واپسی پر خولہ کو بازار ذوالمَجاز سے خرید کر حضرت فاطمہ(س) کو ہدیہ کیا تھا۔[21]

حوالہ جات

  1. سمعانی، الأنساب، 1408ھ، ج2، ص281۔
  2. سید مرتضی، الشافی، 1398شمسی، ج4، ص222۔
  3. قطب راوندی، الخرائج، 1409ھ، ج2، ص589-593؛ ابن‌شہرآشوب، مناقب، 1379ھ، ج2 ص278۔
  4. ابن‌حزم، الإحکام،‌ دار الآفاق الجدیدۃ، ج6، ص65-66۔
  5. مصعب بن عبداللہ، نسب قریشمسی،‌ دار المعارف، ص41۔
  6. ابن‌سعد، الطبقات الکبری، 1410ھ، ج3، ص14 و ج5، ص67۔
  7. ابن‌عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، 1415ھ، ج54، ص321؛ بلاذری، أنساب الأشراف، 1417ھ، ج2، ص200۔
  8. شہرستانی، التسمیات، 1431ھ، ص384۔
  9. فقیہ بحرالعلوم و خامہ‌یار، زیارتگاہ‌ہای عراق، سازمان حج و زیارت، ج2، ص233۔
  10. ابن‌سعد، الطبقات الکبری، 1410ھ، ج5، ص67۔
  11. علوی عمری، المجدی، 1380شمسی، ص196؛ ابن‌ابی‌الحدید، شرح نہج البلاغۃ ابن‌أبی‌الحدید، 1385ھ، ج1، ص244؛ بلاذری، أنساب الأشراف، 1417ھ، ج2، ص200-201؛ ابن‌حجر عسقلانی، الإصابۃ، 1415ھ، ج8، ص113۔
  12. ابن‌ابی‌الحدید، شرح نہج البلاغۃ ابن‌أبی‌الحدید، 1385ھ، ج1، ص244۔
  13. قطب راوندی، الخرائج، 1409ھ، ج2، ص589-593؛ ابن‌شہرآشوب، مناقب، 1379ھ، ج2 ص278؛سید مرتضی، تنزیہ الأنبیاء و الأئمۃؑ، 1398شمسی، ص379-380۔
  14. ابن‌حجر عسقلانی، الإصابۃ، 1415ھ، ج8، ص113؛ سمعانی، الأنساب، 1408ھ، ج2، ص281؛ بلاذری، أنساب الأشراف، 1417ھ، ج2، ص201۔
  15. قطب راوندی، الخرائج، 1409ھ، ج2، ص589-593؛ ابن‌شہرآشوب، مناقب، 1379ھ، ج2 ص278۔
  16. بلاذری، أنساب الأشراف، 1417ھ، ج2، ص200۔
  17. ابن‌طاووس، کشف المحجۃ، 1412ھ، ص244-245۔
  18. ابن‌سعد، الطبقات الکبری، 1410ھ، ج5، ص67۔
  19. ابن‌عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، 1415ھ، ج54، ص323؛ ذہبی، سیر أعلام النبلاء، 1427ھ، ج5، ص55؛ محب‌الدین طبری، ذخائر العقبی، 1356ھ، ص117؛ طبری، تاریخ الأمم و الملوک، بیروت، ج5، ص154 و ج11، ص628۔
  20. علوی عمری، المجدی، 1380شمسی، ص195۔
  21. بخاری، سر السلسلۃ العلویۃ، 1389شمسی، ص124؛ ابن‌عنبۃ، عمدۃ الطالب، 1417ھ، ص323۔

مآخذ

  • ابن‌ابی‌الحدید، عبد الحمید بن ہبہ اللہ، شرح نہج البلاغۃ ابن‌أبی‌الحدید، بہ تحقیق محمد ابوالفضل ابراہیم، قم، مکتبۃ آیۃ اللہ العظمی المرعشی النجفی، 1385ھ۔
  • ابن‌حجر عسقلانی، احمد بن علی، الإصابۃ فی تمییز الصحابۃ، بہ تحقیق علی محمد معوض و عادل احمد عبدالموجود، بیروت،‌ دار الکتب العلمیۃ، 1415ھ۔
  • ابن‌حزم، علی بن احمد، الإحکام فی أصول الأحکام، بہ تحقیق احمد محمد شاکر، بیروت،‌ دار الآفاق الجدیدۃ، بی‌تا۔
  • ابن‌سعد، محمد، الطبقات الکبری، بہ تحقیق محمد عبدالقادر عطا، بیروت،‌ دار الکتب العلمیۃ، 1410ھ۔
  • ابن‌شہرآشوب، محمد بن علی، مناقب آل‌أبی‌طالب، بہ تحقیق محمدحسین آشتیانی و ہاشم رسولی، قم، علامہ، پہلی اشاعت، 1379ھ۔
  • ابن‌طاووس، علی بن موسی، کشف المحجۃ لثمرۃ المہجۃ، بہ تصحیح محمد حسون، قم، مکتب الاعلام الاسلامی، 1412ھ۔
  • ابن‌عساکر، علی بن حسن، تاریخ مدینۃ دمشق، علی شیرازی، بیروت، دارالفکر، 1415ھ۔
  • ابن‌عنبۃ، احمد بن علی، عمدۃ الطالب فی أنساب آل ابی طالب، قم، مؤسسۃ انصاریان للطباعۃ و النشر، 1417ھ۔
  • بخاری، ابونصر سہل بن عبد‌اللہ، سر السلسلۃ العلویۃ فی أنساب السادۃ العلویۃ، بہ تحقیق مہدی رجایی، قم، کتابخانہ بزرگ حضرت آیت اللہ العظمی مرعشی نجفی، 1389ہجری شمسی۔
  • بلاذری، احمد بن یحیی، أنساب الأشراف، بہ تحقیق سہیل زکار و ریاض الزرکلی، بیروت، دار الفکر، پہلی اشاعت، 1417ھ۔
  • ذہبی، محمد بن احمد، سیر أعلام النبلاء، قاہرہ،‌ دار الحدیث، 1427ھ۔
  • سمعانی، عبدالکریم بن محمد، الأنساب، گردآوری عبداللہ عمر، بیروت، دارالجنان، 1408ھ۔
  • سید مرتضی، علی بن حسین، تنزیہ الأنبیاء و الأئمۃؑ، بہ تصحیح مہدی مہریزی، گردآوری و تحقیق محمدحسین درایتی، مشہد، بنیاد پژوہش‌ہای اسلامی آستان قدس رضوی، 1398ہجری شمسی۔
  • سید مرتضی، علی بن حسین، الشافی فی الإمامۃ، بہ تحقیق محمدحسین درایتی، مشہد، بنیاد پژوہش‌ہای اسلامی آستان قدس رضوی، 1398ہجری شمسی۔
  • شہرستانی، سید علی، التسمیات بین التسامح العلوی و التوظیف الأموی، قم، مؤسسۃ الرافد للمطبوعات، 1431ھ۔
  • طبری، محمد بن جریر، تاریخ الأمم و الملوک، بہ تحقیق محمدابوالفضل ابراہیم، بیروت، روائع التراث العربی، بی‌تا.
  • علوی عمری، علی بن محمد، المجدی فی أنساب الطالبیین، بہ تصحیح مہدی رجایی و احمد مہدوی دامغانی، قم، کتابخانہ عمومی حضرت آیت اللہ العظمی مرعشی نجفی، 1380ہجری شمسی۔
  • فقیہ بحرالعلوم، محمدمہدی، و احمد خامہ‌یار، زیارتگاہ‌ہای عراق، تہران، سازمان حج و زیارت، بی‌تا.
  • قطب راوندی، سعید بن ہبۃ‌اللہ، الخرائج و الجرائح‌، قم، مؤسسۃ الامام المہدی(عج)، 1409ھ۔
  • محب‌الدین طبری، احمد بن عبداللہ، ذخائر العقبی فی مناقب ذوی القربی، قاہرہ، مکتبۃ القدسی، 1356ھ۔
  • مصعب بن عبداللہ، نسب قریشمسی، بہ تصحیح اِواریست لِوی پرووانسال، قاہرہ، دارالمعارف، چوتھی اشاعت، بی‌تا۔