مندرجات کا رخ کریں

"قرآن کریم" کے نسخوں کے درمیان فرق

م
سطر 37: سطر 37:
قرآن کی بعض آیات کے مطابق قرآن، [[رمضان المبارک]] کے مہینے میں [[شب قدر]] کو نازل ہوا ہے۔<ref>قرآن، بقرہ، 185؛ قدر، 1.</ref> اس بنا پر مسلمانوں کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے کہ کیا قرآن دفعتا(ایک ہی دفعہ) نازل ہوا ہے یا تدریجا(موقع محل اور حالات کی نزاکت کے مطابق کم کم ہوتے ہوئے) نازل ہوا ہے۔ <ref>اسکندرلو، علوم قرآنی، 1379ش، ص41.</ref> بعض کہتے ہیں: قرآن دفعی طور پر بھی نازل ہوا ہے اور تدریجی طور پر بھی؛<ref>مصباح یزدی،  قرآن‌شناسی،  1389، ج1، ص139؛ اسکندرلو، علوم قرآنی، 1379ش، ص41.</ref> اسی طرح بعض کا عقیدہ ہے کہ ہر سال جس مقدار میں نازل ہونا تھا وہ اسی سال شب قدر کو ایک ساتھ نازل ہوتا تھا؛<ref>اسکندرلو، علوم قرآنی، 1379ش، ص42.</ref> جبکہ اس کے مقابلے میں بعض یہ کہتے ہیں کہ قرآن صرف اور صرف تدریجی طور پر نازل ہوا ہے جس کا آغاز رمضان اور شب قدر میں ہوا تھا۔<ref>اسکندرلو، علوم قرآنی، 1379ش، ص42و49.</ref>
قرآن کی بعض آیات کے مطابق قرآن، [[رمضان المبارک]] کے مہینے میں [[شب قدر]] کو نازل ہوا ہے۔<ref>قرآن، بقرہ، 185؛ قدر، 1.</ref> اس بنا پر مسلمانوں کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے کہ کیا قرآن دفعتا(ایک ہی دفعہ) نازل ہوا ہے یا تدریجا(موقع محل اور حالات کی نزاکت کے مطابق کم کم ہوتے ہوئے) نازل ہوا ہے۔ <ref>اسکندرلو، علوم قرآنی، 1379ش، ص41.</ref> بعض کہتے ہیں: قرآن دفعی طور پر بھی نازل ہوا ہے اور تدریجی طور پر بھی؛<ref>مصباح یزدی،  قرآن‌شناسی،  1389، ج1، ص139؛ اسکندرلو، علوم قرآنی، 1379ش، ص41.</ref> اسی طرح بعض کا عقیدہ ہے کہ ہر سال جس مقدار میں نازل ہونا تھا وہ اسی سال شب قدر کو ایک ساتھ نازل ہوتا تھا؛<ref>اسکندرلو، علوم قرآنی، 1379ش، ص42.</ref> جبکہ اس کے مقابلے میں بعض یہ کہتے ہیں کہ قرآن صرف اور صرف تدریجی طور پر نازل ہوا ہے جس کا آغاز رمضان اور شب قدر میں ہوا تھا۔<ref>اسکندرلو، علوم قرآنی، 1379ش، ص42و49.</ref>


== قرآن کے اسماء اور صفات ==
== قرآن کے اسماء==
قرآن کے بہت سارے اسماء ذکر کئے گئے ہیں جن میں سے "فرقان"،<ref>سورہ فرقان،آیت 1۔</ref> "ذکر"،<ref>سورہ انبیاء، آیت 50۔</ref>  "تنزیل،<ref> سورہ شعراء، آیت 192۔</ref> "الکتاب<ref> سورہ بقره، آیت 2؛ حجر، آیت 1۔</ref> اور "کلام اللہ"<ref> سورہ توبہ، آیت 6؛ سورہ فتح، آیت 15۔</ref> قرآن کے مشہور نام ہیں۔ نیز قرآن کو دوسری صفات سے بھی یاد کیا گیا ہے جیسے: "القرآن المجید"،<ref>سورہ "ق"، آیت 2؛ سورہ بروج، آیت 21۔</ref> "القرآن العظیم،<ref> سورہ حجر، آیت 78۔</ref> "القرآن الحکیم"،<ref>سورہ یس، آیت 2۔</ref> "القرآن الکریم"،<ref> سورہ واقعہ آیت 77۔</ref> "قرآن مبین"۔<ref> سورہ حجر، آیت 1۔</ref>۔<ref>خرمشاہی، دانشنامہ قرآن و قرآن پژوہی، ج2، ص 1631۔</ref>
قرآن کے بہت سارے اسماء ذکر کئے گئے ہیں جن میں سے قرآن، فرقان،<ref>سورہ فرقان،آیت 1۔</ref> الکتاب<ref> سورہ بقره، آیت 2؛ حجر، آیت 1۔</ref> اور مُصحَف سب سے مشہور نام ہیں۔<ref>یوسفی غروی، علوم قرآنی، ۱۳۹۳ش، ص۲۸.</ref>مصحف کا نام ابوبکر نے رکھا ہے؛ لیکن دوسرے نام قرآن مجید ہی میں ذکر ہوئے ہیں۔<ref>یوسفی غروی، علوم قرآنی، ۱۳۹۳ش، ص۲۸.</ref>
سب سے مشہور نام قرآن ہے جس کا معنی پڑھی جانے والی ہے اور یہ لفظ الف اور لام کے ساتھ قرآن میں 50 مرتبہ ذکر ہوا ہے اور ان تمام استعمالات میں اس کا معنی قرآن مجید کی کتاب ہے؛ اسی طرح الف لام کے بغیر 20 مرتبہ ذکر ہوا ہے جن میں سے 13 جگہوں پر قرآن مجید کی کتاب کے معنی میں آیا ہے۔<ref>مصباح یزدی،  قرآن‌شناسی،  ۱۳۸۹ش، ج۱، ص۴۳.</ref>


==قرآن کی تاریخ==
==قرآن کی تاریخ==
confirmed، movedable، protected، منتظمین، templateeditor
8,901

ترامیم