سبع طوال

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

طِوال یا سبع طوال ان سورتوں کو کہا جاتا ہے جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ روایت کی بنیاد پر ان کا نام خود محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ نے رکھا۔ اور سورہ انعام اور سورہ اعراف کو چھوڑ کر یہ تمام سورے مدنی سورے ہیں۔ان سوروں کے نام اس طرح ہیں: بقره، آل‌عمران، نساء، مائده، انعام، اعراف و توبہ۔ کچھ لوگوں نے سورہ توبہ کی جگہ، سوره یونس کو شمار کیا ہے اور بعض لوگوں نے انفال اور توبہ کو ایک ہی سورہ شمار کیا ہے۔ بظاہر ان سوروں کو اس لئے سبع طوال کہا جاتا ہے کیونکہ یہ طویل اور لمبے سورے ہیں۔

وجہ تسمیہ اور طوال کے معنی

طِوال، لمبے اور طولانی کے معنی میں ہے۔[1] بظاہر ان سوروں کا نام اسی وجہ سے سبع طوال پڑا ہے کیونکہ یہ سات سورے، قرآن کے دوسرے سوروں کے مقابل میں زیادہ طویل اور بڑے ہیں۔[2]

سبع طوال، آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کی روایت میں

حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا:
"أُعْطِيتُ اَلسُّوَرَ اَلطِّوَالَ مَكَانَ اَلتَّوْرَاةِ وَ أُعْطِيتُ اَلْمِئِينَ مَكَانَ اَلْإِنْجِيلِ وَ أُعْطِيتُ اَلْمَثَانِيَ مَكَانَ اَلزَّبُورِ وَ فُضِّلْتُ بِالْمُفَصَّلِ ثَمَانٌ وَ سِتُّونَ سُورَةً وَ هُوَ مُهَيْمِنٌ عَلَى سَائِرِ اَلْكُتُبِ وَ اَلتَّوْرَاةُ لِمُوسَى وَ اَلْإِنْجِيلُ لِعِيسَى وَ اَلزَّبُورُ لِدَاوُدَ؛"
 (ترجمہ: مجھے توریت کے بدلے طویل سورے عطا کئے گئے اور انجیل کے بجائے سو آیت والے سورے دئے گئے اور زبور کے مقابل، مثانی سورے عنایت کئے گئے اور مزید اڑسٹھ (68) تفصیلی سورے الگ سے فضیلت کے طور پر مرحمت کئے گئے۔ یہ قرآن دوسری کتابوں پر نگہبان اور گواہ ہے۔ موسی (علیہ السلام) کی کتاب توریت، عیسی (علیہ السلام) کی کتاب انجیل اور داؤد (علیہ السلام) کی کتاب زبور ہے)

کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۲، ص۶۰۱.

طویل سورے

قرآن میں سورہ الحمد کے بعد کے ابتدائی سات سوروں کو سبع طوال، کو جاتا ہے۔ ان سوروں کے نام اس طرح ہیں: بقره، آل‌عمران، نساء، مائده، انعام، اعراف و توبہ۔ کچھ لوگوں نے سورہ توبہ کی جگہ، سوره یونس کو شمار کیا ہے اور بعض لوگوں نے انفال اور توبہ کو ایک ہی سورہ، شمار کیا ہے۔[3]

سوره بقره

سوره بقره قرآن کی ترتیب کے لحاظ سے دوسرا سورہ ہے جس میں 286 آیتیں ہیں۔ یہ قرآن کا سب سے لمبا سورہ ہے اورعثمان طہ کی خطاطی کے حساب سے 48 صفحات پر مشتمل ہے اور ایک مدنی سورہ ہے۔

سوره آل‌عمران

طویل سوروں میں دوسرا سورہ، آل‌عمران ہے جو عثمان طہ کی کتابت کے لحاظ سے27 صفحوں پر مشتمل ہے۔ اس سورہ میں 200 آیتیں ہیں اور ایک مدنی سورہ ہے۔

سوره نساء

سوره نساء میں 176 آیتیں ہیں۔ یہ قرآن کا چوتھا سورہ ہے جبکہ تیسرا طویل سورہ ہے۔ خط عثمان طہ کے مطابق یہ سورہ 29 صفحات پر لکھا گیا ہے اور مدنی سورہ ہے۔

سوره مائده

سوره مائده، قرآن کی ترتیب میں پانچواں سورہ ہے اور اس میں 120 آیتیں ہیں۔ یہ سورہ مدینہ میں نازل ہوا اور عثمان طہ کے قلم سے 21 صفحوں پر پھیلا ہوا ہے۔

سوره انعام

طویل سوروں میں پہلا مکی سورہ، سوره انعام ہے اور اس میں 165 آیتیں ہیں۔ عثمان طہ کے ہاتھ سے 23 صفحوں پر لکھا گیا ہے۔

سوره اعراف

قرآن کا ساتواں سورہ سوره اعراف ہے۔ یہ سورہ بھی سورہ انعام کی طرح ایک مکی سورہ ہے اور طویل ہونے کے باعث سبع طوال میں شمار ہوتا ہے۔ اس میں 206 آیتیں ہیں اور عثمان طہ کے حساب سے 26 صفحوں پر لکھا گیا ہے۔

سورہ توبہ

سورہ توبہ، قرآن کا نواں اور سبع طوال کا ساتواں سورہ ہے۔ اس مدنی سورہ میں 129 آیتیں ہیں اور عثمان طہ نے اس کو 21 صفحوں پر لکھا ہے۔

حوالہ جات

  1. طریحی، مجمع البحرین، ۱۳۷۵ش، ج۵، ص۴۱۴.
  2. فرہنگ‌نامه علوم قرآنی، مقالہ «سُوَر سبع طِوال» سے ماخوذ
  3. معرفت، علوم قرآنی، ۱۳۷۸ش، ص ۱۱۴


مآخذ

  • حسینی طہرانی، محمدحسین، مہر تابان، مشہد، نور ملکوت قرآن، ۱۴۲۶ھ۔
  • جرجانی، ابوالمحاسن حسین بن حسن، جلاء الاذہان و جلاء الاحزان، تہران، انتشارات دانشگاہ تہران، چاپ اول، ۱۳۷۷ش۔
  • سیوطی، عبدالرحمن بن ابی بکر، الدر المنثور فی التفسیر بالماثور، قم، نشر کتابخانہ عمومی آیت اللہ العظمی مرعشی نجفی، چاپ سنگی، ۱۴۰۴ھ۔ (کتابخانہ نور)
  • طریحی، فخرالدین، مجمع البحرین، تہران، نشر مرتضوی، چاپ سوم، ۱۳۷۵ش۔
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تہران، دارالکتب الاسلامیہ، ۱۴۰۷ھ۔
  • معرفت، محمدہادی، علوم قرآنی، قم، مؤسسہ فرہنگی تمہید قم، ۱۳۸۷ش۔