فضل بن حسن طبرسی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
فضل بن حسن طبرسی
شیخ طبرسی کا مقبرہ (مشہد)
کوائف
مکمل نام فضل بن حسن طبرسی
لقب/کنیت امین الاسلام
تاریخ ولادت 468 یا 469 ھ
آبائی شہر مشہد
رہائش سبزوار، مشہد
تاریخ وفات 548 ھ سبزوار
مدفن مشہد
نامور اقرباء حسن بن فضل بن حسن طبرسی بیٹے، علی بن حسن طبرسی پوتے۔
اولاد حسن بن فضل بن حسن طبرسی
علمی معلومات
اساتذہ ابو علی بن شیخ طوسی، حسن بن حسین بن حسن بن بابویہ قمی رازی....
شاگرد ابو نصر حسن بن فضل طبرسی، محمد بن علی ابن شهر آشوب، شیخ منتجب الدین، قطب راوندی ..
تالیفات تفسیر مجمع البیان، جوامع الجامع، اعلام الهدی فی فضائل الائمة (ع)....
خدمات
سماجی متکلم، مفسر، محدّث، فقیہ

فضل بن حسن بن فضل طبرِسی (468 یا 469-548 ھ) کی کنیت ابو علی اور لقب امین الاسلام ہے۔ نامور شیعہ امامیہ مفسر اور تفسیر مجمع البیان کے مولف ہیں۔ چھٹی صدی ہجری کے معروف عالم، محدّث، فقیہ اور متکلّم ہیں۔ جوامع الجامع و اعلام الوری بھی ان کی مشہور تالیفات میں سے ہیں۔ قبر میں ان کے زندہ ہو جانے کی داستان نقل کی جاتی ہے جسے بعض محققین معتبر نہیں مانتے ہیں۔

تعارف

فضل بن حسن بن فضل طبرسی نامور شیعہ مفسر قرآن ہیں۔ ان کی ولادت کا دقیق سال معلوم نہیں ہے۔[1] بعض محققین نے ان کی ولادت کا سنہ 467 سے 469 ھ قرار دیا ہے۔[2] قدیم منابع میں ان کے محل ولادت کا ذکر نہیں ہوا ہے۔ طبرسی و کتاب مجمع البیان کے مولف نے ان کا محل ولادت مشہد قرار دیا ہے لیکن انہوں نے اپنے اس دعوی کا کوئی منبع ذکر نہیں کیا ہے۔[3]

ان کے بیٹے ابو نصر حسن بن فضل بن حسن طَبرِسی، مکارم الأخلاق نامی کتاب کے مصنف ہیں اور ان کے پوتے ابوالفضل علی بن حسن بن فضل طبرسی نثر اللئالی اور مشکاة الانوار کے مصنف ہیں جو کتاب مکارم الاخلاق کی تکمیل کی غرض سے لکھی گئی ہے۔[4]

طبرسی مازندرانی ہیں یا تفرشی؟

طبرسی کہاں کے رہنے والے ہیں اس سلسلہ میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض انہیں مازندرانی کہتے ہیں تو بعض تفرشی؟ یہ اختلاف ان کی شہرت طبرسی کے لفظی ساخت یا تلفظ کی وجہ ہے۔ بعض اس لفظ کو طَبَرسی پڑھتے ہیں اور دعوی کرتے ہیں کہ یہ لفظ ان کے طبرستان سے منسوب ہونے کو ثابت کرتا ہے۔ میرزا عبدالله افندی ریاض العلماء میں،[5] محمد علی مدرس تبریزی ریحانة الادب میں،[6] و محمد باقر خوانساری روضات الجنات میں[7] اس بات ہر اصرار کرتے ہیں۔

لیکن اکثر نے کہا ہے کہ اگر یہ طبرستان سے منسوب ہوتا تو طبرسی کی بجائے طبری یا طبرانی یا طبرستانی ہونا چاہئے تھا۔ صاحب مجمع البیان کے مصنف کا نام عربی میں طَبْرسی ہے جسے تَفرِشی سے تبدیل کیا گیا ہے۔ تفرش نام کا ایک شہر ایران میں قم اور اراک کے قریب واقع ہے۔[8] آیت اللہ شبیری زنجانی ماہر رجال و مرجع تقلید بھی انہیں اہل تفرش قرار دیتے ہیں۔[9] شبیری زنجانی کہتے ہیں: کتاب تاریخ بیھق طبرسی کے بارے میں قدیم ترین مصدر ہے اور اس کتاب میں تصریح ہوئی ہے کہ وہ تفرش کے رہنے والے ہیں۔[10] تاریخ بیھق کے مولف علی بن ابی القاسم معروف بہ فرید خراسان متوفی سنہ 565 ھ طبرسی کے معاصر تھے۔[11]

وفات

مشہد میں فضل بن حسن طبرسی کا مزار

مشہور قول کی بنا پر فضل بن حسن طبرسی نے اپنی عمر کے آخری 25 سال سبزوار میں گزارے اور سنہ 548 ھ میں وفات پائی۔[12] آفندى اصفہانی اور محمد باقر خوانسارى نے ان کی شہادت کی تصریح کی ہے۔ حاجى نورى نے لکھا ہے: جنہوں نے ان کے حالات زندگی لکھے ہیں، انہوں نے ان کی شہادت کی کیفیت بیان نہیں کی ہے۔ شاید انہیں زہر سے شہید کیا گیا ہے۔ اسی وجہ سے وہ شہید کے عنوان سے معروف نہیں ہوئے۔[13] جعفر سبحانی اس دعوی کو اوہام میں شمار کرتے تھے جس کی ریاض العلماء سے پہلے کوئی سند نہیں ملتی ہے۔[14]

ان کی وفات کے بعد ان کے پیکر کو مشہد میں حضرت امام رضاؑ کے حرم میں اس جگہ منتقل کیا گیا جو اس زمانے میں قتل گاہ کے نام سے معروف تھی،[15] اور وہیں دفن کیا گیا۔[16]

مشائخ

امین الاسلام طبرسی نے ان بزرگان سے روایت نقل کی ہے:

  1. ابو علی بن شیخ طوسی
  2. ابو الوفاء عبد الجبار بن علی المقری رازی
  3. حسن بن حسین بن حسن بن بابویہ قمی رازی
  4. موفق الدین ابن الفتح الواعظ بکرآبادی
  5. سید ابوطالب محمد بن الحسین حسینی قصبی جرجانی
  6. ابوالفتح عبدالله بن عبدالکریم بن ہوازن قشیری
  7. ابوالحسن عبید اللہ محمد بن الحسین بیہقی
  8. جعفر دوریستی[17]

شاگرد

جن علما نے ان سے روایت نقل کی ہے ان کے اسما درج ذیل ہیں:

  1. ان کے بیٹے ابو نصر حسن بن فضل مشہور کتاب مکارم الاخلاق کے مصنف
  2. رشید الدین ابو جعفر محمد بن علی بن شہر آشوب
  3. شیخ منتجب الدین مؤلف الفہرست
  4. قطب راوندی مؤلفِ کتاب الخرائج و الجرائح
  5. سید فضل الله راوندی
  6. سید ابو الحمد مہدی بن نزار حسینی قائنی
  7. سید شرف شاه بن محمد بن زیاده افطسی
  8. شیخ عبدالله بن جعفر دورستی
  9. شاذان بن جبرئیل قمی[18]

تالیفات

تفسیر مجمع البیان

طبرسی بہت سی کتابوں کے مصنف ہیں۔ ان میں سے بعض مشہور ہیں:

تفصیلی مضمون: مجمع البیان
  • مجمع البیان، 10 جلدوں میں لکھی گئی یہ تفسیر شیعہ تفاسیر کے اصلی ماخذوں میں سے سمجھی جاتی ہے۔ خود مصنف نے اس تفسیر کے مقدمے میں لکھا ہے کہ اس کی تالیف میں شیخ طوسی کی التبیان سے استفادہ کیا ہے۔

دوسری چند تصنیفات کے نام:

  1. جامع الجوامع یا جوامع الجامع: اس کے متعلق مصنف نے مقدمے میں کہا: مجمع البیان کے تمام مطالب پر مشتمل ہے اور کشاف کا خلاصہ ہے۔
  2. الوافی: یہ کتاب بھی تفسیر قرآن ہے
  3. اعلام الوری باعلام الہدیٰ
  4. اعلام الہدیٰ فی فضائل الائمہؑ 2 جلدیں
  5. تاج الموالید
  6. الآداب الدینیہ
  7. النور المبین
  8. الفائق
  9. غنیہ العابد
  10. کنوز النجاح
  11. عدۃ السفر و عمدۃ الحضر
  12. معارج السؤال
  13. أسرار الأئمہ
  14. مشکاۃ الانوار[19]
  15. رسالۃ حقائق الأمور
  16. العمدۃ فی اصول الدین و الفرائض و النوافل

بعض علما احتجاج کو بھی انہی کی تصنیف شمار کرتے ہیں مگر ابن شہر آشوب نے معالم العلماء میں تصریح کی ہے کہ یہ درست نہیں ہے بلکہ احتجاج احمد بن علی بن ابی طالب طبرسی کے آثار میں سے ہے۔[20]

طبرسی کے قبر میں زندہ ہونے کی داستان

صاحب ریاض العلماء سے منقول ہے:

طبرسی کی حرکت قلب بند ہو گئی تو لوگوں نے گمان کیا کہ وفات پا گئے ہیں لہذا انہوں نے طبرسی کو دفن کر دیا۔ طبرسی کو ہوش آیا تو خود کو قبر میں پایا۔ انہوں نے وہیں نذر کی کہ اگر خدا نے انہیں اس مصیبت سے نجات دی تو وہ ایک تفسیر قرآن لکھیں گے۔ اتفاقا ایک کفن چور نے کفن چوری کرنے کی نیت سے ان کی قبر کھودی اور طبرسی نے کفن چوری کرتے ہوئے اس شخص کے ہاتھوں کو پکڑ لیا۔ وہ شخص ڈر گیا۔ طبرسی نے اسے اپنی سرگزشت سنائی۔ لہذا اس کفن چور نے آپ کو کندھے پر اٹھا کر ان کے گھر پہنچایا۔ طبرسی نے اپنا کفن اور مال اسے ہدیہ کر دیا۔ اس کفن چور نے اپنے اس گھناؤنے فعل سے توبہ کر لی۔ پھر امین الاسلام نے مجمع البیان تالیف کی۔[21]

اس بات کے پیش نظر کہ طبرسی چھٹی صدی ہجری کے عالم ہیں اور افندی بارہویں صدی ہجری کے علماء میں سے ہیں۔ اس واقعہ کے لئے سند کی ضرورت ہے جبکہ انہوں نے اس کو بغیر کسی سند کے نقل کیا ہے اور محدث نوری نے بھی اس بات کی تصریح کی ہے کہ ان سے پہلے کسی نے اس واقعہ کو بیان نہیں کیا ہے۔[22] آیت اللہ جعفر سبحانی بھی بیان کرتے ہیں کہ اگر اس طرح کا کوئی واقعہ پیش آیا ہوتا تو شیخ طبرسی کتاب کے مقدمہ میں اس کا تذکرہ کرتے اور دوسرے افراد بھی اسے نقل کرتے۔ ان کے علاوہ اس طرح کے واقعہ کی نسبت ملا فتح اللہ کاشانی و ملا صالح مازندرانی کے فرزند جیسے دوسرے افراد بھی طرف بھی دی گئی ہے۔[23]

متعلقہ صفحات

حوالہ جات

  1. سبحانی تبریزی، الشیخ الطبرسی امام المفسرین، ص۸
  2. گرجی، جوامع الجامع (مقدمہ)، ج۱، ص دو بہ نقل از طبرسی و مجمع البیان، حسین کریمان، سبحانی تبریزی، الشیخ الطبرسی امام المفسرین، ص۸
  3. شایستہ ‌نژاد، طبرسی و تفسیر مجمع البیان، ص۷
  4. موسوی خوانساری، روضات الجنات، نشر اسماعیلیان، ج۵، ص۳۶۱
  5. افندی، ریاض العلماء، کتابخانہ آیة الله مرعشی، ج۴، ص۳۵۷
  6. مدرس تبریزی، ریحانة الادب، کتاب فروشی خیام، ج۴، ص۳۳
  7. موسوی خوانساری، روضات الجنات، نشر اسماعیلیان، ج۱، ص۶۴
  8. فصلنامہ پژوهش‌های قرآنی
  9. شبیری زنجانی، جرعہ ‌ای از دریا، ج۴، ص۳۶۱-۳۶۳
  10. شبیری زنجانی، جرعہ ‌ای از دریا، ج۴، ص۳۶۱
  11. شبیری زنجانی، جرعہ ‌ای از دریا، ج۴، ص۳۶۱. قزوینی، تاریخ بیهق (مقدمہ)، ص۱۲
  12. موسوی خوانساری، روضات الجنات، نشر اسماعیلیان، ج۵، ص۳۵۹
  13. عابدی، ترجمہ الآداب الدینیہ، ۱۳۸۰ش، ص۲۰۶-۲۰۷
  14. سبحانی تبریزی، الشیخ الطبرسی امام المفسرین، ص۴۴
  15. موسوی خوانساری، روضات الجنات، نشر اسماعیلیان، ج۵، ص۳۵۹
  16. ابن فندق، تاریخ بیهق، نشر فروغی، ص۲۴۲
  17. سید محسن امین، ج8، ص398 – 399۔
  18. سید محسن امین، ج8، ص399۔
  19. اسی نام سے ان کے پوتے فضل بن حسن طبرسی نے کتاب لکھی ہے وہ کتاب زیادہ مشہور ہوئی۔
  20. سید محسن امین، ج8، ص399-400۔
  21. سید محسن امین، ج8، ص400۔
  22. نوری، مستدرک الوسائل، الخاتمة، ج۳، ص ۷۰.
  23. سبحانی تبریزی، الشیخ الطبرسی امام المفسرین، ص۴۵-۴۷


مآخذ

  • ابن فندق، علی بن زید بیهقی، تاریخ بیهق، تعلیقات: احمد بهمنیار، نشر فروغی، تهران، ۱۳۶۱ش.
  • افندی اصفهانی، عبدالله، ریاض العلماء و حیاض الفضلاء، تحقیق: سید احمد حسینی اشکوری، کتابخانہ آیة الله مرعشی، قم، ۱۴۰۱ق.
  • امین، سید محسن، اعیان الشیعة، تحقیق: سید حسن امین، بیروت، دار التعارف للمطبوعات، ۱۴۰۶ق.
  • سبحانی تبریزی، جعفر، الشیخ الطبرسی امام المفسرین فی القرن السادس، مؤسسہ امام صادق(ع)، قم، ۱۳۸۲ش.
  • شایستہ ‌نژاد، علی‌ اکبر، طبرسی و تفسیر مجمع البیان، خانہ کتاب، تهران، ۱۳۸۹ش.
  • شبیری زنجانی، سید موسی، جرعہ ‌ای از دریا، مؤسسہ کتاب ‌شناسی شیعہ، قم، ۱۳۹۹ش.
  • عابدی، احمد، ترجمہ الآداب الدینیہ، قم، زائر، ۱۳۸۰ش.
  • فصلنامہ پژوهش‌ های قرآنی
  • قزوینی، محمد، مقدمہ تاریخ بیهق، مندرج در تاریخ بیهق نوشتہ ابن فندق، نشر فروغی، تهران، ۱۳۶۱ش.
  • گرجی، ابوالقاسم، مقدمہ جوامع الجامع، مندرج در جوامع الجامع نوشته فضل بن حسن طبرسی، مؤسسة النشر الاسلامی، قم، ۱۴۱۵ق.
  • مدرس تبریزی، محمد علی، ریحانة الادب فی تراجم المعروفین بالکنیہ أو اللقب، کتاب فروشی خیام، تهران، ۱۳۶۹ش.
  • موسوی خوانساری، سید محمد باقر، روضات الجنات فی احوال العلماء و السادات، اسماعیلیان، قم، ۱۳۹ش.
  • نوری، میرزا حسین، خاتمة مستدرک الوسایل، قم، مؤسسة آل البیت لاحیاء التراث، بی‌تا.