ترجمہ قرآن

ویکی شیعہ سے
تیموریوں کے دور میں قرآن کا ایک نسخہ فارسی ترجمہ کے ساتھ

ترجمہ قرآن، قرآن کو عربی زبان سے دوسری زبانوں میں منتقل کرنے کو کہا جاتا ہے۔ یہ مسئلہ قرآنیات کے اہم موضوعات میں سے ہے جس کا دائرہ کار شرعی احکام اور اسلامی اعتقادات تک پھیلا ہوا ہے۔ بعض علماء صدر اسلام میں پیش آنے والے بعض واقعات نیز قرآن کے پیغام کو پوری دنیا تک پہنچانے کے لئے ترجمہ قرآن کو جائز سمجھتے ہیں لیکن اس کے مقابلے میں بعض علماء مختلف دلائل من جملہ قرآن کے ادبی معجزے اور عربی زبان کی فوقیت کو مد نظر رکھتے ہوئے ترجمہ قرآن کی مخالفت کرتے ہیں۔

ترجمہ قرآن کی تاریخ صدر اسلام کے بعض واقعات جیسے پیغمبر اکرمؐ کا بعض ممالک کے سربراہان کے نام لکھے گئے خطوط سے شروع ہوتی ہے۔ یورپی زبانوں میں قرآن کے ترجمے کا آغاز عیسائی کشیشوں کے ذریعے قرآن پر اعتراضات کرنے کی خاطر ہوا۔

محققین اس بات کے معتقد ہیں کہ قرآن کا پہلا فارسی ترجمہ چوتھی صدی ہجری میں ہوا تھا۔ بعض محققین قرآن کے فارسی ترجموں کو قدیمی ترجمے، حالیہ ترجمے اور منظوم ترجموں میں تقسیم کرتے ہیں۔

تحت‌ اللفظی ترجمہ، آزاد ترجمہ اور تفسیری ترجمہ من جملہ ترجمہ قرآن کے طریقوں میں سے ہیں۔ قرآن کے ترجموں میں اختلافات پائے جاتے ہیں جس کی وجہ مترجمین کے فقہی، ادبی اور کلامی نقطہ نگاہ میں اختلافات بیان کی جاتی ہیں۔

ترجمہ قرآن کا مسئلہ

قرآن کو عربی زبان سے دوسری زبانوں میں منتقل کرنے کو ترجمہ قرآن کہا جاتا ہے۔[1] یہ مسئلہ مسلمانوں کے یہاں بحث بر انگیز مسائل میں سے ایک ہے اور تقریبا قرآنیات کی تمام کتابوں میں اس کے لئے کوئی نہ کوئی فصل مختص کی گئی ہیں۔[2] مسلمانوں کے مطابق قرآن کے عربی الفاظ اور معانی دونوں خدا کی طرف سے نازل ہوئے ہیں۔[3] بعض علماء عربی زبان کی ذاتی تقدس کو مد نظر رکھتے ہوئے اسے وحی کے مفاہیم کو منتقل کرنے کے لئے سزاوار سمجھتے ہیں جبکہ ان کے مقابلے میں بعض لوگ قرآن میں تشبیہات کے وفور کو عربی زبان کی محدودیت‌ کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔[4] اعجاز قرآن اور قرآن کے مخلوق ہونے کا نظریہ جیسے موضوعات بھی ترجمہ قرآن سے مربوط مسائل میں سے ہیں۔[5]

ترجمہ کے اقسام

قرآنی محققین ترجمہ قرآن کو مختلف اقسام میں تقسیم‌ کرتے ہیں من جملہ ان میں تطبیقی، تفسیری، تحت‌ اللفظی، آزاد اور منظوم ترجمہ شامل ہیں:[6]

  • ترجمہ تطبیقی: کیفیت (مضمون) اور کمیت (حجم) دونوں حوالے سے ترجمہ اور قرآن کے متن میں ہماہنگی پائی جاتی ہے۔
  • ترجمہ تحت‌ اللفظی: تحت اللفظی ترجمہ کا مطلب ہر کلمے اور ترکیب کی جگہ دوسری زبان میں اس کا مترادف اور ہم معنی کلمات اور ترکیبوں کو قرار دینا ہے۔ محمد علی کوشا کے مطابق ترجمہ کی یہ قسم حقیقت میں ترجمہ سے خارج ہو کر لغات میں شامل ہو جاتا ہے۔[7]
  • ترجمہ آزاد یا مضمونی: ترجمہ کی اس قسم میں مترجم آیات کے مضامین کو متعلقہ زبان میں منتقل کرتا ہے جس میں ہر جملے کا قرآن کے متن سے منطبق ہونا ضروری نہیں ہے۔ محمد ہادی معرفت ترجمہ کی اس قسم کو معنوی ترجمہ قرار دیتے ہیں جس میں اصل مقصد مضمون کو ممکنہ بہترین شکل و صورت میں دوسری زبان میں منتقل کرنا ہوتا ہے۔[8]
  • ترجمہ تفسیری: ترجمہ کی یہ قسم مختصر توضیح اور تفسیر سے آمیختہ ہوتا ہے۔
  • منظوم ترجمہ: ترجمہ کی اس قسم میں آیات کے مضامین کو اشعار کی صورت میں منتقل کیا جاتا ہے۔[9]

ترجمہ قرآن کے حامی اور مخالفین

بعض لوگ ترجمہ قرآن کی حمایت اور بعض اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ سنہ 1923-1938ء کے دوران ترکی کے صدر مصطفی کمال اتاترک کی طرف سے عربی زبان کی جگہ ترکی زبان میں قرآن کے ترجمے کو اصل قرآن قرار دینے کی کوشش کے بعد ترجمہ قرآن کی مخالفت میں اور تیزی آگئی ہے۔[10] مصری مفسر رشید رضا نے ترجمہ قرآن کے جائز نہ ہونے پر پندرہ دلائل پیش کیئے ہیں۔[11]

ترجمہ قرآن کے حامیوں اور مخالفین کے بعض دلائل درج ذیل ہیں:

حامیوں کے دلائل

مخالفین کے دلائل

  • ترجمہ کی صورت میں قرآن کے ادبی معجزے سے ہاتھ دھونا پڑےگا۔[17]
  • دوسری زبانوں کے مقابلے میں عربی زبان کی فوقیت کو مد نظر رکھتے ہوئے ترجمے کے نقصانات۔[18]
  • عربی ثقافت کے بغیر قرآن کی زبان کو سمجھنا نا ممکن ہے۔[19]
  • عربی تفکر و تعقل کے بغیر قرآن کی زبان کو سمجھنا ناممکن ہے۔[20]
  • عربی قرآن میں عربی زبان کے پوشیدہ رموز اور حقائق۔[21]
  • قرآن کے بعض الفاظ کا دوسری زبانوں میں متبادل لفظ کا نہ ہونا۔[22]

بعض علماء اس بات کے معتقد ہیں کہ قرآن کا ترجمہ صرف اس صورت میں قابل قبول ہے جب اس کے جلموں کے اصلی معنی کے ساتھ اس کے لوازمات یا ثانوی مفاہیم بھی متعلقہ زبان میں منتقل ہو؛ یعنی مثلاً اگر کوئی جملہ تأکید یا حصر پر مشتمل ہو تو یہ بھی متعلقہ زبان میں منتقل ہو۔[23]

تاریخی پس منظر

دوسری زبانوں میں دین اسلام کی تبلیغ اور ترویج کی ضرورت کے پیش نظر صدر اسلام سے ہی قرآن کے ترجمہ کا آغاز ہوا،[24] اور اس کام کی ضرورت تین واقعات میں نمایاں طور پر دیکھی جا سکتی ہے:

ابتداء میں یورپی زبانوں میں قرآن کا ترجمہ عیسائی کشیشوں اور راہبوں کے توسط سے ہوا۔ یہ لوگ کلامی مباحث میں قرآن اور اسلام پر اعترضات کرنے کے لئے قرآن کا ترجمہ کرتے تھے۔[29] لاتینی زبان میں قرآن کا مکمل ترجمہ پہلی بار چھٹی صدی ہجری (بارہویں صدی عیسوی) می ہوا۔[30]

تقریبا دنیا کے تمام زندہ زبانوں میں قرآن کا ترجمہ ہوا ہے جن میں افریقہ میں سواحیلی، ہوسایی اور یوروبایی زبانوں، بر صغیر میں اردو، بنگالی اور ہندی زبانوں، ترکی میں آذری اور استانبولی زبانوں کے ساتھ ساتھ چینی اور جاپنی زبان کا نام لیا جا سکتا ہے۔[31]

قرآن کے فارسی ترجمے کی تاریخ

دایرۃ المعارف بزرگ اسلامی میں مقالہ «قرآن کے فارسی ترجمے» کے مصنف آذرنوش کے مطابق قرآن کا پہلا فارسی ترجمہ چوہویں صدی ہجری میں سامانی دور حکومت کے پادشاہ امیر نوح کی جانب سے اپنے زمانے کے علماء سے کی گئی درخواست پر ہوا جو بعد میں ترجمہ تفسیر طبری کے نام سے مشہور ہوا۔[32]

آٹھویں صدی ہجری میں تفسیر گازُر کے ترجمے تک قرآن کا کوئی ترجمہ منظر عام پر نہیں آیا تھا۔ بعض محققین اسلامی ممالک پر مغلوں کے حملے کو اس کی علت قرار دیتے ہیں۔[33] بارہویں صدی ہجری میں شاہ ولی‌ اللہ دہلوی کے ترجمے کے بعد قرآن کے ترجموں میں انقلاب آیا۔[34] بعض محققین کے مطابق یہ ترجمہ طرز تحریر اور طرز ترجمہ کے اعتبار سے بہترین ترجموں میں شمار ہوتا ہے۔[35] چودہویں صدی ہجری کو ترجمہ قرآن کا سنہرا دور تصور کیا جاتا ہے۔[36]

قرآن کے فارسی ترجموں کی فہرست

قرآن کریم کے فارسی ترجموں کو قدیمی ترجمے، جدید ترجمے اور منظوم ترجمے میں تقسیم کئے جاتے ہیں:[37]

  • قدیم ترجمے: جیسے ترجمہ تفسیر طبری، معانی کتاب اللہ تعالی و تفسیر المنیر ابونصر احمد بن محمد حدادی اور ایک نا معلوم مترجم کا ابتدائی دو سپاروں کا منظوم ترجمہ «پلی میان شعر ہجایی و عروضی فارسی» کے نام سے سنہ 1353ہجری شمسی کو منتشر ہوا ہے۔
  • جدید ترجمے: (چودہویں اور پندرہویں صدی ہجری) جیسے طاہرہ صفار زادہ، محمد مہدی فولادوند، آیت اللہ مکارم شیرازی، غلام علی حداد عادل، حسین استادولی، سید علی موسوی گرمارودی، حسین انصاریان، علی‌ اصغر برزی، ابو الفضل بہرام‌ پور اور سید کاظم ارفع کے ترجمے۔
  • منظوم ترجمے: جیسے میرزا حسن اصفہانی (صفی‌علی شاہ)، امید مجد، محمد شائق، سید محمد علی‌محمدی (موسوی جزائری) کے منظوم ترجمے۔

قرآن کے اردو ترجمے کی تاریخ

کہا جاتا ہے کہ اردو زبان میں قرآن کریم کے ترجمے کا آغاز سولہویں صدی عیسوی سے ہوا۔[38] بعض محققین کے مطابق انیسویں صدی عیسوی کو قرآن کے اردو ترجمے کا دوسرا دور کہا جا سکتا ہے۔ اس صدی میں تقریبا ستّر(70) مکمل اور تیس (30) جزوی تراجم کا مختصر تذکرہ کیا گیا ہے۔[39] اس کے بعد بیسویں صدی عیسوی میں اردو زبان میں قرآن مجید کے سب سے زیادہ ترجمے ہوئے۔ محققین اس دور کو اردو زبان میں ترجمہ قرآن کا سنہرا اور انقلابی دور کا نام دیتے ہیں۔ انھوں نے اس صدی کے ایک سو چار(104) مکمل اور ستّانوے(97)جزوی تراجم کا مختصر تعارف کرایا ہے۔[40]

ترجموں میں اختلاف کا سبب

قرآنیات کے محققین نے قرآن کریم کے ترجموں میں اختلاف کے درج ذیل عوامل ذکر کرتے ہیں:

  • فقہ مبنی میں اختلاف: شیعہ اور اہل سنت کے درمیان فقہی مبنا میں اختلاف قرآنی ترجموں میں اختلاف کا باعث بنتا ہے، خاص کر آیات الاحکام میں یہ اختلاف نمایاں طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
  • لغت: قرآنی الفاظ کے متبادل الفاظ کے انتخاب میں اختلاف۔
  • ترکیبات: خاص کر وصفی، اضافی اور وصفی_اضافی ترکیبوں میں اختلاف جو قرآن کی زبان عربی اور ترجمے کی زبان میں مختلف ہوتے ہیں۔
  • جملوں کی بناوٹ میں اختلاف: خاص کر زیادہ ترکیب اور پیچیدہ جملوں میں۔
  • ایجاز حذف: بہت ساری آیات میں ایجاز کی خاطر حرف، اسم، کلمہ اور جملے کو حذف کرنا۔
  • ضمیر کے مرجع میں اختلاف: بعض آیات میں ضمیر کے مرجع کا واضع اور شفاف نہ ہونے کی وجہ سے یہ اختلاف وجود میں آتا ہے۔
  • کلامی نظریات میں اختلاف: کلامی مباحث جیسے مسئلہ جبر، رؤیت خدا اور عصمت کے مفہوم میں اختلاف کی وجہ سے ترجموں میں بھی اختلاف وجود میں آتا ہے۔[41]

قرآن کا گروہی ترجمہ

چودہویں صدی ہجری کی ابتداء میں محمد علی لاہوری کے انگریزی ترجمے کے بعد مصر کے علمی محامل خاص کر الازہر یونیورسٹی میں قرآن کے ترجموں میں رونق آگئی جو تقریبا ایک صدی تک جاری رہا۔[42] سنہ 1355ھ کو الازہر کے اسوقت کے سربراہ محمد مصطفی مراغی نے مصر کے صدر کو قرآن کے گروہی انگریزی ترجمے کی تجویز دی۔[43]

ایران میں بھی بعض محققین اس بات کے متعقد ہیں کہ قرآنیات کے ماہرین اور علماء دین پر مشتمل ایک گروہ کے ذریعے حکومتی سرپرستی میں فارسی زبان بولنے والوں کے لئے قرآن کا ایک ترجمہ ہونا چاہئے۔[44]

نماز میں قرآن کا ترجمہ پـڑھنے کا حکم

شیعہ فقہاء نماز میں قرآن کا ترجمہ پڑھنا جائز نہ ہونے پر اتفاق نظر رکھتے ہیں۔[45] شافعی، حنبلی اور مالکی فقہاء بھی عدم جواز کے قائل ہیں؛[46] لیکن ابو حنیفہ نماز میں قرآن کے ترجمے کو جائز اور کافی سمجھتے ہیں۔[47] ان کی نظر میں زبان قرآن ذاتی تقدس کے حامل نہیں ہے اور سورہ شعراء آیت نمبر 196 کے مطابق قرآن کے مطالب قرآن سے پہلے دوسری زبانوں میں بھی موجود تھے۔ پس قرآن کا ترجمہ بھی عربی قرآن کی طرح ہے۔[48]

متعلقہ مضامین

حوالہ جات

  1. کوشا، «ترجمہ قرآن»، ص425۔
  2. ہاشمی، «ترجمہ قرآن (مباحث نظری)»، ص77۔
  3. ایزوتسو، خدا و انسان در قرآن، 1361ہجری شمسی، ص193–198۔
  4. ہاشمی، «ترجمہ قرآن (مباحث نظری)»، ص73۔
  5. ملاحظہ کریں: بغدادی، الفرق بین الفرق، بی‌تا، ص132۔
  6. معرفت، تفسیر و مفسران، بی‌تا، ج1، ص144–146؛ کوشا، «ترجمہ قرآن»، ص425؛ بی‌آزار شیرازی، قرآن ناطق، ج1، ص229–269۔
  7. کوشا، «ترجمہ قرآن»، ص425۔
  8. معرفت، تفسیر و مفسران، بی‌تا، ج1، ص144–146۔
  9. معرفت، تفسیر و مفسران، بی‌تا، ج1، ص144–146؛ کوشا، «ترجمہ قرآن»، ص425۔
  10. رشیدرضا، تفسیر القرآن الحکیم، 1366ھ، ج9، ص357–363۔
  11. بہادرزادہ، «ترجمہ پذیری قرآن کریم»، ص61۔
  12. ملاحظہ کریں: ابن‌قدامہ، المغنی، بی‌تا، ج1، قسم 2، ص15؛ حمیداللّہ، مجموعہ الوثائق السیاسیہ، 1407ھ، ص100، 109–110، 135–136، 140۔
  13. سرخسی، کتاب المبسوط، 1406ھ، ج1، ص37۔
  14. ملاحظہ کریں: فخررازی، التفسیر الکبیر، قاہرہ، ج1، ص213۔
  15. محمدی ملایری، تاریخ و فرہنگ ایران، 1372ہجری شمسی، ج1، ص26–27۔
  16. میبدی، کشف الأسرار، 1371ہجری شمسی، ج5، ص226۔
  17. زرقانی، مناہل العرفان، 1412ھ، ج2، ص40–41۔
  18. نمونہ کے لئے ملاحظہ کریں: جاحظ، کتاب الحیوان، 1385ھ، ج1، ص75–78۔
  19. غزالی، الجام العوام، 1406ھ، ص64–66۔
  20. عنّارہ، حدث الاحداث، بی‌تا، ص62–65۔
  21. بہادرزادہ، «ترجمہ پذیری قرآن کریم»، ص61۔
  22. بہادرزادہ، «ترجمہ پذیری قرآن کریم»، ص61۔
  23. شاطبی، الموافقات، 1411ھ، ج1، جزء 2، ص51–52۔
  24. ملاحظہ کریں: پاکتچی، ترجمہ شناسی قرآن کریم، 1392ہجری شمسی، ص17۔
  25. ان خطوط سےآگاہی کےلئے ملاحظہ کریں: ابن‌قدامہ، المغنی، بی‌تا، ج1، قسم 2، ص15؛ حمیداللّہ، مجموعہ الوثائق السیاسیہ، 1407ھ، ص100، 109–110، 135–136، 140۔
  26. سرخسی، کتاب المبسوط، 1406ھ، ج1، ص37۔
  27. رامیار، تاریخ قرآن، 1369ہجری شمسی، ص653۔
  28. محمد ابوشعیشع، بررسی فتوای رشید رضا، 1382ہجری شمسی، ش14، ص81۔
  29. رحمتی، «ترجمہ قرآن (بہ زبان‌ہای دیگر)»، ص84۔
  30. رحمتی، «ترجمہ قرآن (بہ زبان‌ہای دیگر)»، ص84۔
  31. ملاحظہ کریں: رحمتی، «ترجمہ قرآن (بہ زبان‌ہای دیگر)»، ص84-95۔
  32. آذرنوش، «ترجمہ ہای فارسی قرآن»، ج15، ص84-86۔
  33. رضایی اصفہانی، منطق ترجمہ قرآن، قم، 1391ہجری شمسی، ص57۔
  34. ملاحظہ کریں: آذرنوش، «ترجمہ ہای فارسی قرآن»، ص91۔
  35. حدادعادل، ترجمہ قرآن، 1388ہجری شمسی، ص26-38۔
  36. حیدری آبروان، بررسی نظرہا و نظریہ ہا در رویکردی نوین بہ پیشینہ تاریخ ترجمہ قرآن کریم، ص75۔
  37. ملاحظہ کریں: مؤسسہ فرہنگی ترجمان وحی۔
  38. https://qindeelonline.com/urdu-men-tarjamaye-quran-ki-tareekh/
  39. https://qindeelonline.com/urdu-men-tarjamaye-quran-ki-tareekh/
  40. https://qindeelonline.com/urdu-men-tarjamaye-quran-ki-tareekh/
  41. عظیم پور مقدم، «ترجمہ قرآن و عوامل اختلاف آن»، ص49–61۔
  42. شاطر، قول السّدید فی حکم ترجمہ القرآن المجید، 1355ھ، ص35–36۔
  43. مہنّا، دراسہ حول ترجمہ القرآن الکریم، بی‌تا، ص47-54۔
  44. ملاحظہ کریں: مجاہدیان، «نگاہی بہ برخی ترجمہ‌ہای قرآن کریم»، ص163۔
  45. ملاحظہ کریں: طوسی، کتاب الخلاف، 1407ھ، ج1، ص343–346؛ محقق کرکی، جامع المقاصد، 1408ھ، ج2، ص246۔
  46. ابواسحاق شیرازی، المہذب، 1379ھ، ج1، ص80۔
  47. سیوطی، الاتقان فی علوم القرآن، 1967م، ج1، ص377۔
  48. مرغینانی، الہدایہ، بی‌تا، ج1، ص47۔

مآخذ

  • ابن‌قدامہ، المغنی، قاہرہ، مکتبہ ابن‌تیمیہ، بی‌تا۔
  • ابواسحاق شیرازی، ابراہیم بن علی، المہذب فی فقہ الامام الشافعی، بیروت، 1379ھ۔
  • آذرنوہجری شمسی، آذرتاہجری شمسی، «ترجمہ‌ہای فارسی قرآن»، دایرۃالمعارف بزرگ اسلامی، تہران، مرکز دایرۃالمعارف بزرگ اسلامی، 1387ہجری شمسی۔
  • بغدادی، عبدالقاہربن طاہر، الفرق بین الفرق، بیروت، دارالکتب العلمیہ، بی‌تا۔
  • بہادرزادہ، پروین، ترجمہ پذیری قرآن کریم، بینات، ش24، فروردین 1378ہجری شمسی، ص61۔
  • بی‌آزار شیرازی، عبدالکریم، تہران، قرآن ناطق، دفتر نشر فرہنگ اسلامی، 1377ہجری شمسی۔
  • پاکتچی، احمد، ترجمہ شناسی قرآن کریم، تہران، انتشارات دانشگاہ امام صادق، 1392ہجری شمسی۔
  • جاحظ، عمروبن بحر، کتاب الحیوان، مصر، چاپ عبدالسلام محمد ہارون، 1385–1389ھ۔
  • حداد عادل، غلامعلی، ترجمہ قرآن، قم، 1388ہجری شمسی۔
  • حمیداللّہ، محمد، مجموعہ الوثائق السیاسیہ للعہدالنبوی و الخلافہ الراشدہ، بیروت 1407ھ۔
  • حیدری آبروان، زہرا، بررسی نظرہا و نظریہ‌ہا در رویکردی نوین بہ پیشینہ تاریخ ترجمہ قرآن کریم، مطالعات ترجمہ قرآن و حدیث، دورہ 7، ش13، بہار و تابستان، 1399ہجری شمسی۔
  • رامیار، محمود، تاریخ قرآن، تہران، امیرکبیر، چاپ سوم، 1369ہجری شمسی۔
  • رحمتی، محمدکاظم، «ترجمہ قرآن (بہ زبان‌ہای دیگر)»، دانشنامہ جہان اسلام (ج7)، تہران، بنیاد دایرۃالمعارف اسلامی، چاپ اول، 1382ہجری شمسی۔
  • ہاشمی، سید احمد، «ترجمہ قرآن (مباحث نظری)»، دانشنامہ جہان اسلام (ج7)، تہران، بنیاد دایرۃالمعارف اسلامی، چاپ اول، 1382ہجری شمسی۔
  • رشیدرضا، محمد، تفسیر القرآن الحکیم (مشہور بہ تفسیر المنار)، مصر، 1366ھ۔
  • رضایی اصفہانی، محمدعلی، منطق ترجمہ قرآن، قم، مرکز بین‌المللی ترجمہ و نشر المصطفی، 1391ہجری شمسی۔
  • زرقانی، محمدعبدالعظیم، مناہل العرفان فی علوم القرآن، بیروت، 1412ھ۔
  • سرخسی، محمدبن احمد شمس الائمہ، کتاب المبسوط، بیروت، 1406ھ۔
  • سیوطی، عبدالرحمان بن ابی بکر، الاتقان فی علوم القرآن، قاہرہ، چاپ محمدابوالفضل ابراہیم، 1967ء۔
  • شاطبی، ابراہیم بن موسی، الموافقات فی اصول الشریعہ، بیروت، 1411ھ۔
  • شاطر، محمدمصطفی، القول السّدید فی حکم ترجمہ القرآن المجید، قاہرہ، 1355ھ، ص35–36۔
  • طوسی، محمدبن حسن، کتاب الخلاف، قم، 1407–1417ھ۔
  • عنّارہ، محمدسلیمان، حدث الاحداث فی الاسلام: الاقدام علی ترجمہ القرآن، مصر، مطبعہ السلفیہ، بی‌تا۔
  • غزالی، محمدبن محمد، الجام العوام عن علم الکلام، بیروت، چاپ محمد معتصم باللّہ بغدادی، 1406ھ۔
  • عظیم پور مقدم، عظیم، ترجمہ قرآن و عوامل اختلاف آن، مجلہ پیام جاویدان، ش2، سال 1382ہجری شمسی۔
  • فخررازی، محمدبن عمر، التفسیر الکبیر، قاہرہ، بی‌تا۔
  • محقق کرکی، علی بن حسین، جامع المقاصد فی شرح القواعد، قم، 1408–1411ھ۔
  • محمد ابوشعیشع، محمدعلی، بررسی فتوای رشید رضا در مورد ترجمہ قرآن مجید، ترجمہ عباس امام، ترجمان وحی، پاییز و زمستان، 1382ہجری شمسی۔
  • محمدی ملایری، محمد، تاریخ و فرہنگ ایران در دوران انتقال از عصر ساسانی بہ عصر اسلامی، تہران، 1372ہجری شمسی۔
  • مجاہدیان، سید مجتبی، نگاہی بہ برخی ترجمہ‌ہای قرآن کریم، بینات، سال ہفتم، ش27، 1379ہجری شمسی۔
  • مرغینانی، علی بن ابی‌بکر، الہدایہ شرح بدایہ المبتدی، بی‌جا، المکتبہ الاسلامیہ، بی‌تا۔
  • معرفت، محمدہادی، تفسیر و مفسران، قم، انتشارات تمہید، بی‌تا۔
  • مہنّا، احمدابراہیم، دراسہ حول ترجمہ القرآن الکریم، قاہرہ، دارالکتب، بی‌تا۔
  • میبدی رشیدالدین، کشف الأسرار و عدۃ الأبرار، تحقیق: علی اصغر حکمت، تہران، انتشارات امیر کبیر، 1371ہجری شمسی۔