مفصلات

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

مُفَصَّلات، قرآن کریم کی ان چھوٹی سورتوں کو کہا جاتا ہے جو پارہ نمبر 30 میں واقع ہیں۔ مفصلات سورتوں میں سورہ ناس، آخری سورت ہے لیکن ان کی ابتداء کے بارے میں مختلف نظریات موجود ہیں۔ مفصلات آیات کی تعداد کے اعتبار سے تین گروہ طِوال (طویل)، اوساط (متوسط) اور قِصار (چھوٹی) سورتوں میں تقسیم ہوتی ہیں۔ ان سورتوں میں منسوخ آیات کم دکھائی دیتی ہیں؛ اس بنا پر ان کو محکمات بھی کہا جاتا ہے۔ اسی طرح ان سورتوں کو ریاض القرآن بھی کہا جاتا ہے۔

مفہوم

مفصّلات اصطلاح میں قرآن کی ان سورتوں کو کہا جاتا ہے جو آخری پارے میں واقع ہیں۔ یہ سورتیں حجم کے اعتبار سے چھوٹی ہیں اسی بنا پر مکرر بسم اللہ الرحمن الرحیم کے ذریعے ایک دوسرے سے جدا ہوتی ہیں۔[1]

دیگر اسامی

چونکہ ان سورتوں میں منسوخ آیات بہت کم موجود ہیں اس بنا پر انہیں محکمات بھی کہا جاتا ہے؛ چنانچہ ابن عباس محکمات سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہیں مفصلات سے تعبیر کرتے ہیں۔[2] بعض احادیث میں سور مفصلات کو ریاض القرآن کا نام بھی دیا گیا ہے۔[3]

مفصلات پیغمبر اکرمؐ کی احادیث میں

پیغمبر اکرمؐ سے منسوب ایک حدیث میں مفصلات کی اصطلاح آئی ہے: أُعْطِيتُ اَلسُّوَرَ اَلطِّوَالَ مَكَانَ اَلتَّوْرَاۃِ وَ أُعْطِيتُ اَلْمِئِينَ مَكَانَ اَلْإِنْجِيلِ وَ أُعْطِيتُ اَلْمَثَانِيَ مَكَانَ اَلزَّبُورِ وَ فُضِّلْتُ بِالْمُفَصَّلِ ثَمَانٌ وَ سِتُّونَ سُورَۃً وَ ہُوَ مُہَيْمِنٌ عَلَى سَائِرِ اَلْكُتُبِ وَ اَلتَّوْرَاۃُ لِمُوسَى وَ اَلْإِنْجِيلُ لِعِيسَى وَ اَلزَّبُورُ لِدَاوُدَ؛[4] "مجھے توریت کی جگہ طولانى سورتیں عطا کی گئیں، انجیل کی جگہ مئین [نوٹ 1] یعنی 100 آیت پر مشتمل سورتیں عطا کی گئیں اور زبور کی جگہ سور مثانى عطا کی گئیں اس کے علاوہ مفصلات کی 60 سورتیں مزید عطا کی گئیں۔ یہ قرآن دوسری آسمانی کتابوں یعنی توریت موسی، انجیل عیسی اور زبور داؤد پر نگہبان اور گواہ ہے۔

دوسری احادیث مانند روایت واثلۃ بن اسقع میں بھی پیغمبر اکرمؐ سے مفصلات کے بارے میں احادیث نقل ہوئی ہیں جن کا مضمون یہ ہے خدا نے پیغمبر اسلامؐ کو کو سور مفصلات کے ذریعے دوسرے انبیاء پر برتری اور فضلیت دی ہیں۔[5]

خصوصیات

  • ان سورتوں کا بار بار بسم اللہ الرحمن الرحیم کے ذریعے ایک دوسرے جدا ہونا جو ان سورتوں کے حجم کے اعتبار سے چھوٹی ہونے کی وجہ سے ہے۔[6]
  • مکی سور مفصلات میں سے اکثر سورتوں کی خصوصیات میں سے ہے؛[7]

اقسام

سور مفصلات کو آیات کی تعداد کے اعتبار سے تین گروہ میں تقسیم کیا جاتا ہے:

طویل مفصلات حجرات، ق، ذاریات، طور، نجم، قمر، الرحمن، واقعہ، حدید، مجادلہ، حشر، ممتحنہ، صف،جمعہ، منافقون، تغابن، طلاق، تحریم، ملک، قلم، حاقہ، معارج، نوح، جن، مزمل، مدثر، قیامہ، انسان، مرسلات، نبأ، نازعات، عبس، تکویر، انفطار، مطففین، انشقاق و بروج
متوسط مفصلات طارق، اعلی، غاشیہ، فجر، بلد، شمس، لیل، ضحی، شرح، تین، علق، قدر و بینہ
چھوٹے مفصلات زلزلہ، عادیات، قارعہ، تکاثر، عصر، ہمزہ، فیل، قریش، ماعون، کوثر، کافرون، نصر، مسد، اخلاص، فلق و ناس[8]

مفصّلات کی ابتداء کے بارے میں مفسرین کا نظریہ

مفصلات میں سے آخری سورہ سورہ ناس ہونے میں کسی قسم کا کوئی اختلاف نہیں ہے لیکن ان کی ابتداء کس سورے سے ہوتی ہے؟ اس بارے میں بارہ اقوال ہیں یعنی ان اقوال کی بنا پر ان بارہ سورتوں سے مفصلات کا آغاز ہوتا ہے: صافات، جاثیہ، محمد(ص)، فتح، حجرات، ق، الرحمن، صف، فرقان، انسان، اعلی و ضحی۔[9]

حوالہ جات

  1. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۹۰ش، ج۱، ص۲۶؛ رامیار، تاریخ قرآن، ۱۳۸۷ش، ص۵۹۵۔
  2. احمد بن حنبل، مسند ابن حنبل، ۱۳۶۸-۱۳۷۵ق، ج۴، ص۳۴۳۔
  3. سخاوی، جمال القراء، ۱۴۱۸ق، ج۱، ص۸۹۔
  4. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۲، ص۶۰۱۔
  5. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۹۰ش، ج۱، ص۲۵۔
  6. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۹۰ش، ج۱، ص۲۵۔
  7. معرفت، علوم قرآنی، ۱۳۸۰ش، ص۸۳۔
  8. فرہنگ‌نامہ علوم قرآن، ۱۳۹۴ش، ص۲۴۱۲۔
  9. سخاوی، جمال القراء، ۱۴۱۸ق، ج۱، ص۸۹؛ خرمشاہی، دانشنامہ قرآن و قرآن پژوہی، ۱۳۷۷ش، ج۲، ص۲۱۳۱۔
  1. بعض نسخوں میں "مئین" کی بجائے لفظ "سنن" استعمال ہوا ہے۔ بارے میں کہا جاتا ہے کہ صحیح قول وہی "مئین" ہے اور شاید کاتبین نے غلطی سے "سنن" لکھا ہے۔ (حسینی طہرانی، مہرتابان، ۱۴۲۶ق، ص۱۵۲۔)

مآخذ

  • احمد بن حنبل، مسند، تحقیق محمد شاکر، قاہرہ، ۱۳۶۸-۱۳۷۵ھ۔
  • حسینی طہرانی، محمدحسین، مہر تابان، مشہد، نور ملکوت قرآن، ۱۴۲۶ھ۔
  • جرجانی، حسین بن حسن، جلاء الاذہان، تہران، انتشارات دانشگاہ تہران، چاپ اول، ۱۳۷۷ش۔
  • خرمشاہی، بہاءالدین، دانشنامہ قرآن و قرآن‌پژوہی، تہران، ناہید، ۱۳۷۷ش۔
  • رامیار، محمود، تاریخ قرآن، تہران، مؤسسہ انتشارات امیر کبیر، ۱۳۸۷ش۔
  • سخاوی، علی بن محمد، جمال القراء وکمال الاقراء، تحقیق مروان العطیۃ و محسن خرابۃ، دمشق/بیروت، دارالمأمون للتراث، چاپ اول، ۱۴۱۸ق/۱۹۹۷م۔
  • سیوطی، عبدالرحمن بن ابی‌بکر، الدر المنثور فی التفسیر بالماثور، قم، ۱۴۰۴ھ۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، ترجمہ محمد بیستونی، مشہد، آستان قدس رضوی، ۱۳۹۰ش۔
  • فرہنگ‌نامہ علوم قرآن، قم، مرکز اطلاعات و مدارک اسلامی/پژوہشگاہ علوم و فرہنگ اسلامی، ۱۳۹۴ش۔
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تہران، دارالکتب الاسلامیہ، ۱۴۰۷ھ۔
  • معرفت، محمدہادی، علوم قرآنی، قم، مؤسسہ فرہنگی تمہید، ۱۳۸۰ش۔