یہ مقالہ ۱۶ جون ۲۰۲۱ ء تاریخ کو منتخب مقالہ کے عنوان سے منتخب ہوا ہے۔ مزید وضاحت کے لئے کلک کریں۔

محمد حسین نجفی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
محمد حسین نجفی
Muhammad Hussain Najafi.jpg
کوائف
مکمل نام محمد حسین نجفی (ڈھکو)
لقب/کنیت آیت اللہ
تاریخ ولادت سنہ 1932ء
آبائی شہر جہانیاں شاہ ضلع سرگودھا
رہائش سرگودہا۔ پاکستان
علمی معلومات
مادر علمی حوزہ علمیہ نجف اشرف
اساتذہ سید محسن حکیم، سید جواد تبریزی، آقا بزرگ تہرانی، سید محمود شاہرودی، میرزا باقر زنجانی، سید محمد یارشاہ نقوی، حسین بخش جاڑا اور سید محمد باقر نقوی چکڑالوی
تالیفات اثبات الامامۃ، تفسیر فیضان الرحمن، مسائل الشریعہ اردو ترجمہ وسائل الشیعہ، شرح اردو اعتقادات شیخ صدوق۔۔۔
خدمات
سماجی مدرسہ سلطان المدارس الاسلامیہ اور جامعہ علمیہ عقیلہ بنی ہاشم کی تاسیس
ویب سائٹ http://ayatollahnajafi.com/

محمد حسین نجفی (ولادت: 1932 ء) ڈھکو کے نام مشہور، برصغیر کے مشہور شیعہ امامیہ فقہاء، علما و خطبا میں سے ہیں۔ آپ نے علم کلام، فقہ، تاریخ اور تفسیر جیسے مختلف علوم میں قلم فرسائی کی ہے جن میں اثبات الامامۃ، احسن الفوائد فی شرح العقائد، اصول الشریعہ فی عقائد الشیعہ، تفسیر فیضان الرحمن اور وسائل الشیعہ کا اردو ترجمہ مشہور تالیفات ہیں۔ آپ معصومین کی ولایت تکوینی کے نظرئے کو نہیں مانتے ہیں، اذان میں اشہد ان علیا ولی اللہ کو جائز نہیں سمجھتے ہیں۔ خمس کو ضروریات مذہب میں سے نہیں سمجھتے ہیں۔ تحقیق، تبلیغ اور تقریر میں کافی مہارت رکھتے ہیں۔ پاکستان میں غلو کے خلاف آپ نے بڑی جدوجہد کی۔

سوانح حیات

محمد حسین نجفی (ڈھکو) اپریل سنہ 1932ء کو جہانیاں شاہ ضلع سرگودھا کے ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئے آپ کا تعلق ڈھکو فیملی سے ہے۔[1] سنہ 1945ء میں اپنے والد رانا تاج الدین کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔[2] والد کی دیرینہ خواہش کی بنیاد پر آپ کی والدہ نے آپ کو مدرسہ محمدیہ جلالپور ننکیانہ میں داخل کرایا۔[3] ابتدائی تعلیم ہندوستان میں حاصل کرنے کے بعد سنہ 1954ء کو آپ نجف اشرف چلے گئے اور 1960ء کو آپ واپس اپنے واطن لوٹ آئے اور تبلیغ و تدریس میں مشغول رہے۔

علمی سفر

پانچ سال کی عمر میں سکول میں داخلہ لیا سنہ 1945ء کو مدرسہ محمدیہ جلالپور ننکیانہ ضلع سرگودھا میں داخلہ لیا۔ جہاں آپ نے حسین بخش جاڑا کی شاگردی اختیار کی۔[4] سنہ 1947ء کو بدرہ رجبانہ ضلع جھنگ میں محمد باقر چکڑالوی کے زیر سایہ درس نظامی کا حصہ پڑھا۔[5] سنہ 1949ء کو آپ سید محمد یار شاہ سے استفادہ کرنے جلالپور آگئے اور پانچ سال تک ان سے کسب فیض کیا۔[6] سنہ 1954ء میں حوزہ علمیہ نجف اشرف چلے گئے جہاں سطحیات سے فراغت کے بعد سید جواد تبریزی اور مرزا محمد باقر زنجانی کے اصول فقہ کے درس خارج میں شرکت کی۔ اور سید محمود شاھرودی اور سید محسن الحکیم کے فقہ کے درس میں شرکت کی۔[7] سنہ 1960ء میں مدرسہ محمدیہ سرگودھا کی دعوت پر تدریس کی غرض سے پاکستان واپس آگئے اور 12 سال تک مدیر کے فرائض انجام دئے۔[8] آپ نے دینی تعلیم کی ضرورت کے پیش نظر سلطان المدارس الاسلامیہ اور جامعہ علمیہ عقیلہ بنی ہاشم کی تاسیس کی۔[9]

پاکستان میں اساتذہ

نجف اشراف میں اساتذہ

آپ نے حوزہ علمیہ نجف اشرف میں مندرجہ ذیل اساتذہ سے کسب فیض کیا:[10]

غلو

آیت اللہ محمد حسین نجفی کی قم میں آیت اللہ مکارم شیرازی سے ملاقات

محمد حسین نجفی نے غلو کے خلاف بہت جدوجہد کی اور اس وجہ سے بہت ساری مخالفتیں مول لینا پڑیں۔[14] اسی حوالے سے مجالس میں ہونے والی انحرافات اور غلو کے پیش نظر «اصلاح المجالس و المحافل» تالیف کی۔[15] اصلاح الرسوم بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی جس کی تالیف کے بعد آپ کو بہت سے اعتراضات کا سامنا ہوا۔[حوالہ درکار]

مجلہ حوزہ سے انٹرویو دیتے ہوئے اس حوالے سے آپ کا کہنا تھا کہ ہمارا مقابلہ ان لوگوں سے جو کہتے ہیں کہ ہم امام زمانہ کی تقلید کرتے ہیں، امام ہی کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں اور نماز کے تشہد میں شہادت ثالثہ پڑھتے ہیں۔ لوگوں کو گمراہ کرنے والے ذاکرین جو جھوٹے مصائب پڑھتے ہیں ایسے لوگوں کے مقابلے میں ہر قسم کی توہین کو تحمل کرتا ہوں۔[حوالہ درکار]


تصنیفات

محمد حسین نجفی نے مختلف موضوعات پر تصنیف و تالیف کے ساتھ ساتھ ترجمے بھی کئے ہیں۔[16] آپ کے قلمی آثار میں وسائل الشیعہ کا ترجمہ، تفسیر فیضان الرحمن، اثبات الامامہ اور احسن الفوائد فی شرح العقائد مشہور ہیں۔[17]

مشہور نظریات اور فتوے

آیت اللہ محمد حسین نجفی کی آیت اللہ نوری ہمدانی سے ملاقات
  • آپ علم غیب کو اللہ تعالی سے مخصوص سمجھتے ہیں اور انبیاء اور ائمہ کے علم کو علم غیب نہیں سمجھتے ہیں۔[حوالہ درکار]


دیگر سرگرمیاں

آپ تحریک جعفریہ سے وابستہ رہے اور مفتی جعفر حسین کی وفات کے بعد شیعیان پاکستان کی قیادت انتخاب کرنے کے لئے مرکزی کونسل کے انتخاب میں دیگر علما کے ساتھ مل کر موثر کردار ادا کیا۔[22]

آپ ہمیشہ تبلیغ میں مصروف رہے اور اس سلسلے میں ملک کے مختلف شہروں کے علاوہ مختلف ممالک کا سفر بھی کیا۔[23]

حوالہ جات

  1. سوانح حیات، آیت اللہ محمد حسین نجفی کی ویب سائٹ۔
  2. سوانح حیات، آیت اللہ محمد حسین نجفی کی ویب سائٹ۔
  3. سوانح حیات، آیت اللہ محمد حسین نجفی کی ویب سائٹ۔
  4. سوانح حیات، آیت اللہ محمد حسین نجفی کی ویب سائٹ۔
  5. سوانح حیات، آیت اللہ محمد حسین نجفی کی ویب سائٹ۔
  6. مدارس دینیہ کے بزرگان کا انٹرویو: مداد العلما، وفاق ٹائمز۔
  7. سوانح حیات، آیت اللہ محمد حسین نجفی کی ویب سائٹ۔
  8. سوانح حیات، آیت اللہ محمد حسین نجفی کی ویب سائٹ۔
  9. محمد حسین نجفی، اعتقادات امامیہ کا اردو ترجمہ، ص13۔
  10. سوانح حیات، آیت اللہ محمد حسین نجفی کی ویب سائٹ۔
  11. مدارس دینیہ کے بزرگان کا انٹرویو:مداد العلما، وفاق ٹائمز۔
  12. مدارس دینیہ کے بزرگان کا انٹرویو:مداد العلما، وفاق ٹائمز۔
  13. مدارس دینیہ کے بزرگان کا انٹرویو:مداد العلما، وفاق ٹائمز۔
  14. آیت اللہ شیخ محمد حسین نجفی دام ظلہ کے حالات زندگی وفاق ٹائمز۔
  15. آیت اللہ شیخ محمد حسین نجفی دام ظلہ کے حالات زندگی، وفاق ٹائمز۔
  16. آیت اللہ شیخ محمد حسین نجفی دام ظلہ کے حالات زندگی وفاق ٹائمز۔
  17. آیت اللہ شیخ محمد حسین نجفی دام ظلہ کے حالات زندگی وفاق ٹائمز۔
  18. مصاحبہ با حضرت آيت اللّه حاج شيخ محمد حسين نجفى پاكستانى، مجلہ "حوزہ" شمارہ123، ماخوذ از سائٹ مدرسہ فقاہت
  19. سوال اور جواب
  20. سوالات اور جوابات شہادت ثالثہ۔
  21. سوالات اور جوابات عزاداری۔
  22. تسلیم رضا خان، سفیر نور، ص96۔
  23. مصاحبہ با حضرت آيت اللّه حاج شيخ محمد حسين نجفى پاكستانى، مجلہ "حوزہ" شمارہ123، ص126۔


مآخذ