مندرجات کا رخ کریں

محمد حسین نجفی

ویکی شیعہ سے
محمد حسین نجفی
کوائف
مکمل ناممحمد حسین نجفی (ڈھکو)
تاریخ ولادت10 اپریل 1932ء
آبائی شہرجہانیاں شاہ ضلع سرگودھا
رہائشسرگودھا۔ پاکستان
تاریخ وفات21 اگست 2023ء
علمی معلومات
مادر علمیحوزہ علمیہ نجف اشرف اور پاکستان
اساتذہسید محسن حکیم، سید جواد تبریزی، آقا بزرگ تہرانی، میرزا باقر زنجانی، سید محمد یارشاہ نقوی، حسین بخش جاڑا اور سید محمد باقر نقوی چکڑالوی
تالیفاتاثبات الامامۃ، تفسیر فیضان الرحمن، مسائل الشریعہ اردو ترجمہ وسائل الشیعہ، شرح اردو اعتقادات شیخ صدوق۔۔۔
خدمات
سماجیمدرسہ سلطان المدارس الاسلامیہ اور جامعہ علمیہ عقیلہ بنی ہاشم کی تاسیس
ویب سائٹhttp://ayatollahnajafi.com/


محمد حسین نجفی (2023-1932ء) ڈھکو کے نام سے معروف، برصغیر کے شیعہ امامیہ فقہاء، متکلمین، مترجمین، مفسرین اور خطبا میں سے تھے۔ آپ نے علم کلام، فقہ، تاریخ اور تفسیر جیسے مختلف علوم میں قلم فرسائی کی جن میں اثبات الامامۃ، احسن الفوائد فی شرح العقائد، اصول الشریعہ فی عقائد الشیعہ، تفسیر فیضان الرحمن اور وسائل الشیعہ کا اردو ترجمہ آپ کی مشہور تالیفات میں شامل ہیں۔ آپ معصومینؑ کی ولایت تکوینی کے نظریے کو نہیں مانتے تھے، اذان میں اشہد ان علیا ولی اللہ کو جائز نہیں سمجھتے تھے۔ اسی طرح خمس کو ضروریات مذہب میں سے نہیں مانتے تھے۔ پاکستان میں غلو کے خلاف آپ نے بڑی جدوجہد کی ہے۔

سوانح حیات

محمد حسین نجفی (ڈھکو) 10اپریل[1] سنہ 1932ء کو جہانیاں شاہ ضلع سرگودھا میں پیدا ہوئے۔ آپ کا تعلق ڈھکو خاندان سے تھا۔[2] سنہ 1945ء میں آپ کے والد رانا تاج الدین کی وفات[3] کے بعد والد کی دیرینہ خواہش کی بنیاد پر آپ کی والدہ نے آپ کو مدرسہ محمدیہ جلالپور ننکیانہ میں داخل کرایا۔[4] ابتدائی تعلیم ہندوستان میں حاصل کرنے کے بعد سنہ 1954ء میں آپ نجف اشرف چلے گئے اور 1960ء کو پاکستان واپس آئے اور تبلیغ و تدریس میں مشغول رہے۔[5] محمدحسین نجفی 21 اگست 2023ء بمطابق 4 صفر 1445ہجری کو وفات پاگئے۔[6]

علمی سفر

پانچ سال کی عمر میں سکول میں داخلہ لیا۔ سنہ 1945ء کو مدرسہ محمدیہ جلالپور ننکیانہ ضلع سرگودھا میں داخلہ لیا۔ جہاں آپ نے حسین بخش جاڑا کی شاگردی اختیار کی۔[7] سنہ 1947ء کو بدرہ رجبانہ ضلع جھنگ میں محمد باقر چکڑالوی کے زیر سایہ درس نظامی حاصل کیا۔[8] سنہ 1949ء کو آپ سید محمد یار شاہ سے استفادہ کرنے جلالپور گئے اور پانچ سال تک ان سے تعلیم حاصل کی۔[9] سنہ 1954ء میں حوزہ علمیہ نجف اشرف چلے گئے جہاں سطحیات سے فراغت کے بعد سید جواد تبریزی اور مرزا محمد باقر زنجانی کے اصول فقہ کے درس خارج میں شرکت کی۔ اور سید محمود شاھرودی اور سید محسن الحکیم کے فقہ کے درس خارج میں شرکت کی۔[10] سنہ 1960ء میں مدرسہ محمدیہ سرگودھا کی دعوت پر تدریس کی غرض سے پاکستان واپس آئے اور 12 سال تک مدیر کے فرائض انجام دئے۔[11] آپ نے دینی تعلیم کی ضرورت کے پیش نظر سلطان المدارس الاسلامیہ اور جامعہ علمیہ عقیلہ بنی ہاشم کی تاسیس کی۔[12]

پاکستان میں اساتذہ

نجف اشراف میں اساتذہ

آپ نے حوزہ علمیہ نجف اشرف میں مندرجہ ذیل اساتذہ سے کسب فیض کیا:[13]

آیت اللہ محمد حسین نجفی کی قم میں آیت اللہ مکارم شیرازی سے ملاقات

غلو کے خلاف اقدامات

محمد حسین نجفی نے غلو کے خلاف بہت جدوجہد کی۔[17] اور اس وجہ سے آپ کے خلاف بہت سارے ممبروں سے ناراوا باتیں ہوئیں۔[18] اسی حوالے سے مجالس میں ہونے والی انحرافات اور غلو کے پیش نظر «اصلاح المجالس و المحافل» تالیف کی۔[19] اصلاح الرسوم بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی جس کی تالیف کے بعد آپ کو بہت سے اعتراضات کا سامنا ہوا۔

مجلہ حوزہ کو انٹرویو دیتے ہوئے اس حوالے سے آپ کا کہنا تھا کہ ہمارا مقابلہ ان لوگوں سے ہے جو کہتے ہیں کہ ہم امام زمانہ کی تقلید کرتے ہیں، امام ہی کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں اور نماز کے تشہد میں شہادت ثالثہ پڑھتے ہیں۔ لوگوں کو گمراہ کرنے والے ذاکرین جو جھوٹے مصائب پڑھتے ہیں ایسے لوگوں کے مقابلے میں ہر قسم کی توہین کو تحمل کرتا ہوں۔[20]

تصنیفات

محمد حسین نجفی نے مختلف موضوعات پر تصنیف و تالیف کے ساتھ ساتھ متعدد کتابوں کے ترجمے بھی کئے ہیں۔[21] آپ کے قلمی آثار میں وسائل الشیعہ کا ترجمہ، تفسیر فیضان الرحمن، اثبات الامامہ اور احسن الفوائد فی شرح العقائد مشہور ہیں۔[22]

مشہور نظریات