واقعہ غدیر پر حلف
واقعہ غدیر پر حلف سے مراد اصحاب پیغمبرؐ کو خدا کی قسم دے کرواقعہ غدیر کی بابت ان سے اقرار لینا ہے۔ شیعہ نقطہ نظر سے اس نوعیت کا حلف (مناشدہ) امام علیؑ کی امامت اور ان کی بلا فصل خلافت کے دلائل میں شمار ہوتا ہے۔
تاریخی روایات کے مطابق، امام علیؑ نے چھ رکنی شوریٰ کے موقع پر، عثمان کی خلافت کے دوران، واقعہ رحبہ اور جنگ جمل و صفین جیسے مواقع پر واقعہ غدیر کا حوالہ دیتے ہوئے لوگوں سے اس پر اقرار کا حلف لیا ہے۔ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا، امام حسنؑ، امام حسینؑ، عمر بن عبد العزیز اور مامون عباسی نے بھی حدیث غدیر سے استناد کرتے ہوئے لوگوں سے اس واقعے کا اقرار لیا ہے۔
اس قسم کی تاریخی روایات شیعہ اور اہل سنت دونوں کے مصادر میں نقل ہوئی ہیں اور کتاب الغدیر میں ان کے لیے ایک مستقل باب مختص کیا گیا ہے۔ اس کے برعکس، اہل سنت غدیر کے اصل واقعہ کو تسلیم کرتے ہیں لیکن امامت پر اس کی دلالت کو قبول نہیں کرتے ہیں اور اپنے اس موقف کی ایک وجہ یہ بتاتے ہیں کہ خود امام علیؑ نے اپنی خلافت و امامت کے سلسلے میں واقعہ غدیر سے استناد نہیں کیا ہے۔
اہمیت اور پس منظر
غدیر پر حلف لینے کا مطلب ہے عوامی محافل میں لوگوں کو خدا کا واسطہ دے کر واقعہ غدیر کا اقرار کرانا اور حدیث غدیر کی تصدیق طلب کرنا۔[1] اس طریقہ کار میں احتجاج کے برعکس، براہ راست استدلال پیش کرنے کے بجائے کسی واقعہ یا حدیث کی صحت کی تصدیق کے لیے حلف اور قسم کا استعمال کیا جاتا ہے۔[2] شیعہ نقطہ نظر سے اس طرح کے حلف اور قسمیں غدیر کے وقوع پذیر ہونے کے اثبات کے علاوہ خلافت کے سلسلے میں امام علیؑ کی حقانیت اور ان کی خلافت بلا فصل کے لیے بھی دستاویز کی حیثیت رکھتے ہیں۔[3]
بعض محققین کا خیال ہے کہ شیعہ علما اپنے مناظروں میں غدیر سے متعلق حلف اور قسموں سے استناد کرتے رہے ہیں۔[4] علامہ امینی کے مطابق، صحابہ اور تابعین میں حدیث غدیر سے استناد اور اس پر حلف لینا عام رواج تھا۔[5] انہوں نے اس کی وجہ موافقین و مخالفین کی طرف سے واقعہ غدیر کی قبولیت قرار دی ہے۔[6] انہوں نے کتاب الغدیر میں بھی اس نوعیت کے حلف اور احتجاجات کے لیے ایک باب مختص کیا ہے[7] اور ان سے حدیث غدیر کے تواتر ثابت کرنے کے لیے استدلال کیا ہے۔[8] اس طرح کے حلف حدیثی مصادر میں بھی متفرق طور پر نقل ہوئے ہیں۔[9]
امام علیؑ کی طرف سے پیش کیے گئے احلاف
علامہ امینی کے مطابق، امام علیؑ نے متعدد مواقع پر حدیث غدیر سے استناد کیا اور حجۃ الوداع میں موجود اصحاب کو عوامی محافل میں خدا کا واسطہ دے کر واقعہ غدیر پر گواہی دینے کے لیے کہا۔[10] ان میں سے بعض درج ذیل ہیں:
چھ رکنی شوریٰ میں
امام علیؑ نے چھ رکنی شوریٰ میں:
"تمہیں خدا کا واسطہ، کیا تم میں سے کوئی ہے جس کے بارے میں رسول اللہؐ نے غدیر خم کے دن فرمایا ہو: جس کا میں مولیٰ ہوں، اس کا علی مولیٰ ہے، اے اللہ! اس کی مدد کر جو اس کی مدد کرے اور اس سے دشمنی رکھ جو اس سے دشمنی رکھے؟" حاضرین نے جواب دیا: خدایا نہیں۔ اس کے بعد امام نے آیت اکمال دین کا حوالہ دیا جو آپ کی امامت کے اعلان کے بعد نازل ہوئی تھی اور حاضرین نے اس کی تصدیق کی۔[11]
امام علیؑ نے چھ رکنی شوریٰ میں اپنی فضیلت بیان کرتے ہوئے[12] انہیں خدا کا واسطہ دے کر واقعہ غدیر اور پیغمبر اکرمؐ کی طرف سے اپنے انتخاب کیے جانے کا ذکر کیا اور شوریٰ کے تمام اراکین نے امامؑ کے قول کی صداقت کی گواہی دی۔[13]
عثمان کے دور خلافت میں
خلافت عثمان بن عفان کے دور میں انصار و مہاجرین کے درمیان ان کی فضیلت کے بارے میں ایک مناظرہ ہوا۔[14] گفتگو ختم ہونے کے بعد، امام علیؑ سے خطاب کرنے کی درخواست کی گئی۔ انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ تمام فضیلتیں خدا کی طرف سے ہیں، اپنی بعض فضیلتوں کی یاددہانی کروا دی اور حاضرین کو خدا کا واسطہ دے کر کہا کہ وہ بعض آیات کے ان کے بارے میں نازل ہونے کی تصدیق کریں۔ حاضرین کی تصدیق کے بعد، امامؑ نے غدیر کے دن خدا کی طرف سے اپنی امامت کے اعلان کا حوالہ دیا۔[15] اس واقعہ کے راوی سُلَیْم بن قِیْس نے اس مجلس میں موجود تیس افراد کے نام بھی ذکر کیے ہیں۔[16]
واقعہ رحبہ میں
امام علیؑ کے سنہ 35 ھ میں کوفہ تشریف لانے کے بعد اور ان کی خلافت کے بارے میں شکوک پیدا ہونے پر وہ میدان رحبہ میں عوام کے اجتماع میں تشریف لائے اور لوگوں کو خدا کا واسطہ دے کر حدیث غدیر کی صحت پر گواہی دینے کے لیے کہا۔ حاضرین میں سے بہت سوں نے امامؑ کے قول کی تصدیق کی۔[17] یہ واقعہ تاریخ میں استشہاد برحبۃ[18] یا مناشدۃ رحبہ[19] کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اور اہل سنت کے مصادر میں بھی نقل ہوا ہے۔[20]
جنگ جمل و صفین میں
جنگ جمل میں امام علیؑ نے طلحہ بن عبید اللہ کو خدا کا واسطہ دیا کہ کیا انہوں نے پیغمبر اکرمؐ سے حدیث «من کنت مولاہ فہذا علی مولاہ» نہیں سنی تھی؟ طلحہ نے امام علیؑ کی بات کی تصدیق کی اور بغیر کوئی رائے ظاہر کیے واپس چلا گیا۔[21] کہا جاتا ہے کہ وہ امامؑ سے جنگ کرنے سے باز آگیا۔[22]
نیز سلیم بن قیس ہلالی کی ایک روایت کے مطابق، امام علیؑ نے جنگ صفین میں اپنے لشکر سے حدیث غدیر کے حوالے سے اپنی ولایت پر حلف دیا۔[23] اس کے جواب میں بارہ صحابہ جیسے ابو الہیثم بن تیہان، ابو ایوب انصاری، عمار بن یاسر اور خزیمہ بن ثابت نے ان کی بات کی تصدیق کی اور اسے پیغمبرؐ کے فرمان کے مطابق قرار دیا۔ اس کے بعد مزید ستر افراد نے بھی ان کی بات کی تصدیق کی۔[24] کتاب الغیبہ نعمانی میں بھی اسی طرح کی ایک روایت موجود ہے جس میں امام علیؑ نے معاویہ کے نمائندوں سے ملاقات میں بغیر حلف دیے واقعہ غدیر سے استناد کیا۔[25]
حدیث غدیر پر دوسروں کے حلف
علامہ امینی نے کتاب الغدیر میں 22 مثالیں ذکر کی ہیں جن میں امام علیؑ کے علاوہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا، امام حسنؑ، امام حسینؑ اور بعض خلفاء جیسے عمر بن عبد العزیز اور مامون عباسی نے حدیث غدیر سے استناد کیا یا حلف لیا۔[26] مثال کے طور پر، سنہ 58 ہجری میں امام حسینؑ نے سرزمین منیٰ میں بنی ہاشم اور انصار کے تقریباً 700 لوگوں اور پیغمبرؑ کے 200 صحابہ پر مشتمل اجتماع میں حاضرین کو خدا کا واسطہ دے کر حدیث غدیر کی صحت کی تصدیق کرنے کو کہا اور انہوں نے اس کی گواہی دی۔[27]
نیز ایک روایت میں خلافت کے غصب ہونے کے بعد ابوبکر کے ساتھ ملاقات میں امام علیؑ کا آیت ولایت کے بارے میں حلف لینا بھی نقل ہوا ہے۔[28]
اہل سنت کا نقطہ نظر
بعض اہل سنت کا خیال ہے کہ امام علیؑ نے اپنی امامت ثابت کرنے کے لیے حدیث غدیر سے استناد نہیں کیا اور ایک اقلیت نے تو واقعہ غدیر کے اصل واقع ہونے سے بھی انکار کیا ہے۔[29] اسی بنا پر بعض حلفوں کو رد کیا گیا ہے[30] یا ان کے بعض حصوں کو حذف کر دیا گیا ہے۔[31] یہ نقطہ نظر عموماً صحابہ اور خلفائے ثلاثہ کے بارے میں ان کے نظریات سے جڑا ہوا ہے۔[32] بعض حلفوں میں خلفاء کے طرز عمل پر امام علیؑ کی تنقید بھی موجود ہے۔[33]
حوالہ جات
- ↑ دیاری بیگدلی، «تحلیل رویکردہای حدیثی علامہ امینی پیرامون احادیث مناشَدَہ در کتاب الغدیر»(کتاب الغدیر میں احادیثِ مناشَدَہ کے حوالے سے علامہ امینی کے حدیثی اسالیب و مناہج کا تجزیہ)، ص163۔
- ↑ دیاری بیگدلی، «تحلیل رویکردہای حدیثی علامہ امینی پیرامون احادیث مناشَدَہ در کتاب الغدیر»(کتاب الغدیر میں احادیثِ مناشَدَہ کے حوالے سے علامہ امینی کے حدیثی اسالیب و مناہج کا تجزیہ)، ص136۔
- ↑ دیاری بیگدلی، «تحلیل رویکردہای حدیثی علامہ امینی پیرامون احادیث مناشَدَہ در کتاب الغدیر»(کتاب الغدیر میں احادیثِ مناشَدَہ کے حوالے سے علامہ امینی کے حدیثی اسالیب و مناہج کا تجزیہ)، ص133۔
- ↑ زینلی، بر کرانہہای کتاب الغدیر، تہران، ص6؛ دیاری بیگدلی، «تحلیل رویکردہای حدیثی علامہ امینی پیرامون احادیث مناشَدَہ در کتاب الغدیر»(کتاب الغدیر میں احادیثِ مناشَدَہ کے حوالے سے علامہ امینی کے حدیثی اسالیب و مناہج کا تجزیہ)، ص135۔
- ↑ علامہ امینی، الغدیر، 1416ھ، ج1، ص327۔
- ↑ علامہ امینی، الغدیر، 1416ھ، ج1، ص327۔
- ↑ علامہ امینی، الغدیر، 1416ھ، ج1، ص328-422۔
- ↑ دیاری بیگدلی، «تحلیل رویکردہای حدیثی علامہ امینی پیرامون احادیث مناشَدَہ در کتاب الغدیر»(کتاب الغدیر میں احادیثِ مناشَدَہ کے حوالے سے علامہ امینی کے حدیثی اسالیب و مناہج کا تجزیہ)، ص138۔
- ↑ ملاحظہ کیجیے: حموی شافعی، فرائد السمطین، 1400ھ، ج1، ص31؛ شوشتری، احقاق الحق، 1409ھ، ج6، ص258-233، طبرسی، الاحتجاج، 1403ھ، ج1، ص115-130۔
- ↑ دیاری بیگدلی، «تحلیل رویکردہای حدیثی علامہ امینی پیرامون احادیث مناشَدَہ در کتاب الغدیر»(کتاب الغدیر میں احادیثِ مناشَدَہ کے حوالے سے علامہ امینی کے حدیثی اسالیب و مناہج کا تجزیہ)، ص163۔
- ↑ حر عاملی، إثبات الہداۃ، 1425ھ، ج3، ص91؛ طبرسی، الاحتجاج، 1403ھ، ج1، ص147۔
- ↑ شیخ صدوق، الخصال، 1362شمسی، ج2، ص554-564؛ شیخ طوسی، الامالی، 1414ھ، ص545-554؛ شوشتری، احقاق الحق، 1409ھ، ج5، ص27-30؛ خوارزمی، المناقب، 1400ھ، ص313-315۔
- ↑ قاضینعمان، شرح الاخبار، 1409ھ، ج2، ص191؛ شیخ طوسی، الامالی، 1414ھ، ص546۔
- ↑ حموی شافعی، فرائد السمطین، 1400ھ، ج1، ص314-315؛ طبرسی، الاحتجاج، 1403ھ، ج1، ص145۔
- ↑ حموی شافعی، فرائد السمطین، 1400ھ، ج1، ص314-315؛ قندوزی، ینابیع المودۃ، 1422ھ، ج1، ص343؛ طبرسی، الاحتجاج، 1403ھ، ج1، ص145؛ شوشتری، احقاق الحق، 1409ھ، ج5، ص33؛ بحرانی، عوالم العلوم، 1382شمسی، ص232-233۔
- ↑ حموی شافعی، فرائد السمطین، 1400ھ، ج1، ص314-315؛ قندوزی، ینابیع المودۃ، 1422ھ، ج1، ص343؛ طبرسی، الاحتجاج، 1403ھ، ج1، ص145؛ شوشتری، احقاق الحق، 1409ھ، ج5، ص33؛ بحرانی، عوالم العلوم، 1382شمسی، ص232-233۔
- ↑ شوشتری، احقاق الحق، 1409ھ، ج6، ص323؛ ابناثیر، أسد الغابۃ، 1409شمسی، ج3، ص366؛ ابنحجر عسقلانی، الإصابۃ، 1415ھ، ج4، ص276-277؛ ابنکثیر، البدایۃ و النہایۃ، ج5، ص210؛ ابنعساکر، تاریخ دمشق، 1415ھ، ج42، ص209۔
- ↑ مظفر، دلائل الصدق، 1422ھ، ج6، ص390۔
- ↑ علامہ امینی، الغدیر، 1416ھ، ج1، ص106۔
- ↑ ملاحظہ کیجیے: علامہ امینی، الغدیر، 1416ھ، ج1، ص339-378۔
- ↑ شوشتری، احقاق الحق، 1409ھ، ج21، ص106؛ خوارزمی، المناقب، 1400ھ، ص182۔
- ↑ مسعودی، مروج الذہب، 1409ھ، ج2، ص364۔
- ↑ سلیم بن قیس الہلالی، کتاب سلیم بن قیس الہلالی، 1405ھ، ص757-758؛ بحرانی، عوالم العلوم، 1382شمسی، ص261۔
- ↑ سلیم بن قیس الہلالی، کتاب سلیم بن قیس الہلالی، 1405ھ، ص757-758۔
- ↑ نعمانی، الغیبہ، 1397ھ، ص69-73۔
- ↑ علامہ امینی، الغدیر، 1416ھ، ج1، ص327-422۔
- ↑ علامہ امینی، الغدیر، 1416ھ، ج1، ص399؛ قرشی، حیاۃ الإمام الحسین(ع)، 1413ھ، ج1، ص201-202۔
- ↑ طبرسی، الاحتجاج، 1403ھ، ج1، ص161۔
- ↑ جمالی، نصیری، «استشہاد امیرالمؤمنین بہ حدیث غدیر در مسند احمد بن حنبل»، ص206۔
- ↑ ملاحظہ کیجیے: ذہبی، میزان الاعتدال، 1382ھ، ج1، ص422۔
- ↑ ابنحجر عسقلانی، لسان المیزان، 1390ھ، ج2، ص157؛ ابنعساکر، تاریخ دمشق، 1415ھ، ج42، ص431۔
- ↑ «حدیث مناشدہ یوم الشوری»، مجمع جہانی شیعہ شناسی۔
- ↑ ملاحظہ کیجیے: خوارزمی، المناقب، 1400ھ، ص313؛ ذہبی، میزان الاعتدال، 1382ھ، ج1، ص422؛ ابنحجر عسقلانی، لسان المیزان، 1390ھ، ج2، ص157؛ شیخ صدوق، الخصال، 1362شمسی، ج2، ص554۔
مآخذ
- ابناثیر، علی بن محمد، أسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، بیروت، دارالفکر، 1409ھ۔
- ابنحجر عسقلانی، احمد بن علی، الإصابۃ فی تمییز الصحابۃ، تحقیق عادل احمد عبد الموجود و علی محمد معوض، بیروت، دارالکتب العلمیۃ، 1415ھ۔
- ابنحجر عسقلانی، احمد بن علی، لسان المیزان، بیروت، مؤسسۃ الأعلمی للمطبوعات، 1390ھ۔
- ابنعساکر، علی بن حسن، تاریخ مدینۃ دمشق و ذکر فضلہا و تسمیۃ من حلہا من الأماثل أو اجتاز بنواحیہا من واردیہا و أہلہا، بیروت، دارالفکر، 1415ھ۔
- ابنکثیر دمشقی، اسماعیل بن عمر، البدایۃ و النہایۃ، بیروت، دارالفکر، 1407ھ۔
- بحرانی، شیخ عبداللہ، عوالم العلوم (الإمام علیع)، قم، موسسہ الامام المہدی(عج)، دوسری اشاعت، 1382ہجری شمسی۔
- جمالی، حسین و محمدحسین نصیری، استشہاد امیرالمؤمنین بہ حدیث غدیر در مسند احمد بن حنبل(مسند احمد بن حنبل میں امیرالمؤمنینؑ کا حدیثِ غدیر سے استدلال)، دورہ 11، شمارہ 2 - سلسلہ وار شمارہ 30، آبان 1400ہجری شمسی۔
- «حدیث مناشدہ یوم الشوری»، مجمع جہانی شیعہ شناسی. تاریخ درج مطلب: 14 اکتوبر 2021ء، تاریخ مشاہدہ: 10 مئی 2025ء۔
- حر عاملی، محمد بن حسن، إثبات الہداۃ بالنصوص و المعجزات، بیروت، اعلمی، 1425ھ۔
- حموی شافعی، ابراہیم بن سعدالدین، فرائد السمطین، بیروت، موسسۃ المحمود، 1400ھ۔
- خوارزمی، موفق بن احمد، المناقب، قم، جامعہ مدرسین، 1400ھ۔
- دیاری بیگدلی، محمدتقی و دیگران، «تحلیل رویکردہای حدیثی علامہ امینی پیرامون احادیث مناشَدَہ در کتاب الغدیر»(کتاب الغدیر میں احادیثِ مناشَدَہ کے حوالے سے علامہ امینی کے حدیثی اسالیب و مناہج کا تجزیہ)، سفینہ، اٹھارہواں سال، شمارہ 70، بہار 1400ہجری شمسی۔
- ذہبی، محمد بن احمد، میزان الاعتدال فی نقد الرجال، بیروت، دارالمعرفۃ للطباعۃ والنشر، 1382ہجری شمسی۔
- زینلی، غلامحسین، بر کرانہہای کتاب «الغدیر فی الکتاب والسّنۃ و الادب»، تہران، مؤلف، بیتا۔
- سلیم بن قیس الہلالی، کتاب سلیم بن قیس الہلالی، قم، ہادی، 1405ھ۔
- شوشتری، قاضی نوراللہ، إحقاق الحق و ازہاق الباطل، قم، مکتبہ آیت اللہ المرعشی النجفی، 1409ھ۔
- شیخ صدوق، محمد بن علی، الخصال، تحقیق علیاکبر غفاری، قم، جامعہ مدرسین، 1362ہجری شمسی۔
- شیخ طوسی، محمد بن حسن، الأمالی، قم، دارالثقافۃ، 1414ھ۔
- طبرسی، احمد بن علی، الإحتجاج علی اہل اللجاج، مشہد، مرتضی، 1403ھ۔
- علامہ امینی، عبدالحسین، الغدیر فی الکتاب و السنۃ و الأدب، قم، مرکز الغدیر للدراسات الاسلامیہ، 1416ھ۔
- قاضینعمان، نعمان بن محمد، شرح الاخبار فی فضائل الائمۃ الاطہار(ع)، قم، جامعہ مدرسین، 1409ھ۔
- قرشی، باقر شریف، حیاۃ الإمام الحسین(ع)، قم، مدرسہ علمیہ ایروانی، 1413ھ۔
- قندوزی، سلیمان بن ابراہیم، ینابیع المودۃ، قم، اسوہ، دوسری اشاعت، 1422ھ۔
- مظفر، محمد حسن، دلائل الصدق لنہج الحق، قم، موسسۃ آلالبیت، 1422ھ۔
- مسعودی، علی بن حسین، مروج الذہب و معادن الجوہر، قم، دارالہجرہ، 1409ھ۔
- نعمانی، محمد بن ابراہیم، الغیبہ، تہران، نشر صدوق، 1397ھ۔