مولود کعبہ

ویکی شیعہ سے
کعبہ میں حضرت علیؑ کی ولادت کی تصویر کشی، استاد فرشچیان کے قلم سے
شیعوں کے پہلے امام
امام علی علیہ السلام
حیات طیبہ
یوم‌ الدارشعب ابی‌ طالبلیلۃ المبیتواقعہ غدیرمختصر زندگی نامہ
علمی میراث
نہج‌البلاغہغرر الحکمخطبہ شقشقیہبغیر الف کا خطبہبغیر نقطہ کا خطبہحرم
فضائل
آیہ ولایتآیہ اہل‌الذکرآیہ شراءآیہ اولی‌الامرآیہ تطہیرآیہ مباہلہآیہ مودتآیہ صادقینحدیث مدینہ‌العلمحدیث رایتحدیث سفینہحدیث کساءخطبہ غدیرحدیث منزلتحدیث یوم‌الدارحدیث ولایتسدالابوابحدیث وصایتصالح المؤمنینحدیث تہنیتبت شکنی کا واقعہ
اصحاب
عمار بن یاسرمالک اشترسلمان فارسیابوذر غفاریمقدادعبید اللہ بن ابی رافعحجر بن عدیمزید


مولود کعبہ امام علیؑ کے القابات میں سے ہے جو کعبے کے اندر آپ کی ولادت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یہ فضیلت حضرت علیؑ کے علاوہ کسی کو نصیب نہیں ہوئی۔ اہل‌ سنت کے بعض مآخذ میں پیغمبر اکرمؐ کے صحابی حکیم بن حِزام کے بارے میں بھی آیا ہے کہ وہ بھی کعبہ کے اندر متولد ہوئے؛ لیکن شیعہ محققین کے مطابق یہ حدیث جعلی ہے جسے امام علیؑ کے فضائل کو ختم یا کم کرنے کے لئے جعل کیا گیا ہے۔

شیعہ اور اہل سنت کے مختلف مآخذ میں اس واقعے سے مربوط حدیث کو متواتر احادیث میں شمار کیا گیا ہے۔ البتہ اس واقعے کی بعض تفصیلات میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ کعبے کے اندر حضرت علیؑ کی ولادت کے بارے میں مستقل کتابیں بھی لکھی گئی ہیں ان میں محمد علی اردوبادی(1312-1380ھ) کی کتاب "علی ولید الکعبہ" کا نام لیا جا سکتا ہے جس کا ترجمہ فارسی میں "یگانہ مولود کعبہ" کے نام سے ہوا ہے۔

مختلف مآخذ میں اس واقعے کا تذکرہ

"مولود کعبہ" سے مراد شیعوں کے پہلے امام، امام علیؑ ہیں، جو کعبہ کے اندر ان کی ولادت ہونے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔[1] علامہ امینی نے اہل سنت کے 16 اور اہل تشیع کے 50 مآخذ سے نقل کیا ہے کہ امام علی کعبہ کے اندر متولد ہوئے تھے۔[2] اسی طرح انہوں نے دوسری صدی ہجری سے چودھویں صدی ہجری تک کے تقریبا 41 شاعروں کا نام لیا ہے جنہوں نے اپنے اشعار میں اس واقعے کی طرف اشارہ کیا ہے۔[3]

کتاب شرح احقاق الحق میں اس واقعے کو اہل سنت کے 17 مآخذ سے نقل کیا ہے۔[4] اسی طرح اہل سنت کے علماء سبط بن جوزی،[5] ابن صباغ مالکی،[6] اور علی بن برہان الدین حلبی[7] بھی اس واقعے کی طرف اشارہ کیا ہے۔ المُستَدَرک عَلَی الصَّحیحَین[8] اور کفایۃ الطالب[9] میں کعبے کے اندر امام علیؑ کی ولادت سے متعلق حدیث کے متواتر ہونے کا دعوا کیا ہے۔

واقعے کی تفصیل

امام علیؑ کی کعبہ میں ولادت کا واقعہ مختلف مآخذ میں تین طریقوں سے نقل ہوا ہے:

  • کتاب مَناقب اِبْن مَغازِلی (متوفی 483ھ) میں امام سجادؑ سے منقول ہے کہ پیغمبر اکرمؐ نے جب ابوطالب کو غمگین پایا تو وجہ پوچھی۔ ابوطالب نے کہا میری زوجہ فاطمہ بنت اسد درد زہ میں مبتلا ہے۔ دونوں میاں بیوی پیغمبر اکرمؐ کے ساتھ کعبہ تشریف لائے، ابوطالب نے فاطمہ بنت اسد کو کعبہ کے اندر بھیج دیا۔ جب کعبے کے اندر حضرت علیؑ کی ولادت ہوئی تو پیغمبر اکرمؐ نے انہیں ان کے گھر تک پہنچا دئے۔[10]
  • پانچویں اور چھٹی صدی ہجری کے شیعہ عالم عماد الدین طبری کی کتاب بشارۃ المصطفی میں یزید بن قعنب سے نقل کیا ہے کہ: فاطمہ بنت اسد کعبہ کے قریب بیٹھی تھیں اتنے میں انہیں درد زہ کی تکلیف شروع ہوئی۔ انہوں نے خدا سے درد زہ کی تکلیف میں آسانی کی دعا کی۔ اتنے میں کعبے کی دیوار شق ہوئی اور جیسے ہی فاطمہ بنت اسد اندر داخل ہو گئی دیوار کعبہ دوبارہ آپس میں مل گئی۔ یزید بن قعنب کہتے ہیں کہ: ہم نے کعبہ کا دروازہ کھولنے کی بہت کوشش کی لیکن نہ کھلا، اس سے ہم سمجھ گئے کہ یہ واقعہ خدا کی جانب سے رونما ہوا ہے۔ فاطمہ بنت اسد چار دن بعد ایک نومولود بچے کو گود میں لئے خانہ کعبہ سے باہر آگئیں۔[11]
  • کتاب تُحفۃ الابرار میں حسن بن علی طبری (701ھ) کے مطابق حضرت علیؑ کی والدہ ماجدہ فاطمہ بنت اسد طواف کعبہ میں مشغول تھیں اتنے میں انہیں درد زہ شروع ہوئی اور گھر واپس جانے کی طاقت نہ رہی، اس وجہ سے انہوں نے کعبہ کی طرف رخ کیا تو خانہ کعبہ کا دروازہ کھلا اور وہ اندر داخل ہوگئیں۔ اس کے بعد خانہ کعبہ کا دروازہ دوبارہ بند ہو گیا اور کعبے کے اندر ہی ان کا بچہ متولد ہوا، فاطمہ بنت اسد تین دن خانہ کعبہ کے اندر رہیں۔[12]
ولادت امام علیؑ کی معرق کاری استاد فرشچیان کے شاہکار مولود کعبہ سے الہام لیتے ہوئے۔

حکیم بن حِزام کا واقعہ

شیخ مفید کعبہ میں امام علیؑ کی ولادت کو آپؑ کے مختص فضائل میں شمار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ فضیلت نہ اس سے پہلے کسی کو نصیب نہیں ہوئی ہے اور نہ آئندہ کسی کو نصیب ہوگی۔[13] لیکن اہل سنت کے بعض مآخذ میں آیا ہے کہ پیغمبر اکرمؐ کے صحابی حکیم بن حِزام بھی کعبہ کے اندر پیدا ہوا ہے۔[14] البتہ بعض محدثین اس بات کے معتقد ہیں کہ یہ حدیث امام علیؑ کے فضائل کو ختم کرنے کے لئے زُبیر کے خاندان کی طرف سے اپنے بہانجے کے حق میں جعل کی گئی ہے کیونکہ حکیم بن حزام بن خویلد بن اسد بن عبدالعزی اور خاندان زبیر دونوں کا تعلق اسد بن عبد العزی سے ہیں۔[15]

درج بالا حدیث پر اعتراضات بھی وارد ہوئی ہیں من جملہ یہ کہ:

  1. اس حدیث کی سند میں مُصعَب بن عثمان بھی ہے جو مجہول النسب ہے اور علم رجال کی کتابوں میں ان کا کہیں کوئی تذکرہ نہیں آیا ہے۔
  2. یہ حدیث مُرسَل ہے؛ کیونکہ مصعب بن عثمان جو اس حدیث کا راوی ہے اس واقعے کے سالوں بعد پیدا ہوا ہے۔ اس بنا پر وہ بغیر واسطہ اس حدیث کو نقل نہیں کر سکتا۔[16]

مونوگرافی

امام علیؑ کا کعبہ کے اندر متولد ہونے سے متعلق کوئی مستقل کتابیں بھی لکھی گئی ہیں من جملہ ان میں درج ذیل کتابوں کا نام لیا جاسکتا ہے:

  • محمدعلی اردوبادی کی کتاب "علی ولید الکعبہ": یہ کتاب مستقل طور پر بھی اور موسوعۃ العلامۃ الاردوبادی کے ضمن میں بھی منظر عام پر آگئی ہے۔ اس کا فارسی میں "یگانہ مولود کعبہ" کے نام سے ترجمہ ہوا ہے۔
  • سید محمدرضا حسینی جلالی کی کتاب "ولید الکعبہ": یہ کتاب خانہ کعبہ میں امام علیؑ کی ولادت سے متعلق کئی رسالہ جات اور مقالہ جات پر مشتمل ہے جو سنہ 1383شمسی ہجری میں منتشر ہوئی ہے۔
  • سید نبیل حسنی کی کتاب "المولود فی بیت اللہ الحرام علی بن ابی‌طالب اَم حکیم بن حزام": مصنف نے اس کتاب میں اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ "مولود کعبہ" امام علیؑ کے مختص فضائل میں سے ہیں۔ جبکہ زبیر بن بکار اور ان کے چچا مُصعَب بن عبداللہ نے امام علیؑ کے ساتھ دشمنی کی بنا پر "حکیم بن حزام" کے بارے میں بھی نقل کیا ہے۔[17]

متعلقہ مضامین

حوالہ جات

  1. مسعودی، مروج الذہب، ۱۴۰۹ق، ج۲، ص۳۴۹؛ مفید، الارشاد، ۱۴۱۴ق، ج۱، ص۵.
  2. امینی، الغدیر، ۱۴۱۶ق، ج۶، ص۳۷-۴۳.
  3. امینی، الغدیر، ۱۴۱۶ق، ج۶، ص۴۴-۵۱.
  4. مرعشی نجفی، شرح احقاق الحق، مکتبہ آیت اللہ مرعشی، ج۷، ص۴۸۶-۴۹۱
  5. سبط بن جوزی، تذکرۃ الخواص، ۱۴۰۱ق، ص۲۰.
  6. ابن صباغ، الفصول المہمۃ، ۱۴۲۲ق، ج۱، ص۱۷۱
  7. حلبی، السیرۃ الحلبیۃ، ۱۴۰۰ق، ج۱، ص۲۲۶.
  8. حاکم نیشابوری، المستدرک علی الصحیحین، ۱۴۲۲ق، ج۳، ص۴۸۳.
  9. گنجی شافعی، کفایۃ الطالب، ۱۴۰۴ق، ص۷۰۷
  10. ابن مغازلی، مناقب الامام علی بن ابی‌طالب، ۱۴۲۴ق، ص۵۸-۵۹؛ ابن حاتم شامی، الدر النظیم، ۱۴۲۰ق، ص۲۲۵.
  11. طبری، بشارۃ المصطفی، ۱۴۲۰ق، ج۱، ص۲۶-۲۷.
  12. طبری، تحفۃ الابرار، ۱۳۷۶ش، ص۱۶۵-۱۶۴.
  13. مفید، الارشاد، ۱۴۱۴ق، ج۱، ص۵۔
  14. قرشی اسدی، جمہرۃ نسب قریش و اخبارہا، ۱۳۸۱ق، ص۳۵۳۔
  15. شوشتری، قاموس الرجال، ۱۴۱۰ق، ج۳، ص۳۸۷؛ مرتضی عاملی، الصحیح من سیرۃ النبی، ۱۴۲۶ق، ج۲، ص۱۶۰
  16. شوشتری، قاموس الرجال، ۱۴۱۰ق، ج۳، ص۳۸۷؛ مرتضی عاملی، الصحیح من سیرۃ النبی، ۱۴۲۶ق، ج۲، ص۱۶۰
  17. حسنی، المولود فی بیت اللہ الحرام علی بن ابی‌طالب اَم حکیم بن حزام، ۱۴۳۳ق، ص۹۹-۱۰۴۔

مآخذ

  • ابن صباغ مالکی، علی بن محمد، الفصول المہمۃ فی معرفۃ الأئمۃ، قم، دار الحدیث، ۱۴۲۲ق۔
  • ابن مغازلی، علی بن محمد، مناقب الامام علی بن ابی ‌طالب، بیروت، دار الأضواء، ۱۴۲۴ق۔
  • امینی، عبدالحسین، الغدیر فی الکتاب و السنۃ و الادب، قم، مرکز الغدیر، ۱۴۱۶ق۔
  • حاکم نیشابوری، محمد بن عبداللہ، المستدرک علی الصحیحین، بیروت، دار الفکر، ۱۴۲۲ق۔
  • حسنی، سید نبیل، المولود فی بیت اللہ الحرام علی بن ابی‌ طالب اَم حکیم بن حزام، کربلا، العتبۃ الحسینیۃ المقدسہ قسم الشئون الفکریہ و الثقافیہ، ۱۴۳۳ق/۲۰۱۲ء
  • حلبی، علی بن برہان ‌الدین، السیرۃ الحلبیۃ فی سیرۃ الأمین المأمون، بیروت، دار المعرفۃ، ۱۴۰۰ق۔
  • سبط بن جوزی، یوسف بن فرغلی بن عبداللہ البغدادی، تذكرۃ الخواص، بیروت، مؤسسۃ أہل البیت، ۱۴۰۱ق۔
  • شامی، یوسف بن حاتم، الدر النظیم فی مناقب ائمہ اللہامیم، قم، جامعہ مدرسین، ۱۴۲۰ق۔
  • شوشتری، محمد تقی، قاموس الرجال، قم، موسسۃ النشر الاسلامی، ۱۴۱۰ق۔
  • شیخ مفید، محمد بن محمد، الإرشاد فی معرفۃ حجج اللہ علی العباد، قم، مؤسسۃ آل البیت علیہم السلام، ۱۴۱۴ق۔
  • طبری، محمد بن علی بن رستم طبری، بشارۃ المرتضی لشیعۃ المرتضی، تحقیق جواد قیومی اصفہانی، مؤسسۃ النشر الاسلامی التابعہ لجماعۃ المدرسین بقم المشرفہ، ۱۴۲۰ق۔
  • طبری، عماد الدین حسن بن علی، تحفۃ الابرار، تہران، میراث مکتوب، ۱۳۷۶ق۔
  • قرشی اسدی مکی، زبیر بن بكار، جمہرۃ نسب قریش و اخبارہا، تحقیق: محمود محمد الشاکر، مطبعۃ المدنی، ۱۳۸۱ق۔
  • گنجی الشافعی، محمد بن یوسف، كفایۃ‌ الطالب فی مناقب علی بن أبی طالب، تہران، دار أحیاء تراث اہل البیت (ع)، ۱۴۰۴ق۔
  • مرتضی عاملی، سید جعفر، الصحیح من سیرۃ النبی الأعظم(ص)، قم، دار الحدیث، ۱۴۲۶ق۔
  • مرعشی نجفی، سید شہاب‌ الدین، شرح احقاق الحق، قم، مکتبہ آیت اللہ مرعشی، بی‌تا۔
  • مسعودی، علی بن حسین، مروج الذہب و معادن الجوہر، تحقیق اسعد داغر، قم، دار الہجرہ، ۱۴۰۹ق۔