واقعہ رحبہ

ویکی شیعہ سے

واقعہ رُحْبَہ یا مُناشَدَۃ رُحْبَہ بعض اصحاب کی طرف سے رسول خداؐ کی زبانی حدیث غدیر کو سننے کی گواہی کو کہا جاتا ہے۔ یہ واقعہ امام علیؑ کی درخواست پر پیش آیا اور اس واقعے میں گواہی دینے والوں کی تعداد 12 سے 30 تک بیان کی گئی ہے۔ شیعہ اور اہل سنت دونوں منابع میں رحبہ کے واقعے کا تذکرہ ہوا ہے۔

واقعہ اور وجہ تسمیہ

علامہ امینی کے مطابق سنہ 35 ہجری میں بعض لوگوں نے پیغمبر اکرمؐ کی طرف سے دوسرے اصحاب پر امام علیؑ کے مقدم اور افضل ہونے کے سلسلے میں نقل ہونے والی احادیث کے بارے میں امام علیؑ کو جھٹلایا اور آپ کی خلافت میں شک و تردید کا اظہار کرنے لگے۔ اس بنا پر امام علیؑ نے کوفہ میں رحبہ نامی مقام پر ایک اجتماع میں حاضر ہو کر اپنا دفاع کیا اور خلافت میں آپ کے ساتھ بحث و مباحہ کرنے والوں کے ساتھ حدیث غدیر سے استناد کیا۔[1] اسی بنا پر یہ واقعہ "روز رحبہ" یا "مناشدہ رحبہ" کے نام سے مشہور ہوا کیونکہ حضرت علیؑ نے لفظ "انشد اللہ"(یعنی خدا کی قسم) سے اپنے کلام کا آغاز کرتے ہوئے حاضرین سے حدیث غدیر پر شہادت اور گواہی دینے کی درخواست کی تھی۔[2][یادداشت 1] مناشدہ کے معنی خدا کی قسم کھانا ہے۔[3]

حضرت علیؑ کے کلام کے بعد بعض اصحاب نے کھڑے ہو کر اس بات کی گواہی دی کہ انہوں نے حدیث غدیر کو پیغمبر اکرمؐ سے سنا ہے۔ البتہ بعض منابع میں نقل ہوا ہے کہ زید بن ارقم جیسے بعض افراد نے گواہی دینے سے انکار کیا جس پر امام علیؑ نے ان پر نفرین کی۔[4]

گواہان

منابع میں روز رحبہ حدیث غدیر کی سند اور اسے پیغمبر اکرمؐ سے سننے کے بارے میں گواہی دینے والوں کی تعداد کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ ان کی تعداد کم از کم 12 اور زیادہ سے زیادہ 30 بیان کی گئی ہیں۔ علامہ امینی کے مطابق اہل سنت منابع میں ان کی تعداد 24 نفر مذکور ہیں[5] لیکن احمد حنبل سے منقول ہے کہ اس دن گواہی دینے والوں کی تعداد 30 تھی۔[6]

ابوعمرہ انصاری، ابو الہیثم بن تیہان، ابوایوب انصاری، خزیمۃ بن ثابت انصاری (ذو الشہادتین)، سہل بن حنیف، ابوسعید خدری، سہل بن سعد انصاری، عبداللہ بن ثابت انصاری (خادم رسول خدا)، عبید بن عازب انصاری، عدی بن حاتم، ناجیۃ بن عمرو خزاعی، نعمان بن عجلان انصاری ان میں سے زیادہ مشہور افراد تھے۔[7]

زمان و مکان

رحبہ مسجد کوفہ کے درمیان ایک مقام کا نام ہے، جہاں عموما امام علیؑ قضاوت یا وعظ و نصیت کے لئے تشریف فرما ہوتے تھے؛[8] چنانچہ کہا گیا ہے کہ زیاد بن ابیہ کے زمانے میں محدثین خوف کی وجہ سے امام علیؑ کے نام کی جگہ "صاحب الرحبۃ" کہا کرتے تھے۔[9] اگرچہ ممکن ہے رحبہ کے دیگر مصادیق بھی پائے جاتے ہوں۔[10]

واقعہ رحبہ سنہ 35 ہجری[11] کو امام علیؑ کی خلافت کے ابتدائی ایام میں پیش آیا۔ یعلی بن مرۃ سے منقول ایک حدیث میں آیا ہے کہ: جس وقت امیرالمؤمنینؑ حضرت علیؑ کوفہ تشریف لائے تو اسی وقت یہ واقعہ پیش آیا تھا۔[12]

راوی

علامہ امینی مناشدہ رحبہ کے راویوں کی تعداد -جنہوں نے اس واقعے کو بعد والے طبقات کے لئے نقل کی- 18 نفر ذکر کرتے ہیں جن میں سے چار صحابہ اور چودہ تابعین میں سے تھے۔[13] اسامی این افراد در ذیل می‌آید:

  • صحابہ:
  • تابعین:
  1. ابوسلیمان مؤذن
  2. اصبغ بن نباتہ
  3. زاذان ابوعمرو
  4. زر بن حبیش
  5. زیاد بن ابی زیاد
  6. زید بن یثیع ہمدانی
  7. سعید بن ابی حدان
  8. سعید بن وہب ہمدانی
  9. ابو عمارۃ عبد خیر بن یزید ہمدانی
  10. عبد الرحمن بن ابی لیلی
  11. عمرو ذی مرۃ
  12. عمیرۃ بن سعد ہمدانی
  13. ہانی بن ہانی ہمدانی
  14. حارثۃ بن نصر[14]

نوٹ

  1. أنشد اللّہ‏ من‏ بقي‏ ممّن‏ لقي‏ رسول‏ اللّہ صلّى اللّہ عليہ و آلہ و سلّم و سمع مقالہ فيّ يوم غدير خمّ إلّا قام، فشہد بما سمع(ابن ابی‌الحدید، شرح نہج البلاغۃ، ۱۴۰۴ھ، ج۴، ص۷۴۔)

حوالہ جات

  1. امینی، الغدیر، ۱۴۱۶ھ، ج۱، ص۳۳۹۔
  2. ابن ابی‌الحدید، شرح نہج البلاغۃ، ۱۴۰۴ھ، ج۴، ص۷۴۔
  3. دہخدا، لغت‌نامہ، ذیل «مناشدہ»
  4. حلبی، سیرہ حلبیہ‌، ۱۳۵۳ھ، ج‌۳، ص‌۳۰۸۔
  5. امینی، الغدیر، ۱۴۱۶ھ، ج۱، ص۳۷۶-۳۷۷۔
  6. امینی، الغدیر، ۱۴۱۶ھ، ج۱، ص۳۷۷۔
  7. امینی، الغدیر، ۱۴۱۶ھ، ج۱، ص۳۷۶-۳۷۷۔
  8. مطرزی، المغرب، ج‌۱، ص۳۲۴۔
  9. مدنی، الطراز الأول، ۱۳۸۴ش، ج۲، ص۶۱۔
  10. حسینی تہرانی، امام‌شناسی، ۱۴۲۷ھ، ج۹، ص۴۱۔
  11. امینی، الغدیر، ۱۴۱۶ھ، ج۱، ص۳۷۷۔
  12. حسینی تہرانی، امام‌شناسی، ۱۴۲۷ھ، ج۹، ص۴۱۔
  13. امینی، الغدیر، ۱۴۱۶ھ، ج۱، ص۳۳۹۔
  14. امینی، الغدیر، ۱۴۱۶ھ، ج۱، ص۳۳۹-۳۷۶۔

مآخذ

  • ابن ابی الحدید، عبدالحمید بن ہبۃاللہ، شرح نہج البلاغۃ، قم، نشر مکتبۃ آیۃاللہ العظمی المرعشی النجفی، ۱۴۰۴ھ۔
  • امینی، عبدالحسین، الغدیر، قم، مرکز الغدیر، ۱۴۱۶ھ۔
  • حسینی تہرانی، سید محمد حسین، امام‌شناسی، مشہد، نشر علامہ طباطبایی، ۱۴۲۷ھ۔
  • حلبی شافعی، علی بن‌ برہان‌‌الدین‌، سیرہ حلبیہ‌، مصر،۱۳۵۳ھ۔
  • مدنی، علی‌خان بن احمد، الطراز الأول، مشہد، مؤسسۃ آل‌البیت لاحیاء التراث، ۱۳۸۴ہجری شمسی۔
  • مطرزی، ناصر بن عبدالسید، المغرب، تصحیح: محمود فاخوری و عبدالحمید مختار، حلب، مکتبہ اسامہ بن زید، ۱۹۷۹ء۔