واقعہ تہنیت

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

شیعوں کے پہلے امام
حضرت علی علیہ السلام

حرم امام علی1.jpg


حیات
واقعۂ غدیرلیلۃ المبیتیوم الدارمختصر زندگی نامہ


علمی ورثہ
نہج البلاغہغرر الحکم و درر الکلمخطبۂ شقشقیہبے الف خطبہبے نقطہ خطبہحرم


فضائل
فضائل اہل‌بیت، آیت ولایت • آیت اہل‌الذکر • آیت شراء • آیت اولی‌الامر • آیت تطہیر • آیت مباہلہ • آیت مودت • آیت صادقین-حدیث مدینۃالعلم • حدیث رایت • حدیث سفینہ • حدیث کساء • خطبہ غدیر • حدیث منزلت • حدیث یوم‌الدار • حدیث ولایتسدالابوابحدیث وصایتبت شکنی


اصحاب
عمار بن یاسرمالک اشترابوذر غفاریعبیداللہ بن ابی رافعحجر بن عدیدیگر افراد

واقعہ تَہنیَت اس واقعے کی طرف اشارہ ہے جو حجۃ الوداع کے موقع پر غدیر خم میں پیغمبر اکرمؐ کی طرف سے حضرت علیؑ کی ولایت اور جانشینی کی اعلان کے بعد رونما ہوا جس میں وہاں موجود صحابہ خاص کر خلیفہ اول اور دوم کی طرف سے امام علیؑ کو مبارک باد پیش کی۔

اس واقعے کو امام علیؑ کی امامت اور ولایت کی حقانیت پر دلیل قرار دی جاتی ہے جس کا اعلان پیغمبر خداؐ نے واقعہ غدیر میں حاجیوں کے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے کیا تھا۔

مبارک بادی کی تعبیر

حَدیث تَہنیَت اس حدیث کو کہا جاتا ہے جس میں حجۃ الوداع کے موقع پر غدیر خم میں پیغمبر اکرمؐ کی طرف سے حضرت علیؑ کی ولایت اور جانشینی کی اعلان کے بعد وہاں موجود صحابہ خاص کر خلیفہ اول اور دوم کی طرف سے امام علیؑ کو مبارک باد دینے کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ [1] خلیفہ دوم نے "بَخْ بَخْ لَک یا عَلِی أَصْبَحْتَ مَوْلَای وَ مَوْلَی کلِّ مُؤْمِنٍ وَ مُؤْمِنَۃٍ" کہہ کر امام علیؑ کو مبارک باد دی۔[2] بعض منابع میں لفظ علی کی جگہ "ابن ابی‌طالب"[3] یا "امیرالمؤمنین"[4] آیا ہے۔ اسی طرح بعض منابع میں مؤمن اور مؤمنہ کی جگہ مسلم آیا ہے۔[5] احمد بن حنبل نے خلیفہ دوم کے جملے کو یوں نقل کیا ہے: "ہَنِیئًا یا ابْنَ أَبِی طَالِبٍ، أَصْبَحْتَ وَأَمْسَیتَ مَوْلَی کلِّ مُؤْمِنٍ وَمُؤْمِنَۃ"[6]

حضرت علیؑ کو مبارک دینے والے ا صحاب

صحابہ میں سے ابوبکر، عمر بن خطاب، طلحہ اور زبیر نے غدیر خم میں حضرت علیؑ کو مبارک باد دی۔[7] بعض مصنفین کہتے ہیں کہ ابوبکر اور عمر نے یہ کام پیغمبر اکرمؐ کے حکم[8] اور اس تذکر کے بعد انجام دیا کہ اس کی مخالفت کفر کا سبب بنے گا۔[9] جبکہ بعض دوسرے منابع میں اس موقع پر خلیفہ دوم کی طرف سے اظہار مسرت کے ساتھ،[10] دوسروں سے بڑھ چڑھ کر حضرت علیؑ کو مبارک باد دینے[11] یا ان کو اس کام میں سب سے پہلے انجام دینے والا[12] یا انہیں اس کام میں سبقت لینے والوں میں سے[13] قرار دیا گیا ہے۔

اگرچہ بہت سارے منابع میں اس تہنیتی جملے کی نسبت عمر بن خطاب کی طرف دی گئی ہے۔[14] لیکن بعض منابع میں آیا ہے کہ ابوبکر اور عمر نے ایک ساتھ مبارک باد دی تھی۔[15]

اسی طرح بعض دیگر کتب میں آیا ہے کہ حدیث تہنیت سید آل عدی[16] یا سید بنی عدی[17](خلیفہ دوم کا نسب بھی عدی بن کعب سے ملتا ہے۔[18]) یا بغیر نام کسی شخص [19] کے توسط سے نقل ہوئی ہے۔

ایک اور نقل کے مطابق خلیفہ دوم نے امام علیؑ کی ولایت کے اعلان کے بعد رسول خداؐ سے ایک ایسے جوان کا حوالہ دیتا ہے جس نے کہا کہ سوائے منافقین کے اس اعلان کی مخالفت کوئی نہیں کرے گا، اس موقع پر پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا وہ جوان جبرئیل تھا۔[20]

امام علیؑ کی امامت پر دلالت

خلیفہ دوم کی طرف سے امام علیؑ کو مبارک باد دینا حقیقت میں واقعہ غدیر میں پیغمبر اکرمؐ کی طرف سے حضرت علیؑ کی جانشینی[21] دوسروں پر امام علیؑ کی برتری[22] اور اعلمیت پر دلیل قرار دی جاتی ہے۔[23] بعض منابع میں آیا ہے کہ امام علیؑ نے بعد میں خلیفہ اول سے ملاقات کے وقت اسی مطلب کو خلافت پر اپنی حقانیت کی دلیل قرار دیا ہے۔[24] فیض کاشانی کے مطابق خلیفہ دوم نے اس جملے کی ادائیگی کے بعد حضرت علیؑ کو امیرالمؤمنین کے عنوان سے سلام کیا۔[25]

یہ واقعہ کب پیش آیا

اکثر منابع کے مطابق صحابہ نے واقعہ غدیر میں پیغمبر اکرمؐ کی طرف سے امام علیؑ کی جانشینی کے اعلان کے بعد مبارک باد دی۔[26] ایک نقل کے مطابق امام علیؑ کی جانشینی کے علان کے بعد پیغمبر اسلامؑ نے حضرت علیؑ کے لئے ایک الگ خیمہ نصب کرنے اور تمام اصحاب کو ایک ایک کر کے آپؑ کو مابرک باد دینے کے لئے اس خیمے کے اندر جانے کا حکم دیا۔[27]

بعض منابع میں اس واقعے کو روز مباہلہ یا عقد اخوت کے ساتھ ربط دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ پیغمبر اکرمؐ کی طرف سے امام علیؑ کی جانشینی کے اعلان کے بعد عمر بن خطاب نے آپؑ کو مبارک باد دی۔[28]

حوالہ جات

  1. امینی، الغدیر، ۱۴۱۶ق، ج۱، ص۵۰۸۔
  2. ہلالی، کتاب سلیم بن قیس، ۱۴۰۵ق، ج۲، ص۸۲۹؛ فرات کوفی، تفسیر فرات الکوفی، ۱۴۱۰ق، ص۵۱۶؛ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۱، ص۱۷۷۔
  3. التفسیر المنسوب الی الإمام العسکری، ۱۴۰۹ق، ص۱۱۲؛ خطیب بغدادی، تاریخ بغداد، ۱۴۱۷ق، ج۸، ص۲۸۴؛ ابن عساکر، تاریخ دمشق، ۱۴۱۵ق، ج۴۲، ص۲۳۳۔
  4. خصیبی، الہدایۃ الکبری، ۱۴۱۹ق، ص۱۰۴۔
  5. صدوق، الأمالی، ۱۳۷۶ش، ص۲؛ خطیب بغدادی، تاریخ بغداد، ۱۴۱۷ق، ج۸، ص۲۸۴؛ ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، ۱۴۰۷ق، ج۷، ص۳۴۹۔
  6. ابن حنبل، مسند احمد بن حنبل، ۱۴۱۶ق، ج۳۰، ص۴۳۰۔
  7. حلی، العدد القویۃ، ۱۴۰۸ق، ص۱۸۳۔
  8. التفسیر المنسوب الی الإمام العسکری، ۱۴۰۹ق، ص۱۱۲۔
  9. ہلالی، کتاب سلیم بن قیس، ۱۴۰۵ق، ج۲، ص۸۲۹۔
  10. اربلی، کشف الغمۃ، ۱۳۸۱ق، ج۱، ص۲۳۷۔
  11. مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۱، ص۱۷۷؛ طبرسی، إعلام الوری، ۱۳۹۰ق، ص۱۳۳۔
  12. مفید، مسار الشیعۃ، ۱۴۲۲ق، ص۴۴؛ بحرانی، مدینۃ معاجز، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۲۶۹۔
  13. ابن طاووس، طرف من الأنباء و المناقب، ۱۴۲۰ق، ص۳۶۲۔
  14. ہلالی، کتاب سلیم بن قیس، ۱۴۰۵ق، ج۲، ص۸۲۹؛ التفسیر المنسوب الی الإمام العسکری، ۱۴۰۹ق، ص۱۱۲؛ خصیبی، الہدایۃ الکبری، ۱۴۱۹ق، ص۱۰۴؛ صدوق، الأمالی، ۱۳۷۶ش، ص۲؛ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۱، ص۱۷۷۔
  15. امینی، الغدیر، ۱۴۱۶ق، ج۱، ص۵۱۲۔
  16. شامی، الدر النظیم، ۱۴۲۰ق، ص۴۴۴۔
  17. دیلمی، غرر الاخبار، ۱۴۲۷ق، ص۳۵۶۔
  18. ابن عبدالبر، الاستیعاب، ۱۴۱۲ق، ج۳، ص۱۱۴۴۔
  19. فرات کوفی، تفسیر فرات الکوفی، ۱۴۱۰ق، ص۵۱۶۔
  20. شامی، الدر النظیم، ۱۴۲۰ق، ص۲۵۳۔
  21. کراجکی، کنز الفوائد، ۱۴۱۰ق، ج۲، ص۹۶۔
  22. شامی، الدر النظیم، ۱۴۲۰ق، ص۲۶۸۔
  23. دیلمی، غرر الاخبار، ۱۴۲۷ق، ص۳۴۹۔
  24. دیلمی، ارشاد القلوب، ۱۴۱۲ق، ج۲، ص۲۶۴؛ خصیبی، الہدایۃ الکبری، ۱۴۱۹ق، ص۱۰۳ – ۱۰۴۔
  25. فیض کاشانی، نوادر الأخبار، ۱۳۷۱ش، ص۱۶۶۔
  26. ہلالی، کتاب سلیم بن قیس، ۱۴۰۵ق، ج۲، ص۸۲۸-۸۲۹؛ التفسیر المنسوب الی الإمام العسکری، ۱۴۰۹ق، ص۱۱۲؛ فرات کوفی، تفسیر فرات الکوفی، ۱۴۱۰ق، ص۵۱۶؛ صدوق، الأمالی، ۱۳۷۶ش، ص۲؛ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۱، ص۱۷۵؛ ابن عساکر، تاریخ دمشق، ۱۴۱۵ق، ج۴۲، ص۲۳۴۔
  27. ہلالی، کتاب سلیم بن قیس، ۱۴۰۵ق، ج۲، ص۸۲۹؛ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۱، ص۱۷۶؛ طبرسی، إعلام الوری، ۱۳۹۰ق، ص۱۳۲۔
  28. ابن بطریق، عمدۃ عیون، ۱۴۰۷ق، ص۱۶۹؛ ابن شاذان، الروضۃ، ۱۴۲۳ق، ص۷۶–۷۷؛ اربلی، کشف الغمۃ، ۱۳۸۱ق، ج۱، ص۳۲۸۔


مآخذ

  • ابن بطریق، یحیی بن حسن، عمدۃ عیون صحاح الأخبار فی مناقب إمام الأبرار، قم، جامعہ مدرسین، ۱۴۰۷ھ۔
  • ابن حنبل، احمد بن محمد، مسند الإمام أحمد بن حنبل، تحقیق عبداللہ بن عبدالمحسن ترکی و دیگران، بیروت، مؤسسۃ الرسالۃ، ۱۴۱۶ھ۔
  • ابن شاذان قمی، شاذان بن جبرئیل، الروضۃ فی فضائل أمیر المؤمنین علی بن أبی طالب(ع)، تحقیق علی شکرچی، قم، مکتبۃ الأمین، ۱۴۲۳ھ۔
  • ابن طاووس، علی بن موسی، طرف من الأنباء و المناقب، تحقیق قیس عطار، مشہد، تاسوعا، ۱۴۲۰ھ۔
  • ابن عبدالبر، یوسف بن عبداللہ، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، تحقیق علی محمد البجاوی، بیروت، دارالجیل، ۱۴۱۲ھ۔
  • ابن عساکر، علی بن حسن، تاریخ مدینۃ دمشق و ذکر فضلہا و تسمیۃ من حلہا من الأماثل أو اجتاز بنواحیہا من واردیہا و أہلہا، تحقیق علی شیری، بیروت، دارالفکر، ۱۴۱۵ھ۔
  • ابن کثیر، اسماعیل بن عمر، البدایۃ و النہایۃ، بیروت، دارالفکر، ۱۴۰۷ھ۔
  • اربلی، علی بن عیسی، کشف الغمۃ فی معرفۃ الأئمۃ، تحقیق ہاشم رسولی محلاتی، تبریز، بنی ہاشمی، ۱۳۸۱ھ۔
  • امینی، عبد الحسین، الغدیر فی الکتاب و السنۃ و الأدب، قم، مرکز الغدیر للدراسات الاسلامیہ، ۱۴۱۶ھ۔
  • بحرانی، سید ہاشم بن سلیمان، مدینۃ معاجز الأئمۃ الإثنی عشر، قم، مؤسسۃ المعارف الإسلامیۃ، ۱۴۱۳ھ۔
  • التفسیر المنسوب الی الامام ابی محمد الحسن بن علی العسکری(ع)، تحقیق مدرسہ امام مہدی(عج)، قم، ‌۱۴۰۹ھ۔
  • حسکانی، عبیداللہ بن عبداللہ، شواہد التنزیل لقواعد التفضیل، تہران، وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی، ۱۴۱۱ھ۔
  • حلی، علی بن یوسف بن المطہر، العدد القویۃ لدفع المخاوف الیومیۃ، قم، کتابخانہ آیۃ‌اللہ مرعشی نجفی، ۱۴۰۸ھ۔
  • خصیبی، حسین بن حمدان، الہدایۃ الکبری، بیروت، البلاغ، ۱۴۱۹ھ۔
  • خطیب بغدادی، احمد بن علی، تاریخ بغداد، تحقیق مصطفی عبد القادر عطا، بیروت، دارالکتب العلمیۃ، ۱۴۱۷ھ۔
  • دیلمی، حسن بن محمد، إرشاد القلوب إلی الصواب، قم، الشریف الرضی، ۱۴۱۲ھ۔
  • دیلمی، حسن بن محمد، غرر الاخبار و دُرَر الآثار فی مناقب ابی الائمۃ الاطہار، تحقیق اسماعیل ضیغم، قم، دلیل ما، ۱۴۲۷ھ۔
  • شامی، یوسف بن حاتم، الدر النظیم فی مناقب الأئمۃ اللہامیم، قم، جامعہ مدرسین، ۱۴۲۰ھ۔
  • صدوق، محمد بن علی، الأمالی، تہران، کتابچی، چاپ ششم، ۱۳۷۶ش۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، إعلام الوری بأعلام الہدی، تہران، اسلامیہ، چاپ سوم، ۱۳۹۰ھ۔
  • فیض کاشانی، محمد محسن، نوادر الأخبار فیما یتعلق بأصول الدین، تہران، مؤسسہ مطالعات و تحقیقات فرہنگی، ۱۳۷۱ش۔
  • کراجکی، محمد بن علی، کنز الفوائد، تحقیق عبداللہ نعمۃ، قم، دارالذخائر، ۱۴۱۰ھ۔
  • کوفی، فرات بن ابراہیم، تفسیر فرات الکوفی، تحقیق محمدکاظم، تہران، وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی، مؤسسۃ الطبع و النشر، ۱۴۱۰ھ۔
  • مجلسی، محمدباقر، بحارالأنوار الجامعۃ لدرر أخبار الأئمۃ الأطہار، بیروت،‌دار إحیاء التراث العربی، چاپ دوم، ۱۴۰۳ھ۔
  • مفید، محمد بن محمد بن نعمان، الإرشاد فی معرفۃ حجج اللہ علی العباد، قم، کنگرہ شیخ مفید، ۱۴۱۳ھ۔
  • مفید، محمد بن محمد بن نعمان، مسار الشیعۃ فی مختصر تواریخ الشریعۃ، چاپ شدہ در «مجموعۃ نفیسۃ فی تاریخ الأئمۃ(ع)»، بیروت، دارالقاری، ۱۴۲۲ھ۔
  • ہلالی، سلیم بن قیس، کتاب سلیم بن قیس الہلالی، تحقیق محمد انصاری زنجانی خوئینی، قم، الہادی، ۱۴۰۵ھ۔