پہلا مسلمان

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

پہلا مسلمان وہ شخص ہے کہ جو حضرت محمدؐ پر سب سے پہلے ایمان لایا۔ سب سے پہلا مسلمان ہونا باعث افتخار اور بے شمار فضیلتوں کا حامل سمجھا جاتا تھا۔ اہل تشیع نے حضرت خدیجہؑ کو پہلی مسلمان خاتون اور حضرت علیؑ کو پہلا مسلمان مرد کے طور پر مانا ہے۔ یہ بات مختلف اہل سنت مآخذ میں بھی آئی ہے۔

اہل سنت کے کچھ مآخذمیں ابوبکر کو سب سے پہلا مسلمان قرار دیا گیا ہے۔ شیعہ معاصر تاریخ داں رسول جعفریان نے اس کو مسلمانوں کے مذہبی اختلافات کے سبب سامنے آنے والا دعوی بتایا ہے جس کی کوئی تاریخی بنیاد نہیں ہے۔

اہمیت

پہلا مسلمان اس شخص کی طرف اشارہ ہے جو سب سے پہلے پیغمبر اسلامؐ پر ایمان لے آیا ہے۔ سب سے پہلے مسلمان ہونے کو افتخار اور فضیلت شمار کیا جاتا تھا۔ [1]۔ بعض مآخذ کے مطابق، پیغمبر اکرمؐ نے حضرت علیؑ کا سب سے پہلے مسلمان ہونے کو ان کے لئے باعث فضیلت و برتری قرار دیا ہے۔[2] سب سے پہلےاسلام لانے کے بعض دعویدار صحابہ نے بھی اپنی اس خصوصیت پر فخر و مباہات کیا ہے۔ [3]

حضرت خدیجہ سب سے پہلی مسلمان خاتون

مسلمانوں کے درمیان اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ حضرت خدیجہ سب سے پہلی مسلمان خاتون تھیں۔[4] بعض مورخین نے آپ کو مرد و خواتین دونوں میں سب سے پہلا مسلمان قرار دیا ہے۔[5] اہل سنت کے مورخ ابن اثیر نے اس بات پر مسلمانوں کا اجماع بیان کیا ہے کہ حضرت خدیجہ سب سے پہلی مسلمان شخصیت تھیں جو پیغمبر اسلامؐ پر ایمان لائیں۔[6][7] تیسری صدی کے مورخ یعقوبی کے بقول حضرت خدیجہ سب سے پہلے ایمان لانے والی خاتون اور حضرت علیؑ سب سے پہلے ایمان لانے والے مرد تھے۔ [8]

حضرت علی پہلا مسلمان

روایات کے مطابق ، پیغمبر اسلام نے حضرت علیؑ کو پہلا مسلمان، پہلا مومن[9] اور آنحضرت کی سب سے پہلے تصدیق کرنے والے فرد کے عنوان سے پہچنوایا ہے۔[10] شیخ طوسی نے امام رضاؑ سے ایک روایت نقل کی ہے جس میں حضرت علیؑ کو پیغمبر اکرمؐ پر سب سے پہلے ایمان لانے والے فرد کے طور پر بیان کیا ہے۔[11] علامہ مجلسی[12] اور چوتھی صدی ہجری کے شیعہ مولف خصیبی نے حضرت علیؑ کو سب سے پہلا مسلمان ذکر کیا ہے۔[13] محمد بن جریر طبری،[14] شمس‌الدین ذہبی[15] اور اہل سنت کے دوسرے مورخین نے بھی امام علیؑ کو سب سے پہلے مسلمان کے طور پر نقل کیا ہے۔

کچھ دوسرے بیانات

بعض اہل سنت نے کچھ دوسرے نقل بھی ذکر کیا ہے جن کی بنیاد پر ابوبکر[16] یا زید بن حارثہ کو پہلا مسلمان قرار دیا گیا ہے۔[17] اہل سنت کے مورخ مقریزی نے کتاب إمتاع الأسماع میں ابوبکر کو ایسا پہلا مسلمان کہا ہے جو پیغمبر اسلام کی حمایت و نصرت کی لیاقت رکھتا ہو۔ [18] ابن حجر اپنی کتاب الاصابہ میں ایمان لانے والوں کی ترتیب میں لکھتے ہیں کہ بچوں میں پہلے مسلمان حضرت علیؑ، خواتین میں حضرت خدیجہ، موالی میں زید بن حارثہ اور غلاموں میں بلال حبشی ہیں انہوں نے ابوبکر کو ایسا پہلا آزاد شخص بتایا ہے جو ایمان لایا۔[19] اس کے باوجود محمد بن جریر طبری نے محمد بن سعد سے نقل کیا ہے کہ ابوبکر پچاس لوگوں کے بعد ایمان لائے۔[20]

شیعہ معاصر تاریخ داں رسول جعفریان کا کہنا ہے کہ بعض تاریخی منابع میں جو ابوبکر کو پہلا مسلمان کہا گیا ہے یہ تاریخی لحاظ سے کسی بنیاد پر استوار نہیں ہے اور صرف مسلمانوں کے درمیان مذہبی اختلاف اور نزاع کا نتیجہ ہے۔[21]

اسلام لانے والوں کی ترتیب

اہل سنت کے مورخ ابن اثیر نے خدیجہ، علی علیہما السلام، زید بن حارث، ابوبکر کو [22] اور علامہ مجلسی نے علی، خدیجہ جعفر بن ابی طالب علیہم السلام کو بالترتیب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ پر سب سے پہلے ایمان لانے والے قرار دیا ہے۔[23]

حوالہ جات

  1. مروجی طبسی، «امیرمؤمنان(ع) و پیشتازی در اسلام»، ص۷۲۔
  2. ابن عقدہ کوفی، فضائل أمیرالمؤمنین علیہ‌السلام، ۱۴۲۴ق، ص۲۴۔
  3. ابن قتیبۃ، المعارف، ۱۹۹۲م، ص۱۶۹۔
  4. حسینی، «نخستین مومن و آگاہانہ ‌ترین ایمان»، ص۴۸۔
  5. بلاذری، انساب الأشراف، ۱۴۱۷ق، ج۱، ص۴۷۱؛ ابن‌سعد، الطبقات الکبری، ۱۴۱۰ق، ج۳، ص۱۵؛ ابن عبدالبر، الاستیعاب، ۱۴۱۲ق، ج۲، ص۵۴۶؛ ابن خلدون، تاریخ ابن خلدون، ۱۴۰۸ق، ج۲، ص۴۱۰؛ صالحی دمشقی، سبل الہدی، ۱۴۱۴ق، ج۲، ص۳۰۰۔
  6. ابن‌اثیر، الکامل، ۱۳۸۵ق، ج۲، ۵۷۔
  7. ابن‌اثیر، الکامل، ۱۳۸۵ق، ج۲، ص۵۷۔
  8. یعقوبی، تاریخ الیعقوبی،‌ دار صادر، ج۲، ص۲۳۔
  9. ابن شہر آشوب، مناقب آل أبی طالب، ۱۳۷۹ق، ج۲، ص۶۔
  10. صفار، بصائر الدرجات، ۱۴۰۴ق، ج۱، ص۸۴۔
  11. شیخ طوسی، الأمالی، ۱۴۱۴ق، ص۳۴۳۔
  12. مجلسی، بحار الأنوار، ۱۴۰۳ق، ج۶۶، ص۱۰۲۔
  13. خصیبی، الہدایۃ الکبری، ۱۴۱۹ق، ص۵۰۔
  14. طبری، تاریخ الطبری، ۱۳۸۷ق، ج۲، ص۳۱۰۔
  15. ذہبی، تاریخ الإسلام، ۱۴۰۹ق، ج۱، ص۱۲۸۔
  16. طبری، تاریخ الطبری، ۱۳۸۷ق، ج۲، ص۳۱۵؛ ابن عبدالبر، الاستیعاب، ۱۴۱۲ق، ج۳، ص۹۶۵۔
  17. بلاذری، أنساب الأشراف، ۱۴۱۷ق، ج۱، ص۴۷۰۔
  18. مقریزی، إمتاع الأسماع، ۱۴۲۰ق، ج۱، ص۳۴۔
  19. ابن حجر، الإصابۃ، ۱۴۱۵ق، ج۱، ص۸۴۔
  20. طبری، تاریخ الطبری، ۱۳۸۷ق، ج۲، ص۳۱۶۔
  21. جعفریان، تاریخ سیاسی اسلام سیرہ رسول خدا، ۱۳۸۰ش، ج۱، ص۲۳۵۔
  22. ابن‌اثیر، أسد الغابۃ، ۱۴۰۹ق، ج۲، ص۱۳۰-۱۳۱۔
  23. مجلسی، بحار الأنوار، ۱۴۰۳ق، ج۶۶، ص۱۰۲۔


مآخذ

  • ابن اثیر جزری، علی بن محمد، أسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، بیروت، دارالفکر، ۱۴۰۹ھ۔
  • ابن اثیر جزری، علی بن محمد، الکامل فی التاریخ، بیروت، دارصادر، ۱۳۸۵ھ۔
  • ابن حجر عسقلانی، احمد بن علی، الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ، تحقیق: عادل احمد عبدالموجود، علی محمد معوض، بیروت، دارالکتب العلمیۃ، چاپ اول، ۱۴۱۵ھ۔
  • ابن خلدون ، عبد الرحمن بن محمد، تاریخ ابن‌خلدون، تحقیق خلیل شحادۃ، بیروت، دارالفکر، چاپ دوم، ۱۴۰۸ھ۔
  • ابن سعد کاتب واقدی، محمد بن سعد، الطبقات الکبری، تحقیق: محمد عبد القادر عطا، بیروت، دارالکتب العلمیۃ، چاپ اول، ۱۴۱۰ھ۔
  • ابن شہر آشوب مازندرانی، مناقب آل أبی‌طالب علیہم‌السلام، قم، علامہ، چاپ اول، ۱۳۷۹ھ۔
  • ابن عبدالبر، یوسف بن عبد اللہ، الاستیعاب فی معرفۃ الأصحاب، تحقیق: علی محمد البجاوی، بیروت، دارالجیل، چاپ اول، ۱۴۱۲ھ۔
  • ابن قتیبۃ، عبداللہ بن مسلم، المعارف، تحقیق: ثروت عکاشۃ، قاہرۃ، الہیئۃ المصریۃ العامۃ للکتاب، چاپ دوم، ۱۹۹۲ء۔
  • ابن عقدہ کوفی، احمد بن محمد، فضائل أمیر المؤمنین علیہ‌السلام، محقق و مصحح: عبدالرزاق محمدحسین حرز الدین، قم، دلیل ما، چاپ اول، ۱۴۲۴ھ۔
  • بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، تحقیق: سہیل زکار، ریاض زرکلی، بیروت، دارالفکر، چاپ اول، ۱۴۱۷ھ۔
  • جعفریان، رسول، تاریخ سیاسی اسلام سیرہ رسول خدا، قم، انتشارات دلیل، ۱۳۸۰ش۔
  • حسینی، سید کرم حسین، «نخستین مومن و آگاہانہ ‌ترین ایمان»، مجلہ صراط، شمارہ۱۰، آبان۱۳۹۲ش۔
  • خصیبی، حسین بن حمدان، الہدایۃ الکبری، بیروت، البلاغ، ۱۴۱۹ھ۔
  • ذہبی، محمد بن احمد، تاریخ الاسلام، تحقیق: عمر عبدالسلام تدمری، بیروت، دارالکتاب العربی، چاپ دوم، ۱۴۰۹ھ۔
  • شیخ طوسی، محمد بن حسن، الامالی، قم، دارالثقافۃ، چاپ اول، ۱۴۱۴ھ۔
  • صالحی دمشقی، محمد بن یوسف، سبل الہدی و الرشاد فی سیرۃ خیر العباد، بیروت، دارالکتب العلمیۃ، چاپ اول، ۱۴۱۴ھ۔
  • صفار، محمد بن حسن، بصائر الدرجات فی فضائل آل محمّد صلّی اللہ علیہم، محقق و مصحح: محسن بن عباسعلی کوچہ باغی، قم، مکتبۃ آیۃ اللہ المرعشی النجفی، چاپ دوم، ۱۴۰۴ھ۔
  • طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، تحقیق: محمد أبو الفضل ابراہیم، بیروت، دارالتراث، چاپ دوم، ۱۳۸۷ھ۔
  • مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، بیروت، دارإحیاء التراث العربی، چاپ دوم، ۱۴۰۳ھ۔
  • مروجی طبسی، «امیرمؤمنان(ع) و پیشتازی در اسلام»، مجلہ فرہنگ کوثر، شمارہ۷۵، پاییز۱۳۸۷ش۔
  • مقریزی، تقی الدین، امتاع الأسماع بما للنبی من الأحوال و الأموال و الحفدۃ و المتاع، تحقیق: محمد عبدالحمید نمیسی، بیروت، دارالکتب العلمیۃ، چاپ اول، ۱۴۲۰ھ۔
  • یعقوبی، احمد بن أبی یعقوب، تاریخ الیعقوبی، بیروت، دارصادر، چاپ اول، بےتا۔