آیت انفاق

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
آیت انفاق
آیت کی خصوصیات
آیت کا نام: آیت انفاق
سورہ: بقرہ
آیت نمبر: 274
پارہ: 3
شان نزول: انفاق امام علی(ع)
محل نزول: مدینہ
موضوع: اخلاق
مضمون: انفاق

آیت اِنفاق سورہ بقرہ کی آیت نمبر 274 کو کہا جاتا ہے جس میں انفاق اور مختلف حالات میں اس پر عمل کرنے کی کیفیت بیان ہوئی ہے۔ مفسرین کے مطابق یہ امام علیؑ کی شأن میں نازل ہوئی جب آپ نے چار درہم کو دن اور رات میں آشکار اور مخفیانہ طور پر انفاق فرمایا۔ بعض مفسرین اس بات کے معتقد ہیں کہ اس آیت میں وہ تمام افراد شامل ہیں جو اس پر عمل کرتے ہیں۔

گناہوں کی بخشش، عذاب سے دوری، روحانی اور معنوی سکون اور غم و اندوہ کے خاتمے کو اس آیت میں انفاق کے اثرات میں شمار کیا گیا ہے۔

آیت کا متن اور ترجمہ

االَّذینَ ینْفِقُونَ أَمْوالَهُمْ بِاللَّیلِ وَ النَّهارِ سِرًّا وَ عَلانِیةً فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ لا خَوْفٌ عَلَیهِمْ وَ لا هُمْ یحْزَنُون﴿274﴾
جو لوگ اپنے مال رات اور دن میں خفیہ و علانیہ (راہِ خدا میں) خرچ کرتے ہیں ان کا اجر و ثواب ان کے پروردگار کے پاس ہے۔ ان کے لئے نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔


موضوع

سورہ بقرہ کی آیت نمیر 274 کو آیت انفاق کہا جاتا ہے۔[1] بعض مفسرین اس آیت کو اس سے پہلے آنے والی 14 آیایتوں کا خلاصہ قرار دیتے ہیں جو انفاق کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔[2] اس آیت میں انفاق کی کیفیت، اس کا اجر و ثواب[3] اور انسانی روح پر اس کے اثرات[4] نیز مختلف حالات میں اس کی فضیلت کے بارے میں گفتگو ہوئی ہے۔[5]

آیت انفاق میں ان لوگوں کی تعریف کی گئی ہے جو ہر حالت میں اپنے اموال کو خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔[6] اسی طرح اس آبت میں انفاق کرنے والوں کی طرف سے مختلف حالات میں انقاق کے دنیوی اور اخروی ثواب کو مد نظر رکھتے ہوئے اس پر اہتمام کرنے کی طرف اشارہ کی گئی ہے[7]

شأن نزول

شیعہ مفسرین مختلف احادیث سے استناد کرتے ہوئے اس بات کے معتقد ہیں کہ آیت انفاق امام علیؑ کی شأن میں اس وقت نازل ہوئی جب آپؑ نے ایک درہم رات کو ایک درہم دن کو ایک درہم آشکار طور پر اور ایک درہم مخفیانہ طور پر انفاق فرمایا۔[8]

اہل سنت مفسرین آیت انفاق کے شأن نزول کے بارے میں دو نظریات رکھتے ہیں؛ ان میں سے بعض اس آیت کی شأن نزول کو صرف امام علیؑ قرار دیتے ہیں۔[9] دوسرا گروہ اس آیت کو امام علیؑ کی شأن میں نازل ہونے کی طرف اشارہ کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر بعض اشخاص کے بارے میں بھی اس آیت کے نازل ہونے کا احتمال دیتے ہیں ان میں عبدالرحمن بن عوف[10] اور ابوبکر[11] شامل ہیں؛ چنانچہ اس سلسلے میں بعض کہتے ہیں کہ عبدالرحمن بن عوف دن کو جبکہ امام علیؑ رات کو انفاق کرتے تھے۔[12] اس کے علاوہ یہ گروہ ایک اور احتمال بھی دیتے ہیں کہ اس آیت سے مراد ہر وہ شخص ہے جو خدا کی راہ میں [13] اسراف اور تبذیر کے بغیر انفاق کرتے ہیں[14] یہاں تک کہ اس میں وہ اشخاص بھی شامل ہیں جو جہاد میں شرکت کرنے والے گھوڑوں کے لئے چارا وغیرہ دیتے ہیں۔[15]

بعض مفسرین مختلف احتمالات ذکر کرنے کے بعد شأن نزول کو کسی ایک مورد میں منحصر کرنے سے پرہیز کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس آیت کا کوئی خاص شأن نزول نہیں ہے۔[16]

اسی طرح بعض دیگر مفسرین اس بات کے معتقد ہیں کہ اگرچہ یہ آیت ایک خاص شخص کی شأن میں نازل ہوئی ہے؛ لیکن یہ حکم صرف اسی مورد میں منحصر نہیں ہوتا بلکہ اس آیت پر عمل کرنے والا ہر شخص اس حکم میں شامل ہو جاتا ہے؛ [17] اگرچہ امام علیؑ کا انفاق سب پر مقدم ہونے کی وجہ سے زیادہ فضیلت کا حامل ہے۔[18]

تفسیر

آیت انفاق میں انفاق کے مختلف طریقوں کی طرف اشارہ ہوا ہے؛ مثلا اگر ظاہر کرنے میں کوئی مصلحت نہ ہو تو مخفیانہ طور پر انفاق کیا جانا چاہئے[19] تاکہ لینے والے کی عزت نفس اور انسانی کرامت خدشہ‌ دار نہ ہو۔[20] ہاں اگر ظاہر اور آشکار کرنے میں کوئی مصلحت ہو جیسے دوسروں کو ترغیب دینا یا شعائر اللہ کی تعظیم وغیرہ تو اس صورت میں آشکار طور پر بھی انفاق کیا جا سکتا ہے؛ اگرچہ رات کو دن پر اور مخفیانہ دینے کو آشکار پر برتری حاصل ہے۔[21] انفاق کے معنی مال و دولت کا بخشنا[22] اور ضرورت مندوں کی مالی معاونت کرنا ہے۔[23]

اس آیت میں گناہوں کی بخشش اور عذاب سے دوری کو انفاق کا صلہ قرار دیا گیا ہے، بعض مفسرین اس بات کے معتقد ہیں کہ خدا اس کام کے ذریعے انسان کی روحانی اور معنوی آرام و سکون کے لئے زمینہ فراہم کرتا ہے،[24] کیونکہ ممکن ہے بعض لوگ مستقبل کی فکر اور مال و دولت کے خاتمے کے ڈر سے انفاق کرنے سے پرہیز کریں؛ لہذا انفاق‌ کرنے والوں کو ان لوگوں میں سے قرار دیتے ہیں جن کو مستقبل کے بارے میں کوئی پریشانی نہیں ہوتی اور انفاق کی وجہ سے مال و دولت میں کمی کا بھی انہیں کوئی غم نہیں ہوتا؛[25] اگرچہ مجمع البیان میں طبرسی[26] اور دوسرے مفسرین[27] کے مطابق اس آیت میں خوف و ہراس سے مراد قیامت کے دن کا خوف و ہراس ہے۔

غم و اندور کا خاتمہ،[28] دوسروں کی مدد کا جذبہ اور معنوی آرام و سکون کو اس آیت کا اہم پیغام قرار دیا گیا ہے۔[29]

متعلقہ صفحات

حوالہ جات

  1. جمعی از محققان، فرہنگ‌نامہ علوم قرآنی، ۱۳۹۴ش، ج۱، ص۳۳۷۔
  2. مغنیہ، التفسیر الکاشف، ۱۴۲۴ق، ج۱، ص۴۲۸۔
  3. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۲، ص۶۶۷۔
  4. رضایی اصفہانی، تفسیر قرآن مہر، ۱۳۸۷ش، ج۲، ص۳۲۳۔
  5. آلوسی، روح المعانی، ۱۴۱۵ق، ج۲، ص۴۶۔
  6. ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، ۱۴۱۹ق، ج۱، ص۵۴۵، جعفری، تفسیر کوثر، ۱۳۷۶ش، ج۲، ص۳۴۔
  7. طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ج۲، ص۴۰۰۔، قرائتی، تفسیر نور، ۱۳۸۸ش، ج۱، ص۴۳۴۔
  8. نمونہ کے لئے ملاظہ کریں؛ ابن سلیمان، تفسیر مقاتل بن سلیمان، ۱۴۲۳ق، ج۱، ص۲۲۵؛ طوسی، التبیان، بیروت ج۲، ص۳۵۷؛ شحاتہ، تفسیر القرآن الکریم، ۱۴۲۱ق، ص۱۱۹؛ عیاشی، تفسیر العیاشی، ۱۳۸۰ش، ج۱، ص۱۵۱؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۲، ص۳۶۰۔
  9. شیبانی، نہج البیان، ۱۴۱۳ق، ج۱، ص۳۵۲؛ صنعانی، تفسیر عبدالرزاق، ۱۴۱۱ق، ج۱، ص۱۱۸؛ دینوری، الواضح، ۱۴۲۴ق، ج۱، ص۹۲؛ واحدی، الوجیز، ۱۴۱۵ق، ج۱، ص۱۹۱؛ جرجانی، درج الدرر، ۱۴۳۰ق، ج۱، ص۳۶۵؛ حسکانی، شواہد التنزیل، ۱۴۱۱ق، ج۱، ص۱۴۰۔
  10. ماتریدی، تأویلات اہل السنہ، ۱۴۲۶ق، ج۲، ص۲۶۸؛ ابوحیان، البحر المحیط، ۱۴۲۰ق، ج۲، ص۷۰۱۔
  11. زمخشری، الکشاف، ۱۴۰۷ق، ج۱، ص۳۱۹؛ بیضاوی، أنوار التنزیل، ۱۴۱۶ق، ج۱، ص۱۶۱؛ ابوحیان، البحر المحیط، ۱۴۲۰ق، ج۲، ص۷۰۱۔
  12. طبرانی، التفسیر الکبیر، ۱۰۰۸م، ج۱، ص۴۹۲-۴۹۳؛ ابن جوزی، زاد المسیر، ۱۴۲۲ق، ج۱، ص۲۴۶؛ بغوی، تفسیر البغوی، ۱۴۲۰ق، ج۱، ص۳۸۰۔
  13. ماوردی، النکت و العیون، بیروت، ج۱، ص۳۴۷۔
  14. قرطبی، الجامع لأحکام القرآن، ۱۳۶۴ش، ج۳، ۳۴۷؛ ابوحیان، البحر المحیط، ۱۴۲۰ق، ج۲، ص۷۰۱۔
  15. نمونہ کے لئے رجوع کریں: زمخشری، الکشاف، ۱۴۰۷ق، ج۱، ص۳۱۹؛ فخر رازی، التفسیر الکبیر، ۱۴۲۰ق، ج۷، ص۷۱؛ سیوطی، الدر المنثور، ۱۴۰۴ق، ج۱، ص۳۶۳۔
  16. ماتریدی، تأویلات أہل السنۃ، ۱۴۲۶ق، ج۲، ص۲۶۸۔
  17. تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۲، ص۳۶۰؛ ابوحیان، البحر المحیط، ۱۴۲۰ق، ج۲، ص۷۰۱؛ سمرقندی، بحر العلوم، ۱۴۱۶ق، ج۱، ص۱۸۲۔
  18. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۲، ص۶۶۷۔
  19. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۲، ص۳۶۰۔
  20. مغنیہ، التفسیر الکاشف، ۱۴۲۴ش،ج۱، ص۴۳۰۔
  21. فخر رازی، التفسیر الکبیر، ۱۴۲۰ق، ج۷، ص۷۱؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۲، ص۳۶۱؛ جعفری، تفسیر کوثر، ۱۳۷۶ش، ج۲، ص۳۵۔
  22. عمید، فرہنگ فارسی عمید، ۱۳۶۰ش، ذیل واژہ انفاق
  23. قرائتی، تفسیر نور، ۱۳۸۸ش، ج۱، ص۴۳۴۔
  24. رضایی اصفہانی، تفسیر قرآن مہر، ۱۳۸۷ش، ج۲، ص۳۲۵۔
  25. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۲، ص۳۶۱۔
  26. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۲، ص۶۶۷۔
  27. ماتریدی، تأویلات أہل السنۃ، ۱۴۲۶ق، ج۲، ص۲۶۸، ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، ۱۴۱۹ق، ج۱، ص۵۴۵۔
  28. رضایی اصفہانی، تفسیر قرآن مہر، ۱۳۸۷ش، ج۲، ص۳۲۵۔
  29. قرائتی، تفسیر نور، ۱۳۸۸ش، ج۱، ص۴۳۵۔


مآخذ

  • آلوسی، سید محمود، روح المعانی فی تفسیر القرآن العظیم، تحقیق علی عبدالباری عطیہ، بیروت، دارالکتب العلمیہ، ۱۴۱۵ھ۔
  • ابن سلیمان، مقاتل، تفسیر مقاتل بن سلیمان، بیروت،‌ دار إحیاء التراث العربی، ۱۴۲۳ھ۔
  • ابن‌ جوزی، عبدالرحمن بن علی، زاد المسیر فی علم التفسیر، بیروت، دارالکتاب العربی، ۱۴۲۲ھ۔
  • ابن‌ کثیر، اسماعیل بن عمر، تفسیر القرآن العظیم، بیروت، دارالکتب العلمیۃ، ۱۴۱۹ھ۔
  • ابو حیان، محمد بن یوسف، البحر المحیط فی التفسیر، بیروت، دارالفکر، ۱۴۲۰ھ۔
  • بغوی، حسین بن مسعود، تفسیر البغوی (معالم التنزیل)، تحقیق عبد الرزاق مہدی، بیروت،‌ دار إحیاء التراث العربی، ۱۴۲۰ھ۔
  • بیضاوی، عبداللہ بن عمر، أنوار التنزیل و أسرار التأویل، بیروت، دار إحیاء التراث العربی، ۱۴۱۸ھ۔
  • جرجانی، عبدالقاہر بن عبدالرحمن، درج الدرر فی تفسیر القرآن العظیم، عمان، دارالفکر، ۱۴۳۰ھ۔
  • جعفری، یعقوب، تفسیر کوثر، قم، موسسہ انتشارات ہجرت، ۱۳۷۶ش۔
  • جمعی از محققان، فرہنگ‌نامہ علوم قرآن، قم، پژوہشگاہ علوم و فرہنگ اسلامی، ‫۱۳۹۴ھ۔
  • حسکانی، عبیداللہ بن عبداللہ، شواہد التنزیل لقواعد التفضیل، تحقیق محمدباقر محمودی، تہران، وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی، ۱۴۱۱ھ۔
  • دینوری، عبداللہ بن محمد، الواضح فی تفسیر القرآن الکریم، بیروت، دارالکتب العلمیۃ، ۱۴۲۴ھ۔
  • رضایی اصفہانی، محمد علی، تفسیر قرآن مہر، قم، پژوہش‌ہای تفسیر و علوم قرآن، ۱۳۸۷ش۔
  • زمخشری، محمود بن عمر، الکشاف عن حقائق غوامض التنزیل و عیون الأقاویل فی وجوہ التأویل، بیروت، دارالکتاب العربی، چاپ سوم، ۱۴۰۷ھ۔
  • سرقندی، نصر بن محمد، تفسیر السمرقندی المسمی بحر العلوم، بیروت، دارالفکر، ۱۴۱۶ھ۔
  • سیوطی، عبدالرحمن بن ابی‌ بکر، الدر المنثور فی التفسیر بالمأثور، قم، کتابخانہ عمومی آیت‌اللہ العظمی مرعشی نجفی(رہ)، ۱۴۰۴ھ۔
  • شحاتہ، عبداللہ محمود، تفسیر القرآن الکریم، قاہرہ، دار غریب، ۱۴۲۱ھ۔
  • شیبانی، محمد بن حسن، نہج البیان عن کشف معانی القرآن، تحقیق حسین درگاہی، قم، نشر الہادی، ۱۴۱۳ھ۔
  • صنعانی، عبدالرزاق بن ہمام، تفسیر القرآن العزیز المسمّی تفسیر عبدالرزاق، بیروت، دارالمعرفۃ، ۱۴۱۱ھ۔
  • طباطبایی، محمد حسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، مؤسسۃ الأعلمی للمطبوعات، چاپ دوم، ۱۳۹۰ھ۔
  • طبرانی، سلیمان بن احمد، التفسیر الکبیر: تفسیر القرآن العظیم، اربد اردن، دارالکتاب الثقافی، ۲۰۰۸م۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، تہران، ناصر خسرو، چاپ سوم، ۱۳۷۲ش۔
  • طوسی، محمد بن حسن، التبیان فی تفسیر القرآن، بیروت، دار إحیاء التراث العربی، بی‌تا۔
  • عمید، حسن، فرہنگ فارسی عمید، تہران، امیر کبیر، ۱۳۶۰ش۔
  • عیاشی، محمد بن مسعود، کتاب التفسیر، تحقیق ہاشم رسولی، تہران، مکتبہ العلمیہ الاسلامیہ، ۱۳۸۰ش۔
  • فخررازی، محمد بن عمر، التفسیر الکبیر (مفاتیح الغیب)،‌ بیروت، دار إحیاء التراث العربی، چاپ سوم، ۱۴۲۰ھ۔
  • قرائتی، محسن، تفسیر نور، تہران، مرکز فرہنگی درس‌ہایی از قرآن، ۱۳۸۸ش۔
  • قرطبی، محمد بن احمد، الجامع لأحکام القرآن، تہران، ناصر خسرو، ۱۳۶۴ش۔
  • ماتریدی، محمد بن محمد، تأویلات أہل السنۃ، دارالکتب العلمیۃ، بیروت، منشورات محمد علی بیضون، ۱۴۲۶ھ۔
  • ماوردی، علی بن محمد، النکت و العیون تفسیر الماوردی، بیروت، دارالکتب العلمیۃ، بی‌تا۔
  • مغنیہ، محمد جواد، التفسیر الکاشف، قم، دارالکتاب الإسلامی، ۱۴۲۴ھ۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دارالکتب الإسلامیۃ، چاپ دہم، ۱۳۷۱ش۔
  • واحدی، علی بن احمد، الوجیز فی تفسیر الکتاب العزیز، بیروت، دارالقلم، ۱۴۱۵ھ۔