مسودہ:بین طلوعین
بَینُ الطُّلوعَین، طلوع فجر اور طلوعِ آفتاب کے درمیانی وقفے کو کہتے ہیں۔ اسلامی ثقافت میں بین الطلوعین عبادت، دعا اور ذکر کے لئے فضیلت کے حامل اوقات میں شمار ہوتا ہے۔ قرآن میں اس وقت اللہ تعالیٰ کی یاد اور تسبیح کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ احادیث میں بھی اسے نزولِ رحمت، قبولیتِ دعا اور فراخیِ رزق کا خصوصی وقت قرار دیا گیا ہے۔ اس وقت بیدار رہنا ائمہ معصومینؑ کی سیرت کا حصہ اور عرفاء کے نزدیک قابلِ تاکید عمل رہا ہے، جب کہ بعض کاموں، مثلاً سونا اور خرید و فروخت وغیرہ اس مدت کے دوران مکروہ قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح بین الطلوعین کی فقہی حیثیت اور اس وقت کا رات یا دن میں شمار ہونے کا مسئلہ بعض فقہی احکام، مثلاً اعتکاف، حج اور قمری مہینوں کے آغاز پر اثر انداز ہوتا ہے۔
اسلامی ثقافت میں بین الطلوعین کا مقام
مرتضیٰ مطہری:
«آپ نے شاید یہ روایت سنی ہوگی کہ ماہ رمضان کی انیسویں رات جس میں امام علیؑ کی پیشانی پر ضرب لگی، جب صبح کی اذان دی گئی، تو حضرت علیؑ نے سپیدۂ سحر سے خطاب ہوکر فرمایا: اے سپیدۂ سحر! جس دن سے علی پیدا ہوئے، کوئی ایسا دن نہیں گزرا جب تم طلوع ہوئے ہو اور علی کی آنکھیں نیند کی حالت میں ہوں۔ اسی وجہ سے جن لوگوں نے معنویت کی کچھ جھلک دیکھی ہے، وہ رات کے آخری حصے اور بین الطلوعین میں بیدار رہنے کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ میں نے بعض لوگوں کے بارے میں سنا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی تربیت کے لئے، ان کی شیر خوارگی کے ایام سے ہی کسی نہ کسی بہانے انہیں بین الطلوعین میں بیدار رکھنے کی کوشش کرتے تھے۔[1]
بین الطلوعین طلوعِ فجر اور طلوعِ آفتاب کے درمیانی وقفے کو کہتے ہیں۔ اسلامی تعلیمات میں اس وقت کو عبادت اور ذکرِ خدا کے لئے فضیلت کے حامل اوقات میں شمار کیا گیا ہے۔[2] قرآن کی بعض آیات، مثلاً سورہ ق آیت نمبر 39 اور سورہ طہ آیت نمبر 130 میں بین طلوعین کے وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر اور تسبیح کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ بعض روایات میں اس وقفے کو اہلِ قبور سے عذاب قبر کی شدت میں کمی آنے،[3] جنت کے اوقات میں سے ایک وقت،[4] اور بنی اسرائیل پر من و سلویٰ (جنتی غذا) نازل ہونے کا وقت قرار دیا گیا ہے۔[5] اسی طرح یہ بھی نقل ہوا ہے کہ رسول اللہؐ کی ولادت بین الطلوعین میں ہوئی تھی۔[6] عید قربان کے دن مشعر میں توقف کرنے کا وقت بھی بین الطلوعین کا وقت ہے اور اسے حج کے ارکان میں شمار کیا جاتا ہے۔[7]
بین الطلوعین میں بیدار رہنا، دعا کرنا اور ذکرِ خدا میں مشغول رہنا ائمہ معصومینؑ کی سیرت کا حصہ رہا ہے۔[8] عرفاء نے بھی اس وقت سے استفادہ کرنے پر زور دیا ہے[9] اور اس دوران انجام دئے جانے والے اعمال کے لئے خصوصی ہدایات بیان کی ہیں۔[10] بعض اخلاقی اور اسلامی آداب سے متعلق کتابوں میں بین الطلوعین کے اعمال و آداب کے لئے مستقل ابواب بھی مختص کئے گئے ہیں۔[11]
بین الطلوعین کے آداب
حدیثی منابع میں بین الطلوعین کے وقت بعض اعمال کی سفارش اور بعض کاموں سے ممانعت کی گئی ہے:
- ذکرِ خدا: رسول اللہؐ سے روایت ہے کہ جو شخص نماز صبح کے بعد اپنی جائے نماز پر بیٹھا رہے اور طلوعِ آفتاب تک اللہ تعالیٰ کا ذکر کرے، اسے حج بجا لانے والے شخص کے برابر ثواب ملتا ہے۔[12] ایک دوسری روایت میں اس عمل کو جہنم کی آگ سے نجات کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔[13]
- دعا کرنا: رسول اللہؐ نے بین الطلوعین میں دعا کرنے کو حاجات کی برآوری کے لئے نہایت مؤثر قرار دیا ہے۔[14] اسی طرح امام صادقؑ سے نقل ہوا ہے کہ اس وقت دعا کرنا رزق کے حصول میں بہت مؤثر ہے۔[15]
- سونے کی کراہت: بعض روایات میں بین الطلوعین کے دوران سونے سے منع کیا گیا ہے۔[16] فقہاء نے بھی اس وقت سونے کو مکروہ قرار دیا ہے۔[17] امام صادقؑ سے منقول ایک روایت میں اس وقت سونے کو نحوست اور رزق سے محرومی کا سبب بتایا گیا ہے۔[18]
- خرید و فروخت سے اجتناب: بین الطلوعین کے دوران خرید و فروخت کرنا مکروہ ہے۔[19] رسول اللہؐ سے منقول ایک روایت میں بھی اس وقت تجارت کرنے سے منع کیا گیا ہے۔[20]
- بیوی سے ہم بستری کی کراہت: امام باقرؑ سے منقول ایک روایت میں بین الطلوعین کے دوران بیوی سے ہم بستری کو مکروہ قرار دیا گیا ہے۔[21] بعض فقہاء نے بھی اس کی کراہت کا فتویٰ دیا ہے۔[22]
- نمازِ مستحب کی کراہت: بعض فتاویٰ کے مطابق نمازِ صبح کا واجب فریضہ ادا کرنے کے بعد بین الطلوعین میں مستحب نماز پڑھنا مکروہ ہے۔[23]
فقہی احکام پر اثرات
بعض فقہی مسائل میں یہ تعین کرنا اہمیت رکھتا ہے کہ بین الطلوعین رات کا حصہ ہے یا دن کا؛ کیونکہ شرعی حکم کے استنباط میں اس مسئلے کا اثر پڑ سکتا ہے۔ ان مسائل میں بیویوں کے درمیان ہم خوابی کی باری، اعتکاف، حج کے مواقف اور قمری مہینے کے آغاز کا مسئلہ شامل ہیں۔ مثال کے طور پر اگر بین الطلوعین کو رات کا حصہ شمار کیا جائے تو بیوی کے ساتھ ہم خوابی کا حق طلوعِ آفتاب تک جاری رہے گا۔ اسی طرح قمری مہینے کے آغاز کے مسئلے میں دور دراز علاقوں کے ساتھ رات کے مشترک ہونے کا امکان بھی بین الطلوعین کی بنا پر پیدا ہو سکتا ہے۔[24]
شیعہ مرجعِ تقلید آیت اللہ فیاض نے اس مسئلے پر «ما بین الطلوعین، بحثٌ فقہی» کے عنوان سے ایک مستقل کتاب تحریر کی ہے۔[25] اکثر شیعہ فقہاء بین الطلوعین کو دن کا حصہ قرار دیتے ہیں۔[26] یہ نظریہ عام لوگوں کے عرفی اور رائج تصور کے ساتھ بھی مطابقت رکھتا ہے۔[27] اس کے برخلاف، بعض علماء اسے رات کا حصہ اور بعض دوسرے اسے رات اور دن دونوں سے الگ ایک مستقل وقت قرار دیتے ہیں۔[28]
آیت اللہ فیاض کے مطابق ان میں سے کسی بھی نظریے کو ثابت کرنے کے لئے کوئی معتبر شرعی دلیل موجود نہیں ہے۔ اس بنا پر جن مسائل میں شرعی حکم کا تعین اس مسئلے پر موقوف ہے اور وجوب کے اثبات کے لئے کوئی قطعی دلیل دستیاب نہ ہو، وہاں شرعی تکلیف بھی ثابت نہیں ہوتی ہے۔[29]
متعلقہ مضامین
حوالہ جات
- ↑ مطہری، مجموعہ آثار، ج28، ص529۔
- ↑ مہدوی، «سیرۂ عبادی ائمہ(ع)»، ص179۔
- ↑ شیخ طوسی، الامالی، ص688۔
- ↑ کلینی، الکافی، ج8، ص123۔
- ↑ شیخ طوسی، تہذیب الاحکام، ج2، ص139۔
- ↑ مطہری، مجموعہ آثار، ج16، ص193۔
- ↑ پژوہشکدۂ حج و زیارت، مناسک حج مطابق فتاوای امام خمینی با حواشی مراجع معظم تقلید، ص545۔
- ↑ مثال کے طور پر ملاحظہ کیجئے: ابن اشعث، جعفریات، مکتبۃ نینویٰ، ص236؛ شیخ صدوق، عیون اخبار الرضا(ع)، ج2، ص180؛ شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص231؛ ابن شہر آشوب، المناقب، ج4، ص14۔
- ↑ بہاری ہمدانی، تذکرۃ المتقین، ص110۔
- ↑ مثال کے طور پر ملاحظہ کیجئے: حسینی طہرانی، عنوان بصری، ج2، ص250؛ مطہری، مجموعہ آثار، ج28، ص529۔
- ↑ مثال کے طور پر ملاحظہ کیجئے: فیض کاشانی، خلاصۃ الاذکار و اطمئنان القلوب، ص149-176؛ شیخ بہائی، مفتاح الفلاح، دار الکتاب الاسلامی، ص9-151۔
- ↑ ابن حیون، دعائم الاسلام، ج1، ص167؛ شیخ صدوق، الامالی، ص585۔
- ↑ شیخ صدوق، الامالی، ص576۔
- ↑ ابن حیون، دعائم الاسلام، ج1، ص167۔
- ↑ شیخ طوسی، تہذیب الاحکام، ج2، ص138۔
- ↑ عریضی، مسائل علی بن جعفر و مستدرکہا، ص143۔
- ↑ مثال کے طور پر ملاحظہ ہو: علامہ حلی، نہایۃ الاحکام، ج1، ص313۔
- ↑ شیخ طوسی، تہذیب الاحکام، ج2، ص139۔
- ↑ کیدری، اصباح الشیعہ، ص249۔
- ↑ کلینی، الکافی، ج5، ص152۔
- ↑ کلینی، الکافی، ج5، ص494۔
- ↑ طباطبائی حکیم، مستمسک العروۃ الوثقیٰ، ج14، ص10۔
- ↑ شیخ طوسی، الخلاف، ج1، ص520۔
- ↑ فیاض، ما بین الطلوعین، ص5-6، 10۔
- ↑ ملاحظہ ہو: فیاض، ما بین الطلوعین، ص9۔
- ↑ فیاض، ما بین الطلوعین، ص9؛ مثال کے طور پر ملاحظہ ہو: شیخ طوسی، الخلاف، ج1، ص266؛ علامہ حلی، قواعد الاحکام، ج2، ص302۔
- ↑ فیاض، ما بین الطلوعین، ص34-35۔
- ↑ فیاض، ما بین الطلوعین، ص10۔
- ↑ فیاض، ما بین الطلوعین، ص34۔
مآخذ
- قرآن کریم۔
- ابناشعث، محمد بن محمد، جعفریات (اشعثیات)، تہران، مکتبۃ نینوا، بیتا۔
- ابنحیون، نعمان بن محمد مغربی، دعائم الاسلام، قم، مؤسسہ آلالبیت(ع)، 1385ھ۔
- ابنشہرآشوب، محمد بن علی، مناقب آل ابیطالب(ع)، قم، علامہ، 1379ھ۔
- بہاری ہمدانی، محمد، تذکرۃ المتقین، مشہد، اسلامی تحقیقاتی مرکز، 1384ہجری شمسی۔
- پژہشکدہ حج و زیارت، مناسک حج مطابق فتاوای امام خمینی با حواشی مراجع معظم تقلید، تہران، مشعر، 1392ہجری شمسی۔
- حسینی طہرانی، سید محمدمحسن، «استمرار آثار روزہ» (روزے کے آثار کا استمرار)، سائت مکتب وحی، تاریخ مشاہدہ: 26 اکتوبر 2026ء۔
- حسینی طہرانی، سید محمدمحسن، عنوان بصری، تہران، مکتب وحی،1392ہجری شمسی۔
- شاہزیدی، الہام، و راضیہ فرہادی و مریم کتانی و قاسم زارعی و محمدصادق ابوطالبی، «تأثیر چہل روز بیداری و مناجات در بین الطلوعین بر آرامش و عزت نفس بانوان جوان اصفہان» (اصفہان کی نوجوان خواتین کے سکونِ قلب اور عزتِ نفس پر بین الطلوعین میں چالیس روز تک بیداری اور مناجات کے اثرات)، دو فصلنامہ علمی-تخصصی اسلام و مطالعات معنویت، شمارہ 2، خزاں اور سرما 2023ء۔
- شیخ بہایی، محمد بن حسین، مفتاح الفلاح فی عمل الیوم و اللیلۃ من الواجبات و المستحبات، قم، دار الکتاب الاسلامی، بے تا۔
- شیخ صدوق، محمد بن علی، الامالی، تہران، کتابچی، 1376ہجری شمسی۔
- شیخ صدوق، محمد بن علی، عیون اخبار الرضا(ع)، تہران، نشر جہان، 1378ھ۔
- شیخ طوسی، محمد بن حسن، الامالی، قم، مؤسسۃ البعثۃ، 1414ھ۔
- شیخ طوسی، محمد بن حسن، الخلاف، قم، مؤسسۃ النشر الاسلامی، 1407ھ۔
- شیخ طوسی، محمد بن حسن، تہذیب الاحکام، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، 1407ھ۔
- شیخ مفید، محمد بن محمد، الارشاد فی معرفۃ حجج اللہ علی العباد، قم، کنگرہ شیخ مفید، 1413ھ۔
- طباطبایی حکیم، سید محسن، مستمسک العروۃ الوثقی، قم، دار التفسیر، 1416ھ۔
- عریضی، علی بن جعفر، مسائل علی بن جعفر و مستدرکہا، قم، مؤسسۃ آلالبیت(ع) لاحیاء التراث، 1409ھ۔
- علامہ حلی، حسن بن یوسف، قواعد الاحکام، قم، مؤسسۃ النشر الاسلامی، 1413ھ۔
- علامہ حلی، حسن بن یوسف، نہایۃ الاحکام فی معرفۃ الاحکام، قم، اسماعیلیان، 1410ھ۔
- فیاض، محمداسحاق، ما بین الطلوعین، تقریر عادل ہاشم، قم، مؤسسۃ الصادق(ع)، 1399ہجری شمسی۔
- فیض کاشانی، محسن، خلاصۃ الاذکار و اطمئنان القلوب، قم، زائر، 1386ہجری شمسی۔
- کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، 1407ھ۔
- کیدری، محمد بن حسین، اصباح الشیعۃ بمصابیح الشریعہ، قم، مؤسسۃ الامام الصادق(ع)، 1416ھ۔
- مطہری، مرتضی، مجموعہ آثار، تہران، صدرا، 1389ہجری شمسی۔
- مہدوی، محمدمہدی، «سیره عبادی ائمہ(ع)» (ائمہؑ کی عبادی سیرت)، مجلہ کوثر معارف، سال پنجم، شمارہ 12، سرما 2010ء۔