حرز امام جوادؑ
![]() حرز امام جوادؑ کا متن | |
کوائف | |
---|---|
موضوع: | بلا اور آفات سے محفوظ رہنے کی دعا |
صادرہ از: | امام محمد تقی علیہ السلام |
راوی: | حکیمہ بنت امام جواد و ام فضل |
شیعہ منابع: | مہج الدعوات • الامان من اخطار الاسفار و الازمان اثر سید بن طاووس |
مشہور دعائیں اور زیارات | |
دعائے توسل • دعائے کمیل • دعائے ندبہ • دعائے سمات • دعائے فرج • دعائے عہد • دعائے ابوحمزہ ثمالی • زیارت عاشورا • زیارت جامعہ کبیرہ • زیارت وارث • زیارت امیناللہ • زیارت اربعین |
حِرْزِ امام جواد علیہ السلام شیعوں میں ایک مشہور دعا ہے جو امام جواد علیہ السلام سے منسوب ہے جسے آپ نے مامون عباسی کو آفات سے محفوظ رہنے کے لیے لکھی ہے۔ یہ حرز سب سے مشہور حرز ہے جسے شیعہ علماء میں سے آیت اللہ بہجت جیسوں نے اسے پڑھنے اور اپنے ساتھ رکھنے کی سفارش کی ہے۔ اس حرز کا قصہ امام جوادؑ کی بیٹی حکیمہ اور مامون کی بیٹی ام فضل کے ذریعے نقل ہوا ہے اور مُہَجُ الدَعَوات، بحار الانوار اور عوالم العلوم جیسی کتابوں میں مذکور ہے۔ اگرچہ کَشْفُ الغُمَّۃ میں اِرْبلی نے اصل کہانی کو من گھڑت قرار دیا ہے، لیکن بعض نے اس کی سند کو معتبر اور مستند مانا ہے۔
روایت کے مطابق یہ تعویذ ایک خاص ہرن کی کھال پر لکھ کر چاندی کے صندوق میں رکھا جاتا ہے اور مخصوص نماز پڑھنے کے بعد دائیں بازو پر باندھ دیا جاتا ہے۔ اس حرز کے لیے آفات و بلا، نظر بد، جادو، غربت، بھوک اور وسوسہ سے حفاظت جیسی خصوصیات بیان کی گئی ہیں۔ امام محمد تقیؑ سے ایک اور حرز بھی منقول ہوا ہے جسے مختصر یا حرز صغیر کہا جاتا ہے جو "يَا نُورُ يَا بُرْہَانُ يَا مُبِينُ يَا مُنِير" سے شروع ہوتا ہے۔
حرز کی شہرت اور حیثیت
امام جواد علیہ السلام کا حِرْز شیعوں میں ایک مشہور دعا ہے جو آفات سے بچنے کے لیے سب سے مشہور اور معتبر تعویذ کے طور پر جانا جاتا ہے۔[1] شیخ عباس قمی کے مطابق یہ حرز شیعوں میں بہت مشہور ہے۔[2] فارسی میں، "کسی کے لئے حرز جواد ہونا" محاورہ بن گیا ہے جو کسی شخص کے ساتھ ہمیشہ صحبت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔[3]
کہا جاتا ہے کہ مامون عباسی جن جنگوں میں اس دعا کے ہمراہ جاتا تھا اس میں کامیاب ہوتا تھا اور کوئی گزند نہیں پہنچتا تھا۔[4] شیعہ مرجع تقلید آیت اللہ بہجت نے آفات و بلا، بیماریوں، نظر بد، جادو، ڈراؤنے خواب اور شیاطین اور جنات کی اذیت سے بچانے کے لیے اس حرز کو پڑھنے اور ساتھ رکھنے کی سفارش کی ہے۔[5] آیت اللہ بہاء الدینی سے نقل ہوا ہے کہ کہتے ہیں: "میں نے ایک شخص کو دوسرے شخص کے سر پر پتھر مارتے ہوئے دیکھا، لیکن چونکہ اس شخص کے پاس امام جواد علیہ السلام کا حرز تھا، اس لیے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا اور وہ محفوظ رہا۔"[6]
حرز کی کہانی
حرزِ امام جوادؑ ایک دعا ہے جو امام جواد علیہ السلام نے مامون عباسی کو آفتوں اور بیماریوں سے بچانے کے لیے لکھا تھا۔ یہ قصہ امام جواد کی بیٹی حکیمہ اور مامون کی بیٹی اور امام جواد کی بیوی ام فضل کے ذریعے نقل ہوا ہے۔ اس روایت کے مطابق مامون نے نشے کی حالت میں امام جواد پر حملہ کیا اور تلوار سے وار کیا، لیکن اگلے دن اسے معلوم ہوا کہ امام محفوظ ہیں۔ مامون اس واقعہ سے حیران ہوا اور امام کو معافی مانگنے کے لیے تحفہ بھیجا۔ امام جواد نے مامون سے کہا کہ ان کے پاس ایک دعا ہے جو انہیں تمام شر اور آفات سے محفوظ رکھتی ہے۔ مامون نے اس دعا کی درخواست کی اور امام نے اسے ہرن کی کھال پر لکھ کر مامون کو دے دیا اور کہا کہ اگر زمین کے تمام لوگ تمہارے خلاف جمع ہو جائیں تو خدا کے حکم سے وہ تم پر غالب نہیں آسکیں گے۔[7]
حرز کے مآخذ اور اعتبار
امام جواد کے تعویذ کو سید ابن طاؤس نےکتاب مُہَج الدَّعَوات[8] اور الاَمان مِنْ اَخْطار الاَسْفار و الاَزْمان[9] میں اَبو نَصْر ہَمْدانی نے حَکِیمَہ بنت امام جواد سے نقل کیا ہے۔ ابن طاوؤس نے اپنی کتاب الامان میں اس حرز کو علی ابن عبد الصمد تمیمی کی کتاب "مُنْیَۃِ الدَّاعِی وَ غُنْیَۃِ الْوَاعِی" سے نقل کیا ہے؛[10] لیکن اپنی کتاب مہج الدعوات میں کتاب کا نام ذکر نہیں کیا ہے اور صرف مصنف کا نام کی طرف اشارہ کیا ہے۔[11] یہ حرز بحار الانوار،[12] عبداللہ بحرانی اصفہانی (متوفی 1148ھ) کی العوالم العلوم و المعارف[13] اور مکاتیب الائمہ(ع)[14] میں مہج الدعوات کے حوالے سے نقل ہوا ہے۔

امام جواد علیہ السلام کے حرز کا واقعہ معجزہ کے طور پر قطب الدین راوندی (متوفی 573 ہجری) کی کتاب الخریج و الجرائح[16] پانچویں صدی ہجری کے محدث حسین بن عبد الوہاب کی کتاب عیون المعجزات،[17] سید ہاشم بحرانی کی کتاب مدینۃ معاجز الائمہ الاثنی عشر،[18] اور شیخ عباس قمی کی کتاب مُنْتَہَی الآمال[19] میں بھی نقل ہوا ہے۔
کشف الغمہ میں علی ابن عیسیٰ اربلی (وفات 692 یا 693 ہجری) نے اس واقعہ کو مأمون کی مدینہ میں عدم موجودگی جیسی وجوہات کی بنا پر من گھڑت سمجھا ہے۔[20] علامہ مجلسی ان انتقادات کو قبول کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ خبر کی شہرت کی وجہ سے اسے رد نہیں کیا جا سکتا ہے۔[21]
بعض نے اس حرز کی سند کو صحیح اور معتبر قرار دیا ہے۔[22] لیکن دوسرے لوگ حرز کی سند اور اس کے متن میں تحقیق کر کے اس کے سند کو ضعیف اور متن کو من گھڑت سمجھتے ہیں۔[23]
آداب اور شرائط
سید ابن طاوؤس نے بیان کیا ہے کہ امام جواد علیہ السلام نے ہرن کی کھال پر حرز لکھا اور مامون کے خادم کو حکم دیا کہ اس کے لیے ایک چاندی کا ڈبہ بنائے اور اس پر تعویذ کے آخری الفاظ[یادداشت 1] کندہ کر دے۔ اس تعویذ کو استعمال کرنے کے لیے مامون کو ہر بار وضو کر کے چار رکعت نماز پڑھنی ہوگی۔ ہر رکعت میں سورہ حمد کے بعد آیت الکرسی، آیہ شَہِدَاللہ، اور سورہ شمس، ضحی، لیل اور توحید سات مرتبہ پڑھے۔ پھر وہ تعویذ اپنے دائیں بازو پر باندھ لے۔[24] اسی لئے بعض علماء نے تعویذ کو مخصوص ہرن کی ایک کھال پر لکھ کر دائیں بازو پر پہننے کی سفارش کی ہے۔[25] آیت اللہ بہجت سے منقول ہے کہ تعویذ کا اثر بازو پر باندھنے کی صورت میں ہے۔[26]
اس حرز کے لیے ایک اور شرط بیان کی گئی ہے کہ وہ دن قمر در عقرب میں نہ ہو۔[27] شیخ عباس قمی اس شرط کو تعویذ پہننے کے وقت سے متعلق سمجھتے ہیں[28] لیکن بعض اسے تعویذ لکھنے کے وقت سے متعلق سمجھتے ہیں۔[29] اس کے علاوہ قبلہ کی طرف منہ کر کے مسلمانوں کے بنائے ہوئے قلم، سیاہی اور کاغذ کا استعمال اس تعویذ کے دیگر آداب اور شرائط میں شمار ہوتے ہیں۔[30]
فوائد اور اثرات
تعویذ کے متن کے مطابق اس تعویذ کے جو خواص بیان کیے گئے ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں:
- برائیوں، آفتوں، پریشانیوں اور بیماریوں سے محفوظ رہنا
- ہر اس چیز سے محفوظ رہنا جس سے آپ ڈرتے ہیں۔
- دشمن کی بری نظریں اور بری زبان کا دور ہونا؛
- لوگوں، حکمرانوں، شیاطین، جنوں اور بھوتوں کے شر سے دور ہونا؛
- نظر بند سے محفوظ رہنا؛
- سحر اور جادو کو دور کرنا؛
- دھوکہ دہی، دشمنی اور فریب سے تحفظ
- چوٹ، بدعنوانی، ڈوبنے اور تباہی اور ناکامی سے تحفظ
- عزت و آبرو (ساکھ) کی حفاظت
- قتل اور انتقام سے تحفظ
- بیماری، ناراحتی اور ظلم و ستم سے حفاظت
- غربت، بھوک اور پیاس سے تحفظ
- وسوسے سے حفاظت
- دینی کمزوریوں سے حفاظت اور زندگی میں معیشت کی بحالی۔
یہ حرز حسد سے بچنے، ازدواجی تنازعات کو حل کرنے اور خوف کے علاج کے لیے بھی تجویز کیا جاتا ہے۔[31]
حرز کا متن اور ترجمہ
متن | ترجمه |
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعالَمِينَ إِلَى آخِرِهَا- أَ لَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ سَخَّرَ لَكُمْ ما فِي الْأَرْضِ وَ الْفُلْكَ تَجْرِي فِي الْبَحْرِ بِأَمْرِهِ وَ يُمْسِكُ السَّماءَ أَنْ تَقَعَ عَلَى الْأَرْضِ إِلَّا بِإِذْنِهِ إِنَّ اللَّهَ بِالنَّاسِ لَرَؤُفٌ رَحِيمٌ اللَّهُمَّ أَنْتَ الْوَاحِدُ الْمَلِكُ [الدَّيَّانُ] يَوْمَ الدِّينِ تَفْعَلُ مَا تَشَاءُ بِلَا مُغَالَبَةٍ وَ تُعْطِي مَنْ تَشَاءُ بِلَا مَنٍّ وَ تَفْعَلُ مَا تَشَاءُ وَ تَحْكُمُ مَا تُرِيدُ وَ تُدَاوِلُ الْأَيَّامَ بَيْنَ النَّاسِ وَ تُرَكِّبُهُمْ طَبَقاً عَنْ طَبَقٍ | اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، الحمد اللہ رب العالمین، سورۃ الحمد کے آخر تک۔ " کیا تم نہیں دیکھتے کہ جو کچھ زمین میں ہے۔ اللہ نے وہ سب کچھ تمہارے لئے مسخر کر دیا ہے اور کشتی کو بھی جو سمندر میں اس کے حکم سے چلتی ہے۔ اور وہی آسمان کو روکے ہوئے ہے کہ اس کے حکم کے بغیر زمین پر نہ گر پڑے۔ بےشک اللہ لوگوں پر بڑا شفقت والا، بڑا رحمت والا ہے۔‘‘ اے اللہ، تو ہی ہے، جزا کے دن کا مالک، تو جو چاہے کرتا ہے، بغیر کسی کے شکست کے، تو جسے چاہتا ہے دے دیتا ہے، اور جو چاہے کرتا ہے بغیر کسی سے مغلوب ہوئے۔ اور جسے چاہے منت چڑھائے بغیر عطا کرتا ہے اور جو چاہے کرتا ہے اور جس چیز کا ارادہ کرتا ہے اس پر حکم کرتا ہے آپ لوگوں کی زندگی چلاتے ہو اور آپ انہیں مختلف حالات اور واقعات میں رکھتے ہیں۔ |
أَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الْمَكْتُوبِ عَلَى سُرَادِقِ الْمَجْدِ وَ أَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الْمَكْتُوبِ عَلَى سُرَادِقِ السَّرَائِرِ السَّابِقِ الْفَائِقِ الْحَسَنِ الْجَمِيلِ النَّضِيرِ رَبِّ الْمَلَائِكَةِ الثَّمَانِيَةِ وَ الْعَرْشِ الَّذِي لَا يَتَحَرَّكُ وَ أَسْأَلُكَ بِالْعَيْنِ الَّتِي لَا تَنَامُ وَ بِالْحَيَاةِ الَّتِي لَا تَمُوتُ وَ بِنُورِ وَجْهِكَ الَّذِي لَا يُطْفَأُ وَ بِالاسْمِ الْأَكْبَرِ الْأَكْبَرِ الْأَكْبَرِ وَ بِالاسْمِ الْأَعْظَمِ الْأَعْظَمِ الْأَعْظَمِ الَّذِي هُوَ مُحِيطٌ بِمَلَكُوتِ السَّمَاوَاتِ وَ الْأَرْضِ وَ بِالاسْمِ الَّذِي أَشْرَقَتْ بِهِ الشَّمْسُ وَ أَضَاءَ بِهِ الْقَمَرُ وَ سُجِّرَتْ بِهِ الْبُحُورُ وَ نُصِبَتْ بِهِ الْجِبَالُ وَ بِالاسْمِ الَّذِي قَامَ بِهِ الْعَرْشُ وَ الْكُرْسِيُّ وَ بِاسْمِكَ الْمَكْتُوبِ عَلَى سُرَادِقِ الْعَرْشِ وَ بِالاسْمِ الْمَكْتُوبِ عَلَى سُرَادِقِ الْعَظَمَةِ وَ بِاسْمِكَ الْمَكْتُوبِ عَلَى سُرَادِقِ الْعَظَمَةِ وَ بِاسْمِكَ الْمَكْتُوبِ عَلَى سُرَادِقِ الْبَهَاءِ وَ بِاسْمِكَ الْمَكْتُوبِ عَلَى سُرَادِقِ الْقُدْرَةِ وَ بِاسْمِكَ الْعَزِيزِ وَ بِأَسْمَائِكَ الْمُقَدَّسَاتِ الْمُكَرَّمَاتِ الْمَخْزُونَاتِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَك.
|
میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے نام کی سچائی کے ساتھ جو عظمت و بزرگی کے پردے پر لکھا ہوا ہے اور میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے اس نام کی سچائی کے ساتھ جو سب سے اعلیٰ، غالب، بلند و بالا، نیک، خوبصورت اور تازگی بخشنے والے پردہ اسرار پر لکھا ہوا ہے، وہی جو آٹھ فرشتوں اور اس عرش کا رب ہے جو حرکت نہیں کرتا ہے۔ اور میں تجھ سے مانگتا ہوں اس آنکھ کے واسطے جو سوتا نہیں اور اس زندگی کے واسطے جو نہیں مرتی اور تیرے چہرے کے نور کے واسطے جو بجھتا نہیں ہے اور اس نام کے واسطے جو سب سے بڑا اور عظیم ہے۔ اور تیرے اسم اعظم اعظم اعظم کا واسطہ جو آسمانوں اور زمین کی بادشاہی کو گھیرے ہوئے ہے، اور اس نام کے واسطے جس سے سورج روشن اور چاند پر روشنی ڈالا ہوا ہے، سمندر بھرے اور لبریز ہیں، اور پہاڑ بلند ہوئے ہیں، اور اس نام کا واسطہ جس سے عرش اور کرسی قائم ہیں، اور عرش کے پردے پر لکھے ہوئے تمہارے نام کا واسطہ، عرش کے عظمت کے پردے پر لکھے ہوئے تمہارے نام کا واسطہ، عظمت کے پردے پر لکھے ہوئے تمہارے نام کا واسطہ، جلال اور خوبصورتی کے پردے پر لکھے ہوئے نام کا واسطہ، قدرت کے پردے پر لکھا ہوا تیرے نام کا واسطہ، اور تیرے نام کا واسطہ جو غلبہ پانے والا ہے، اور تمہارے مقدس اور اعلیٰ ناموں کا واسطہ جو علم غیب کے خزانے میں چھپے ہوئے ہیں۔ |
وَ أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِكَ خَيْراً مِمَّا أَرْجُو وَ أَعُوذُ بِعِزَّتِكَ وَ قُدْرَتِكَ مِنْ شَرِّ مَا أَخَافُ وَ أَحْذَرُ وَ مَا لَا أَحْذَرُ يَا صَاحِبَ مُحَمَّدٍ يَوْمَ حُنَيْنٍ وَ يَا صَاحِبَ عَلِيٍّ يَوْمَ صِفِّينَ أَنْتَ يَا رَبِ مُبِيرُ الْجَبَّارِينَ وَ قَاصِمُ الْمُتَكَبِّرِين.
|
اور میں تجھ سے اپنی امید سے بہتر بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور میں تیری عزت اور قدرت کی پناہ چاہتا ہوں اس شر سے جس سے میں ڈرتا ہوں اور بچتا ہوں اور اس چیز سے جس کا مجھے خوف نہیں ہے۔ اے جنگ حنین کے دن محمدؐ کے حمایتی اور جنگ صفین کے دن علی کے ساتھی اے میرے رب تو ظالموں کو ہلاک کرنے والا اور متکبروں کو تباہ کرنے والا ہے۔ |
أَسْأَلُكَ بِحَقِّ طه وَ يس وَ الْقُرْآنِ الْعَظِيمِ وَ الْفُرْقَانِ الْحَكِيمِ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَ أَنْ تَشُدَّ بِهِ عَضُدَ صَاحِبِ هَذَا الْعَقْدِ وَ أَدْرَأُ بِكَ فِي نَحْرِ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ وَ كُلِّ شَيْطَانٍ مَرِيدٍ وَ عَدُوٍّ شَدِيدٍ وَ عَدُوٍّ مُنْكَرِ الْأَخْلَاقِ وَ اجْعَلْهُ مِمَّنْ أَسْلَمَ إِلَيْكَ نَفْسَهُ وَ فَوَّضَ إِلَيْكَ أَمْرَهُ وَ أَلْجَأَ إِلَيْكَ ظَهْرَهُ.
|
میں تجھ سے طہٰ اور یاسین کے واسطے، قرآن عظیم کے واسطے، اور اس حکیم فرقان کے واسطے، جس نے محمد اور آل محمد پر درود و رحمت بھیجی، اور بازو پر باندھے اس تعویز کے سبب سے سوال کرتا ہوں، اس کے مالک کے بازو کو مضبوط اور اسے ثابت قدم رکھے۔ اور آپ کے ذریعے سے میں ہر متکبر اور منحرف انسان، ہر سرکش شیطان، ہر بے رحم دشمن اور ہر بدصورت دشمن کو دفع کرتا ہوں۔ اور اس دعا والے کو ان لوگوں میں سے بنادے جنہوں نے اپنے آپ کو تیرے سپرد کیا ہے، اپنے معاملات تیرے سپرد کیے ہیں اور تجھے اپنا پشت پناہ بنایا ہے۔ |
اللَّهُمَّ بِحَقِّ هَذِهِ الْأَسْمَاءِ الَّتِي ذَكَرْتُهَا وَ قَرَأْتُهَا وَ أَنْتَ أَعْرَفُ بِحَقِّهَا مِنِّی وَ أَسْأَلُكَ يَا ذَا الْمَنِّ الْعَظِيمِ وَ الْجُودِ الْكَرِيمِ وَلِيَّ الدَّعَوَاتِ الْمُسْتَجَابَاتِ وَ الْكَلِمَاتِ التَّامَّاتِ وَ الْأَسْمَاءِ النَّافِذَاتِ وَ أَسْأَلُكَ يَا نُورَ النَّهَارِ وَ يَا نُورَ اللَّيْلِ وَ يَا نُورَ السَّمَاءِ وَ الْأَرْضِ وَ نُورَ النُّورِ وَ نُوراً يُضِيءُ بِهِ كُلُّ نُورٍ يَا عَالِمَ الْخَفِيَّاتِ كُلِّهَا فِي الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ الْأَرْضِ وَ السَّمَاءِ وَ الْجِبَالِ وَ أَسْأَلُكَ يَا مَنْ لَا يَفْنَى وَ لَا يَبِيدُ وَ لَا يَزُولُ وَ لَا لَهُ شَيْءٌ مَوْصُوفٌ وَ لَا إِلَيْهِ حَدٌّ مَنْسُوبٌ وَ لَا مَعَهُ إِلَهٌ وَ لَا إِلَهَ سِوَاهُ وَ لَا لَهُ فِي مُلْكِهِ شَرِيكٌ وَ لَا تُضَافُ الْعِزَّةُ إِلَّا إِلَيْهِ لَمْ يَزَلْ بِالْعُلُومِ عَالِماً وَ عَلَى الْعُلُومِ وَاقِفاً وَ لِلْأُمُورِ نَاظِماً وَ بِالْكَيْنُونِيَّةِ عَالِماً وَ لِلتَّدْبِيرِ مُحْكِماً وَ بِالْخَلْقِ بَصِيراً وَ بِالْأُمُورِ خَبِيراً.
|
اے اللہ ان ناموں کا واسطہ جو میں نے پڑھے اور ذکر کئے ہیں اور تو انہیں مجھ سے زیادہ جانتا ہے۔ اور میں تجھ سے سوال کرتا ہوں، اے عظیم نعمتوں کے مالک، اے کریم بخشش کے مالک، اے قبول شدہ دعاؤں کے مالک، مکمل اور کامل الفاظ کے مالک اور طاقتور و موثر ناموں والے، میں تجھ سے سوال کرتا ہوں، اے دن کو روشنی دینے والے اور اے رات کو روشن کرنے والے، اے زمین و آسمان کے نور، اے نوروں کے نور، اے نور جس سے ہر روشنی چمکتی ہے، اے صحراؤں، سمندر، زمین، آسمان اور پہاڑوں میں میں چھپی چیزوں کے جاننے والے، اور میں تجھ سے سوال کرتا ہوں، اے وہ جو فنا نہیں ہوتا، نہ ہلاک ہوتا ہے، اور نہ ہی زوال پذیر ہوتا ہے، اور کوئی ایسی چیز نہیں جو اس کی توصیف کر سکے، اور کسی حد تک محدود نہیں، اور اس کے ساتھ کوئی معبود نہیں۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اس کی سلطنت اور بادشاہی میں اس کا کوئی شریک نہیں، اور اس کے سوا کسی سے عزت منسوب نہیں ہے۔ وہ ہمیشہ تمام علوم کا عالم ہے، تمام علوم سے واقف ہے، تمام امور کا منتظم ہے، ہر چیز کے وجود سے آگاہ ہے، چیزوں کی تقدیر کو مستحکم اور استوار کیا ہے، مخلوق سے بصیر ہے، اور تمام امور سے باخبر ہے۔ |
أَنْتَ الَّذِي خَشَعَتْ لَكَ الْأَصْوَاتُ وَ ضَلَّتْ فِيكَ الْأَحْلَامُ وَ ضَاقَتْ دُونَكَ الْأَسْبَابُ وَ مَلَأَ كُلَّ شَيْءٍ نُورُكَ وَ وَجِلَ كُلُّ شَيْءٍ مِنْكَ وَ هَرَبَ كُلُّ شَيْءٍ إِلَيْكَ وَ تَوَكَّلَ كُلُّ شَيْءٍ عَلَيْكَ وَ أَنْتَ الرَّفِيعُ فِي جَلَالِكَ وَ أَنْتَ الْبَهِيُّ فِي جَمَالِكَ وَ أَنْتَ الْعَظِيمُ فِي قُدْرَتِكَ وَ أَنْتَ الَّذِي لَا يُدْرِكُكَ شَيْءٌ وَ أَنْتَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ الْعَظِيمُ مُجِيبُ الدَّعَوَاتِ قَاضِي الْحَاجَاتِ مُفَرِّجُ الْكُرُبَاتِ وَلِيُّ النِّعَمَات.
|
آپ ایسا ہے کہ آوازیں اور صدائیں آپ کے لیے نرم اور پرسکون ہیں، عقلیں اور خیالات آپ کے اندر سرگردان ہیں، چیزیں آپ کے ہاں پریشانی میں ہیں، آپ کا نور نے ہر چیز کو بھر دیا ہے، ہر چیز آپ سے ڈرتی ہے، اور ہر چیز آپ کی طرف بھاگتی ہے، ہر چیز آپ پر بھروسہ اور اعتماد کرتی ہے آپ شان اور عظمت میں بلند ہے، آپ خوبصورتی اور شان میں شاندار ہے، اور آپ طاقت اور صلاحیت میں عظیم ہے۔ تُو ایسا ہے کہ تیرا ادراک کوئی نہیں کر سکتا، تُو بلند مرتبہ، عظیم اور عظمت والا ہے، تو دعاؤں کا جواب دینے والا، حاجتیں پوری کرنے والا، غموں کو دور کرنے والا اور نعمتوں کا مالک ہے۔ |
يَا مَنْ هُوَ فِي عُلُوِّهِ دَانٍ وَ فِي دُنُوِّهِ عَالٍ وَ فِي إِشْرَاقِهِ مُنِيرٌ وَ فِي سُلْطَانِهِ قَوِيٌّ وَ فِي مُلْكِهِ عَزِيزٌ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَ احْرُسْ صَاحِبَ هَذَا الْعَقْدِ وَ هَذَا الْحِرْزِ وَ هَذَا الْكِتَابِ بِعَيْنِكَ الَّتِي لَا تَنَامُ وَ اكْنُفْهُ بِرُكْنِكَ الَّذِي لَا يُرَامُ وَ ارْحَمْهُ بِقُدْرَتِكَ عَلَيْهِ فَإِنَّهُ مَرْزُوقُكَ- بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللَّهِ وَ بِاللَّهِ لَا صَاحِبَةَ لَهُ وَ لَا وَلَدَ بِسْمِ اللَّهِ قَوِيِّ الشَّأْنِ عَظِيمِ الْبُرْهَانِ شَدِيدِ السُّلْطَان مَا شَاءَ اللَّهُ كَانَ وَ مَا لَمْ يَشَأْ لَمْ يَكُن.
|
اے وہ جو اپنی بلندی کے عروج پر بھی اپنی مخلوقات کے قریب ہے، اور اپنے قرب میں سب سے آگے ہے، اور اپنے نور میں سب سے روشن ہے، اس کی بادشاہی میں طاقتور اور اس کی سلطنت میں غالب ہے، محمد اور آل محمد پر رحمتیں نازل فرما۔ اور اس تعویز والے کو اور اس حرز اور اس تحریر والے کو اپنی بے خواب آنکھوں سے حفاظت فرما، اور اسے اپنے اٹل ستون اور بنیاد کے سہارے پر رکھ، اور اس پر اپنی قدرت کے واسطے اس پر رحم فرما۔ کیونکہ وہ آپ کی روزی کھانے والا ہے۔ اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان ہے، اللہ کے نام سے، جس کا کوئی شریک یا بیٹا نہیں، اس کے نام سے جس کی شان بڑی ہے، برہان عظیم ہے اور جس کی بادشاہی شدید اور سخت ہے. جو خدا چاہے وہ ہو جاتا ہے اور جو نہ چاہے ہو نہیں سکتا ہے۔ |
أَشْهَدُ أَنَّ نُوحاً رَسُولُ اللَّهِ وَ أَنَّ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلُ اللَّهِ وَ أَنَّ مُوسَى كَلِيمُ اللَّهِ وَ نَجِيُّهُ وَ أَنَّ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ كَلِمَتُهُ وَ رُوحُهُ وَ أَنَّ مُحَمَّداً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدَه.
|
میں گواہی دیتا ہوں کہ نوح خدا کے رسول تھے، ابراہیم خدا کے دوست تھے، موسیٰ کلیم اللہ اور اس کے راز کے محرم تھے اور عیسیٰ ابن مریم ان پر اور تمام انبیاء پر رحمتیں نازل ہوں۔ ، خدا کا کلام اور روح تھے، اور محمد، ان پر اور ان کی آل پر خدا کی رحمت ہو، آخری نبی ہیں اور ان کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ |
وَ أَسْأَلُكَ بِحَقِّ السَّاعَةِ الَّتِي يُؤْتَى فِيهَا بِإِبْلِيسَ اللَّعِينِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَ يَقُولُ اللَّعِينُ فِي تِلْكَ السَّاعَةِ وَ اللَّهِ مَا أَنَا إِلَّا مُهَيِّجُ مَرَدَةٍ- اللَّهُ نُورُ السَّماواتِ وَ الْأَرْضِ وَ هُوَ الْقاهِرُ وَ هُوَ الْغَالِبُ لَهُ الْقُدْرَةُ السَّابِقَةُ وَ هُوَ الْحَكِيمُ الْخَبِير.
|
اور میں تجھ سے اس گھڑی کے واسطے سوال کرتا ہوں جب قیامت کے دن شیطان ملعون کو لایا جائے گا اور اس وقت ملعون کہے گا: خدا کی قسم میں سرکشوں کے سوا کسی کو اکسانے والا نہیں تھا۔ خدا آسمانوں اور زمین کا نور ہے، اور وہ ہر چیز پر مسلط اور وہ غالب اور سب پر قادر اور حکیم اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ |
اللَّهُمَّ وَ أَسْأَلُكَ بِحَقِّ هَذِهِ الْأَسْمَاءِ كُلِّهَا وَ صِفَاتِهَا وَ صُوَرِهَا وَ هِيَ ... سُبْحَانَ الَّذِي خَلَقَ الْعَرْشَ وَ الْكُرْسِيَّ وَ اسْتَوَى عَلَيْهِ أَسْأَلُكَ أَنْ تَصْرِفَ عَنْ صَاحِبِ كِتَابِي هَذَا كُلَّ سُوءٍ وَ مَحْذُورٍ فَهُوَ عَبْدُكَ وَ ابْنُ عَبْدِكَ وَ ابْنُ أَمَتِك وَ أَنْتَ مَوْلَاه.
|
اے اللہ، میں تجھ سے ان تمام ناموں، صورتوں اور صفات کے واسطے سوال کرتا ہوں، جو یہ ہیں:...پاک منزہ ہے وہ ذات جس نے عرش اور کرسی کو پیدا کیا اور اس پر حاکم بنا، تم سے سوال کرتا ہوں کہ ہر بدی اور خطرے کو اس تعویز والے سے دور کرے جو تیرا بندہ اور بندے کا بیٹا اور تیری کنیز کا بیٹا ہے اور تو اس کا آقا اور مولا ہے۔ |
فَقِهِ اللَّهُمَّ يَا رَبِّ الْأَسْوَاءَ كُلَّهَا وَ اقْمَعْ عَنْهُ أَبْصَارَ الظَّالِمِينَ وَ أَلْسِنَةَ الْمُعَانِدِينَ وَ الْمُرِيدِينَ لَهُ السُّوءَ وَ الضُّرَّ وَ ادْفَعْ عَنْهُ كُلَّ مَحْذُورٍ وَ مَخُوفٍ وَ أَيُّ عَبْدٍ مِنْ عَبِيدِكَ أَوْ أَمَةٍ مِنْ إِمَائِكَ أَوْ سُلْطَانٍ مَارِدٍ أَوْ شَيْطَانٍ أَوْ شَيْطَانَةٍ أَوْ جِنِّيٍّ أَوْ جِنِّيَّةٍ أَوْ غُولٍ أَوْ غُولَةٍ أَرَادَ صَاحِبَ كِتَابِي هَذَا بِظُلْمٍ أَوْ ضُرٍّ أَوْ مَكْرٍ أَوْ مَكْرُوهٍ أَوْ كَيْدٍ أَوْ خَدِيعَةٍ أَوْ نِكَايَةٍ أَوْ سِعَايَةٍ أَوْ فَسَادٍ أَوْ غَرَقٍ أَوِ اصْطِلَامٍ أَوْ عَطَبٍ أَوْ مُغَالَبَةٍ أَوْ غَدْرٍ أَوْ قَهْرٍ أَوْ هَتْكِ سِتْرٍ أَوِ اقْتِدَارٍ أَوْ آفَةٍ أَوْ عَاهَةٍ أَوْ قَتْلٍ أَوْ حَرَقٍ أَوِ انْتِقَامٍ أَوْ قَطْعٍ أَوْ سِحْرٍ أَوْ مَسْخٍ أَوْ مَرَضٍ أَوْ سُقْمٍ أَوْ بَرَصٍ أَوْ جُذَامٍ أَوْ بُؤْسٍ أَوْ آفَةٍ أَوْ فَاقَةٍ أَوْ سَغَبٍ أَوْ عَطَشٍ أَوْ وَسْوَسَةٍ أَوْ نَقْصٍ فِي دِينٍ أَوْ مَعِيشَةٍ.
|
پس اے اللہ ! اے پروردگار! اسے تمام برائیوں سے محفوظ رکھ اور اس سے ظالموں کی نظروں اور دشمنوں کی زبانوں کو پھیر دے اور اس سے ہر قسم کے خطرے اور خوفناک اور وحشتناک چیز کو دور کر اور تیرے بندوں میں سے کوئی بندہ یا تیری لونڈیوں میں سے کوئی لونڈی یا باغی بادشاہ یا نر یا مادہ شیطان، نر یا مادہ جن، نر یا مادہ دیو، جس نے میری تحریر والے شخص پر ظلم کرنے یا اسے نقصان پہنچنے، یا اسے ضرر دینے یا فریب و مکر کرنے یا ناپسند کامکرنے، یا دھوکہ دینے یا حیلہ و مکر کرنے یا چوٹ پہنچانے یا غیبت و بدگوئی کرنے یا بدعنوانی یا غرق کرنے یا جڑھ سے اکھاڑنے یا تباہ کرنے یا شکست دینے یا مکاری کرنے یا غلبہ کرنے یا پردہ چاک کرنے یا زور گوئی کرنے یا آفت یا تباہی یا قتل کرنے یا جلانے یا بدلہ لینے یا کاٹنے یا جادو کرنے یا مسخ کرنے یا بیماری، یا ظلم و ستم یا ننگا پن، یا غربت و تنگدستی، یا مصیبت، بھوک یا پیاس یا وسوسہ یا عقیدے میں کمزوری یا معیشت کا ارادہ کرے اس سے محفوظ رکھے۔ |
فَاكْفِنِيهِ بِمَا شِئْتَ وَ كَيْفَ شِئْتَ وَ أَنَّى شِئْتَ- إِنَّكَ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ وَ صَلَّى اللَّهُ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ أَجْمَعِينَ وَ سَلَّمَ تَسْلِيماً كَثِيراً وَ لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ- وَ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعالَمِينَ.
|
پس کسی بھی وسیلے سے اور کسی بھی طریقے سے، اور جس طرح چاہو اس کی کفایت کرو۔ بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔ ہمارے آقا و مولیٰ محمدؐ اور ان کی تمام آل پر درود و سلام ہو اور بہت زیادہ درود و سلام، اللہ کے سوا کوئی طاقت اور قوت نہیں ہے، اور تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔ |
فَأَمَّا مَا يُنْقَشُ عَلَى هَذِهِ الْقَصَبَةِ مِنْ فِضَّةٍ غَيْرِ مَغْشُوشَةٍ يَا مَشْهُوراً فِي السَّمَوَاتِ يَا مَشْهُوراً فِي الْأَرَضِينَ يَا مَشْهُوراً فِي الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ جَهَدَتِ الْجَبَابِرَةُ وَ الْمُلُوكُ عَلَى إِطْفَاءِ نُورِكَ وَ إِخْمَادِ ذِكْرِكَ فَأَبَى اللَّهُ إِلَّا أَنْ يُتِمَّ نُورَكَ وَ يَبُوحَ بِذِكْرِكَ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ. | اور جہاں تک اس دعا کا تعلق ہے جو خالص چاندی سے بنے چاندی کے صندوق پر کندہ کی جائے تو وہ یہ ہے: اے وہ جو آسمانوں میں مشہور و معروف ہے، اے وہ جو زمینوں میں مشہور ہے، اے وہ جو دنیا اور آخرت میں مشہور ہے، متکبر اور بادشاہوں نے تیرے نور کو بجھانے اور تیری یاد کو چھپانے کی کوشش کی ہے۔ لیکن خدا نے انکار کیا یہاں تک کہ اس نے آپ کے نور کو مکمل کر دیا اور آپ کی یاد کو ظاہر کر دیا، اگرچہ مشرکین کو یہ ناپسند تھا۔ |
حرزِ صغیر امام جواد
امام جواد علیہ السلام سے منقول ایک اور حرز بھی ہے[32] جو حرز صغیر یا مختصر حرز کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں مفصل حرز کو حرز کبیر کہلاتا ہے۔[33] حرز صغیر کا جملہ یوں ہے:يَا نُورُ يَا بُرْہَانُ يَا مُبِينُ يَا مُنِيرُ يَا رَبِّ! اكْفِنِي الشُّرُورَ وَ آفَاتِ الدُّہُورِ وَ أَسْأَلُكَ النَّجَاۃَ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّور؛ "اے نور، اے برہان، اے آشکار، اے نور والے، اے پروردگار! مجھے زمانے کے شر اور طاعون سے بچا، اور میں تجھ سے اس دن نجات کا سوال کرتا ہوں جس دن صور پھونکا جائے گا!"۔[34] اس دعا کو دوسرے منابع میں امام ہادیؑ سے منسوب کیا گیا ہے۔[35]
مونوگراف
- حرز امام جواد علیہ السلام؛ 11ویں اور 12ویں صدی ہجری کے عالم رضی الدین محمد شوشتری نے امام جواد علیہ السلام کے حرز کے آداب کے بارے میں لکھا ہے۔[36]
حوالہ جات
- ↑ شفیعی، آثار و برکات دعا، 1400شمسی، ص198؛ «علما و حرز امام جواد(ع)»، وبگاہ مؤسسہ اسم اعظم۔
- ↑ قمی، منتہی الامال، 1379شمسی، ج3، ص1781۔
- ↑ طباطبایی، «حرز»، ص13؛ شفیعی، آثار و برکات دعا، 1400شمسی، ص198۔
- ↑ سید بن طاووس، مہج الدعوات و منہج العبادات، 1411ھ، ص39۔
- ↑ نگاہ کنید بہ: «خواص حرز امام جواد علیہ السلام»، مرکز تنظیم و نشر آثار آیت اللہ بہجت۔
- ↑ شفیعی، آثار و برکات دعا، 1400شمسی، ص199۔
- ↑ نگاہ کنید بہ: سید بن طاووس، مہج الدعوات و منہج العبادات، 1411ھ، ص36-38؛ سید بن طاووس، الامان من اخطار الاسفار و الازمان، 1409ھ، ص74-77؛ ابن عبدالوہاب، عیون المعجزات، مکتبۃ الداوری، ص124-129۔
- ↑ سید بن طاووس، مہج الدعوات و منہج العبادات، 1411ھ، ص36-42۔
- ↑ سید بن طاووس، الامان من اخطار الاسفار و الازمان، 1409ھ، ص74-81۔
- ↑ سید بن طاووس، الامان من اخطار الاسفار و الازمان، 1409ھ، ص74۔
- ↑ سید بن طاووس، مہج الدعوات و منہج العبادات، 1411ھ، ص36۔
- ↑ مجلسی، بحار الانوار، 1403ھ، ج91، ص354-361۔
- ↑ بحرانی اصفہانی، عوالم العلوم و المعارف، 1413ھ، ج23، ص239-249۔
- ↑ احمدی میانجی، مکاتیب الائمہ(ع)، 1426ھ، ج5، ص413-421۔
- ↑ سید بن طاووس، مہج الدعوات و منہج العبادات، 1411ھ، ص41۔
- ↑ راوندی، الخرائج و الجرائح، 1409ھ، ج1، ص372-375۔
- ↑ ابن عبدالوہاب، عیون المعجزات، مکتبۃ الداوری، ص124-129۔
- ↑ بحرانی، مدینۃ معاجز، 1413ھ، ج7، ص359-372۔
- ↑ قمی، منتہی الآمال، 1379شمسی، ج3، ص1777-1781۔
- ↑ اربلی، کشف الغمۃ، 1381ھ، ج2، 365 و 366۔
- ↑ مجلسی، بحار الانوار، 1403ھ، ج50، ص72۔
- ↑ شفیعی، آثار و برکات دعا، 1400شمسی، ص199۔
- ↑ اثباتی، «تحلیل و بررسی حرز منسوب بہ امام جواد علیہ السلام»، ص29و30۔
- ↑ سید بن طاووس، مہج الدعوات و منہج العبادات، 1411ھ، ص38۔
- ↑ نگاہ کنید بہ: نگاہ کنید بہ: «خواص حرز امام جواد علیہ السلام»، مرکز تنظیم و نشر آثار آیت اللہ بہجت؛ شفیعی، آثار و برکات دعا، 1400شمسی، ص199۔
- ↑ محمدی ری شہری، زمرم عرفان، 1389شمسی، ص219 و 399۔
- ↑ سید بن طاووس، مہج الدعوات و منہج العبادات، 1411ھ، ص39۔
- ↑ قمی، منتہی الآمال، 1379شمسی، ج3، ص1781۔
- ↑ «آداب، خواص و تہیہ حرز امام جواد(ع)»، وبگاہ راسخون۔
- ↑ «آداب، خواص و تہیہ حرز امام جواد(ع)»، وبگاہ راسخون؛ «آداب نوشتن و خواص حرز امام جواد(ع)»، خبرگزاری شفقنا۔
- ↑ «خواص حرز امام جواد علیہ السلام»، مرکز تنظیم و نشر آثار آیت اللہ بہجت۔
- ↑ سید بن طاووس، مہج الدعوات و و منہج العبادات، 1411ھ، ص42۔
- ↑ برای نمونہ نگاہ کنید بہ: «علما و حرز امام جواد(ع)»، وبگاہ مؤسسہ اسم اعظم۔
- ↑ سید بن طاووس، مہج الدعوات و و منہج العبادات، 1411ھ، ص42۔
- ↑ نگاہ کنید بہ: طبرسی، اِعلام الوری باَعلام الہدی، 1417ھ، ج2، ص189؛ راوندی، قصص الانبیاء(ع)، 1430ھ، ج2، ص290۔
- ↑ مہریزی و صدرایی خویی، میراث حدیث شیعہ، دار الحدیث، ج12، ص55۔
نوٹ
- ↑ «يَا مَشْہُوراً فِي السَّمَوَاتِ يَا مَشْہُوراً فِي الْأَرَضِينَ يَا مَشْہُوراً فِي الدُّنْيَا وَ الْآخِرَۃِ جَہَدَتِ الْجَبَابِرَۃُ وَ الْمُلُوكُ عَلَى إِطْفَاءِ نُورِكَ وَ إِخْمَادِ ذِكْرِكَ فَأَبَى اللَّہُ إِلَّا أَنْ يُتِمَّ نُورَكَ وَ يَبُوحَ بِذِكْرِكَ وَ لَوْ كَرِہَ الْمُشْرِكُونَ.» (سید بن طاووس، مہج الدعوات و منہج العبادات، 1411ھ، ص42.)
مآخذ
- «آداب، خواص و تہیہ حرز امام جواد(ع)»، وبگاہ راسخون، تاریخ درج مطلب: 10 اردیبہشت 1401شمسی، تاریخ بازدید: 8 آبان 1402ہجری شمسی۔
- «آداب نوشتن و خواص حرز امام جواد(ع)»، خبرگزاری شفقنا، تاریخ درج مطلب: 31 تیر 1399شمسی، تاریخ بازدید: 8 آبان 1402ہجری شمسی۔
- ابن عبد الوہاب، حسین، عیون المعجزات، قم، مکتبۃ الداوری، چاپ اول، بی تا.
- اثباتی، اسماعیل، «تحلیل و بررسی حرز منسوب بہ امام جواد علیہ السلام»، دوفصلنامہ علوم قرآن و حدیث، شمارہ 108، بہار و تابستان 1401ہجری شمسی۔
- احمدی میانجی، علی، مکاتیب الائمہ(ع)، تحقیق و تصحیح مجتبی فرجی، قم، دار الحدیث، چاپ اول، 1426ھ۔
- اربلی، علی بن عیسی، کشف الغمۃ في معرفۃ الأئمۃ، تحقیق سید ہاشم رسولی محلاتی، تبریز، بنی ہاشم، چاپ اول، 1381ھ۔
- بحرانی اصفہانی، عبداللہ، عوالم العلوم و المعارف والأحوال من الآیات و الأخبار و الأقوال، تحقیق محمدباقر موحدابطحی اصفہانی، قم، مؤسسہ امام المہدی(عج)، چاپ اول، 1413ھ۔
- بحرانی، سید ہاشم، مدینۃ معاجز الائمۃ الاثنی عشر و دلائل الحجج على البشر، قم، مؤسسہ المعارف الاسلامیۃ، چاپ اول، 1413ھ۔
- «خواص حرز امام جواد علیہ السلام»، مرکز تنظیم و نشر آثار آیت اللہ بہجت، تاریخ درج مطلب: 14 اسفند 1397شمسی، تاریخ بازدید: 1 آبان 1402ہجری شمسی۔
- راوندی، قطب الدین، الخرائج و الجرائح، قم، مؤسسہ امام مہدی(عج)، چاپ اول، 1409ھ۔
- راوندی، قطب الدین، قصص الانبیاء(ع)، قم، مکتبۃ العلامۃ المجلسی، چاپ اول، 1430ھ۔
- سید بن طاووس، علی بن موسی، مہج الدعوات و منہج العبادات، تحقیق و تصحیح ابوطالب كرمانى و محمد حسن محرر، قم، دارالذخائر، چاپ اول، 1411ھ۔
- سید بن طاووس، علی بن موسی، الامان من اخطار الاسفار و الازمان، قم، مؤسسہ آل البیت(ع)، چاپ اول، 1409ھ۔
- سید بن طاووس، علی بن موسی، مہج الدعوات و منہج العبادات، ترجمہ محمدتقی طبسی، تہران، رایحہ، چاپ اول، 1379ہجری شمسی۔
- شفیعی، علی، آثار و برکات دعا، تصحیح و تعلیق محمدحسین شفیعی شاہرودی، قم، مؤسسہ میراث نبوت، چاپ اول، 1400ہجری شمسی۔
- طباطبایی، سید کاظم، «حرز»، در دانشنامہ جہان اسلام، ج13، تہران، بنیاد دایرۃ المعارف اسلامی، 1388ہجری شمسی۔
- طبرسی، فضل بن حسن، اِعلام الوری باَعلام الہدی، قم، مؤسسہ آل البیت(ع)، چاپ اول، 1417ھ۔
- «علما و حرز امام جواد(ع)»، مؤسسہ اسم اعظم، تاریخ درج مطلب: 17 آذر 1400شمسی، تاریخ بازدید: 1 آبان 1402ہجری شمسی۔
- قطب الدین راوندی، سعید بن ہبۃ اللہ، قصص الانبیاء(ع)، تحقیق غلامرضا عرفانیان یزدی، مشہد، مرکز پژوہش ہای اسلامی، چاپ اول، 1409ھ۔
- قمی، شیخ عباس، منتہی الامال فی تواریخ النبی و الآل، تحقیق ناصر باقری بیدہندی، قم، دلیل ما، 1379ہجری شمسی۔
- مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار الجامعۃ لدرر أخبار الأئمۃ الأطہار(ع)، بیروت، دار احیاء التراث العربی، چاپ دوم، 1403ھ۔
- محمدی ری شہری، محمد، زمرم عرفان: یادنامہ فقیہ عارف حضرت آیت اللہ محمدتقی بہجت، قم، دار الحدیث، چاپ دوم، 1389ہجری شمسی۔
- مہریزی، مہدی و علی صدرایی خویی، میراث حدیث شیعہ، قم، دار الحدیث، بی تا.