دعائے سمات

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
دعائے سمات
کوائف
موضوع: اسم اعظم اور انبیاء و مقدس مقامات کی یاد
مأثور/غیرمأثور: مأثور
صادرہ از: امام محمد باقرؑ
راوی: محمد بن عثمان عمری
شیعہ منابع: مصباح المتہجدجمال الاسبوعالبلد الامینبحار الانوار
مشہور دعائیں اور زیارات
دعائے توسلدعائے کمیلدعائے ندبہدعائے سماتدعائے فرجدعائے عہددعائے ابوحمزہ ثمالیزیارت عاشورازیارت جامعہ کبیرہزیارت وارثزیارت امین‌اللہزیارت اربعین
دعا و مناجات
مسجد جامع خرمشهر.jpg

دعائے سمات، امام محمد باقرؑ سے منقولہ دعا ہے اور اس کی قرائت روز جمعہ کی آخری گھڑیوں میں مستحب ہے۔ امام باقرؑ سے منقولہ حدیث کی رو سے اللہ کا اسم اعظم اسی دعا میں ذکر ہوا ہے۔ شیعہ علماء نے اس دعا پر بہت ساری شرحیں لکھی ہیں۔

وجہ تسمیہ

سمات جمع "سِمَۃ" کی جمع ہے جس کے معنی علامت اور نشانے کے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ اس دعا میں استجابت کی علامتیں بکثرت ہیں چنانچہ اس کو سمات کا نام دیا گیا ہے۔[1]

دعا کی سند

دعائے سمات کو شیخ طوسی نے مصباح المتہجد میں،[2] سید ابن طاؤس نے در جمال الاسبوع میں،[3] کفعمی نے البلد الامین[4] اور المصباح میں،[5] مجلسی نے بحارالانوار[6] اور زاد المعاد میں،[7] معتبر اسناد سے امام زمانہ (عج) کے دوسرے نائب خاص محمد بن عثمان عمری سے انھوں نے اپنی سند سے امام صادقؑ سے اور آپؑ نے اپنے والد ماجد امام محمد باقرؑ سے نقل کیا ہے۔[8] سید ابن طاؤس نے اپنی کتاب جمال الاسبوع میں اس دعا کو تین واسطوں سے نقل کیا ہے۔[9] شیخ عباس قمی نے یہ دعا مفاتیح الجنان میں[10] شیخ طوسی کی مصباح المتہجد سے نقل کی ہے۔

سید ابوالقاسم خوئی سند کی قوت کی تائید نہیں کرتے۔[11] تاہم علامہ مجلسی کا کہنا ہے کہ یہ دعا اصحاب امامیہ (علمائے شیعہ) کے درمیان شہرت کی انتہا پر رہی ہے اور وہ پابندی سے اس کی قرائت کا اہتمام کرتے رہے ہیں۔[12]

وقت قرائت

امام خمینی(رح):
"اس عظیم الشان دعا (سمات) کے متن و سند سے منکرین کو جرأتِ انکار نہیں ہے اور خاص و عام اور عارف اور معمولی اافراد کے ہاں مقبول ہے اور یہ دعائے شریفہ اعلی مرتبت مضامین اور بہت سے معارف پر مشتمل ہے جس کی خوشبو عارف کے دل کو مسحور، اور بیخودی کی کیفیت سے دوچار، کردیتی ہے اور اس کی اور اس کی نسیم سالک کی جان میں نفخۂ الٰہیہ الہیہ (خدا کی پھونک) پھونک دیتی ہے"

اس دعا کی قرائت روز جمعہ کی آخری گھڑیوں میں[13] اور شب شنبہ مستحب ہے؛ اور جو بھی کہیں جاتے وقت یا بوقت حاجت، یا اس دشمن کی جانب رخ کرتے وقت، جس سے وہ خائف ہے، یا ایسے حکمران کے پاس جاتے وقت، جس سے وہ ڈرتا ہے، یہ دعا پڑھے، وہ حاجت روا ہوجاتا ہے، دشمن کے شر سے محفوظ رہتا ہے؛ اور جو اس دعا کو نہ پڑھ سکے، وہ اس کو مکتوب کرے اور اپنے بازو پر باندھ لے یا اپنے بغل میں قرار دے، اس کے اثرات وہی ہونگے۔[14] شیعیان اہل بیتؑ روز جمعہ کی آخری ساعتوں میں، مذہبی مقامات میں اجتماعی صورت میں، یا پھر انفرادی طور پر، دعائے سمات کی قرائت کا اہتمام کرتے ہیں۔

مضامین و مندرجات

دعائے سمات میں، خداوند متعال کو اسم اعظم، انبیاء اور ان مقدس مقامات کی قسم دلائی جاتی ہے یا ان کے واسطے سے دعا و التجا کی جاتی ہے جہاں اس نے اپنے رسولوں کے ساتھ کلام کیا اور ان پر وحی اتار دی۔ دعا کا آغاز خدا کے ساتھ رازونیاز اور مناجات سے ہوتا ہے اور ضمنی طور پر خدا کی نعمتوں کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔ بنو اسرائیل کے ساتھ حضرت موسیؑ کی ہمراہی، دریا سے ان کا عبور اور فرعون اور اس کے لشکریوں کی ہلاکت کا تذکرہ کیا جاتا ہے؛ اگلے فقروں میں موسی بن عمران، ابراہیم خلیل، اسحاق بن ابراہیم اور یعقوب بن اسحاق کے ساتھ خداوند متعال کے ہمکلام ہونے نیز خداوند متعال کی طرف سے ان کی امداد کا تذکرہ ہوا ہے۔ یہ دعا یادآوری کراتی ہے کہ کس طرح خداوند متعال نے آدمؑ اور ان کی ذریت پر اپنی رحمت نازل فرمائی ہے اور پھر پچھلی امتوں پر اللہ کی برکتوں کو بیان کیا جاتا ہے اور تاکید کی جاتی ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ کی امت اور ذریت بھی ان برکتوں میں شامل ہیں اور اور پھر خداوند متعال سے التجا کی جاتی ہے کہ پیغمبرؐ اور خاندان پیغمبر پر صلوات بھیج دے، اپنی رحمت و برکت میں انہیں شامل فرمائے، جس طرح کہ اس نے ابراہیمؑ اور خاندان ابراہیم پر صلوات بھیجی اور انہیں اپنی برکت و رحمت میں شامل کیا۔

دعا کی منزلت

امام باقرؑ سے منقولہ حدیث میں ہے کہ آپؑ نے فرمایا: "لَوْ حَلَفْتُ لَبَرَرْتُ أَنَّ اسْمَ اللَّہِ الْأَعْظَمِ قَدْ دَخَلَ فِیهَا فَإِذَا دَعَوْتُمْ فَاجْتَهِدُوا فِی الدُّعَاءِ (ترجمہ: اگر قسم اٹھاؤں کہ خدا کا اسم اعظم اس دعا میں ہے، جو اس میں داخل ہوا ہے، تو جب دعا کرو تو دعا میں کوشش کرو)"۔[15]

شرحیں

آقا بزرگ طہرانی نے مرقوم کیا ہے کہ دعائے سمات پر 20 شرحیں لکھی گئی ہیں۔[16]

  1. خلاصۃ الدعوات فی شرح دعاء السمات، بقلم: سید محمد مہدی بن محمد جعفر موسوی تُنِکابنی. انھوں نے اپنی کتاب خلاصۃ الاخبار کے آخر میں جو انھوں نے سنہ 1250ھ ق، تالیف کی ہے، میں اس کا تذکرہ کیا ہے۔[17]
  2. دُرِّ منثور در شرح دعای شبور، بقلم: عبدالجلیل بن نصراللہ (متوفٰی تیرہویں صدی ہجری) یہ شرح فارسی میں ہے اور سنہ 1246ھ میں پایۂ تکمیل تک پہنچی ہے۔[18]
  3. روائح النسمات فی شرح دعاء السمات، بقلم: محمد حسن میر جہانی یہ شرح فارسی میں ہے اور سنہ 1373 ھ میں طبع زیور طبع سے آراستہ ہوئی ہے۔[19]
  4. صفوۃ الصفات فی شرح دعاء السمات، بقلم: ابراہیم بن علی بن حسن کفعمی (متوفٰی 905 ھ)۔ یہ شرح سنہ 895 ھ، میں تالیف ہوئی ہے اور اس کے متعدد نسخے دستیاب ہیں۔[20]
  5. کشف الحجاب عن الدعاء المستجاب، بقلم: سید عبد اللہ بن محمد رضا شبر (متوفٰی 1242 ھ) یہ شرح سنہ 2141 کہ بہ سنہ 1241 ھ، میں تالیف ہوئی ہے۔[21]۔[22]۔خطا در حوالہ: Closing </ref> missing for <ref> tag فہرست نسخ خطّى كتاب خانہ آيۃ اللّہ مرعشى، ج24، ص267</ref>
  6. اللمعات فی شرح دعاء السمات، بقلم: سید ابو القاسم دہکردی (متوفٰی 1352 ھ) اس شرح کی تحریر جس کی ہر فصل کو لمعہ کا عنوان دیا گئی ہے، سنہ 1349ھ ق، میں پایۂ تکمیل کو پہنچی ہے۔[23]
  7. مفتاح النجاۃ فی شرح دعاء السمات، بقلم: آقا محمود بن محمد علی بن وحید بہبہانی (متوفٰی 1269 یا 1271 ھ) یہ شرح فارسی میں لکھی گئی ہے اور اس کی تالیف کا کام سنہ 1260 ھ، میں اختتام پذیر ہوا ہے۔
  8. وسیلۃ النجاۃ فی شرح دعاء السمات، تالیف: عبد الواسع علامی
  9. وسیلۃ النجاۃ فی شرح دعاء السمات، بقلم: شیخ علی اکبر بن محمد حسین نہاوندی (متوفٰی 1369 ھ) مؤلف اس شرح کو، جس کا دوسرا نام عناوین الجُمُعات فی شرح دعاء السمات ہے، سال کے ایام جمعہ کی عدد کے مطابق، 48 عناوین کے تحت مرتب کرنا چاہتے تھے لیکن لیکن صرف پانچ عناوین لکھنے میں کامیاب ہوئے ہیں اور پانچواں عنوان و بمشيتك التي دان لہا العالمون اور شرح کا یہ حصہ مؤلف ہی کے خط سے سنہ 1332 ھ میں، سنگی طباعت (lithography) سے شائع ہوئی تھی۔ مؤلف اس حصے کی اشاعت کے بعد خانۂ خدا کی زیارت کا شرف حاصل کرنے کی غرض سے حجاز کا رخ کیا اور شرح کو پایۂ تکمیل تک نہیں پہنچا سکے۔
  10. شرح دعاء السمات، مؤلف: محمد ابراہیم بن عبد الوہاب سبزواری اسراری (متوفٰی 1291ھ)۔ مؤلف نے اس شرح کو جس کی زبان عربی ہے، سنہ 1350ھ ق میں تالیف کیا ہے۔
  11. شرح دعاء السمات، بقلم: محمد باقر مجلسی (متوفٰی 1110ھ)۔ یہ شرح بحار الانوار کے ضمن میں مندرجہ کتاب الدعاء مندرج ہے۔ صاحب الذریعہ نے دعائے سمات کا ترجمہ بھی علامہ مجلسی سے منسوب کیا ہے۔
  12. شرح دعاء السمات، بقلم: سید محمد جعفر طباطبایی شولستانی (متوفٰی قرن 12 ھ)۔ اس شرح کی تالیف سنہ 1113 ھ، میں مکمل ہوئی ہے۔
  13. شرح دعاء السمات، بقلم: حسن بن محمد باقر قرہ باغی، جو سنہ 1261 ھ کو نجف میں تالیف ہوئی ہے۔
  14. شرح دعاء السمات، بقلم: درویش علی بن حسین بغدادی حائری (متوفٰی تقریبا 1277 ھ)۔
  15. شرح دعائے سمات، بقلم: ملا محمد صالح بن محمد باقر روغنی قزوینی (متوفٰی تقریبا 1075ھ) یہ شرح فارسی میں ہے۔
  16. شرح دعاء السمات، بظاہر میر عبد الفتاح بن علی حسینی مراغی (متوفٰی قرن 13ھ) کے قلم سے۔
  17. شرح دعاء السمات، بقلم: علی بن عبداللہ علیاری تبریزی (متوفٰی 1327 ھ)۔
  18. شرح دعائے سمات، بقلم: محمد علی بن نصیر الدین چہاردہی رشتی نجفی (متوفٰی 1334 ھ) یہ شرح فارسی میں ہے۔
  19. شرح دعاء السمات، بقلم: سید کاظم بن قاسم حسینی رشتی (متوفٰی 1259 ھ) اس شرح کی طباعت جو عربی میں لکھی گئی ہے، سنہ 1277ھ میں بمقام تبریز انجام پائی ہے۔
  20. شرح دعاء السمات، بفلم: شیخ محمد عاملی۔
  21. شرح دعاء السمات، بقلم: کتاب ریاض الصالحین کے مؤلف سید محمد بن محمد باقر حسینی (متوفٰی بارہویں صدی ہجری) یہ شرح عربی میں ہے اور گویا اسی کتاب کا ہی حصہ ہے۔
  22. شرح دعاء السمات، بقلم: محمد بن عبد اللہ بن علی بلادی بحرانی (متوفٰی بارہویں صدی ہجری) اس شرح کی تالیف سنہ 1166 ھ میں بصورت شرح مزجی[24] صورت میں انجام پائی ہے۔
  23. شرح دعائے سمات، بقلم: محمد مؤمن بن علی نقی، جو فارسی میں لکھی گئی ہے۔
  24. شرح دعاء السمات، بقلم: نامعلوم۔ اس کتاب کی زبان عربی ہے۔ آج تک اس شرح کے پانچ نسخوں کا سراغ لگایا جاچکا ہے اور اس شرح کا آغاز ان الفاظ سے ہوتا ہے: نَحمدُكَ وَنَدعُوكَ فِي السَّراءِ وَنَسأَلُكَ وَنَرجُوكَ الإِجابةَ فِي الضَّراءِ۔
  25. شرح دعاء السمات، بقلم: شیخ ہلال الدین اسماعیل خوئی (متوفٰی تقریبا 1313 ھ) مؤلف کی کتاب جلیس الواحد و انیس الفارد سنہ 1313 ھ میں تالیف ہوئی اور انھوں نے اس کتاب میں مذکورہ شرح ایک ناسخ نسخہ شامل کیا ہے۔
  26. شرح دعاء السمات، بقلم: یوسف بن محمد مہدی خوانساری۔
  27. شرح دعاء السمات، بقلم: نامعلوم۔ یہ شرح عربی میں ہے اور اس کی کتابت 1105 ھ میں مکمل ہوئی ہے۔ اس شرح کے ابتدائی صفحات دستیاب نہیں ہیں۔
  28. شرح دعاء السمات، بقلم: نامعلوم۔ یہ شرح عربی میں ہے اور اس کے دستیاب نسخے کی کتابت گیارہویں صدی ہجری میں انجام پائی ہے۔
  29. شرح دعاء السمات، بقلم: نامعلوم۔ اس شرح کے دستیاب نسخے کی کتابت گیارہویں صدی ہجری میں انجام پائی ہے اور اس نسخے کی کتابت بارہویں صدی ہجری میں ہوئی ہے۔
  30. شرح دعاء السمات، بقلم: نامعلوم۔ یہ شرح عربی میں ہے اور سنہ 1238ھ میں تالیف ہوئی ہے اور اس کا قلمی نسخہ شہیر شیراز کے کتابخانۂ شاہ چراغ میں موجود ہے۔ [25]

متن اور ترجمہ

دعائے سمات
متن ترجمہ
اللهُمَّ اِني اَسْئَلُكَ بِاسْمِكَ الْعَظيمِ الاَعْظَمِ، الاَعَزِّ الاَجَلِّ الاَكْرَمِ، اَلَّذي اِذا دُعيتَ بِهِ عَلى مَغالِقِ أبْوابِ السَماءِ لِلْفَتْحِ بِالرَّحْمَةِ انْفَتَحَتْ، وَاِذا دُعيتَ بِهِ عَلى مَضَايقِ أبْوابِ الاَرضِ لِلِفَرَجِ انْفَرَجَتْ، وَ إِذَا دُعِيتَ بِهِ عَلَى الْعُسْرِ لِلْيُسْرِ تَيَسَّرَتْ، وَ إِذَا دُعِيتَ بِهِ عَلَى الْأَمْوَاتِ لِلنُّشُورِ انْتَشَرَتْ، وَ إِذَا دُعِيتَ بِهِ عَلَى كَشْفِ الْبَأْسَاءِ وَ الضَّرَّاءِ انْكَشَفَتْ اے معبود میں تیرے عظیم بڑی عظمت والے بڑے روشن بڑی عزت والے نام کے ذریعے سوال کرتا ہوں کہ جب آسمان کے بند دروازے رحمت کیلئے کھولنے کیلئے تجھے اس نام سے پکاریں تو وہ کھل جاتے ہیں اور جب زمین کے تنگ راستے کھولنے کیلئے تجھے اس نام سے پکارا جائے تو وہ کشادہ ہو جاتے ہیں اور جب سختی کے وقت آسانی کیلئے اس نام سے پکاریں تو آسانی ہو جا تی ہے اور جب مردوں کو اٹھانے کیلئے تجھے اس نام سے پکاریں تو وہ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور تنگیاں اور سختیاں دور کرنے کیلئے تجھے اس نام سے پکاریں تو وہ دور ہو جاتی ہیں
وَ بِجَلالِ وَجْهِكَ الْكَرِيمِ، أَكْرَمِ الْوُجُوهِ، وَ أَعَزِّ الْوُجُوهِ، الَّذِي عَنَتْ لَهُ الْوُجُوهُ، وَ خَضَعَتْ لَهُ الرِّقَابُ، وَ خَشَعَتْ لَهُ الْأَصْوَاتُ، وَ وَجِلَتْ لَهُ الْقُلُوبُ مِنْ مَخَافَتِكَ، وَ بِقُوَّتِكَ الَّتِي بِهَا تُمْسِكُ السَّمَاءَ أَنْ تَقَعَ عَلَى الْأَرْضِ إِلّا بِإِذْنِكَ، وَ تُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ وَ الْأَرْضَ أَنْ تَزُولا، وَ بِمَشِيَّتِكَ الَّتِي دَانَ [كَانَ ] لَهَا الْعَالَمُونَ اور سوالی ہوں تیری ذات کریم کے جلال کے ذریعے جو سب سے بزرگ ذات ہے سب سے معزز ذات ہے کہ جس کے آگے چہرے جھکتے ہیں اسکے سامنے گردنیں خم ہوتی ہیں اسکے حضور آوازیں کانپتی ہیں اور جسکے خوف سے دلوں میں لرزہ طاری ہو جاتا ہے اور سوال کرتا ہوں تیری اس قوت کے ذریعے جس سے تو نے آسمان کو زمین پر گرنے سے روک رکھا ہے مگر جب تو اسے حکم دے اور اس آسمان اور زمین کو روکا ہوا ہے کہ کھسک نہ جائیں اور تیری اس مشیت کے ذریعے سوالی ہوں عالمین جس کے مطیع ہیں
وَ بِكَلِمَتِكَ الَّتِي خَلَقْتَ بِهَا السَّمَاوَاتِ وَ الْأَرْضَ، وَ بِحِكْمَتِكَ الَّتِي صَنَعْتَ بِهَا الْعَجَائِبَ، وَ خَلَقْتَ بِهَا الظُّلْمَةَ وَ جَعَلْتَهَا لَيْلاً، وَ جَعَلْتَ اللَّيْلَ سَكَناً [مَسْكَنا] ، وَ خَلَقْتَ بِهَا النُّورَ وَ جَعَلْتَهُ نَهَاراً، وَ جَعَلْتَ النَّهَارَ نُشُوراً مُبْصِراً، وَ خَلَقْتَ بِهَا الشَّمْسَ وَ جَعَلْتَ الشَّمْسَ ضِيَاءً، وَ خَلَقْتَ بِهَا الْقَمَرَ وَ جَعَلْتَ الْقَمَرَ نُوراً تیرے ان کلما ت کے واسطے سے سو الی ہوں جن سے تونے آسما نوں اور زمین کو پیدا کیاتیری اس حکمت کے واسطے سے جس سے تونے عجائب کو بنایا اورجس سے تو نے تاریکی کو خلق کیا اور اسے رات قرار دیا اور اسے آرام کیلئے خاص کیا اور اپنی حکمت سے تونے روشنی پیدا کی اور اسے دن کا نام دیا اور دن کو جاگ اٹھنے اور دیکھنے کیلئے بنایا اور تو نے اس سے سورج کو پیدا کیا اور سورج کو روشن کیا تونے اس سے چاند کو پیدا کیا اور چاند کو چمکدار بنایا
وَ خَلَقْتَ بِهَا الْكَوَاكِبَ وَ جَعَلْتَهَا نُجُوماً وَ بُرُوجاً، وَ مَصَابِيحَ وَ زِينَةً وَ رُجُوماً، وَ جَعَلْتَ لَهَا مَشَارِقَ وَ مَغَارِبَ، وَ جَعَلْتَ لَهَا مَطَالِعَ وَ مَجَارِيَ، وَ جَعَلْتَ لَهَا فَلَكا وَ مَسَابِحَ، وَ قَدَّرْتَهَا فِي السَّمَاءِ مَنَازِلَ فَأَحْسَنْتَ تَقْدِيرَهَا، وَ صَوَّرْتَهَا فَأَحْسَنْتَ تَصْوِيرَهَا، وَ أَحْصَيْتَهَا بِأَسْمَائِكَ إِحْصَاءً، وَ دَبَّرْتَهَا بِحِكْمَتِكَ تَدْبِيراً، وَ أَحْسَنْتَ [فَأَحْسَنْتَ ] تَدْبِيرَهَا، وَ سَخَّرْتَهَا بِسُلْطَانِ اللَّيْلِ وَ سُلْطَانِ النَّهَارِ وَ السَّاعَاتِ وَ عَدَدِ [وَ عَرَّفْتَ بِهَا عَدَدَ] السِّنِينَ وَ الْحِسَابِ، وَ جَعَلْتَ رُؤْيَتَهَا لِجَمِيعِ النَّاسِ مَرْئً وَاحِداً اور تونے اس سے ستاروں کو پیدا کیا انہیں فروزاں کیا ان کے برج بنائے اور انہیں چراغ بنایا اور زینت بنایا، سنگبار بنایا تو نے ان کیلئے مشرق اورمغرب بنائے تونے ان کے چمکنے اور چلنے کی راہیں بنائیں تونے ان کیلئے فلک اور سیر کی جگہ بنائی اور آسمان میں ان کی منزلیں مقرر کیں پس تونے ان کا بہترین اندازہ ٹھہرایا اور تونے انہیں شکل عطا کی کیا ہی اچھی شکل دی اور انھیں اپنے ناموں کے ساتھ پوری طرح شمار کیا اور اپنی حکمت سے ان کا ایک نظام قائم کیا اور خوب تدبیر فرمائی اور رات کے عرصے اور دن کی مدت کیلئے مطیع بنایا اور ساعتوں اور سالوں کے حساب کا ذریعہ بنایا اور سب لوگوں کیلئے ان کو دیکھنا یکساں کردیا
وَ أَسْأَلُكَ اللَّهُمَّ بِمَجْدِكَ الَّذِي كَلَّمْتَ بِهِ عَبْدَكَ وَ رَسُولَكَ مُوسَى بْنَ عِمْرَانَ عَلَيْهِ السَّلامُ فِي الْمُقَدَّسِينَ، فَوْقَ إِحْسَاسِ [أَحْسَاسِ ] الْكَرُوبِينَ [الْكَرُوبِيِّينَ ] ، فَوْقَ غَمَائِمِ النُّورِ، فَوْقَ تَابُوتِ الشَّهَادَةِ، فِي عَمُودِ النَّارِ، وَ فِي طُورِ سَيْنَاءَ، وَ فِي [إِلَي] جَبَلِ حُورِيثَ، فِي الْوَادِ الْمُقَدَّسِ، فِي الْبُقْعَةِ الْمُبَارَكَةِ مِنْ جَانِبِ الطُّورِ الْأَيْمَنِ مِنَ الشَّجَرَةِ، وَ فِي أَرْضِ مِصْرَ بِتِسْعِ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ، وَ يَوْمَ فَرَقْتَ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ الْبَحْرَ، وَ فِي الْمُنْبَجِسَاتِ الَّتِي صَنَعْتَ بِهَا الْعَجَائِبَ فِي بَحْرِ سُوفٍ اور سوال کرتا ہوں تجھ سے اے اللہ تیری اس بزرگی کے ذریعے جس سے تونے اپنے بندے اور رسول حضرت موسی - سے کلام فرمایا پاک لوگوں میں جو فرشتوں کی سمجھ سے بالا نور کے بادلوں سے بلند تابوت شہادت سے اونچا جو آگ کے ستون میں طور سینا میں کوہ حوریث میں وادی مقدس میں برکت والی زمین میں طور ایمن کی طرف ایک درخت سے جو سر زمین مصر میں پیدا ہوا سوال کرتا ہوں نو روشن معجزوں کے واسطے سے اور اس دن کے واسطے سے کہ جس دن تونے بنی اسرا ئیل کیلئے دریا میں راستہ بنایا اور ان چشموں میں جو پتھر سے جاری ہوئے کہ جن کے ذریعے تونے عجیب معجزات کو دریائے سوف میں ظاہر کیا۔
وَ عَقَدْتَ مَاءَ الْبَحْرِ فِي قَلْبِ الْغَمْرِ كَالْحِجَارَةِ، وَ جَاوَزْتَ بِبَنِي إِسْرَائِيلَ الْبَحْرَ، وَ تَمَّتْ كَلِمَتُكَ الْحُسْنَى عَلَيْهِمْ بِمَا صَبَرُوا، وَ أَوْرَثْتَهُمْ مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَ مَغَارِبَهَا الَّتِي بَارَكْتَ فِيهَا لِلْعَالَمِينَ، وَ أَغْرَقْتَ فِرْعَوْنَ وَ جُنُودَهُ وَ مَرَاكِبَهُ فِي الْيَمِّ، وَ بِاسْمِكَ الْعَظِيمِ الْأَعْظَمِ [الْأَعْظَمِ ] الْأَعَزِّ الْأَجَلِّ الْأَكْرَمِ، وَ بِمَجْدِكَ الَّذِي تَجَلَّيْتَ بِهِ لِمُوسَى كَلِيمِكَ عَلَيْهِ السَّلامُ فِي طُورِ سَيْنَاءَ، وَ لِإِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلامُ خَلِيلِكَ مِنْ قَبْلُ فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ، وَ لِإِسْحَاقَ صَفِيِّكَ عَلَيْهِ السَّلامُ فِي بِئْرِ شِيَعٍ [سَبْعٍ ] ، وَ لِيَعْقُوبَ نَبِيِّكَ عَلَيْهِ السَّلامُ فِي بَيْتِ إِيلٍ اور تونے دریا کے پانی کو بھنور کے درمیان پتھروں کی مانند جکڑ کے رکھ دیا اور تونے بنی اسرائیل کو دریا سے گذار دیا اور ان کے بارے میں تیرا بہترین وعدہ پورا ہوا جب انھوں نے صبر کیا اور تونے ان کو زمین کے مشرقوں اور مغربوں کا مالک بنایا جن میں تو نے عالمین کیلئے برکتیں رکھی ہیں اور تو نے فرعون اور اسکے لشکر کو اور انکی سواریوں کو دریائے نیل میں غرق کر دیا اور سوالی ہوں بواسطہ تیرے نام کے جو بلندترعزت والا روشن بزرگی والا ہے اور بواسطہ تیری شان کے جو تو نے اپنے کلیم موسی - کے لیے طور سینا میں ظاہر کی اور اس سے پہلے اپنے خلیل ابراہیم - کیلئے مسجد خیف میں اور اپنے برگزیدہ اسحاق - کیلئے چاہ شیع میں ظاہر کی اور اپنے محبوب یعقوب - کیلئے بیت ایل میں ظاہر کی
وَ أَوْفَيْتَ لِإِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلامُ بِمِيثَاقِكَ، وَ لِإِسْحَاقَ بِحَلْفِكَ، وَ لِيَعْقُوبَ بِشَهَادَتِكَ، وَ لِلْمُؤْمِنِينَ بِوَعْدِكَ، وَ لِلدَّاعِينَ بِأَسْمَائِكَ فَأَجَبْتَ، وَ بِمَجْدِكَ الَّذِي ظَهَرَ لِمُوسَى بْنِ عِمْرَانَ عَلَيْهِ السَّلامُ عَلَى قُبَّةِ الرُّمَّانِ [الزَّمَانِ ] [الْهَرْمَانِ ] ، وَ بِآيَاتِكَ الَّتِي وَقَعَتْ عَلَى أَرْضِ مِصْرَ بِمَجْدِ الْعِزَّةِ وَ الْغَلَبَةِ، بِآيَاتٍ عَزِيزَةٍ، وَ بِسُلْطَانِ الْقُوَّةِ، وَ بِعِزَّةِ الْقُدْرَةِ، وَ بِشَأْنِ الْكَلِمَةِ التَّامَّةِ اور تونے ابراہیم - سے اپنا عہد و پیمان پورا کیا اور اسحاق - کیلئے اپنی قسم پوری کی اور یعقوب - کیلئے اپنی شہادت ظاہر کی اور مومنین سے اپنا وعدہ وفا کیا اور جنہوں نے تیرے ناموں کے ذریعے دعائیں کیں انہیں قبول کیا اور سوالی ہوں بواسطہ تیری اس شان کے جو قبہئ رمان پر موسی ابن عمران - کیلئے ظاہر ہوئی اور بواسطہ تیرے معجزوں کے جو ملک مصر میں تیری شان و عزت اور غلبہ سے عزت والی نشانیوں سے غالب قوت سے قدرت کی بلندی اور پورا ہونے والے قول کی شان سے رونما ہوئے
وَ بِكَلِمَاتِكَ الَّتِي تَفَضَّلْتَ بِهَا عَلَى أَهْلِ السَّمَاوَاتِ وَ الْأَرْضِ وَ أَهْلِ الدُّنْيَا وَ أَهْلِ الْآخِرَةِ، وَ بِرَحْمَتِكَ الَّتِي مَنَنْتَ بِهَا عَلَى جَمِيعِ خَلْقِكَ، وَ بِاسْتِطَاعَتِكَ الَّتِي أَقَمْتَ بِهَا عَلَى الْعَالَمِينَ، وَ بِنُورِكَ الَّذِي قَدْ خَرَّ مِنْ فَزَعِهِ طُورُ سَيْنَاءَ، وَ بِعِلْمِكَ وَ جَلالِكَ وَ كِبْرِيَائِكَ وَ عِزَّتِكَ وَ جَبَرُوتِكَ الَّتِي لَمْ تَسْتَقِلَّهَا الْأَرْضُ، وَ انْخَفَضَتْ لَهَا السَّمَاوَاتُ، وَ انْزَجَرَ لَهَا الْعُمْقُ الْأَكْبَرُ، وَ رَكَدَتْ لَهَا الْبِحَارُ وَ الْأَنْهَارُ، وَ خَضَعَتْ لَهَا الْجِبَالُ، وَ سَكَنَتْ لَهَا الْأَرْضُ بِمَنَاكِبِهَا اور تیرے ان کلمات سے جن کے ذریعے تو نے آسمانوں اور زمین کے رہنے والوں اور اہل دنیا اور اہل آخرت پر احسان کیا اور سوالی ہوں تیری اس رحمت کے ذریعے سے جس سے تو نے اپنی ساری مخلوق پر کرم کیا سوالی ہوں تیری اس توانائی کے واسطے سے جس سے تو نے اہل عالم کو قائم رکھاسوالی ہوں بواسطہ تیرے اس نور کے جس کے خوف سے طو رسینا چکنا چور ہوا سوالی ہوں تیرے اس علم و جلالت اور تیری بڑائی و عزت اور تیرے جبروت کے واسطے سے جس کو زمین برداشت نہ کر سکی اور آسمان عاجز ہو گئے اور اس سے زمین کی گہرائیاں کپکپا گئیں جسکے آگے سمندر اور نہریں رک گئیں پہاڑ اس کیلئے جھک گئے اور زمین اس کیلئے اپنے ستونوں پر ٹھہر گئی
وَ اسْتَسْلَمَتْ لَهَا الْخَلائِقُ كُلُّهَا، وَ خَفَقَتْ لَهَا الرِّيَاحُ فِي جَرَيَانِهَا، وَ خَمَدَتْ لَهَا النِّيرَانُ فِي أَوْطَانِهَا، وَ بِسُلْطَانِكَ الَّذِي عُرِفَتْ لَكَ بِهِ الْغَلَبَةُ دَهْرَ الدُّهُورِ، وَ حُمِدْتَ بِهِ فِي السَّمَاوَاتِ وَ الْأَرَضِينَ، وَ بِكَلِمَتِكَ كَلِمَةِ الصِّدْقِ الَّتِي سَبَقَتْ لِأَبِينَا آدَمَ عَلَيْهِ السَّلامُ وَ ذُرِّيَّتِهِ بِالرَّحْمَةِ، وَ أَسْأَلُكَ بِكَلِمَتِكَ الَّتِي غَلَبَتْ كُلَّ شَيْ ءٍ، وَ بِنُورِ وَجْهِكَ الَّذِي تَجَلَّيْتَ بِهِ لِلْجَبَلِ، فَجَعَلْتَهُ دَكّا، وَ خَرَّ مُوسَى صَعِقاً اور اسکے سامنے ساری مخلوق سرنگوں ہو گئی اپنی رئووں پر چلتی ہوائیں اسکے سامنے پریشان ہوگئیں اس کیلئے آگ اپنے مقام پر بجھ گئی سوالی ہوں بواسطہ تیری اس حکومت کے جسکے ذریعے ہمیشہ ہمیشہ تیرے غلبے کی پہچان ہوتی ہے اور آسمانوں اور زمینوں میں اس سے تیری حمد ہوتی ہے سوالی ہوں بواسطہ تیرے اس سچے قول کے جو تو نے ہمارے باپ آدم - اور ان کی اولاد کیلئے رحمت کے ساتھ فرمایا ہے سوالی ہوں بواسطہ تیرے اس کلمہ کے جو تمام چیزوں پر غالب ہے سوالی ہوںبواسطہ تیری ذات کے اس نور کے جس کا جلوہ تونے پہاڑ پر ظاہر کیا تو وہ ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا اور موسیؑ بے ہوش ہو کر گرپڑے
وَ بِمَجْدِكَ الَّذِي ظَهَرَ عَلَى طُورِ سَيْنَاءَ، فَكَلَّمْتَ بِهِ عَبْدَكَ وَ رَسُولَكَ مُوسَى بْنَ عِمْرَانَ، وَ بِطَلْعَتِكَ فِي سَاعِيرَ، وَ ظُهُورِكَ فِي جَبَلِ فَارَانَ، بِرَبَوَاتِ الْمُقَدَّسِينَ، وَ جُنُودِ الْمَلائِكَةِ الصَّافِّينَ، وَ خُشُوعِ الْمَلائِكَةِ الْمُسَبِّحِينَ، وَ بِبَرَكَاتِكَ الَّتِي بَارَكْتَ فِيهَا عَلَى إِبْرَاهِيمَ خَلِيلِكَ عَلَيْهِ السَّلامُ فِي أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ، وَ بَارَكْتَ لِإِسْحَاقَ صَفِيِّكَ فِي أُمَّةِ عِيسَى عَلَيْهِمَا السَّلامُ، وَ بَارَكْتَ لِيَعْقُوبَ إِسْرَائِيلِكَ فِي أُمَّةِ مُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلامُ، وَ بَارَكْتَ لِحَبِيبِكَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ فِي عِتْرَتِهِ وَ ذُرِّيَّتِهِ وَ [فِي ] أُمَّتِهِ سوالی ہوں بواسطہ تیری اس بزرگی کے جو طور سینا پر ظاہر ہوئی تو، تو اپنے بندے اور اپنے رسول موسی ؑ بن عمران سے ہم کلام ہوا سوالی ہوں تیری نورانیت کے ذریعے جناب عیسیٰ کی مناجات کی جگہ میں اور تیرے نور کے ظہور کے ذریعے کوہ فاران میں بلند و مقدس مقامات میں صفیں باندھے ہوئے ملائکہ کی فوج کے ذریعے اور تسبیح خواں ملا ئکہ کے خشوع کے ذریعے سوال کرتا ہوں بواسطہ تیری ان برکات کے ذریعے جن سے تو نے برکت عطا کی اپنے خلیل ابراہیم - کو حضرت محمد ö کی امت میں برکت دی اور اپنے برگزیدہ اسحاق - کو حضرت عیسیٰ - کی امت میں برکت دی اور برکت دی تونے اپنے خاص بندے یعقوب - کو حضرت موسی - کی امت میں اور برکت دی تو نے اپنے حبیب حضرت محمد ö کو ان کی عترت، ذریت اور انکی امت میں
اللَّهُمَّ وَ كَمَا غِبْنَا عَنْ ذَلِكَ وَ لَمْ نَشْهَدْهُ وَ آمَنَّا بِهِ وَ لَمْ نَرَهُ صِدْقاً وَ عَدْلاً، أَنْ تُصَلِّيَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ، وَ أَنْ تُبَارِكَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ، وَ تَرَحَّمَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ، كَأَفْضَلِ مَا صَلَّيْتَ وَ بَارَكْتَ وَ تَرَحَّمْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَ آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، فَعَّالٌ لِمَا تُرِيدُ، وَ أَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْ ءٍ قَدِيرٌ [شَهِيدٌ] خدایا جیسا کہ ہم ان کے عہد میں موجود نہ تھے اور ہم نے انہیں دیکھا نہیں اور ان پر سچائی اور حقانیت کے ساتھ اور درستی سے ایمان لائے ہم چاہتے ہیں کہ محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت فرما اور محمدؐ وآل محمدؐ پر برکت نازل فرما اور محمدؐ و آل محمدؐ پر شفقت فرما جس طرح تو نے بہترین رحمت اور برکت اور شفقت ابرہیم و آل ابراہیم پر فرمائی تھی بے شک تو حمد اور شان والا ہے جو چاہے سو کرنے والا ہے اور تو ہر چیز پر قدرت رکھتاہے ۔
اللَّهُمَّ بِحَقِّ هَذَا الدُّعَاءِ، وَ بِحَقِّ هَذِهِ الْأَسْمَاءِ الَّتِي لا يَعْلَمُ تَفْسِيرَهَا وَ لا يَعْلَمُ بَاطِنَهَا غَيْرُكَ، صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ، وَ افْعَلْ بِي مَا أَنْتَ أَهْلُهُ، وَ لا تَفْعَلْ بِي مَا أَنَا أَهْلُهُ، وَ اغْفِرْ لِي مِنْ ذُنُوبِي مَا تَقَدَّمَ مِنْهَا وَ مَا تَأَخَّرَ، وَ وَسِّعْ عَلَيَّ مِنْ حَلالِ رِزْقِكَ، وَ اكْفِنِي مَئُونَةَ إِنْسَانِ سَوْءٍ، وَ جَارِ سَوْءٍ، وَ قَرِينِ سَوْءٍ، وَ سُلْطَانِ سَوْءٍ، إِنَّكَ عَلَى مَا تَشَاءُ قَدِيرٌ، وَ بِكُلِّ شَيْ ءٍ عَلِيمٌ، آمِينَ رَبَّ الْعَالَمِينَ. اب اپنی حاجت بیان کریں اور کہیں: اے معبود! اس دعا کے واسطے اور ان ناموں کے واسطے سے کہ جن کی تفسیر تیرے سوا کوئی نہیں جانتا اور جن کی حقیقت سے سوائے تیرے کوئی آگاہ نہیں تو محمد ؐو آل محمدؐ پر رحمت فرما اور مجھ سے وہ سلوک کر جو تیرے شایان شان ہے نہ کہ وہ سلوک جسکا میں مستحق ہوں اور میرے گناہوں میں سے جو میں نے پہلے کیے اور جو بعد میں ،بخش دے اور اپنا رزق حلال میرے لیے کشادہ کر دے اور مجھے برے انسان برے ہمسائے برے ساتھی اور برے حاکم کی اذیت سے بچائے رکھ بے شک تو جو چاہے وہ کرنے پر قادر ہے اور ہر چیز کا علم رکھتا ہے آمین یارب العالمین ۔

حوالہ جات

  1. دایرۃ المعارف شیعہ، ج 7، ص 527۔
  2. طوسی، مصباح المتہجد، ج1، ص 420 ـ 417۔
  3. ابن طاؤس، جمال الاسبوع، ص 538 ـ 533۔
  4. کفعمی، بلدالامین، ص 91 ـ 90۔
  5. کفعمی، مصباح، ص 426 ـ 424۔
  6. مجلسی، بحارالانوار، ج 87، ص 100ـ 96۔
  7. مجلسی، زاد المعاد، ص488۔
  8. مجلسی، بحار الانوار، ج 90، ص 96۔
  9. سید ابن طاؤس، جمال الأسبوع، ص 321۔
  10. قمی، مفاتیح الجنان، ص 135ـ 128۔
  11. خوئی، منيۃ السائل، ص 224۔
  12. مجلسی، بحارالأنوار، ج 87، ص 101ـ 102۔
  13. طوسی، مصباح المتہجّد، ص416۔
  14. صدر سید جوادی، دائرۃ المعارف تشیع، ج7، ص 527۔
  15. مجلسی، بحارالانوار، ج87، ص100ـ 96۔
  16. آقا بزرگ طہرانی، الذریعۃ، ج8، ص190۔
  17. آقا بزرگ طہرانی، وہی ماخذ، ج7، ص227 اور ج13، ص251۔
  18. فہرست نسخہ ہاى خطى كتابخانہ آيۃ اللّہ مرعشى، ج6، ص376۔
  19. الذريعۃ إلى تصانيف الشيعۃ، ج11، ص 255 اور ج13، ص249۔
  20. آقا بزرگ طہرانی، وہی ماخذ، ج13، ص409 اور ج15، ص50۔
  21. الذريعۃ إلى تصانيف الشيعۃ، ج13، ص250۔
  22. وہی ماخذ، ج18، ص25۔
  23. الذريعۃ إلى تصانيف الشيعۃ، ج18، ص346 و فہرست نسخ خطّى كتاب خانہ مسجد اعظم، ص 340۔
  24. شرح مزجی؛ جس میں متن کی تفسیر و وضاحت کچھ اس طرح سے ہو کہ خاص علائم کے بغیر اس کو متن کے الفاظ اور جملوں سے الگ کرنا ممکن نہ ہو، اس کو "مزجی شرح" کہا جاتا ہے۔ شرح مزجی واژہ یاب دہخدا۔
  25. حوزہ نیٹ۔


مآخذ

  • آقا بزرگ طہرانی، الذريعۃ إلی تصانیف الشيعۃ۔
  • فہرست نسخ خطّى كتاب خانہ دانشكدہ الہيّات تہران۔
  • فہرست نسخ خطّى كتاب خانہ آيۃ اللّہ مرعشى۔ قم۔
  • فہرست نسخ خطّى كتاب خانہ مسجد اعظم قم۔
  • کفعمی، ابراہیم بن علی عاملی، البلد الامین و الدرع الحصین، بیروت، موسسہ الاعلمی للمطبوعات، 1418ھ۔
  • کفعمی، ابراہیم بن علی عاملی، المصباح فی الادعیہ و الصلوات و الزایارات، قم، دار الراضی، 1405ع‍۔
  • ابن طاؤس، علی بن طاؤس، جمال الاسبوع بکمال المشروع، بیروت، دار الرضی، 1330ع‍۔
  • طوسی، محمد بن حسن، مصباح المتہجد و سلاح المتعبد، موسسہ فقہ شیعہ، بیروت، 1411ھ۔
  • مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، دار احیاء تراث عربی، بیروت، 1403ھ۔
  • مجلسی، محمد باقر، زاد المعاد، بیروت، چاپ علاء الدین اعلمی، 1423ھ‍
  • صدر سید جوادی، احمد، دائرۃ المعارف تشیع، تہران، نشر شہید سعید محبی، 1380ش۔
  • قمی، عباس، مفاتیح الجنان، تہران، مرکز نشر فرہنگی رجاء، 1369ش۔