دعائے فرج

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
دعائے فرج
کوائف
دیگر اسامی: دعائے الہی عظم البلاء
موضوع: شیعہ ائمہ معصومینؑ سے استغاثہ
مأثور/غیرمأثور: مأثور
صادرہ از: امام زمانہؑ
راوی: محمد بن احمد بن ابی‌ لیث
شیعہ منابع: کنوز النجاح (طبرسی) • جمال الاسبوعوسائل الشیعہ
مخصوص وقت: تعقیبات نماز امام زمان • ہر وقت
مکان: اعمال سرداب غیبت
مشہور دعائیں اور زیارات
دعائے توسلدعائے کمیلدعائے ندبہدعائے سماتدعائے فرجدعائے عہددعائے ابوحمزہ ثمالیزیارت عاشورازیارت جامعہ کبیرہزیارت وارثزیارت امین‌اللہزیارت اربعین
دعا و مناجات
مسجد جامع خرمشهر.jpg

دعائے فَرَج، وہ دعا ہے جس کا آغاز إلهي عَظُمَ البَلاءُ سے ہوتا ہے۔ یہ دعا پہلی بار شیخ طبرسی کی کتاب "کنوز النجاح" میں ذکر ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ وسائل الشیعہ (شیخ حر عاملی) اور جمال الاسبوع (سید بن طاووس) جیسی کتابوں میں بھی اس کا تذکرہ آیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس دعا کو امام زمانہؑ نے خواب کی حالت میں محمد بن احمد بن ابی لیث کو تعلیم دی جبکہ وہ قتل ہونے کے خوف سے کاظمین میں پناہ لئے ہوئے تھے اور اس دعا کے پڑھنے کی وجہ سے انہوں نے موت سے نجات پائی

دعائے فرج نماز امام زمانہ کے تعقیبات اور سرداب غیبت کے اعمال میں سے ہے۔ یہ دعا مفاتیح الجنان میں دعاوں کے باب میں مذکور ہے۔

شیعیان اہل بیتؑ کے نزدیک دعائے "أللهمَّ كُن لِولیكَ الحجة بنِ الحَسن" ـ جو امام زمانہؑ کی سلامتی کی دعا ہے ـ بھی دعائے فَرَج کے نام سے مشہور ہے۔

دعا کی سند

دعائے فرج پہلی بار شیخ طبرسی(متوفی 548ھ) کی کتاب "کُنوز النجاح" میں نقل ہوئی ہے،[1] البتہ اس کتاب میں اس دعا کا صرف ابتدائی حصہ "أَوْ هُوَ أَقْرَبُ" تک ذکر ہوا ہے۔[2] اس کے علاوہ دوسری کتابیں جن میں اس دعا کو نقل کیا گیا ہے ان میں ابن مشہدی(متوفی 610ھ) کی کتاب المزار الکبیر[3]، سید بن طاووس(متوفی 664ھ) کی کتاب جمال الاسبوع[4]، شہید اول (متوفی 786ھ) کی کتاب المزار[5]، کفعمی (متوفی 905ھ) کی کتاب مصباح[6] اور شیخ حر عاملی(متوفی 1104ھ) کی کتاب وسائل الشیعہ[7] شامل ہیں۔

شیخ عباس قمی نے یہ دعا مفاتیح الجنان میں رمضان المبارک کی تئیسویں کی رات کے اعمال کے ضمن میں اپنی ہی کتاب ہدیۃ الزّائرین و بہجۃ النّاظرین المعروف بہ (ہدیۃ الزائر) سے نقل کی ہے۔

شأن صدور

فضل بن حسن طبرسی المعروف بہ امین الاسلام نے اپنی کتاب کنوز النجاح میں کہا ہے کہ "دعائے فَرَج" ایسی دعا ہے جو امام مہدیؑ نے ابوالحسن محمد بن احمد بن ابی لیث کو شہر بغداد میں ـ جہاں وہ مارے جانے کے خوف سے مقبرہ قریش (کاظمین) میں پناہ گزین ہوئے تھے ـ تعلیم فرمائی اور اور انھوں نے یہ دعا پڑھ کر قتل ہونے کے خطرے سے نجات پائی۔[8]

مضامین

دعائے فرج تین حصوں پر مشتمل ہے:

  • پہلا حصہ اس عظیم مصیبت اور آزمائش کے بارے میں ہے جس میں لوگ امام زمانہ کی غیبت کے دوریان گرفتار ہیں۔
  • دوسرے حصہ میں محمد و آل محمد پر درود و سلام کے بعد اس بات کی تاکید کی گئی ہے کہ مؤمنین پر ضروری ہے کہ وہ اہل بیت کے عظیم ولایتی مقام کی بنا پر ان کی فرمانبرداری کریں۔
  • اس دعا کے تیسرے حصے میں خدا سے محمد و آل محمد کے ان حقوق کا واسطہ دے کر درخواست کرتے ہیں جو ہماری گردنوں پر ہیں، ہمارے امور کی کفایت فرمائے اور ہماری مدد کریں۔

قرأت کا مخصوص وقت

شیخ حر عاملی نے دعائے فرج کو نماز امام زمانہ کی تعقیبات میں قرار دیا ہے۔[9] کتاب المزار الکبیر میں سرداب امام زمانہ کے آداب میں ایک زیارت نقل ہوئی ہے جس کے بعد دو رکعت نماز زیارت اور اس کے بعد یہ دعا نقل ہوئی ہے۔[10] کتاب مفاتیح الجنان میں بھی اس دعا کو دعاؤوں کے باب میں سرداب مقدس کے اعمال کے ضمن میں مختخصر اور مفید دعاؤوں کے طور پر ذکر کیا ہے۔[11] اسی طرح آیت‌ اللہ بہجت سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا آخری زمانے میں ہلاکت سے نجات کے لئے بہترین راستہ دعائے فرج ہے خاص کر دعائے "عظم البلاء"۔[12]

اس نام کی دوسری دعائیں

لفظ "فَرَج"، کے معنی لغت میں "غم و اندوہ اور پریشانیوں سے نجات اور فراخی و کشادگی" کے ہیں۔[13] حدیث کی کتب میں "فَرَج" کے حصول کے لئے بعض دعائیں اور اعمال کا تذکرہ آیا ہے جن کا سبب اس لفظ کے لغوی معنی ہی ہیں۔ علامہ مجلسی نے اپنی کتاب بحار الانوار کی جلد 95 کے "باب ادعیۃ الفَرَج" میں 39 دعائیں نقل کی ہیں۔

شیعیان اہل بیتؑ کے نزدیک "أللهمَّ كُن لِولیكَ الحجة بنِ الحَسن۔۔۔ ـ جو امام زمانہؑ کی سلامتی کی دعا ہے ـ بھی دعائے فَرَج کے نام سے مشہور ہے۔

دعا کا متن اور ترجمہ

دعائے فرج
متن ترجمہ
إِلَهِی عَظُمَ الْبَلاءُ وَ بَرِحَ الْخَفَاءُ وَ انْکشَفَ الْغِطَاءُ

وَ انْقَطَعَ الرَّجَاءُ وَ ضَاقَتِ الْأَرْضُ وَ مُنِعَتِ السَّمَاءُ

وَ أَنْتَ الْمُسْتَعَانُ وَ إِلَیک الْمُشْتَکی وَ عَلَیک الْمُعَوَّلُ فِی الشِّدَّةِ وَ الرَّخَاءِ

اَللَّــهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ أُولِی الْأَمْرِ الَّذِینَ فَرَضْتَ عَلَینَا طَاعَتَهُمْ وَ عَرَّفْتَنَا بِذَلِک مَنْزِلَتَهُمْ

فَفَرِّجْ عَنَّا بِحَقِّهِمْ فَرَجا عَاجِلا قَرِیبا کلَمْحِ الْبَصَرِ أَوْ هُوَ أَقْرَبُ

یا مُحَمَّدُ یا عَلِی یا عَلِی یا مُحَمَّدُ

اِکفِیانِی فَإِنَّکمَا کافِیانِ وَ انْصُرَانِی فَإِنَّکمَا نَاصِرَانِ

یا مَوْلانَا یا صَاحِبَ الزَّمَانِ

اَلْغَوْثَ الْغَوْثَ الْغَوْثَ

أَدْرِکنِی أَدْرِکنِی أَدْرِکنِی

السَّاعَةَ السَّاعَةَ السَّاعَةَ

الْعَجَلَ الْعَجَلَ الْعَجَلَ

یا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ الطَّاهِرِینَ


اے میرے معبود! آزمائش عظیم ہوچکی، اور خفیہ دکھ ظاہر ہوچکے، اور پردے ہٹ چکے،

اور امید ٹوٹ چکی، اور زمین تنگ ہوچکی، اور آسمان سے رحمت کی بارش روک لی گئی،

اور تجھ ہی سے مدد مانگی جا سکتی ہے اور شکایت تجھ سے ہی ہوسکتی ہے، اور بھروسا ـ خواہ دشواریوں میں خواہ آسانیوں میں ـ تجھ ہی پر کیا جا سکتا ہے؛

اے معبود! درورد بھیج دے محمد و آل محمد پر، وہ صاحبان امر اور فرمانروا، جن کی پیروی تو نے ہم پر فرض کردی اور اس واسطے سے تو نے ہمیں ان کی منزلت کی معرفت کرائی،

پس ان کے واسطے ہمیں آسودگی اور فراخی عطا کر، بہت جلد، بہت قریب، آنکھیں جھپکنے کی مانند یا اس سے بھی زیادہ قریب،

اے محمد(ص)، اے علیؑ، اے علیؑ اے محمد(ص)،

میری کفایت فرمائیں کیونکہ آپ ہی کفایت کرنے والے ہیں، آپ ہی میری مدد فرمائیں کیونکہ آپ ہی ہیں مدد کرنے والے،

اے ہمارے آقا، اے صاحب زمان!

میری فریاد ہے آپ سے، فریاد ہے آپ سے، فریاد ہے آپ سے،

میری مدد کریں، میری مدد کریں، میری مدد کریں،

اسی وقت، اسی وقت، اسی وقت،

جلدی، جلدی، جلدی،

اے مہربانوں کے مہربان ترین، بواسطۂ محمدؐ اور آپ کی آل پاک کے

حوالہ جات

  1. بنویدی، «کاوشی در دعای فرج (الہی عظم البلاء)»، ص۹۶۔
  2. ساجدی و علیانسب، «سازگاری محتوای دعای فرج (عظم البلاء) با مبانی توحیدی»، ص۳۷۔
  3. ابن مشہدی، المزار الکبیر، ۱۴۱۹ق، ص۵۹۰۔
  4. سید بن طاووس، جمال الاسبوع، دار الرضی، ص۲۸۰- ۲۸۱۔
  5. شہید اول، المزار، انتشارات مدرسہ امام مہدی، ج۱، ص۲۱۰۔
  6. کفعمی، مصباح کفعمی، ۱۴۰۳ق، ص۱۷۶۔
  7. حر عاملی، وسائل الشیعہ، ۱۴۰۹ق، ج۸، ص۱۸۵۔
  8. الیزدی الحائری، إلزام الناصب، ج‌2، ص43۔
  9. حر عاملی، وسائل الشیعہ، ۱۴۰۹ق، ج۸، ص۱۸۵۔
  10. ابن مشہدی، المزار الکبیر، ۱۴۱۹ق، ص۵۹۰۔
  11. رک: مفاتیح الجنان، باب اول (ادعیه)، ص۱۹۲۔ باب زیارات، زیارت صاحب الامر، ص۸۷۸۔
  12. «دعای فرج، دوای ہمہ دردہا: گفتارہایی از آیت‌اللہ العظمی بہجت»، مجلہ موعود۔
  13. ابن منظور، لسان العرب، ج2، ص343 ذیل لفظ اَلفَرَج۔


مآخذ

  • ابن منظور، محمد بن مکرم، لسان العرب، نشر دار صادر، بیروت، چاپ سوم، 1414ھ ق
  • ابن مشهدی، المزار الکبیر، قم، نشر القیوم، 1419ھ ق
  • کفعمی، مصباح، بیروت، اعلمی، 1403ھ ق
  • مجلسی، بحار الانوار، بیروت، الوفا، 1404ھ ق
  • سید ابن طاووس، رضی الدین علی، جمال الأسبوع بکمال العمل المشروع، دار الرضی، قم، چاپ اول، بی‌تا.
  • الیزدی الحائری، علی، الزام الناصب فی إثبات الحجة الغائب(عجّ) موسسة الاعلمی، طبع اول، بیروت ۔ لبنان، 1422ھ ق