حرم کاظمین

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
حرم کاظمین
حرم کاظمین علیهما السلام.jpg
ابتدائی معلومات
تأسیس: سلسلہ آل بویہ سے پہلے
استعمال: زیارتگاہ
محل وقوع: عراق- کاظمین
دیگر اسامی: مشہد الکاظمی -کاظمیہ
مشخصات
رقبہ: 26 ہزار مربع میٹر
معماری
طرز تعمیر: اسلامی
ویب سائٹ http://www.aljawadain.org


حرم کاظِمَیْن شیعوں کے ساتویں امام، امام موسی کاظمؑ اور آپ کے پوتے یعنی شیعوں کے نویں امام، امام محمد تقیؑ کے روضات مقدسہ کو کہا جاتا ہے۔ حرم کاظمین شہر کاظمین کے جنوب میں عراق کے دار الحکومت بغداد کے نزدیک واقع ہے۔ حرم کاظمین مسلمانوں خاص کر شیعوں کے زیارتی مقامات میں سے ہے جس کی وجہ سے ان کے یہاں نہایت تقدس کا حامل ہے۔

حرم کاظمین تقریبا 26 ہزار مربع میٹر رقبے پر پھیلا ہوا ہے جس کے مختلف حصے ہیں جن میں صحن، روضہ مقدسہ، گلدستہ، ضریح، رواق اور گنبد شامل ہیں۔ حرم کے مختلف حصے آینہ کاری، کاشی‌ کاری، طلا کاری، منبت‌ کاری اور خطاطی جیسے فنون سے مزین ہیں۔

امامین کاظمین کے روضہ اقدس پر پہلی مرتبہ گنبد کی تعمیر سلسلہ آل بویہ سے پہلے انجام پائی ہے۔ آل بویہ، سلجوقیان، آل جلایر، صفویہ اور قاجاریہ کے حکمرانوں نے حرم کاظمین کی تعمیر اور مرمت کی ہیں۔

صفویہ کے دور حکومت میں شاہ اسماعیل صفوی کے حکم سے حرم کی پرانی عمارت گرائی گئی اور اس کی جگہ نئی عمارت تعمیر کی گئی جو گنبد، گلدستہ اور مسجد پر مشتمل تھی۔ قاجاریہ کے دور حکومت میں ناصر الدین شاہ کے چچا فرہاد میرزا نے بھی حرم کے تعمیری کاموں میں عمدہ خدمات انجام دیں جس میں حرم کے صحن بنائے گئے۔

دریائے دجلہ کے نزدیک ہونے کی وجہ سے اس دریا میں آنے والے طوفان کی زد میں آکر کئی مرتبہ حرم کاظمین کو نقصان پہنچا ہے۔ اسی طرح سنہ 443 ہجری قمری میں رونما ہونے والے شیعہ اور سنی فسادات نیز بغداد پر مغلوں کے حملے میں بھی حرم کی عمارت کو نقصان پہنچا۔

صفویہ کے دور حکومت سے پہلے حرم کاظمین کے انتظامات نقیبوں کے ہاتھوں میں ہوتا تھا۔ سید عبد الکریم بن احمد حلی حرم کاظمین کے مشہور نقیبوں میں سے تھے۔ صفویہ دور حکومت میں حرم کی انتظامات مشیخۃ الاسلام کے ذمہ لگا دی گئی۔ عبد الحمید کلیدار، شیخ عبد النبی کاظمی اور ان کا خاندان اس دور میں حرم کے متولیوں میں سے تھے۔ موجودہ دور میں جمال عبد الرسول الدباغ حرم کے متولی ہیں۔

شیخ مفید، ابن قولویہ، خواجہ نصیر الدین طوسی اور معز الدولہ دیلمی جیسی مشہور شخصیات حرم کاظمین میں مدفون ہیں۔ جعفر النقدی کی کتاب الامامین الکاظمین و روضتہا الشریفہ اور محمد حسین آل یاسین کی کتاب تاریخ حرم کاظمین، من جملہ ان کتابوں میں سے ہیں جو حرم کاظمین کے بارے میں لکھی گئی ہیں۔

وجہ تسمیہ اور محل وقوع

حرم کاظمین تاریخ کے آئینے میں

حرم کاظمین (تصویر قدیمی).jpg

183ھ دفن امام کاظم[1]
220ھ دفن امام جواد[2]
مأمون کا دور مأمون کے حکم سے پہلی تعمیر [3]
336ھ معزالدولہ کے حکم سے حرم کی مرمت[4]
369ھ عضدالدولہ کے حکم سے حرم کی توسیع [5]
441ھ بغداد کے حنبلیوں کے ک­ہنے پر اہل سنت کے ایک گروہ کا کاظمین پر حملے میں حرم کی تخریب[6]
450ھ ارسلان بساسیری کے حکم پر حرم کی مرمت اور دو گنبدوں کو ایک گنبد میں تبدیل کرنا[7]
490ھ حرم کی مرمت[8] اور مجدالملک کے حکم پر دیواروں کی کاشی‌کاری [9]
569ھ دریائے دجلہ میں آنے والے طوفان کی وجہ سے حرم کو پہنچنے والا نقصان [10]
575ھ الناصر لدین اللہ کے حکم پر صحن کے اطراف میں کمروں کی تعمیر[11]
608ھ ان کمروں کو دینی مدرسے میں تبدیل کرنا[12]
656ھ بغداد پر مغلوں کے حملے میں حرم کی غارت اور نقصان پہنچنا[13]
658ھ ہولاکو کے وزیر عطاملک جوینی کے حکم پر حرم کی تعمیر نو[14]
776ھ دریائے دجلہ میں آنے والے طوفان کی وجہ سے حرم کو پہنچنے والا نقصان اور اویس جلایری کے حکم پر حرم کی تعمیر نو[15]
926ھ شاہ اسماعیل صفوی کے حکم پر حرم کے شمالی حصے میں دو گنبدوں پر مشتمل عمارت اور مسجد کی تعمیر[16]
1045ھ شاہ صفی کے حکم پر چاروں میناروں کی بنیادوں کو مضبوط کرنا[17]
قاجاریہ کا دور آقامحمدخان قاجار کے حکم پر گنبد کی طلاکاری اور حرم میں فرش بچھانا[18]
1221ھ فتح علی‌ شاہ قاجار کے حکم پر رواقوں کے داخلی حصوں کی آئینہ کاری اور میناروں کے بالائی حصے پر طلاکاری [19]
1255ھ معتمدالدولہ قاجار کے حکم پر مشرقی، مغربی اور جنوبی حصے میں موجود رواقوں کے بالکنی کی طلاکاری[20]
1282ھ امیر کبیر کے وکیل شیخ العراقیین کے حکم پر بالکنی کی طلاکاری، حرم کی آئینہ کاری اور صحن کی کاشی کاری[21]

حرم کاظمَین شیعوں کے ساتویں اور نویں امام، امام کاظمؑ اور امام محمد تقیؑ کا محل دفن ہے۔ حرم کاظمین شونیزیہ نامی علاقے میں واقع ہے۔[22] شونیزیہ بغداد کے شمال مغرب میں[23] محلہ کَرْخ کے نزدیک ایک زرخیز علاقہ تھا۔[24] منصور دوانیقی نے سنہ 149ھ میں اس علاقہ کو خاندانی مقبرے کے عنوان سے انتخاب کیا اور اسے مقابر قریش کا نام دیا۔[25] منصور کا بیٹا جعفر اکبر پہلا شخص تھا جو سنہ 150ھ میں اس قبرستان میں دفن ہوا۔[26]

اس علاقے کو امام کاظمؑ سے منسوب ہونے کی وجہ سے مشہد الامام موسی بن جعفرؑ، المشہد الکاظمی اور کاظمیہ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔[27] سنہ 220 ھ میں شیعوں کے نویں امام، امام محمد تقیؑ بھی اپنے جد امجد امام موسی کاظمؑ کے جوار میں دفن کئے گئے۔[28] اس بنا پر یہ منطقہ کاظِمَین (دو کاظم) کے نام سے مشہور ہوا۔[29]

حرم کاظمین کو جوادَین (دو جواد) کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔[30] اسی طرح باب التَبْن کے قریب ہونے کی وجہ سے "مشہد باب التَبْن" بھی کہا جاتا ہے۔[31] تبن بغداد کے قصبوں میں سے تھا جہاں پر احمد بن حنبل کی قبر موجود ہے۔[32]

تاریخچہ

امام موسی کاظمؑ کے مرقد مبارک پر بننے والی پہلی عمارت ایک کمرے پر مشتمل تھی جس کے اوپر گنبد موجود تھا۔[33] معاصر مورخ رسول جعفریان اس عمارت کی تعمیر کو مأمون عباسی کی طرف نسبت دیتے ہیں۔[34]

آل‌ بویہ کے دور میں تعمیر نو

آل بویہ کے دور میں حرم کاظمَین کی تعمیر نو اور اس کی عمارتوں میں اضافہ کیا گیا۔ سنہ336ھ میں معزالدولہ دیلمی کے حکم پر پرانی عمارت کو خراب کر کے دونوں اماموں کے قبور پر مقبرے، گنبد، ساگوان کی لکڑی سے ضریح اور حرم کے اردگرد دیوار کھڑی کی گئی۔ اس کے علاوہ انہوں نے امن و امان برقرار رکھنے کیلئے پہرہ دار بھی مستقر کئے۔[35] معزالدولہ کے بعد ان کے بیٹے عزالدولہ دیلمی (367-356ھ) نے بھی حرم کی تعمیر و توسیع کے کاموں کو جاری رکھا اور زائرین کی آرام و آسائیش کیلئے مختلف کمرے بھی بنائے گئے۔[36]

خطیب بغدادی کے مطابق عضدالدولہ نے سنہ 369ھ کو شہر کاظمین کے اردگرد دیوار کھڑی کروائی اور کاظمین اور بغداد کے درمیان میں ایک ہسپتال بھی تعمیر کروایا جو کاظمین میں آنے والے زائرین کیلئے طبی سہولیات فراہم کرتا تھا۔[37]

حنابلہ بغداد کے ہاتھوں حرم کی تخریب

حرم کاظمین کو شیعہ سنی فسادات میں نقصان پہنچا۔ سنہ 443ھ میں اہل سنت کا ایک گروہ نے بغداد کے حنابلیوں کے کہنے پر کاظمین پر حملہ کیا، حرم کے اموال کو غارت اور ضریح اور گنبد کو آگ لگا دی۔[38] ساتویں صدی ہجری کے اہل سنت کے مشہور تاریخ دان ابن اثیر کے مطابق یہ لوگ امام موسی کاظمؑ اور امام محمد تقیؑ کی نبش قبر کرکے ان معصوم ہستیوں کے پیکر مبارک کو مقبرہ احمد بن حنبل منتقل کرنا چاہتے لیکن حرم کو مسمار کرنے کی وجہ سے ان دو معصوم ہستیوں کے قبور کو نہ پہنچان سکے۔[39] سنہ 450ھ میں ارسلان بساسیری نے حرم کی دوبارہ تعمیر کرتے ہوئے اماموں کے قبور پر نئے سرے سے مقبرے اور دو کنبد کی بجائے ایک گنبد بنوایا۔[40]

سلجوقیوں کے درو میں تعمیر نو

سنہ 490ھ میں برکیارق سلجوقی (487-498ھ) کے وزیر مَجْدالملک ابوالفضل براوستانی نے حرم کاظمین کی مرمت اور تعمیر کی۔[41] مجدالملک نے ایک مسجد دو مینار اور زائرین کی آسائش کے لئے نئے کمرے تعمیر کروائے اور کاشی کاری کے ذریعے حرم کی دیواروں کی تزئین کروائی۔[42]

دریائے دجلہ میں آنے والے طوفان کے نقصانات

حرم کاظمین کو سنہ 569ھ میں دریائے دجلہ میں آنے والے طوفان کی وجہ سے نقصان پہنچا۔[43] سنہ 575ھ میں عباسی خلیفہ الناصر لدین اللہ عباسی (622-575ھ) نے حرم کاظمین میں بعض تعمیراتی کام انجام دئے جس میں صحن کے اطراف میں نئے کمرے تعمیر کروائے۔[44] ان کے ان اقدامات کو بنی‌عباس کے دور میں حرم میں انجام پانے والی آخری اور سب سے عمدہ اقدامات شمار کئے جاتے ہیں۔[45]

سنہ 654ھ میں کاظمین میں رونما ہونے والے مذہبی فسادات میں حرم کے اموال بھی غارت کئے گئے۔[46] یہ فسادات اس وقت رونما ہوئے جب کرخ کے رہنے والے کسی شخص کے ہاتھوں ایک شخص مارا گیا جس کے بعد بغداد کے سنی نشین علاقوں سے لوگ بنی عباس کے سپاہیوں کے ساتھ شامل ہو گئے اور ا­نہوں نے کرخ پر حملہ کر دیا۔[47] البتہ ابن فوطی کے مطابق یہ فسادات سنہ 653ھ میں واقع ہوئے ہیں۔[48]

بغداد پر مغولوں کے حملے کے دور میں

مغولوں نے سنہ 656ھ کو بغداد پر حملہ اور اس پر قبضہ کیا۔ اس واقعہ میں بغداد میں موجود بہت ساری عمارتوں کو نقصان پہنچا اور حرم کاظمین کو اس حملے میں آگ لگ گئی۔[49] البتہ جیسے ہی امیر قراتای بغداد پہنچے تو اس نے عمادالدین عمر بن محمد قزوینی کو اپنا قائم مقام منتخب کیا۔ عمادالدین نے مسجد خلیفہ اور حرم کی تعمیر کا حکم دیا۔[50] کتاب جہانگشای جوینی کے مصنف عطاملک جوینی جو سنہ 657 سے 681ھ تک بغداد کا حاکم رہ چکا ہے کہتے ہیں: انہوں نے حرم کو پہنچنے والے نقصانات کا تدارک کیا اور اسے پہلی حالت میں لوٹا دیا۔[51] آٹھویں صدی ہجری کے مشہور سیاح ابن‌ بطوطہ نے سنہ 727ھ میں بغداد کے سفرنامے میں لکھا ہے کہ امام کاظمؑ اور امام محمد تقیؑ کے قبور پر لکڑی کی ضریح بنی ہوئی تھی جس پر چاندی کی پالش کی ہوئی تھی۔[52]

آل جلایر کے دور میں

آل جلایر کے دور حکومت میں بغداد اور کاظمین دریائے دجلہ میں آنے والے طوفان کی زد میں آگئے جس کی وجہ سے حرم کاظمین کو بھی نقصان پہنچان۔[53] سلطان اویس جلایری (777-757ھ) نے حرم کی مرمت کروائی۔ ان کے حکم سے دونوں اماموں کے قبور پر بکسے نصب کئے گئے۔[54] اسی طرح انہون نے دو گنبد اور دو مینار بنوایا اور قرآنی آیات سے مزین کاشی کاری کے ذریعے حرم کی تزئین کروائی۔[55] سنہ 776ھ کو دریائے دجلہ کے طوفان کی وجہ سے حرم کو پھر نقصان پہنچا جس کے بعد سلطان اویس نے اپنے وزیر کی کوششوں سے حرم کی دوبارہ تعمیر اور مرمت کروائی اور زائرین کی سہولیت کیلئے مسافر خانے بنوائے۔[56]

صفویہ کے دور میں

صفویہ کے دور حکومت میں بھی حرم کاظمین کی تعمیر اور مرمت کا کام ہوا۔ شاہ اسماعیل سنہ 926ھ حرم کے تمام قدیمی عمارتوں کی تخریب اور نئی عمارت بنانے کا حکم دیا جو رواق، صحن، شمالی حصے میں ایک مسجد، دو گنبد اور دو مینار پر مشتمل تھی۔[57] شاہ اسماعیل نے دونوں اماموں کے قبور پر چاندی کے دو بکسے بنوائے۔[58] سنہ 926ھ کی تاریخ پر مشتمل کتیبہ جات حرم کی دیواروں پر نصب کروائے جس میں شاہ اسماعیل کی طرف سے انجام دئے جانے والے اقدامت کا ذکر کیا گیا تھا۔[59] شاہ اسماعیل نے اپنی پوری دولت و ثروت چودہ معصومین کے نام وقف کیا جس کا ایک حصہ حرم کاظمین پہنچا۔[60] کہا جاتا ہے که چونکہ صفویہ اپنا نسب (سیادت) امام موسی کاظم ؑ سے جوڑتے ہیں اسی وجہ سے شاہ اسماعیل نے حرم کاظمین پر خصوصی توجه دی۔[61]

حرم کاظمین میں صفویہ دور حکومت میں باقی رہ جانے والے بعض نواقص کو عثمانی دور حکومت (974-926ھ) میں سلیمان‌ خان کے حکم پر مکمل کرویا گیا۔[62]من جملہ ان کاموں میں مینار کی تعمیر کا کام سنہ 978ھ میں مکمل ہوا جس کا آغاز صفویہ دور میں ہوا تھا۔[63]

شاہ‌ عباس اول نے سنہ 1032ھ میں دوبارہ بغداد پر قبضہ کیا۔ ان کے حکم سے دونوں قبور پر فولادی ضریح تعمیر کروائی۔[64]لیکن ایران اور عثمانی حکومت کے تعلقات خراب ہونے کی وجہ سے ضریح کو نصب کرنے کا کام سنہ 1115ھ تک مؤخر ہوا۔[65] شاہ صفی نے بھی سنہ 1045ھ میں حرم کاظمین میں بعض تعمیراتی کام کروائے گلدستوں کی بنیادوں کا استحکام من جملہ ان کاموں میں سے تھا۔[66]

قاجاریہ کے دور میں

حرم کاظمین کی قدمی تصویر، سنہ 1970ء

قاجاریہ کے دور حکومت میں آقا محمد خان قاجار (1193-1212ھ) کے حکم سے دو گنبد اور صحن بنائے گئے نیز حرم کے جنوبی حصے میں موجود رواق جو امام موسی کاظم ؑ کے قبر مطهر کے سرہانے تک جا پہنچتی تھی پر چھت لگائی گئی اور حرم کے فرش پر سنگ مرمر لگایا گیا۔[67]

سنہ 1221ھ میں فتح علی‌ شاہ قاجار (1250-1212ھ) نے رواقوں کی آینہ‌کاری اور کاشی‌ کاری نیز میناروں پر دوبارہ سونے سے تزئین کرایا گیا۔[68] سنہ 1282ھ، عبدالحسین تہرانی جو شیخ العراقین کے نام سے معروف تھے اور میرزاخان امیرکبیر کے وکیل تھے، نے امیر کبیر کی میراث کے تیسرے حصے سے حرم میں تعمیراتی کام انجام دئے جس میں رواقوں اور صحنوں کی مرمت، آینہ‌کاری اور کاشی‌کاری شامل ہے۔[69]

ناصر الدین‌ شاہ (1313-1264ھ) نے سنہ 1283ھ میں چاندی کی ضریح بنا کر صفویہ کے دور میں بنائی گئی ضریح کی جگہ نصب کروایا۔ اسی طرح ا­نہوں نے حرم کے مشرقی حصے کے رواقوں میں آینہ‌کاری اور طلاکاری کروائی۔[70] ناصرالدین‌ شاہ کے چچا فرہاد میرزا نے صحن کی تجدید بنا کروائی۔[71] انہوں نے حرم کے اطراف میں موجود گھروں کو خرید کر صحن میں اضافہ کیا۔ اسی طرح جنوبی حصے کے تین دروازوں کے داخلی بالکنی کے اوپر ایک گھڑے نیز مشرقی حصے کے تینوں دروازوں کے داخلی بالکنی کے اوپر ایک گھڑی نصب کروائی۔[72]

صدام کے دور حکومت میں حرم کاظمین میں کوئی تعمیراتی کام انجام نہیں پایا۔ لیکن صدام کے سقوط کے بعد حرم کی تعمیر و توسیع کے مختلف پراجیکٹ پر کام ہوا۔ دونوں گنبدوں کی طلاکاری کی مرمتِ، ضریح کی تعویض اور صحن صاحب الزمان اور صحن حضرت علیؑ من جملہ ان پراجیکٹ میں سے ہیں۔[73]

معماری

حرم کاظمین 14514 مربع میٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ حرم کی مختلف عمارتوں اور ان سے مربوط زمینوں کی کل مساحت تقریبا 26 ہزار مربع میٹر تک پہنچتی ہے۔[74]

ضریح

حرم کاظمین کی ضریح

امام موسی کاظمؑ اور امام محمد تقیؑ کی ضریح سنہ 1324ھ میں بانو سلطان بیگم کی طرف سے وقف شدہ ہے۔ جس کی لمبائی 676 سینٹی مٹر، چوڑائی 517 سی­نٹی میٹر اور اونچائی تقریبا ساڑے تین میٹر ہے۔[75] ضریح کی داخلی چھت لکڑی کی بنی ہوئی ہے جس میں خط ثلث اور خط نستعلیق کے مختلف نسخے موجود ہیں۔ یہ ضریح سنہ 1359ھ میں بنائی گئی ہے۔[76] موجودہ ضریح سے پہلے جو ضریح نصب کی گئی تھی وہ ناصر الدین‌ شاہ کے دور میں بنائی گئی تھی اور 109 سال یہ ضریح حرم میں نصب رہی۔[77]

رواق‌

رواقوں کی آینہ‌ کاری

حرم کاظمین میں چار رواق ہیں جن کے فرش پر سنگ مرمر لگا ہوا ہے۔[78] ان رواقوں کی دیواروں کے نچلے نصف حصہ کو سنگ مرمر جبکہ بالائی نصف حصے اور چھت کو آئینہ کاری کے ساتھ تزئین کیا گیا ہے۔[79] حرم کے رواق درج ذیل ہیں:

  1. مشرقی رواق: مشرق میں طارمہ "باب المراد" اور مغرب میں ضریح تک پھیلا ہوا ہے۔[80] شیخ مفید اور کتاب کامل الزیارات کے مصنف شیعہ متکلم اور محدث ابن قولِوَیہ اسی رواق میں مدفون ہیں۔[81]
  2. مغربی رواق: مشرق میں ضریح اور مغرب میں طارمہ قریش تک پھیلا ہوا ہے۔[82] یہاں خواجہ نصیر الدین طوسی کے مدفون ہونے کی وجہ سے رواق خواجہ نصیر کے نام سے مشہور ہے۔[83]
  3. جنوبی رواق: شمال میں ضریح اور جنوب میں باب القبلہ تک پھیلا ہوا ہے۔
  4. شمالی رواق: شمال میں مسجد جامع صفوی اور جنوب میں ضریح تک پھیلا ہوا ہے۔[84]

دروازے

حرم کاظمین کے رواقوں میں سے چھ دروازے روضہ اقدس کی طرف جبکہ آٹھ دروازے باہر کی جانب صحن میں کھلتے ہیں۔[85] ابتداء میں جب فرہاد میرزا کے حکم سے حرم کے رواقوں کی تعمیر ہوئی تو ان میں سات دروازے تھے لیکن کچھ مدت کے بعد بہشت کے آٹھ دروازوں کی مناسبت سے ایک دروازے کا اضافہ کیا گیا۔[86] حرم کے دروازے سونے اور چاندی سے بنے ہوئے ہیں اور ان پر خط نستعلیق سے قرآن کی آیات، عربی اور فارسی زبان میں اشعار اور ان دروازوں کے بنانے کی تاریخ کنده کی گئیں ہیں۔[87]

بالکنی

حرم کاظمین کی ایک بالکنی

حرم کے رواقوں کے اطراف میں تین بالکنی ہیں۔ بالکنی چھت دار اور مستطیل شکل میں بنی ہوئی ہیں اور ان تک رسائی کیلئے صحن میں لوہے کی سیڑیاں لگی ہوئی ہیں۔[88] باب المراد کی بالکنی سنہ 1281ھ میں اور قبلہ کی جانب موجود بالکنی سنہ 1285ھ میں بنائی گئی ہیں۔[89] بالکنی قریش کی تعمیر نیز سنہ 1321ھ میں آغاز اور سنہ 1332ھ میں اختتام کو پہنچا۔[90]

صحن اور ان میں داخل ہونے والے دروازے

حرم کاظمین کی صحن میں امام کاظمؑ کی شہادت کے مراسم

باب المراد کی دیوار پر نصب تحریر کے مطابق فرہاد میرزا نے سنہ 1298ھ میں حرم کاظمین کے صحن کی تعمیر کا حکم دیا۔ صحن کے اطراف میں کمرے بنائے گئے اور ہر کمرے کے سامنے بالکنی بھی تعمیر کرائی گئی۔[91] قاجاریہ دور حکومت میں صحن کاظمین میں داخل ہونے کے تین راستے تھے جن کے دروازوں کی کاشی‌ کاری کے ذریعے تزئین کی گئی تھی۔[92] بعد میں ان دروازوں کی تعداد 10 ہو گئیں[93] جن کی تفصیل یوں ہے:

  • باب المراد: صحن کی مشرقی دیوار میں واقع ہے۔
  • باب القبلہ: صحن کی جنوبی دیوار میں واقع ہے۔
  • باب الفرہادیہ: صحن کے شمال مشرقی کونے میں واقع ہے۔
  • باب الرجاء: صحن کی مشرقی دیوار میں واقع ہے۔ یہ دروازہ ابتداء میں نہیں تھا اور سنہ 1376ھ میں کھولا گیا ہے۔
  • باب الرحمہ: صحن کی مغربی دیوار میں واقع ہے جسے سنہ 1375ھ میں بنایا گیا ہے۔
  • باب المغفرہ: صحن کی جنوبی دیوار میں واقع ہے جسے س­نہ 1360ھ میں بنایا گیا ہے۔
  • باب صافی: صحن کے جنوب مغربی کونے میں واقع ہے۔
  • باب صاحب الزمان: صحن کی مغربی دیوار میں واقع ہے۔
  • باب الجواہریہ: صحن کی شمالی دیوار میں واقع ہے۔
  • باب القریش: صحن کی شمالی دیوار میں واقع ہے۔[94]

ان دروازوں کے اوپر قرآن کی آیات، عربی اور فارسی اشعار اور ان کے بنانے کی تاریخ کاتب کے نام کے ساتھ درج ہیں۔[95]

تولیت اور متولی

کاظمین جو پہلے بغداد کا ایک محلہ شمار ہوتا تھا پانچویں صدی ہجری میں مستقل اور علیحدہ شہر کی حیثیت اختیار کر گیا اور اس کے لئے جداگانہ نقیب معین کئے گئے۔ ان نقیبوں کے وظائف میں سے ایک حرم کے امور کی نگرانی بھی تھی۔ اس سے پہلے حرم کی نگرانی قیموں کے ذریعے ہوتی تھی۔[96]تاریخ حرم کاظمین نامی کتاب میں کاظمین کے 27 قیم یا نقیب کا ذکر ملتا ہے جن میں سید عبدالکریم بن احمد حلی (648-693 ھ) کا نام بھی شامل ہے جو آل طاووس کے علماء میں سے تھے۔ ابن جعفر القیم، ابوطالب علوی، علی بن علی (وفات تقریبا 569 ھ) جو فاخر علوی کے نام سے معروف تھے اور نجم‌ الدین علی بن موسوی وغیرہ جو ساتویں صدی ہجری کے علماء میں سے تھے، کاظمین کے نقیب رہ چکے ہیں۔[97]

صفوی دور حکومت میں حرم کاظمین کے انتظامات مَشیخۃ الاسلام کے ذمہ لگا دیئے گئے۔ دور میں مشیخہ ترکی جس کا مرکز استانبول میں واقع تھا، کے مقابلے میں مشیخۃ الاسلام نامی ایک ادارہ تاسیس کیا گیا جس کا کاظمین میں واقع تھا حرم کاظمین کے انتظامات اسی ادارے کے ذمے تھے۔[98] جب عراق میں عثمانیوں کی حکومت آئی تو حرم کاظمین کی تولیت ربیعہ نامی شخص کے سپرد کی گئی جو اس سے پہلے کعبہ کے متولی تھے۔[99] اس کی بعد حرم کاظمین کے متولیوں کے بارے میں کوئی دقیق معلومات میسر نہیں؛ صرف عبد الحمید کلیددار (1282-1336ھ) اور ان کے والد شیخ طالب شیبی کا نام حرم کے متولی کے طور پر لیا گیا ہے؛[100] یہاں تک کہ عبد النبی کاظمی (1198-1265ھ) جنہوں نے کتاب نقد الرجال تفرشی پر ایک تکملہ بھی لکھا ہے، نے حرم کی تولیت سنبھالی۔ عبدالنبی کے بعد ان کے بیٹوں اور پوتوں نے اس منصب کو سنبھالے ہیں۔[101]

اس وقت جمال عبد الرسول الدباغ حرم کاظمین کے متولی ہیں۔[102]

حرم میں مدفون افراد

حرم کاظمین کا نقشہ جس میں شیخ مفید، ابن قولویہ اور خواجہ نصیرالدین طوسی کے قبور کے نشانات بھی دکھائی دیتے ہیں

حرم کاظمین میں بہت سارے افراد مدفون ہیں جن میں علمی اور سیاسی شخصیات بھی موجود ہیں۔[103] تاریخ حرم کاظمین نامی کتبا میں 30 سے زیادہ افراد کا نام لیا گیا ہے جو بنی‌ عباس کے دور میں حرم کاظمین میں دفن ہوئے ہیں۔ من جملہ ان میں بنی عباس کے چھٹے خلیلفہ ابوعبداللہ محمد امین، زبیدہ زوجہ ہارون رشید اور شیعہ محدث ابن قولویہ (متوفی 368ھ) شامل ہیں۔[104]

عباسی دور حکومت کے بعد حرم میں دفن ہونے والوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوا۔[105] حرم کاظمین میں مدفون بعض افراد کا نام درج ذیل ہیں:

مونو گرافی

حرم کاظمین کے بارے میں مستقل کتابیں بھی لکھی گئی ہیں۔ من جملہ ان میں محمد حسین آل یاسین (متوفی 1372ھ) کی کتاب تاریخ حرم کاظمین ہے۔ مصنف نے اس کتاب میں آل بویہ، سلجوقیان، مغل، صفوی، عثمانی اور قاجاری سے مربوط حرم کی تاریخ لکھی ہیں۔[113] اسی طرح ایک حصے میں حرم کی صورتحال بھی تحریر کی ہیں۔[114] کتاب کے ضمیمے میں فرزندان امام کاظم، حرم کے نقباء اور متولی نیز حرم میں مدفون افراد اور حرم کے میوزیم کے بارے میں بھی معلومات درج ہیں۔[115] غلام رضا اکبری نے اس کتاب کا فارسی میں ترجمہ کیا ہے۔

جعفر النقدی(متوفی 1370ھ) تاریخ امامین الکاظمین و روضتہا الشریفہ[116] اور مصطفی جواد کی کتاب مشہد الکاظمین حرم کاظمین کے بارے میں لکھی گئی دیگر کتابیں ہیں۔[117]

حوالہ جات

  1. شیخ مفید، الارشاد، 1413ھ، ج2، ص243۔
  2. مفید، الارشاد، 1413ھ، ج2، ص295۔
  3. جعفریان، اطلس شیعہ، 1391ش، ص92۔
  4. آل یاسین، تاریخ حرم کاظمین، 1371ش، ص27۔
  5. خطیب بغدادی، تاریخ بغداد، ج1، ص105-106، بہ نقل از ایزدی، «تاریخچہ حرم کاظمین»، ص548۔
  6. ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، 1385ھ، ج9، ص577۔
  7. آل یاسین، تاریخ حرم کاظمین، 1371ش، ص33و47۔
  8. قزوینی رازی، نقض، 1358ش، ص220؛ شوشتری، مجالس المؤمنین، 1377ش، ج2، ص459-460۔
  9. آل یاسین، تاریخ حرم کاظمین، 1371ش، ص47۔
  10. جعفریان، اطلس شیعہ، 1391ش، ص92۔
  11. ایزدی، «تاریخچہ حرم کاظمین»، ص549۔
  12. علوی، راہنمای مصور سفر زیارتی عراق، 1389ش، ص340۔
  13. جامع التواریخ، ج2، ص293 بہ نقل از آل یاسین، تاریخ حرم کاظمین، 1371ش، ص56۔
  14. شیرازی، تاریخ وصاف، 1346ش، ص181182 و213و221 بہ نقل از ایزدی، «تاریخچہ حرم کاظمین»، ص551۔
  15. نقدی، تاریخ الامامین الکاظمین و روضتہا الشریفہ، 1369ھ، ص24-26 بہ نقل از ایزدی، «تاریخچہ حرم کاظمین»، ص551۔
  16. آل یاسین، تاریخ حرم کاظمین، 1371ش، ص62۔
  17. آل یاسین، تاریخ حرم کاظمین، 1371ش، ص80۔
  18. ناصرالدین شاہ قاجار، شہریار جادہ‌ہا، انتشارات سازمان اسناد ملی ایران، ص96؛ نقدی، تاریخ الامامین الکاظمین، 1369ھ، ص75: بہ نقل از ایزدی، «تاریخچہ حرم کاظمین»، ص555۔
  19. ناصرالدین‌شاہ قاجار، شہریار جادہ‌ہا، انتشارات سازمان اسناد ملی ایران، ص96 بہ نقل از ایزدی، «تاریخچہ حرم کاظمین»، ص555۔
  20. علوی، راہنمای مصور سفر زیارتی عراھ، 1389ش، ص340۔
  21. ناصرالدین‌شاہ قاجار، شہریار جادہ‌ہا، انتشارات سازمان اسناد ملی ایران، ص96، 155 بہ نقل از «تاریخچہ حرم کاظمین»، ص555۔
  22. شیخ مفید، الارشاد، 1413ق، ج2، ص243۔
  23. جعفریان، اطلس شیعہ، 1391ش، ص92۔
  24. ایزدی، «تاریخچہ حرم کاظمین»، ص545۔
  25. حموی، معجم البلدان، 1995م، ج5، ص163۔
  26. حموی، معجم البلدان، 1995م، ج5، ص163۔
  27. آل یاسین، تاریخ حرم کاظمین، 1371ش، مقدمہ، ص15؛ خلیلی، موسوعۃ العتبات المقدسہ، 1407ق، ج10، ص30۔
  28. مفید، الارشاد، 1413ق، ج2، ص295۔
  29. خلیلی، موسوعۃ العتبات المقدسہ، 1407ق، ج10، ص42۔
  30. خلیلی، موسوعۃ العتبات المقدسہ، 1407ق، ج10، ص42۔
  31. حموی، معجم البلدان، 1995م، ج1، ص306۔
  32. حموی، معجم البلدان، 1995م، ج1، ص306۔
  33. آل یاسین، تاریخ حرم کاظمین، 1371ش، ص42 و47۔
  34. جعفریان، اطلس شیعہ، 1391ش، ص92۔
  35. آل یاسین، تاریخ حرم کاظمین، 1371ش، ص27۔
  36. مرعشی، تاریخ طبرستان، رویان و مازندران، ص67، بہ نقل از ایزدی، «تاریخچہ حرم کاظمین»، ص548۔
  37. خطیب بغدادی، تاریخ بغداد، ج1، ص105-106، بہ نقل از ایزدی، «تاریخچہ حرم کاظمین»، ص548۔
  38. ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، 1385ق، ج9، ص577۔
  39. ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، 1385ق، ج9، ص577۔
  40. آل یاسین، تاریخ حرم کاظمین، 1371ش، ص33و47۔
  41. قزوینی رازی، نقض، 1358ش، ص220؛ شوشتری، مجالس المؤمنین، 1377ش، ج2، ص459-460۔
  42. آل یاسین، تاریخ حرم کاظمین، 1371ش، ص47۔
  43. جعفریان، اطلس شیعہ، 1391ش، ص92۔
  44. ایزدی، «تاریخچہ حرم کاظمین»، ص549۔
  45. آل یاسین، تاریخ حرم کاظمین، 1371ش، ص48۔
  46. ایزدی، «تاریخچہ حرم کاظمین»، ص550۔
  47. ایزدی، «تاریخچہ حرم کاظمین»، ص550۔
  48. ابن فوطی، الحوادث الجامعہ، دار الکتب العلمیہ منشورات محمدعلی بیضون، ص213-214۔
  49. ہمدانی، جامع التواریخ، ج2، ص293 بہ نقل از آل یاسین، تاریخ حرم کاظمین، 1371ش، ص56۔
  50. ہمدانی، جامع التواریخ، ج2، ص293 بہ نقل از آل یاسین، تاریخ حرم کاظمین، 1371ش، ص56۔
  51. شیرازی، تاریخ وصاف، ص181182 و213و221 بہ نقل از ایزدی، «تاریخچہ حرم کاظمین»، ص551۔
  52. ابن بطوطہ، رحلۃ ابن بطوطہ، ج1، ص141۔
  53. ایزدی، «تاریخچہ حرم کاظمین»، ص551۔
  54. نقدی، تاریخ الامامین الکاظمین و روضتہا الشریفہ، ص24-26 بہ نقل از ایزدی، «تاریخچہ حرم کاظمین»، ص551۔
  55. سماوی، صدی الفواد فی تاریخ بلد الکاظم و الجواد، ص15، بہ نقل از آل یاسین، تاریخ حرم کاظمین، 1371ش، ص60۔
  56. فیض قمی، تاریخ کاظمین و بغداد، 1327ش، ص121 بہ نقل از ایزدی، «تاریخچہ حرم کاظمین» ص551؛ نقدی، تاریخ الامامین الکاظمین و روضتہا الشریفہ، ص24-26 بہ نقل از ایزدی، «تاریخچہ حرم کاظمین»، ص551۔
  57. آل یاسین، تاریخ حرم کاظمین، 1371ش، ص62۔
  58. ایزدی، «تاریخچہ حرم کاظمین»، ص552۔
  59. بوداق، جواہر الاخبار، بخش ایران از قراقوینلو تا سال 984ق، 1387ش، ص124؛ امینی ہروی، فتوحات شاہی، ص303 بہ نقل از یزدی، «تاریخچہ حرم کاظمین»، ص553۔
  60. شاملو، قصص الخاقانی، ج1، ص93-96؛ اسکندربیگ منشی، تاریخ عالم آٰرای عباسی، ج2، ص1252-1250 و 1668-1667؛ قزوینی، فواید الصفویہ، ص52 بہ نقل از ایزدی، «تاریخچہ حرم کاظمین»، ص553۔
  61. ایزدی، «تاریخچہ حرم کاظمین»، ص552۔
  62. العراق بین احتلالین، ج9، ص29و34 بہ نقل از آل یاسین، تاریخ حرم کاظمین، 1371ش، ص77۔
  63. آل یاسین، تاریخ حرم کاظمین، 1371ش، ص77۔
  64. سماوی، صدی فواد فی تاریخ بلد الکاظم و الجواد، ص16، بہ نقل از آل یاسین، تاریخ حرم کاظمین، 1371ش، ص79۔
  65. آل یاسین، تاریخ حرم کاظمین، 1371ش، ص79۔
  66. آل یاسین، تاریخ حرم کاظمین، 1371ش، ص80۔
  67. ناصرالدین شاہ قاجار، شہریار جادہ‌ہا، انتشارات سازمان اسناد ملی ایران، ص96؛ نقدی، تاریخ الامامین الکاظمین، ص75: بہ نقل از ایزدی، «تاریخچہ حرم کاظمین»، ص555۔
  68. ناصر الدین‌ شاہ قاجار، شہریار جادہ‌ہا، انتشارات سازمان اسناد ملی ایران، ص96 بہ نقل از ایزدی، «تاریخچہ حرم کاظمین»، ص555۔
  69. ناصرالدین‌شاہ قاجار، شہریار جادہ‌ہا، ص96، 155 بہ نقل از: ایزدی، «تاریخچہ حرم کاظمین»، 1371ش، ص555۔
  70. ناصرالدین‌شاہ قاجار، شہریار جادہ‌ہا، ص96، 155 بہ نقل از ایزدی، «تاریخچہ حرم کاظمین»، ص555۔
  71. جلالی، مزارات اہل بیتؑ و تاریخہا، 1415ق، ص118۔
  72. اعتمادالسلطنہ، روزنامہ خاطرات، 1377ش، ص584 بہ نقل از ایزدی، «تاریخچہ حرم کاظمین»، ص555۔
  73. تاریخ آستان مقدس کاظمین، آستان مقدس کاظمین، بازبینی: 30 آبان 1397ش۔
  74. ایزدی، «تاریخچہ حرم کاظمین»، ص559۔
  75. آل یاسین، تاریخ حرم کاظمین، 1371ش، ص140۔
  76. ایدرام، سیمای کاظمین، 1387ش، ص86-87۔
  77. میلانی، راہنمای عتبات عالیات، 1377ش، ص133۔
  78. ایزدی، «تاریخچہ حرم کاظمین»، ص557۔
  79. آل یاسین، تاریخ حرم کاظمین، 1371ش، ص158۔
  80. آل یاسین، تاریخ حرم کاظمین، 1371ش، ص160۔
  81. ایزدی، «تاریخچہ حرم کاظمین»، ص557۔
  82. آل یاسین، تاریخ حرم کاظمین، 1371ش، ص159۔
  83. ایزدی، «تاریخچہ حرم کاظمین»، ص557۔
  84. آل یاسین، تاریخ حرم کاظمین، 1371ش، ص159۔
  85. ایزدی، «تاریخچہ حرم کاظمین»، ص557۔
  86. ایزدی، «تاریخچہ حرم کاظمین»، ص558۔
  87. رجوع کریں: آل یاسین، تاریخ حرم کاظمین، 1371ش، ص144-160۔
  88. آل یاسین، تاریخ حرم کاظمین، 1371ش، ص159۔
  89. آل یاسین، تاریخ حرم کاظمین، 1371ش، ص180-183۔
  90. آل یاسین، تاریخ حرم کاظمین، 1371ش، ص129-130۔
  91. آل یاسین، تاریخ حرم کاظمین، 1371ش، ص184۔
  92. دیولافوا، سفرنامہ مادام دیولافوا، ص981-679: بہ نقل از ایزدی، «تاریخچہ حرم کاظمین»، ص557۔
  93. آل یاسین، تاریخ حرم کاظمین، 1371ش، ص184۔
  94. آل یاسین، تاریخ حرم کاظمین، 1371ش، ص183-194۔
  95. آل یاسین، تاریخ حرم کاظمین، 1371ش، ص183-194۔
  96. آل یاسین، تاریخ حرم کاظمین، 1371ش، ص214-215۔
  97. آل یاسین، تاریخ حرم کاظمین، 1371ش، ص214-232۔
  98. آل یاسین، تاریخ حرم کاظمین، 1371ش، ص233-234۔
  99. آل یاسین، تاریخ حرم کاظمین، 1371ش، ص231-248۔
  100. آل یاسین، تاریخ حرم کاظمین، 1371ش، ص231۔
  101. آل یاسین، تاریخ حرم کاظمین، 1371ش، ص231-248۔
  102. موقع العتبۃ الکاظمیۃ المقدسہ، الأمین العام للمزارات الشیعیۃ یقدم التہانی والتبریکات إلی الأستاذ الدکتور جمال عبد الرسول الدباغ، انتشار: 14/ 7/ 2016، بازبینی 30 آبان 1397ش۔
  103. موسوی زنجانی، جولۃ فی اماکن المقدسہ، مؤسسۃ الاعلمی للمطبوعات، ص114۔
  104. آل یاسین، تاریخ حرم کاظمین، 1371ش، ص250-254۔
  105. آل یاسین، تاریخ حرم کاظمین، 1371ش، ص254۔
  106. جعفریان، اطلس شیعہ، 1391ش، ص93۔
  107. جعفریان، اطلس شیعہ، 1391ش، ص93۔
  108. جعفریان، اطلس شیعہ، 1391ش، ص93۔
  109. ابن عنبہ، عمدۃ الطالب، 1417ق، ص184۔
  110. محدث قمی، منتہی الآمال، 1379ش، ج3، ص1548-1547۔
  111. جعفریان، اطلس شیعہ، 1391ش، ص93۔
  112. جعفریان، اطلس شیعہ، 1391ش، ص93۔
  113. رجوع کریں: آل یاسین، تاریخ حرم کاظمین، 1371ش، ص37-137۔
  114. رجوع کریں: آل یاسین، تاریخ حرم کاظمین، 1371ش، ص137-195۔
  115. نگاہ کنید بہ آل یاسین، تاریخ حرم کاظمین، 1371ش، 195-267۔
  116. انصاری قمی، کتابنامہ امام کاظم، 1370ش، ص42۔
  117. انصاری قمی، کتابنامہ امام کاظم، 1370ش، ص42۔


مآخذ

  • ابن اثیر، علی بن ابی‌ کرم، الکامل فی التاریخ، بیروت، دار صادر، 1965ھ/1385ھ۔
  • ابن عنبہ حسنی، عمدۃ الطالب فی انساب آل ابی طالب، قم، انصاریان، 1417ھ۔
  • ابن فوطی، عبد الرزاق بن احمد، الحوادث الجامعہ فی مأئۃ السابعہ، تحقیق: مہدی عبدالحسین نجم، بیروت، دار الکتب العلمیہ منشورات محمدعلی بیضون، بی‌تا۔
  • اعتمادالسلطنہ، محمد حسن‌ خان، روزنامہ خاطرات، تہران، انتشارات امیر کبیر، 1377ش۔
  • امینی ہروی، امیر صدر الدین ابراہیم، فتوحات شاہی تاریخ صفوی از آغاز تا920 قمری، تصحیح و توضیح و تعلیقات از محمد رضا نصیری، تہران: انجمن آثار و مفاخر فرہنگی، 1383ش۔
  • انصاری قمی، ناصر الدین، کتابنامہ امام کاظم علیہ‌السلام، کنگرہ جہانی حضرت رضا علیہ‌السلام، 1370ش۔
  • ایدرام، حسن، سیمای کاظمین، تہران، مشعر، 1387ش۔
  • ایزدی، حسین، «تاریخچہ حرم کاظمین» در مجموعہ مقالات ہمایش سیرہ و زمانہ حضرت امام موسی کاظم علیہ‌السلام، قم، انجمن تاریخ‌پژوہان حوزہ علیمہ قم، 1392ش۔
  • آل یاسین، محمد حسین، تاریخ حرم کاظمین علیہما‌السلام، ترجمہ: غلام رضا اکبری، کنگرہ جہانی حضرت رضا علیہ‌السلام، 1371ش۔
  • بوداق منشی قزوینی، جواہر الاخبار، (بخش ایران از قراقوینلو تا سال 984ھ)، مقدمہ و تصحیح و تعلیق از محسن بہرام‌ نژاد، تہران، نشر میراث مکتوب 1378ش۔
  • جعفریان رسول، اطلس شیعہ، سازمان جغرافیایی نیروہای مسلح، 1391ش۔
  • حسینی جلالی، محمد حسین، مزارات اہل بیتؑ و تاریخہا، بیروت، موسسۃ الاعلمی للمطبوعات، 1415ھ۔
  • حموی، یاقوت بن عبداللہ، معجم البلدان، بیروت، دار صادر، 1995 ع۔
  • خلیلی، جعفر، موسوعۃ العتبات المقدسۃ (ج10 = قسم الکاظمین)، بیروت، مؤسسہ الاعلمی للمطبوعات، 1407ھ/1987 ع۔
  • شوشتری، قاضی نوراللہ، مجالس المؤمنین، تہران: کتاب‌ فروشی اسلامیہ، 1377ش۔
  • شیخ مفید، محمد بن محمد، الارشاد فی معرفۃ حجج اللہ علی العباد، قم، مؤسسہ آل البیت، 1413ھ۔
  • علوی، احمد، راہنمای مصور سفر زیارتی عراق، قم، معروف، 1389ش۔
  • فیض قمی، میرزا عباس، تاریخ کاظمین و بغداد، قم: 1327ش۔
  • قزوینی رازی، عبد الجلیل، نقض، تہران، انتشارات انجمن آثار ملی، 1358ش۔
  • قزوینی، ابو الحسن، فواید الصفویہ، بہ تصحیح و مقدمہ مریم میر احمدی، تہران: موسسہ مطالعات و تحقیقات فرہنگی، 1367ش۔
  • محدث قمی، شیخ عباس، منتہی الآمال فی تواریخ النبی، قم، دلیل ما، 1379ش۔
  • موسوی زنجانی، سید ابراہیم، جولۃ فی الاماکن المقدسہ، بیروت، مؤسسۃ الاعلمی للمطبوعات، بی‌ تا۔
  • میلانی، محمد، راہنمای عتبات عالیات، مشہد، نشر محب، 1377ش۔

بیرونی روابط