مشہد

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

مشہد یا مشہدالرضا، ایران کے شمال مشرق میں شیعوں کے اہم ترین مذہبی شہروں میں سے ایک اور خراسان رضوی ریاست کا دار الحکومت ہے۔ یہ شہر افشاریوں کے دور میں ایران کا دار السلطنت تھا۔ مشہد، تہران کے بعد ایران کا دوسرا بڑا شہر ہے اور سن ۱۳۹۰ ہجری شمسی کی مردم شماری کے مطابق اس کی آبادی ستائیس لاکھ ساٹھ ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔ اس شہر میں امام علی رضا علیہ السلام کا روضہ ہونے کی وجہ سے سالانہ تقریبا تین کروڑ ایرانی اور غیر ایرانی زائرین کی یہاں رفت و آمد ہوتی ہے۔ مشہد کو سن ۱۳۸۸ ہجری شمسی میں ایران کے معنوی و روحانی دار الحکومت کا نام دیا گیا ہے اور اسی طرح سے اقوام متحدہ کی تنظیم "آئی سسکو" کی طرف سے اسے سن ۲۰۱۷ میں اسلامی تہذیب و ثقافت کی راج دھانی کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔

وجہ تسمیہ

مشہد، شہادت کے مقام و محل کو کہتے ہیں۔ امام علی رضا علیہ السلام کو سن ۲۰۲ ہجری قمری میں مامون عباسی کی طرف سے زہر دیئے جانے کے بعد آپ کو ہارون کے مقبرہ سناباد میں سپرد خاک کیا گیا۔ اس کے بعد سے سناباد نوغان کو مشہد الرضا کہا جانے لگا اور دھیرے دھیرے صفوی بادشاہ تہماسب کے زمانہ میں، طوس کے باشندوں کو مشہد کی طرف بھیجا گیا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ شہر مشہد کے نام سے مشہور ہو گیا۔[1] بعض تاریخی منابع میں، مشہد کو مشہد طوس اور مشہد نوغان کے نام سے بھی ذکر کیا گیا ہے۔[2]

تاریخ

تیسری صدی ہجری: مشہد شہر کی تاسیس

امام علی رضا علیہ السلام کے روضہ کے اطراف میں مومنین کی سکونت کی ابتداء کے سلسلہ میں دقیق معلومات موجود نہیں ہے، البتہ موجودہ تاریخی اسناد کے مطابق، تیسری صدی ہجری کے اواخر میں، علویوں، سادات اور امام (ع) کے اعزہ و اقارب کا ایک گروہ آپ کے روضہ کے جوار میں ساکن تھے۔[3] اس کے بعد تدریجی طور وہاں زائرین کے لئے استراحت گاہ، بازار اور مسافر خانے وجود میں آئے اور مشہد الرضا امام رضا علیہ السلام کے محل دفن کے معنی میں نوقان شہر کے پاس ایک دوسرے شہر میں تبدیل ہو گیا اور شیعوں اور اہل بیت علیہم السلام کے چاہنے والوں کے بہت سے گروہ اس میں بسنے یا زیارت کی غرض سے وہاں حاضر ہونے لگے۔[4]

چوتھی صدی ہجری: سبکتکین کے ہاتھوں روضہ کی بربادی

چوتھی صدی ہجری میں خراسان سے مشہد کی طرف مسلمان علماء، دانشمندوں اور محدثین کی آمد و رفت کا سلسلہ شروع ہوا؛ یہاں تک کہ شیخ صدوق چند مرتبہ شہر ری سے مشہد گئے اور آپ کی کتاب امالی کی تین مجالس آپ نے مشہد میں امام رضا علیہ السلام کے روضہ میں تحریر کی۔[5] اس دور میں جس میں ایران میں آل بویہ کی حکومت کا زمانہ تھا، مشہد میں مساجد و مدارس وجود میں آئے اور شیعہ علماء و فقہاء اہل بیت علہیم السلام کی تعلیمات کی تبلیغ میں مشغول ہو گئے۔[6] اس کے بعد ایران میں سن ۳۷۰ سے ۳۸۰ قمری تک غزنویوں کے بر سر اقتدار آنے کے ساتھ، امیر سبکتکین نے شیعہ مخالف ہونے اور اہل بیت (ع) کے دشمنوں کی تبلیغات کے زیر اثر اس نے شہر مشہد کو ویران کرنے کا حکم صادر کر دیا۔ اس واقعہ میں امام رضا (ع) کے روضہ کا گنبد خراب کر دیا گیا، حرم میں زائرین کے آنے پر پابندی عائد کر دی گئی اور اہل شہر کو شہر سے باہر نکال دیا گیا، حتی شہر کی عمارتیں بھی ویران کی گئیں تا کہ مشہد ایک ویران شہر میں تبدیل ہو جائے۔ یوں مشہد سالہا سال تک باشندوں سے خالی رہا۔[7]

سبکتکین کے مرنے کے بعد اس کے جانشین اور بیٹے سلطان محمود غزنوی (رورہ حکومت ۳۸۷ سے ۴۲۱ قمری) کے دور حکومت میں امام رضا علیہ اسلام کا روضہ کی باز سازی کی گئی اور مشہد شہر ایک بار پھر اپنی رونق حاصل کر سکا اور نماز جمعہ اور کرسی خطابت کو قائم کیا گیا اور غزنویوں کی حکومت کے دوران اس میں امنیت قائم رہی۔[8]

پانچویں اور چھٹی صدی ہجری: طویل امینت اور اتفاقی آشوب

پانچویں صدی ہجری میں سلجوقیان کی حکومت کے دور میں اگر چہ سلاطین حنفی مذہب تھے، لیکن وہ امام رضا علیہ السلام کے روضے کے کئے ایک خاص احترام کے قائل تھے اور وہ خود زیارت کرنے جاتے تھے۔ سلجوقی سلاطین جن میں ملک شاہ اور سلطان سنجر شامل ہیں، امام رضا علیہ السلام کے حرم کے سلسلہ میں خاص توجہ روایات میں نقل ہوئی ہیں۔[9] تاریخی روایات کے مطابق، اس زمانہ میں مشہد کی طرف جانے والے راستوں پر امن قائم ہو چکا تھا۔ ڈاکو ڈاکہ ڈالنے کی جرات نہیں کرتے تھے اور دشمنان اہل بیت علیہم السلام مشہد کی راہ میں زائرین کی آمد و رفت میں مانع نہیں بن سکتے تھے۔[10]

سن ۵۱۰ قمری کے عاشورہ میں ایک علوی اور اہل سنت فقیہ کے درمیان مناظرہ کے نتیجہ میں مشہد کا محاصرہ، اس پر حملہ اور امام رضا علیہ السلام کے روضہ کی تخریب کے طور پر نکلا اور اسی طرح سے عوام کے قتل و غارت کو انجام دیا گیا۔[11] اس واقعہ کے بعد سے آج تک کبھی بھی مشہد مکمل طور پر خراب نہیں ہوا ہے۔[12] بعض مورخین کا ماننا ہے کہ علوی اور سنی فقیہ کے درمیان بحث و درگیری کے بعد صلح ہو گئی تھی لیکن کرامیہ فرقہ نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے لوگوں کو ورغلایا۔[13] یہ حادثہ سلجوقی سلطان سنجر کے دورہ حکومت اور اس کے کے غزنی پر حملہ کے زمانہ میں پیش آیا۔ سلطان سنجر کو جب اس واقعہ کی خبر ہوئی تو اس نے اپنے وزیر مجد الملک قمی کو اس نے ذمہ داری دی کہ وہ امام رضا علیہ السلام کے روضہ کی از سر نو تعمیر کرے اور شہر مشہد کی باز ساری کرے اور زائرین کی آمد و رفت کے وسائل کو فراہم کرے۔[14] اس کے بعد کبھی بھی مشہد میں شیعہ سنی نزاع پیش نہیں آیا۔[15]

ساتویں صدی ہجری: مغول حملہ اور تاریخی اختلافات

چنگیز خان نے سن ۶۱۷ قمری میں خراسان پر حملہ کیا اور شہروں میں آگ لگائی، عوام کا قتل عام کیا اور مساجد و مدارس کو ویران کر دیا۔[16] مشہد کے نزدیک دو قدیمی اور تاریخی شہروں نوقان اور طابران کو اس نے مکمل طور پر ویران کر ڈالا اور آج ہارونی عمارت کے علاوہ کوئی بھی آثار اس شہر کے باقی نہیں ہیں۔ ان سب کے باوجود شہر مشہد کو، بعض منابع کی تحریر (فضل اللہ بن روزبہان خنجی کی تحریر مہمان نامہ بخارا) کے مطابق شہر امن قرار دیا گیا اور چنگیز خان کے حکم سے جو بھی وہاں چلا جاتا تھا اسے امان مل جاتی تھی۔[17] ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ میں شہر اور امام رضا علیہ السلام کے روضہ کی ویرانی کا ذکر کیا ہے۔ حالانکہ عطا ملک جوینی نے تاریخ جہان گشا میں امام رضا علیہ السلام کے حرم کی تخریب کے بارے می کوئی تذکرہ نہیں کیا ہے۔[18]

آٹھویں اور نویں صدی ہجری: امام رضا (ع) کے روضہ پر خاص توجہ

مشہد نے ایلخانیان (۶۵۴۔۷۵۰ ق) اور تیموریان (۷۷۱۔ ۹۱۱ ق) کے دور میں ترقی کی اور ان دونوں حکومتوں کے سلاطین نے امام رضا علیہ السلام کے روضہ اور شہر مشہد پر خاص توجہ مرکوز رکھی۔[19] شاہ رخ جو امیر تیمور کا نائب اور ہرات کا حاکم تھا، وہ سال میں چند ماہ مشہد میں قیام کرتا تھا۔ اس کی بیوی گوہر شاد نے امام رضا (ع) کے حرم کے برابر میں ایک با شکوہ مسجد تعمیر کرائی اور اسے وقف کر دیا جو آج مسجد گوہر شاد کے نام سے معروف ہے۔[20]

دسویں اور گیارہویں صدی ہجری: شہر کی آباد کاری اور روضہ کا توسعہ

دسویں صدی ہجری کے اوائل میں صفویہ حکومت کے ظہور کے ساتھ ایران میں شیعہ مذہب کو سرکاری حیثیت دی گئی۔ جس کے بعد شہر مشہد ایران میں شیعوں کے ایک اصلی مرکز میں تبدیل ہو گیا۔[21] صفوی بادشاہوں نے مشہد شہر کی آباد کاری کا خاص اہتمام کیا اور امام رضا علیہ السلام کے حرم میں نئے حصوں کا اضافہ کیا؛ جس میں سے صحن شمالی جو آج صحن کہنہ کہا جاتا ہے۔ گنبد کی طلا کاری، شہر مشہد کی باز سازی، کھیتی اور تجارت و صنعت میں توسعہ، شیعہ علما اور شخصیات کو دعوت دی گئی اور جدید مدارس تاسیس کئے گئے، جس نے مشہد کو ایک خاص رونق عطا کی۔[22]

بارہویں اور تیرہویں صدی ہجری: دار الحکومت سے توپ باندھنے تک

نادر شاہ افشار (۱۰۶۷۔۱۱۲۶ ق) نے ایران کو فتح کرنے اور ملک سے باغیوں کو صاف کرنے کے بعد مشہد کو اپنا دار السلطنت بنایا اور شہر کی آباد کاری کے لئے بہت کوشش کی۔ امام رضا علیہ السلام کے حرم کے میناروں کی اس کے زمانہ میں طلا کاری کی گئی اور صحن قدیم کے سقا خانہ کو اس کے زمانہ میں تعمیر کیا گیا۔[23]

قاجاریوں کی حکومت کے آغاز کے ساتھ ہی (۱۱۷۴۔۱۳۰۴ ش) ایران کا دار الحکومت مشہد سے تہران منتقل ہو گیا۔ اس کے با وجود مشہد کے توسعہ میں کوئی کمی نہیں آئی؛ وہاں نئے بازاروں اور مسافر خانوں کی تعمیر کا سلسلہ جاری رہا، امام رضا علیہ السلام کے حرم میں متعدد رواق اور صحن تعمیر ہو گئے۔ صحن نو اور صحن قدیم کی طلاکاری اور حرم کی آئینہ کاری اور اسی طرح سے رواق دار السیادہ و دار الحفاظ اسی زمانہ سے تعلق رکھتے ہیں۔[24]

قاجار حکومت کے اواخر میں مشہد پر روسیوں نے حملہ کر دیا اور امام رضا علیہ السلام کے روضہ پر توپ سے گولہ باری کی گئی اور کچھ لوگ مارے گئے۔ اس واقعہ میں حرم میں موجود اموال اور خزانہ کو خالی کرنا پڑا۔[25]

چودہویں صدی ہجری: ترقی و توسعہ کا دور

پہلوی حکومت کے دور میں شہر مشہد نے گزشتہ سے زیادہ ترقی کی۔ اس زمانہ میں محلات، سڑکیں اور اسکوائر بنائے گئے، وسائل نقلیہ کو وارد کیا گیا، ایر پورٹ ، ریلوے اسٹیشن اور شاہ راہوں کی تعمیر اسی دور میں ہوئی ہیں۔[26]

ایران کا معنوی اور ثقافتی دار الحکومت

شہر مشہد کو سن ۱۳۸۸ ش میں ایران کے روحانی دار الحکومت کے طور پر قرار دیا گیا ہے۔[27] اسی طرح سے اس شہر کو اسلامی ممالک کے ادارہ تعلیمی و علمی و ثقافتی کی طرف سے سن ۲۰۱۷ ع میں (آی س س ک و) اسلامی ثقافت و تمدن کے دار السلطنت کا نام دیا گیا ہے۔[28] یہ ادارہ ہر سال تین شہروں کو اسلامی ثقافت یا اسلامی دنیا کے تمدن کے دار الحکومت کے عنوان سے منتخب کرتا ہے۔[29]

امام رضا علیہ السلام کا روضہ

امام رضا علیہ السلام کو مامون کے حکم سے ہارون کے مقبرہ میں دفن کیا گیا۔[30] اور وہ جگہ بتدریج مشہد الرضا کے نام سے مشہور ہو گئی۔[31] تیموریوں کی حکومت کے زمانہ تک امام رضا علیہ السلام کی قبر پر ضریح دستور میں شامل نہیں تھی۔[32] امام رضا علیہ السلام کے حرم کا رقبہ ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی سے پہلے تک ایک ۱۲۰ ہزار اسکوائر میٹر تھا، جو سب ۱۲۹۲ ش میں بڑھ کر دس لاکھ اسکوائر میٹر تک ہو چکا ہے۔[33]

امام رضا علیہ السلام کے حرم کی پانچویں ضریح ۱۶ اسفند ۱۳۷۹ شمسی میں نصب کی گئی ہے اور ۱۲ ٹن اس کا وزن ہے۔[34] ۲۸ رواق میں ۶۳ ہزار اسکوائر میٹر سے زیادہ کا رقبہ مسقف ہے، جس میں ایک لاکھ ساٹھ ہزار نمازیوں کے نماز پڑھنے کی گنجائش ہے۔[35]

آستان قدس رضوی، ایک بڑا اور چند جانبی ادارہ ہے جس کے ما تحت امام رضا علیہ السلام کے روضہ کی انظامیہ بھی ہے، یہ ایک ثقافتی، مذہبی، اقتصادی ادارہ ہے جس کا شمار کثیر موقوفات سے استفادہ کی وجہ سے جہان اسلام کے سب سے بڑے موقوفات میں کیا جاتا ہے۔[36] امام رضا علیہ السلام کے منقول موقوفات درج ذیل ہیں: قرآن کے نسخے، مخطوطات، جواہرات، نفیس اشیائ، ظروف، پارچے اور نقاشی وغیرہ، جن کی نگہداشت میوزیم اور خزانہ میں ہوتی ہے اور غیر منقول موقوفات میں املاک، اراضی، باغات اور عمارتیں شامل ہیں۔[37] امام رضا علیہ السلام کے حرم کا اقتصادی شعبہ سازمان اقتصادی رضوی کے نام سے معروف ہے، جس کے ما تحت ۴۰ کے قریب اقتصادی کمپنیاں مختلف شعبوں صنعت و معدن، کاشت کاری، ساخت و ساز اور خدمات عمومی میں کام کرتی ہیں۔[38]

حوزہ علمیہ

مدرسہ میرزا جعفر کا بیرونی منظر
اصل مضمون: حوزہ علمیہ مشہد

حوزہ علمیہ مشہد تاریخی قدمت کا حامل ہے۔ بعض منابع کے مطابق امام رضا علیہ السلام کے حرم کی علمی فعالیت کا سلسلہ گزشتہ صدیوں میں صفویہ کے دور سے رواج پا چکا تھا اور بعض بزرگ علماء جیسے ابن بابویہ، شیخ طوسی، ابو علی فضل بن حسن طبرسی، ابو البرکات محمد بن اسماعیل مشہدی، ابن ابی جمہور اور خواجہ نصیر الدین طوسی اس شہر میں سکونت اختیار کر چکے تھے اور محافل علمی تشکیل دے چکے تھے۔ صفویہ دور حکومت میں جبل عامل (لبنان) سے مشہد علماء کی مہاجرت جیسے حسین بن عبد الصمد حارثی، شیخ بہائی کے والد، شیخ حر عاملی اور شیخ لطف اللہ میسی اور صفویہ سلاطین کی تعلیم و تعلم، دینی تبلیغات اور خراسان میں دینی مدارس کی تعمیر مشہد کی محافل علمی کی تقویت اور توسعہ کا سبب بنی اور حوزہ علمیہ مشہد ایک قوی علمی اور با استعداد حوزہ میں تبدیل ہو گیا۔

قاچار دور حکومت میں بھی حوزہ علمیہ مشہد کے توسعہ اور تقویت کا خیال رکھا جاتا تھا۔ حوزہ علیہ مشہد، انقلاب مشروطہ کے بعد جس میں گوہرشاد کا واقعہ پیش آیا، اور خاص طور پر دو دانشمند علماء نے مشہد کی طرف مہاجرت اختیار کی جن میں آقا زادہ خراسانی، آخوند خراسانی کے فرزند اور حاج آقا حسین قمی (متوفی ۱۳۲۶ ش) یہ دونوں حضرات نجف اشرف کے فارغ التحصیل تھے، اور شیخ مرتضی آشتیانی، خاص طور پر فقہ و اصول کے درس خارج کے اعتبار سے اس کی رونق میں بہت اضافہ ہو گیا۔

اس حوزہ نے بزرگ علماء کی زعامت میں، جن میں حاج آقا حسین قمی اور آقا زادہ خراسانی شامل ہیں، پہلوی اول کے زمانہ میں متعدد مواقع پر مختلف سیاسی و سماجی مسائل پر جو دینی معاشرہ کی شان کے خلاف تھا، رد عمل ظاہر کیا۔ حوزہ علمیہ مشہد کا دوبارہ سے احیائ رضا شاہ کے سقوط کے بعد، خاص طور پر تین برجستہ علمی شخصیات، جن میں میرزا احمد کفایی، شیخ مرتضی آشتیانی اور میرزا مہدی اصفھانی شامل ہیں، کی کوششوں کے نتیجہ میں تھا۔ آیت اللہ میلانی کی مہاجرت نے اس حوزہ کی علمی و دینی ترقی میں گزشتہ سے زیادہ مضبوطی اور ارتقاء عطا کیا۔ انہوں نے حوزہ کے نظم و انتظام کے سلسلہ میں نمایاں کارنامہ انجام دیا۔ حوزہ علمیہ مشہد نے سماجی تحریکوں میں جیسے صنعت نفت کے قومی سرمایہ بننے، ۱۵ خرداد ۱۳۴۲ ش کا قیام، ریاستی انجمنوں اور اصلاحات ارضی سے متعلق پیش شدہ قانون کی مخالفت، امام خمینی کی جلا وطنی پر اعتراض اور اسلامی انقلاب کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

قدیم دینی مدارس

  1. مدرسہ پائین پا
  2. مدرسہ دو در
  3. مدرسہ حاج حسین
  4. مدرسہ میزرا جعفر
  5. مدرسہ عباس قلی خان
  6. مدرسہ نواب
  7. مدرسہ ملا محمد باقر
  8. مدرسہ سلیمان خان
  9. مدرسہ پریزاد
  10. مدرسہ بالا سر
  11. مدرسہ ابدال خان
  12. مدرسہ قران خان
  13. مدرسہ رضوان
  14. مدرسہ مستشاری
  15. مدرسہ رضوان نو
  16. مدرسہ فاضل خان
  17. مدرسہ پیر مراد
  18. مدرسہ موسوی نژاد
  19. مدرسہ آیت اللہ صدوقی
  20. مدرسہ برزگ آیت اللہ میلانی[39]

مشاہیر

  1. شیخ طوسی
  2. سید علی سیستانی
  3. سید حسن طباطبایی قمی
  4. سید محمد ہادی میلانی
  5. سید علی خامنہ ای
  6. سید عز الدین حسینی زنجانی
  7. سید حسن ابطحی
  8. میرزا جواد آقا تہرانی
  9. محمد رضا حکیمی
  10. مہدی واعظ خراسانی
  11. محمد واعظ زادہ خراسانی
  12. احمد کافی
  13. محمد ہادی عبد خدایی
  14. محمد مہدی رکنی یزدی
  15. حسین وحید خراسانی
  16. مہدی اخوان ثالث
  17. میرزا مہدی اصفہانی
  18. حسن علی مروارید

مساجد

  1. مسجد جامع گوہر شاد
  2. مسجد شاہ
  3. مسجد مقبرہ
  4. مسجد آب انبار
  5. مسجد فیل
  6. مسجد صاحب کار
  7. مسجد حاج میرزا
  8. مسجد نایب
  9. مسجد سر آب میرزا
  10. مسجد ذوالفقار
  11. مسجد نظر یافتہ
  12. مسجد مقبل السلطنہ
  13. مسجد گلشن
  14. مسجد صدیقی ہا
  15. مسجد پل سنگی
  16. مسجد مروی ہا
  17. مسجد افشارہا
  18. مسجد معمار
  19. مسجد محمدی ہا
  20. مسجد حیدری ہا
  21. مسجد آقا حسن
  22. مسجد درخت بید
  23. مسجد فضل گرہا
  24. مسجد حضائی
  25. مسجد حضرت صادق (ع)
  26. مسجد حاج فیض اللہ
  27. مسجد کوچہ زردیہا
  28. مسجد قائم
  29. مسجد صاحب الزمان
  30. مسجد سنا باد
  31. مسجد جواد معمار
  32. مسجد زابلی
  33. مسجد پاچنار
  34. مسجد تبرک
  35. مسجد حاج ملا ہاشم
  36. مسجد حاج مہدی
  37. مسجد علی اکبری ہا
  38. مسجد حاج رجب علی
  39. مسجد حقیقی
  40. مسجد برجی
  41. مسجد خونی
  42. مسجد مجید
  43. مسجد سردرب
  44. مسجد مغولہا
  45. مسجد مصلی
  46. مسجد جعفریہا
  47. مسجد حکیم
  48. مسجد حاج رضا
  49. مسجد ہراتی
  50. مسجد پارسائی
  51. مسجد قبلہ
  52. مسجد متعمد
  53. مسجد دیدگاہ
  54. مسجد نور
  55. مسجد فرہاد
  56. مسجد فاضل
  57. مسجد احمدیہ
  58. مسجد قوچانی
  59. مسجد رضائیہ
  60. مسجد روی حوض
  61. مسجد محراب خان
  62. مسجد حاج سرکہ
  63. مسجد خودرود
  64. مسجد ملک
  65. مسجد یزدی ہا
  66. اور دوسری وہ مساجد جو گزشتہ چند سالوں میں تعمیر ہوئیں ہیں۔[40]

مشہد اور اس کے اطراف کے مقبرے

  1. مقبرہ پیر پارہ دوز
  2. مقبرہ گنبد خشتی
  3. مقبرہ گنبد سبز
  4. مقبرہ مصلی
  5. مقبرہ خواجہ ربیع
  6. مقبرہ ابا صلت
  7. مقبرہ خواجہ مراد
  8. مقبرہ میرزا ابراہیم
  9. مقبرہ ایوان طوق
  10. مقبرہ ارسلان
  11. مقبرہ بابا زنگی
  12. مقبرہ شیخ احمد
  13. مقبرہ زین العابدین
  14. مقبرہ لقمان سر چین
  15. مقبرہ رباط شرف
  16. مقبرہ شیخ عبد اللہ
  17. مقبرہ ملا علی
  18. مقبرہ یحیی
  19. مقبرہ ملا علی
  20. مقبرہ امامزادہ
  21. مقبرہ سید حسن
  22. مقبرہ نجم الدین
  23. مقبرہ سلطان محمد
  24. مقبرہ نظام الدین
  25. مقبرہ قطب الدین
  26. مقبرہ شاہ محمود
  27. مقبرہ فضل بن شاذان
  28. مقبرہ سید مرتضی
  29. مقبرہ کمال الملک
  30. مقبرہ امامزادہ [41]

امام باڑے اور عزاخانے

  1. حسینیہ اصفہانی ہا
  2. حسینیہ آذربائیجانی ہا
  3. حسینیہ کاشانی ہا
  4. حسینیہ قمی ہا
  5. حسینیہ طبسی ہا
  6. حسینیہ تہرانی ہا
  7. حسینیہ شیخ محمد تقی بجنوردی
  8. حسینیہ ہمدانی ہا
  9. حسینیہ علی اکبری ہا
  10. علویہ حاجی عابد زادہ
  11. حسینیہ حاجی عابد زادہ
  12. حسینیہ عابد زادہ
  13. سجادیہ
  14. باقریہ
  15. صادقیہ
  16. کاظمیہ
  17. رضویہ
  18. جوادیہ
  19. نقویہ
  20. عسکریہ
  21. مہدیہ حاجی عابد زادہ
  22. فاطمیہ
  23. نرگسیہ
  24. زینبیہ
  25. کانون بحث [42]

حوالہ جات

  1. نام مشہد، شہر مشہد پورٹل، تصحیح شدہ ۲۴ خرداد ۱۳۹۴ ش
  2. میر محمدی، مشہد (ایران) کے مشہور اماکن پر ایک تحقیق، مجلہ مشکاۃ صفحہ ۶۶۔
  3. عطاردی، فرہنگ خراسان، جلد ۱، پاییز ۱۳۸۱ ش، صفحہ ۴۲۔
  4. عطاردی، فرہنگ خراسان، جلد ۱، پاییز ۱۳۸۱ ش، صفحہ۴۲۔۴۳
  5. عطاردی، فرہنگ خراسان، جلد ۱، پاییز ۱۳۸۱ ش، صفحہ ۴۴۔
  6. عطاردی، فرہنگ خراسان، جلد ۱، پاییز ۱۳۸۱ ش، صفحہ ۴۴،۴۵۔
  7. عطاردی، فرہنگ خراسان، جلد ۱، پاییز ۱۳۸۱ ش، صفحہ ۴۸۔
  8. عطاردی، فرہنگ خراسان، جلد ۱، پاییز ۱۳۸۱ ش، صفحہ ۵۰۔
  9. عطاردی، فرہنگ خراسان، جلد ۱، پاییز ۱۳۸۱ ش، صفحہ ۵۱۔۵۲
  10. عطاردی، فرہنگ خراسان، جلد ۱، پاییز ۱۳۸۱ ش، صفحہ ۵۱۔۵۲
  11. عطاردی، فرھنگ خراسان، جلد ۱، پاییز ۱۳۸۱ ش، صفحہ ۵۲۔۵۳
  12. عطاردی، فرہنگ خراسان، جلد ۱، پاییز ۱۳۸۱ ش، صفحہ ۵۹۔
  13. عطاردی، فرہنگ خراسان، جلد ۱، پاییز ۱۳۸۱ ش، صفحہ ۵۴۔
  14. عطاردی، فرہنگ خراسان، جلد ۱، پاییز ۱۳۸۱ ش، صفحہ ۵۵۔
  15. عطاردی، فرہنگ خراسان، جلد ۱، پاییز ۱۳۸۱ ش، صفحہ ۶۱۔
  16. عطاردی، فرہنگ خراسان، جلد ۱، پاییز ۱۳۸۱ ش، صفحہ ۵۷۔
  17. عطاردی، فرہنگ خراسان، جلد ۱، پاییز ۱۳۸۱ ش، صفحہ ۵۸۔
  18. حامی، تاریخ تعرضات حرم رضوی، مرکز اسناد انقلاب اسلامی کی ویب سائٹ۔
  19. عطاردی، فرہنگ خراسان، جلد ۱، پاییز ۱۳۸۱ ش، صفحہ ۶۰۔۶۱
  20. عطاردی، فرہنگ خراسان، جلد ۱، پاییز ۱۳۸۱ ش، صفحہ ۶۱۔
  21. عطاردی، فرہنگ خراسان، جلد ۱، پاییز ۱۳۸۱ ش، صفحہ ۶۱۔
  22. عطاردی، فرہنگ خراسان، جلد ۱، پاییز ۱۳۸۱ ش، صفحہ ۶۲۔۶۳
  23. عطاردی، فرہنگ خراسان، جلد ۱، پاییز ۱۳۸۱ ش، صفحہ ۶۵۔
  24. عطاردی، فرہنگ خراسان، جلد ۱، پاییز ۱۳۸۱ ش، صفحہ ۶۵۔
  25. عطاردی، فرہنگ خراسان، جلد ۱، پاییز ۱۳۸۱ ش، صفحہ ۶۵۔۶۶
  26. عطاردی، فرہنگ خراسان، جلد ۱، پاییز ۱۳۸۱ ش، صفحہ ۶۶۔
  27. روحانی دار الحکومت کے عنوان سے مشہد کا تعارف، روزنامہ دنیای اقتصاد، ۵ آبان ۱۳۸۸ ش۔
  28. اسلامی ثقافت کے دار الحکومت مشہد کا منشور، مشہد کی ویب سائٹ ۲۰۱۷۔
  29. فرید جواہر زادہ، مشہد جہان اسلام کے تمدن کا دار الحکومت ۲۰۱۷، روزنامہ ایران کی ویب سائٹ، نیوز کوڈ ۱۱۷۷۲۶۔
  30. جعفریان، شیعہ جغرافیائی انسائکلو پیڈیا، ۱۳۸۷ ش، صفحہ ۹۳۔
  31. جعفریان، شیعہ جغرافیائی انسائکلو پیڈیا ، ۱۳۸۷ ش، صفحہ ۹۷۔
  32. جعفریان، شیعہ جغرافیائی انسائکلو پیڈیا ، ۱۳۸۷ ش، صفحہ ۹۷۔
  33. پرتو خورشید، جلد ۱، ۱۳۹۲ ش، صفحہ ۷۷۔
  34. پرتو خورشید، جلد ۱، ۱۳۹۲ ش، صفحہ ۷۷۔
  35. پرتو خورشید، جلد ۱، ۱۳۹۲ ش، صفحہ ۷۷۔۷۸
  36. پرتو خورشید، جلد ۱، ۱۳۹۲ ش، صفحہ ۱۶۔
  37. پرتو خورشید، جلد ۱، ۱۳۹۲ ش، صفحہ ۱۶۔۱۷
  38. پرتو خورشید، جلد ۱، ۱۳۹۲ ش، صفحہ ۲۲۔۲۳
  39. شریف رازی، گنجینہ دانشمندان، جلد ۷، صفحہ ۸۹۔
  40. شریف رازی، گنجینہ دانشمندان، جلد ۷، صفحہ ۸۸۔
  41. شریف رازی، گنجینہ دانشمندان، جلد ۷، صفحہ ۸۹۔
  42. شریف رازی، گنجینہ دانشمندان، جلد ۷، صفحہ ۹۰۔


منابع

  • *جعفریان، رسول، شیعہ جغرافیائی انسائکلو پیڈیا ، ناشر سازمان جغرافیایی نیروہای مسلح، ۱۳۸۷ ش۔
  • *شریف رازی، محمد، گنجینہ دانشمندان، جلد ۷، کتاب فروشی اسلامیہ، تہران، ۱۳۵۲ ش۔
  • *عطاردی، عزیز اللہ، فرہنگ خراسان، شعبہ طوس، جلد ۱، ناشر عطارد، تہران ۱۳۸۱ ش۔
  • *میر محمدی، حمید رضا، مشہد (ایران) کے مشہور اماکن پر ایک تحقیق، مجلہ مشکاۃ، پاییز ۱۳۷۴ ش ۴۸۔ صفحہ ۶۲۔۷۰