عید قربان

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

عید قربان یا عید الاضحی (10 ذوالحجہ) مسلمانوں کی بڑی عیدوں میں سے ہے۔ احادیث کے مطابق اس دن خدا کی طرف سے حضرت ابراہيم خلیل اللہ کیلئے اسماعيل ذبیح اللہ کی قربانی پیش کرنے کا حکم صادر ہوا۔ حضرت ابراہیم نے حضرت اسماعیل کو قربان گاہ کی طرف لے گیا اور قربانی کی قصد سے جب اس کی گردن پر چھری پھیرنا چاہا تو خدا نے جبرئيل کے ساتھ ایک مینڈھے کو بھیجا اور حضرت ابراہیم نے اسماعیل کے بدلے اس کی قربانی دی۔ اس دن سے آج تک اس واقعے کی یاد میں ادیان ابراہیمی کو ماننے والے قربانی کی اس سنت پر عمل کرتے ہیں اور بیت اللہ الحرام کی زیارت یعنی حج پر مشرف ہونے والے حاجیوں پر منا میں معین شرایط کے ساتھ قربانی دینا واجب ہے اور یہ حج کے اعمال میں سے ایک واجب عمل ہے۔

عید کے دن اور رات کو احادیث میں بہت سارے اعمال وارد ہوئی ہیں جن میں عید کی رات کو شب بیداری کرنا دعا و مناجات اور نماز میں مشغول رہنے کی بہت زیادہ فضیلت ذکر ہوئی ہے۔ عید قربان کے دن غسل کرنا، نماز عید پڑھنا، قربانی کرنا، امام حسین(ع) کی زیارت اور دعائے ندبہ پڑھنا مستحب موکد ہے۔ جبکہ اس دن روزہ رکھنا عید فطر کی مانند حرام ہے۔

تقریبا تمام اسلامی ممالک میں عید قربان کے دن سرکاری طور پر چھٹی ہوتی ہیں اور مسلمان اس دن جشن مناتے ہیں۔


قربانی کی سنت تاریخ کے آئینے میں

حضرت ابراہیم نے خواب میں اپنے بیٹے حضرت اسماعیل کی قربانی پر مامور ہوئے اور عید قربان کے دن آپ نے خدا کے حکم کی بجا آوری کی خاطر اسماعیل کو سرزمین منا میں قربانی کیلئے لے گئے۔ جب منا میں جمرہ اول کے مقام پر پہنچا تو شیطان ان کے سامنے ظاہر ہوا اور حضرت ابراہیم کو ورغلانے کی کوشش کی تو حضرت ابراہیم نے سات پتھر مار کر اسے بھگایا اسی طرح جمرہ دوم اور سوم کے مقام پر یہ عمل تکرار ہوا یوں حضرت ابراہیم کا یہ عمل حج کے اعمال میں شامل ہوا اور آج ہر جاجی پر واجب ہے کہ حج کے دوران اس عمل کی پیروی کرتے ہوئے شیطان کو کنکریاں ماریں۔

حضرت ابراہیم اسماعیل کو لے کر قربان گاہ میں پہنچا اور اپنے لخت جگر کو خدا کی راہ میں قربان کرنے کا مصمم ارادہ کیا اور قربانی کرتے وقت اسماعیل کی پیشانی کو زمین پر رکھا اور تیز چاقو کے ذریعے اسماعیل کا گلا کاٹنے کیلئے اس کی گردن پر چھری پھیری لیکن چھری نے گردن کو نہیں کاٹی۔ جب خدا نے باپ بیٹے کی اخلاص کو دیکھا تو ان کی قربانی کو قبول کیا اور جبرائیل کے ساتھ ایک مینڈھے کو اسماعیل کے بدلے قربانی کیلئے بھیجا یوں حضرت ابراہیم نے اس حیوان کی قربانی خدا کی راہ میں پیش کی [1]یہاں سے قربانی کی سنت مرسوم ہوئی اور آج قربانی کرنا حج کے واجب ارکان میں سے ہے اور دنیا بھر میں مسلمان اپنی بساط کے مطابق اس سنت پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کرتے ہیں یوں ہر سال اس دن ہزااروں لاکھوں کی تعداد میں حیوانات ذبح کرکے غریبوں میں تقسیم کرتے ہیں۔

عید قربان کی شب و روز کے اعمال

امام صادق(ع) اپنے اجداد سے نقل کرتے ہیں: "امام علی(ع) سال میں چار رات شب بیداری کرنا پسند فرماتے تھے، ماہ رجب کی پہلی رات، ماہ شعبان کی پندرہویں رات، عید فطر کی رات اور عید قربان کی رات" اور یہاں شب بیداری سے مراد عبادات میں مشغول رہنا ہے۔ اسی طرح عید کی دن اور رات میں امام حسین(ع) کی زیارت بھی مستحب ہے۔[2]

عید قربان کے دن کے اعمال

عید قربان کا دن ایک بافضیلت دن ہے جس میں مختلف اعمال نقل ہوئی ہیں:

  • غسل کرنا: علامہ مجلسی کے بقول اس دن غسل کرنا سنّت مؤكّدہ ہے یہاں تک کہ بعض علماء اس دن غسل کرنے کو واجب سمجھتے تھے۔
  • ہماز عید سے پہلے اور بعد میں ماثور دعاوں کا پڑھنا مستحب ہے جن میں سے بہترين دعا صحیفہ سجادیہ کی 48ویں دعا ہے جو این جملوں سے شروع ہوتا ہے: اسی طرح اسی کتاب کی 46ویں دعا کا پڑھنا بھی مستحب ہے۔[3]
  • دعائے ندبہ: دعائے ندبہ کا اس دن اور دوسرے اعیاد میں پڑھنا مستحب ہے۔
  • قربانی كرنا: قربانی کرنا حاجیوں پر واجب ہے لیکن دوسرے مسلمانوں پر اس دن قربانی کرنا مستحبّ مؤكّد ہے یہاں تک کہ بعض فقہاء صاحب استطاعت افراد پر اس کا انجام دینے کو واجب قرار دیتے ہیں۔ اسی طرح نماز کے بعد اس قربانی کے گوشت سے کھانا بھی مستحب ہے۔ [4] قربانی کرتے وقت اس دعا کا پڑھنا مستحب ہے جسے امام صادق(ع) نے نقل فرمایا ہے: [5] حدیث میں آیا ہے کہ امام صادق (ع) نے فرمایا: امام سجاد(ع) اور امام باقر(ع) قربانی کے گوشت کو تین حصوں میں تقسیم فرماتے تھے: ایک حصے کو ہمسایوں میں دوسرے حصے کو نیازمندوں میں تقسیم فرماتے تھے جبکہ تیسرے حصے کو اہل خانہ کیلئے رکھتے تھے۔[6]
  • اس دن کی مشہور تکبیریں: موسم حج میں منا میں تشریف رکھنے والے حاجیوں کیلئے مستحب ہے کہ 15 یومیہ نمازوں کے بعد این تکبیروں کو پڑھیں؛ یعنی عید کے دن نماز ظہر سے شروع کرے اور تیرہویں دن کی نماز صبح تک پڑھتے رہیں۔ لیکن وہ لوگ جو حج پر نہیں ہیں ان کیلئے دس نمازوں کے بعد این تکبیروں کا پڑھنا مستحب ہے یعنی عید کے دن ظہر کی نماز سے شروع کرکے بارہویں روز نماز صبح تک پڑھیں۔ وہ تکبیریں کتاب كافی کے مطابق اسطرح ہیں: [7]

عید قربان کے دن روزہ رکھنا

عید قربان کے دن روزہ رکھنا حرام ہے جس طرح عید فطر کے دن روزہ رکھنا حرام ہے۔ [9]

مناسک حج میں اس دن کے مخصوص اعمال

عید کے دن حاجی صبح سرزمین منا میں چلے جاتے ہیں اور اس دن درج ذیل اعمال انجام دیتے ہیں:

  1. رمی جمرہ
  2. قربانی
  3. حلق و تقصیر

یاد رہے قربانی جمرہ عقبہ کے بعد انجام دیا جاتا ہے۔[10]

حج میں قربانی کی شرایط

حج تمتع انجام دینے والوں پر ایک "ہدی" کی قربانی دینے واجب ہے اور ہدی سے مراد اونٹ یا گائیں یا بھیڑ کے ہیں۔ البتہ سب سے پہلے اونٹ اور پھر گائیں کی قربانی بہتر ہے۔ مذکورہ حیوانا کے علاوہ باقی حیوانوں کی قربانی کافی نہیں ہے۔[11] احتیاط مستحب یہ ہے کہ ذبیحہ کو تین حصوں میں تقسیم کریں: ایک حصہ ہدیہ دوسرا حصہ صدقہ اور تیسرا حصہ گھر والوں کیلئے۔[12]

اسلامی ممالک میں عید قربان کی حیثیت

عید قربان کے دن تمام اسلامی ممالک میں سرکاری طور پر چھٹی اور تمام ادارات بند رہتے ہیں۔ عید کی چھٹیاں معمولا ایک دن سے ایک ہفتے تک ہوتی ہیں۔ اس دن کے حوالے سے مختلف ممالک میں مختلف جشن اور محافل منعقد ہوتے ہیں۔[13]

حوالہ جات

  1. صافات، آیہ۱۰۴-۱۰۵.
  2. ملکی تبریزی، میرزا جواد، المراقبات، ص ۳۷۱.
  3. مجلسی، زادالمعاد، ص ۴۲۶-۴۲۷.
  4. مجلسی، زادالمعاد، ص ۴۲۷-۴۲۸.
  5. مجلسی، زاد المعاد، ص۴۲۸.
  6. سید بن طاووس، اقبال، ص ۴۵۱.
  7. کلینی، الکافی، ج۴، ص۵۱۷.
  8. قمی، عباس، مفاتیح الجنان، ص ۴۴۵.
  9. نجفی، جواهر الکلام، ج ۱۶، ص۳۲۴.
  10. عطائی اصفہانی، علی،اسرار حج، ص ۱۲۶-۱۲۳.
  11. امام خمینی، مناسک حج، ص ۲۰۷.
  12. امام خمینی، مناسک حج، ص ۲۱۳.
  13. جام جم آنلاین، سایت سازمان تبلیغات اسلامی


مآخذ

  • دہخدا، علی اکبر، لغت‌نامہ.
  • خمینی، سید روح اللہ، مناسک حج، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی (رہ)، ۱۳۸۶ش.
  • سید بن طاووس، اقبال الاعمال، تہران، دارالکتب الاسلامیہ، ۱۳۶۷ش.
  • ضیاءآبادی، سید محمد، حج برنامہ تکامل، تہران، دارالکتب الاسلامیہ، بی‌تا.
  • عطائی اصفہانی، علی، اسرار حج، قم.
  • قمی، شیخ عباس، مفاتیح الجنان، قم، اسوہ.
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تہران، دارالتب الاسلامیہ، بی‌تا.
  • مجلسی، محمدباقر، زادالمعاد، قم، جلوہ کمال، ۱۳۸۹ش.
  • ملکی تبریزی، میرزا جواد، المراقبات، بیروت، دارالاعتصام، بی‌تا.
  • نجفی، محمدحسن، جواہرالکلام، بیروت، دار احیاء التراث العربی، ۱۳۶۲ش.