فروع دین

ويکی شيعه سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
اسلام
کتیبه مسجد.png
اصول دین توحید • عدل  • نبوت  • امامت  • قیامت
فروع دین نماز  • روزہ  • حج  • زکٰوۃ  • خمس  • جہاد  • امر بالمعروف  • نہی عن المنکر  • تولی  • تبری
اسلامی احکام کے مآخذ قرآن  • سنت  • عقل  • اجماع  • قیاس(اہل سنت)
اہم شخصیات پیغمبر اسلام(ص)  • اہل بیت  • ائمہ(ع)  • خلفائے راشدین (اہل سنت)
اسلامی مکاتب شیعہ: امامیہ  • زیدیہ  • اسماعیلیہ  •
اہل سنت: سلفیہ  • اشاعرہ  • معتزلہ  • ماتریدیہ  • خوارج
ازارقہ  • نجدات  • صفریہ  • اباضیہ
مقدس شہر مکہ  • مدینہ  • قدس  • نجف  • کربلا  • کاظمین  • مشہد  • سامرا  • قم
مقدس مقامات مسجد الحرام  • مسجد نبوی  • مسجد الاقصی  • مسجد کوفہ  • حائر حسینی  • مشاہد شریفہ
اسلامی حکومتیں خلافت راشدہ  • اموی  • عباسی  • قرطبیہ  • موحدین  • فاطمیہ  • صفویہ  • عثمانیہ
اعیاد عید فطر  • عید الاضحی  • عید غدیر  • عید مبعث
مناسبتیں پندرہ شعبان  • تاسوعا  • عاشورا  • لیلۃ القدر  • یوم القدس

فروع دین ایک فقہی اور کلامی اصطلاح ہے جو اصول دین کے مقابلے میں اسلام کے عملی احکام کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ مشہور فروع دین دس ہیں : نماز، روزہ، خمس، زکات، حج، جہاد، امر بالمعروف و نہی عن المنکر، تولی اور تبری.

دینی تعلمیات کی قسمیں

مشہور اور رائج تقسیم بندی کے مطابق علماء نے بعض روایات[1] کی روشنی میں اسلامی تعلیمات کو تین حصوں میں تقسیم کئے ہیں۔

  1. عقاید: فکری بنیادی اعتقادات (اصول دین یا عقاید) جن میں اساسی ترین اصل توحید ہے۔
  2. اخلاق: اخلاقی فضائل جن میں سے بعض یہ ہیں: عدالت، شجاعت اور عفت وغیرہ۔
  3. احکام : اسلام کے عملی اور عبادی احکام جن میں سے مشہور ترین احکام فروع دین کے نام سے مشہور ہیں۔ عملی احکام، آداب، مناسک اور عبادتوں پر مشتمل ہوتا ہے۔

عقاید کو علم کلام، احکام کو علم فقہ اور اخلاق کو علم اخلاق میں مورد بحث قرار دیتے ہیں۔.[2]

منشأ تقسیم بندی

با وجود اس کے کہ اصول دین اور فروع دین کی اصطلاح زیادہ مشہور اور اسلام میں دینی اعتبار سے ایک کلیدی کردار ادا کرتی ہے لیکن قرآن اور روایات میں اسلامی تعلیمات کو اصول دین اور فروع دین میں تقیسم کرنے کا کوئی خاص معیار موجود نہیں ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ اصطلاحیں کلامی اصطلاح ہیں جنہیں متکلمین نے وضع کئے ہیں۔

مخفی نہ رہے احادیث میں اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ اسلام، اصول اور فروع پر مشتمل ہے۔ لیکن یہ بات موجودہ تقسیم بندی سے متفاوت ہے۔

مثلا ایک حدیث میں حضرت امام صادق علیہ السلام سے سوال کیا گیا کہ "مبانی" کسے کہا جاتا ہے؟ وہ کونسی جیزیں ہیں جن جن پر اعتقاد رکھنا سب پر ضروری ہے اور کسی کو بھی ان کے حوالے سے کوتاہی کی گنجایش نہیں ہے اور جو بہی اس حوالے سے کوتاہی کرے اس کا دین فاسد ہوجاتا ہے اور اسکا عمل خدا کے ہاں مورد قبول واقع نہیں ہوگا؟

امام علیہ السلام نے جواب دیا: خدا کی وحدانیت (توحید) اور پیغمبر اکرم(ص) کی نبوت پر ایمان اور جو چیز خدا کی طرف سے نازل ہوا ہے جیسے زکات اور ولایت، کا اقرار کرنا۔ [3] خلاصہ یہ کہ اگرچہ اصول دین اور فروع دین جو اس وقت مشہور اور رائج ہیں، قرآن اور روایات میں اسی طرح موجود نہیں ہیں لیکن متکلمین اور بعض فقہاء نے آیات اور روایات میں تحقیق کر کے اصول دین اور فروع دین کو لوگوں کو سمجھنے اور سمجھانے میں آسانی پیدا کرنے کی خاطر موجودہ صورت میں پیش کئے یہں۔[4]

فروع دین

مشہور اور رائج تقسیم بندی کے مطابق فروع دین دس ہیں:

صرف ان دس مورد کا خصوصی طور پر نام لینا شاید ان کی اہمیت کے پیش نظر ہو۔ کیونکہ بہت ساری آیات اور روایات میں ان کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ ورنہ فروع دین صرف درج بالا موارد تک محدود نہیں ہیں بلکہ خرید و فروش (معاملاتازدواج، قصاص، دیات، قضاوت وغیرہ بھی فروع دین میں شامل ہیں۔

ان احکام میں سے بعض انسان اور خدا کے درمیان رابطے کو احکام اور قوانین کی صورت میں بیان کرتی ہیں جیسے نماز، روزہ اور حج وغیرہ جبکہ بعض احکام انسانوں کا ایک دوسرے کے درمیان موجود رابطے کو بیان کرتی ہیں جیسے جہاد اور خمس وغیرہ۔ .[5]

فروع دین پر عمل کرنا

فروع دین، ایسے امور کے مجموعے کا نام ہے جن پر عمل نہ کرنا- انکار قلبی کے بغیر- انسان کے فاسق ہونے کا موجب ہوتا ہے بنابراین فروع دین پر عمل کرنا واجب اور ضروری ہے۔[6] جبکہ اس کے مقابلے میں اصول دین ایسے اعتقادات کو کہا جاتا ہے جو اسلام کی بنیاد اور اساس کو تشکیل دیتے ہیں اور ان پر اعتقاد رکھے بغیر مسلمان نہیں ہوا کرتا اور ان میں سے کسی ایک کا انکار کافر ہونے کا سبب بنتا ہے۔

فروع دین کے حوالے سے اسلام میں ہر مکلف پر واجب ہے یا خوداجتہاد کے درجے تک پہنچے اور اپنے فتوے کے مطابق عمل کرے یا احتیاط پر عمل پیرا ہو یا کسی مجتہد کی تقلید کرے .[7]

فروع دین کے استنباط کا طریقہ

اسلامی علوم میں میں سے علم فقہ اور اصول، ایسے علوم ہیں جن میں فروع دین کے حوالے سے پیدا ہونے والے سوالات کا جواب دیا جاتا ہے اور ان کے مقابلے میں انسان کی ذمہ داری کو معین کرتا ہے۔.[8] شیعہ فقہاء ان علوم کے ذریعے فروع دین کو قرآن و سنت سے استنباط کرتے ہیں۔

منابع استنباط فروع دین

وہ منابع جن سے فقہاء ااحکام عملی کو اسنتباط کرتے ہیں وہ یہ ہیں: کتاب (قرآنسنّت، اجماع اور عقل.[9]

اصول اور فروع دین میں فرق

اصول دین اور فروع دین میں کچھ تفاوت موجود ہے:

  1. اصول دین کا تعلق انسان کے عقیدے اور نظریے سے ہے۔ جبکہ فروع دین انسان کے عمل سے مربوط ہے.[10]
  2. اصول دین پر یقین حاصل ہونا ضروری ہے اس بنا پر اصول دین میں تقلید کرنا جایز نہیں ہے۔ لیکن فروع دین تبلیغ اور بیان‌ کا محتاج ہے اور ان میں حکم عقل کافی نہیں ہے اس بنا پر فروع دین میں تقلید جایز بلکہ اگر خود مجتہد نہ ہو اور احتیاط پر بہی عمل نہ کرسکتا ہو تو تقلید کرنا واجب ہے۔ .[11]
  3. اصول دین توصیفی ہیں۔ جبکہ فروع دین، انشائی ہیں۔.[12]
  4. در اصول دین میں اختلاف نہیں ہیں جبکہ فروع دین میں کبھی کبھار اختلاف پایا جاتا ہے۔یہ اس وجہ سے ہے کہ اصول دین میں ظن اور گمان پر عمل کرنا جایز نہیں ہے بلکہ یقین ہونا ضروری ہے جبکہ فروع دین میں ظنّ معتبر پر کبھی کبھار عمل کیا جا سکتا ہے۔.[13]
  5. فروع دین میں نسخ کا امکان ہے جبکہ اصول دین میں کسی صورت میں نسخ کا امکان نہیں ہے۔ [14]
  6. شیعہ علماء اصول دین کو پانچ اصل مانتے ہیں جبکہ فروع دین کو آٹھ یا دس جانتے ہیں۔ [15] یہاں تک کہ چہ بسا جو چیز اصول دین کے زمرے میں آتی ہے کو فروع دین میں شمار کیا ہے۔[16]

حوالہ جات

  1. قال النبی (ص): إنَّمَا العِلْمُ ثَلاَثَة: آیة مُحْكَمَة، أَوْ فَرِیضَة عَادِلَة، أَوْ سُنَّة قَائِمَة؛ وَمَا خَلاَهنَّ فَهوَ فَضْلٌ. أصول‌ كافی، ج‌ ۱، ص‌ ۳۲، حدیث‌ ۱، كتاب‌ فضل‌ العلم‌، طبعة المطبعة الحیدریة.
  2. مرتضی مطہری، آشنایی با علوم اسلامی، ج ۲، انتشارات صدرا، ۱۳۷۳ش، ص ۱۵و۱۶.
  3. کلینی، کافی، ج ۲، ص ۲۱.
  4. دایرۃ المعارف بزرگ اسلامی، مدخل "اصول دین.
  5. دائرۃ المعارف تشیع، ج۲، ص۱۵۲.
  6. فرہنگ معارف اسلامی، ج۳، ص۴۴۲.
  7. فلاح‌زادہ، محمد حسین، آموزش فقہ، قم: انتشارات الہادی، چاپ بیست و سوم، تابستان ۸۴، ص ۲۷.
  8. آشنایی با علوم اسلامی، ص۱۳-۱۵؛ مناہج الاصول الی علم الاصول، ج۱، ص۴۵-۵۴.
  9. اصل الشّیعۃ و اصولہا، ص۱۱۴-۱۱۵.
  10. آموزش دین، ص۱۸- ۱۰.
  11. المیزان ج۱۳، ص۵۸-۵۹.
  12. کفایۃ الاصول، ص۴۱- ۳۴.
  13. شریعت در آینہ معرفت، ص۳۶۶- ۳۶۰.
  14. کشّاف اصطلاحات الفنون، ج۱، ص۷۶۰.
  15. مجموعہ آثار، ج۱۷، ص۲۲۰.
  16. معارف و معاریف، ج۴، ص۱۷۱۵.


منابع

  • فلاح‌زادہ، محمد حسین، آموزش فقہ، قم: انتشارات الہادی، چاپ بیست و سوم، تابستان ۸۴.
  • مرتضی مطہری، آشنایی با علوم اسلامی، انتشارات صدرا، ۱۳۷۳ش.