فروع دین

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مشہور احکام
توضیح المسائل2.png
نماز
واجب نمازیں یومیہ نمازیںنماز جمعہنماز عیدنماز آیاتنماز میت
مستحب نمازیں نماز تہجدنماز غفیلہنماز جعفر طیارنماز امام زمانہنماز استسقاءنماز شب قدرنماز وحشتنماز شکرنماز استغاثہدیگر نمازیں
دیگر عبادات
روزہخمسزکاتحججہاد
امر بالمعروف و نہی عن المنکرتولیتبری
احکام طہارت
وضوغسلتیممنجاساتمطہرات
مدنی احکام
وکالتوصیتضمانتکفالتارث
عائلی احکام
شادی بیاهمتعہتعَدُّدِ اَزواجنشوز
طلاقمہریہرضاعہمبستریاستمتاع
عدالتی احکام
قضاوتدیّتحدودقصاصتعزیر
اقتصادی احکام
خرید و فروخت (بیع)اجارہقرضسود
دیگر احکام
حجابصدقہنذرتقلیدکھانے پینے کے آدابوقفاعتکاف
متعلقہ موضوعات
بلوغفقہشرعی احکامتوضیح المسائل
واجبحراممستحبمباحمکروہ

فروع دین اسلام کے عملی احکام کو کہا جاتا ہے جن پر عمل کرنا ہر مسلمان کا شرعی وظیفہ ہے۔ فروع دین اصول دین کے مقابلے میں ہے اور اصول دین اسلام کے ان بنیادی اعتقادات کو کہا جاتا ہے جن پر عقیدہ رکھے بغیر کوئی شخص مسلمان نہیں بن سکتا۔ شیعہ نطقہ نگاہ سے فروع دین دس ہیں: نماز، روزہ، خمس، زکات، حج، جہاد، امر بالمعروف، نہی عن المنکر، تَوَلّی اور تَبَرّی۔

فروع دین کو علم فقہ میں قرآن، سنت، عقل اور اجماع کے ذریعے ثابت کئے جاتے ہیں۔ تمام فقہاء روز مرّہ زندگی میں اکثر پیش آنے والے احکام کو سیکھنا اور انہیں یاد رکھنا ہر مسلمان پر واجب سمجھتے ہیں۔

دینی تعلمیات کی قسمیں

علماء دینی تعلیمات کو دو بنیادی اقسام میں تقسیم کرتے ہیں:[1]

  1. اصول دین: ان بنیادی اعتقادات کو کہا جاتا ہے جن پر اعتقاد رکھنا مسلمان ہونے کیلئے ضروری ہے۔[2]
  2. فروع دین: اس سے مراد اسلام کے عملی احکام ہیں جن پر عمل کرنا ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے۔ یہ احکام زندگی کے مختلف شعبوں میں انسان کی فردی اور اجتماعی ذمہ داریوں کو شامل کرتے ہیں۔ فقہی کتابوں میں عموما احکام کو عبادات اور معاملات میں تقسیم کرتے ہیں۔[3]

تقسیم بندی کا معیار

اسلامی تعلیمات کو اصول دین اور فروع دین میں تقسیم کرنے کا کوئی معیار قرآن و سنت میں نہیں ملتا۔[4] اس بنا پر اس تقسیم بندی کو متکلمین کی طرف نسبت دی جاتی ہے۔[5] البتہ بعض احادیث میں اس بات کی طرف اشارہ ملتا ہے کہ اسلامی تعلیمات میں سے بعض دوسروں کی نسبت بنیادی اور خاص اہمیت کے حامل ہیں۔[6]

مثلا ایک حدیث میں امام باقرؑ فرماتے ہیں کہ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے: نماز، زکات، روزہ، حج اور ولایت اور ان سب میں ولایت اور امامت کو زیادہ برتری اور فضیلت حاصل ہے۔[7] اسی طرح ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ جب امام صادقؑ سے اسلام کے ستون اور مبانی کے بارے میں سوال گیا تو آپ نے جواب میں فرمایا: خدا کی وحدانیت اور پیغمبر اکرمؐ کی نبوت کا اقرار زکات کی ادائیگی اور آل محمدؑ کی ولایت پر ایمان۔[8]

اقسام

مشہور اور رائج تقسیم بندی کے مطابق فروع دین دس ہیں:

سیکھنے کا حکم

تمام فقہاء روز مرّہ زندگی میں اکثر پیش آنے والے مسائل جیسے نماز، روزہ، خمس اور زکات وغیرہ کے احکام کو سیکھنا ہر مسلمان پر واجب سمجھتے ہیں۔[9] اصول دین پر دلائل کے ساتھ علم اور یقین حاصل ہونا ضروری ہے،[10] لیکن اس کے برخلاف فروع دین پر گمان بھی حاصل ہو تو کافی ہے۔[11] البتہ دینی معاملات میں گمان مطلق کافی نہیں بلکہ اس کے بھی کچھ شرائط ہیں جسے دینی اصطلاح میں ظن معتبر کہا جاتا ہے۔[12]

تمام مراجع کے فتوای کے مطابق ہر فروع دین پر تین طرح سے علم حاصل کر سکتا ہے:

  1. یا خود مجتہد ہو اور دینی احکام کو ان کے منابع سے معتبر دلائل کے ساتھ استنباط کرے۔ دینی اصطلاح میں اسے اجتہاد کہا جاتا ہے۔
  2. یا دینی معاملات میں اس طرح احتیاط سے کام لے یعنی تمام ممکنہ احتمالات پر عمل کرے کہ اسے یقین حاصل ہو کہ اس کے گردن سے یہ عمل ساقط ہو گیا ہے۔ مثلا اگر کسی عمل کے بارے میں شک ہو کہ یہ عمل مستحب ہے یا واجب تو اسے ضرور انجام دے اسی طرح اگر کسی کام کے متعلق شک ہو کہ آیا یہ عمل حرام ہے یا نہیں تو اسے ضرور ترک کرنا چاہئے۔ البتہ احتیاط پر عمل کرنا ہر کسی کی بس کی بات نہیں کیونکہ ایک تو احتیاط پر عمل کرنے کے لئے اس کے تمام ممکنہ احتمالات پر عمل حاصل ہونا ضروری ہے تو دوسری طرف ممکن ہے بعض اوقات ایک ہی عمل کو کئی دفعہ انجام دینا پڑے جس سے انسان کے نجی معاملات میں خلل واقع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
  3. اگر یہ دونوں صورتیں ممکن نہیں ہو یعنی نہ خود مجتہد ہو اور نہ احتیاط پر عمل کر سکتا ہو تو اس صورت میں کسی مجتہد کی تقلید کرے یعنی اس کے کہنے پر عمل کرے۔[13]

استنباط کا طریقہ

فروع دین کو قرآن، سنت، عقل اور اجماع سے استنباط کیا جاتا ہے جسے شرعی اصطلاح میں ادلہ اربعہ کہا جاتا ہے۔[14] اسلامی علوم میں سے علم فقہ میں فروع دین کو مذکورہ منابع سے معتبر دلائل کے ساتھ استنباط کیا جاتا ہے۔[15] شرعی احکام کو ادلہ اربعہ سے استخراج کرنے میں علم فقہ بعض دوسرے علوم من جملہ ادبیات عرب، تفسیر، حدیث، رجال اور خاص کر اصول فقہ سے بھی مدد لیتے ہیں۔[16] علم اصول فقہ حقیقت میں احکام شرعی کو ان کے متعلقہ منابع سے استنباط کرنے کے صحیح قوانین اور طریقوں کا مجموعہ ہے۔[17]

فرق

اصول دین اور فروع دین میں کچھ تفاوت موجود ہے:

  1. اصول دین کا تعلق عقیدے سے ہے جبکہ فروع دین عمل سے مربوط ہے۔[18]
  2. اصول دین پر یقین حاصل ہونا ضروری ہے جبکہ فروع دین پر گمان بھی کافی ہے۔
  3. اصول دین میں تقلید جایز نہیں ہے جبکہ فروع دین میں اگر خود مجتہد نہ ہو اور احتیاط پر بھی عمل نہ کرسکتا ہو تو تقلید کرنا واجب ہے۔ .[19]
  4. اصول دین توصیفی ہیں جبکہ فروع دین انشائی ہیں۔[20]
  5. اصول دین میں اختلاف نہیں ہیں جبکہ فروع دین میں کبھی کبھار اختلاف پایا جاتا ہے۔ یہ اس وجہ سے ہے کہ اصول دین میں ظن اور گمان پر عمل کرنا جایز نہیں ہے بلکہ یقین ہونا ضروری ہے جبکہ فروع دین میں ظنّ معتبر پر کبھی کبھار عمل کیا جا سکتا ہے۔[21]
  6. فروع دین میں نسخ کا امکان ہے جبکہ اصول دین میں کسی صورت میں نسخ کا امکان نہیں ہے۔ [22]
  7. مشہور اور رائج تقسیم بندی کے تحت شیعہ علماء اصول دین کو پانچ قسموں میں جبکہ فروع دین کو آٹھ یا دس قسموں میں تقسیم کرتے ہیں۔ [23]

متعلقہ صفحات

حوالہ جات

  1. علوی، عقایدالمؤمنین، ۱۴۱۱ق، ص۱۳.
  2. ایضا، «اصول دین»، ص۲۸۲.
  3. مصباح یزدی، آموزش عقاید، ۱۳۸۴ش، ص۱۲؛ علوی، عقایدالمؤمنین، ۱۴۱۱ق، ص۱۳و۱۴، مؤسسہ دایرۃ المعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ، ۱۳۹۲ش، ص۶۸۹.
  4. ایضا، «اصول دین»، ص۲۸۲.
  5. ایضا، «اصول دین»، ص۲۸۲.
  6. ایضا، «اصول دین»، ص۲۸۲.
  7. كلینی‌، کافی، ۱۴۰۷ق، ج۲، ص۱۸.
  8. كلینی‌، کافی، ۱۴۰۷ق، ج۲، ص۱۹و۲۰.
  9. مؤسسہ دایرۃ المعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ، ۱۳۹۲ش، ص۶۸۹.
  10. امام خمینی، توضیح المسائل(مُحَشّی)، ۱۳۹۲ش، ج۱، ص۱۲و۱۳.
  11. مؤسسہ دایرۃ المعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ، ۱۳۹۲ش، ص۶۸۹.
  12. مؤسسہ دایرۃ المعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ، ۱۳۹۲ش، ص۶۸۹و۶۹۰.
  13. امام خمینی، توضیح المسائل(مُحَشّی)، ۱۳۹۲ش، ج۱، ص۱۱تا۱۳.
  14. مطہری، مجموعہ آثار، ۱۳۹۰ش، ج۲۰، ص۲۹.
  15. مطہری، مجموعہ آثار، ۱۳۹۰ش، ج۲۰، ص۲۶.
  16. مطہری، مجموعہ آثار، ۱۳۹۰ش، ج۲۰، ص۲۷.
  17. مطہری، مجموعہ آثار، ۱۳۹۰ش، ج۲۰، ص۲۹.
  18. آموزش دین، ص۱۸- ۱۰.
  19. المیزان ج۱۳، ص۵۸-۵۹.
  20. کفایۃ الاصول، ص۴۱- ۳۴.
  21. شریعت در آینہ معرفت، ص۳۶۶- ۳۶۰.
  22. کشّاف اصطلاحات الفنون، ج۱، ص۷۶۰.
  23. مجموعہ آثار، ج۱۷، ص۲۲۰.


مآخذ

  • امام ‌خمينى، سيد روح اللہ، توضیح المسائل(مُحَشّی)، تحقیق سيدمحمدحسين بنى‌ہاشمى خمينى‌، قم، ‌دفتر انتشارات اسلامى، چاپ ہشتم، ۱۳۹۲ق.‌
  • علوی، عادل، عقائدالمؤمنین، قم، دارالذخائر، چاپ اول، ۱۴۱۱ق.
  • کلینی، محمد بن ‌یعقوب، الکافی، تحقیق علی‌اکبر غفارى و محمد آخوندى، تہران، دارالكتب الإسلاميۃ، چاپ چہارم، ۱۴۰۷ق‏.
  • گذشتہ، ناصر، «اصول دین»، دانشنامہ جہان اسلام، ج۱، تہران، مؤسسہ دایرۃ المعارف الفقہ الاسلامی، ۱۳۷۴ش.
  • مصباح یزدی، محمدتقی، آموزش عقاید، تہران، امیرکبیر، چاپ ہجدہم، ۱۳۸۴ش.
  • مطہری، مرتضی، مجموعہ آثار، تہران، صدرا، ۱۳۹۰ش/۱۴۳۲ق.
  • مؤسسہ دایرۃ المعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ مطابق مذہب اہل بیت علیہم السلام، چاپ اول، ۱۳۹۲ش.ہ