کاظمین

ويکی شيعه سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
کاظمین کی سیٹلائٹ تصویر

کاظمین (عربی=الکاظمیة) بغداد کے جنوب میں ایک علاقے کا نام ہے جو عراق میں دریائے دجلہ کے مغرب میں واقع ہے۔ یہ علاقہ دو معصوم، امام کاظم(ع) اور امام جواد(ع) کی زیارت گاہ کی وجہ سے شیعوں کے مقدس مقامات میں شمار ہوتا ہے۔ شیعوں کی نگاہ میں اس کی اہمیت کے باعث بعض لوگ اس علاقے کو ایک مستقل شہر قرار دیتے ہیں۔

بعض شیعہ علماء جیسے شیخ مفید اور خواجہ نصیرالدین طوسی بھی اس شہر میں مدفون ہیں۔

نامگذاری کی وجہ

اس شہر کو "کاظمین" کہنے کی وجہ شیعوں کے دو امام یعنی امام کاظم(ع) و امام جواد(ع) کے روضوں کا اس شہر میں موجود ہونا ہے۔[1] اس علاقے کے دیگر نام: "کاظمیہ"، "بلدۃ الکاظمی‌" اور "المشہد الکاظمی‌" ہیں۔ [2]

محل وقوع اور موسم

کاظمین بغداد کے پڑوس میں واقع ہے اور آجکل اس شہر کی توسیع کی وجہ سے یہ شہر بغداد میں شامل ہوا ہے۔ یہ شہر دریائے دجلہ کے مغرب میں واقع ہے جسکی وجہ سے سال کے بعض ایام جیسے موسم بہار میں یہاں موسلہ دھار بارش ہوتی ہے۔ [3] اسی وجہ سے عباسیوں کے دور حکومت میں بغداد اور اس کے اطراف کے ذرخیز علاقے بعنوان دارالخلافہ اور حکمران طبقہ کیلئے سیر گاہ تھے. [4]

کاظمین تاریخ کے آئینے میں

کاظمین خاص جغرافیایی حالات کی وجہ سے قدیم الایام سے لوگوں کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ اس کی تاریخ قبل مسیح تک پہنچتی ہے۔ یہ علاقہ ساسانیوں کے دور میں "تسوج‌" نامی ایک ایرانی پادشاہ کا باغ تھا اور اسے اسی نام سے یاد کیا جاتا تھا۔ [5] سنہ 38 ہجری قمری میں جنگ نہروان کے وقت امام علی(ع) کے حکم سے جنگ میں شہید ہونے والے شہداء کے جسد خاک کو یہاں دفن کیا گیا اور اسے "مقبرۃ الشہداء‌" کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔ عباسی دور حکومت میں بغداد کی توسیع کی ساتھ جب اسے دارالخلافہ کا درجہ دیا گیا تو اس وقت یہ قبرستان "شونیزی‌" کے نام سے معروف تھا جسے خلیفہ منصور دوانیقی نے خاندان عباسی کے بزرگان کو یہاں دفن کرنے کیلئے انتخاب کیا اور اس کا نام بعد میں "مقابر قریش‌" رکھا گیا۔[6]

ہارون الرشید کے حکم سے سندی بن شاہک کے ہاتھوں جب امام کاظم(ع) کو زہر دی گئی جس سے امام کی شہادت واقع ہوئی تو امام(ع) کے جسد مبارک کو بھی اسی قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔ امام عالی مقام کے یہاں دفن ہونے کے بعد آپ(ع) کا مرقد شریف "مشہد باب التّبَن‌" کے نام سے معروف ہوا۔ سنہ 220 ہجری قمری کو جب امام جواد(ع) کو بھی اپنے جد امجد کے ساتھ اس جگہ سپرد خاک کیا گیا جو آجکل کاظمین کے نام سے شیعیان علی ابن ابی طالب کیلئے ایک مقدس مقام کی حیثیت رکھتا ہے اور ہر سال ہزاروں لاکھوں لوگ دنیا کے گوشہ و کنار سے ان دو معصوم اماموں کی زیارت کیلئے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر زیارت کیلئے آتے ہیں اور اپنی مرادیں پا کر یہاں سے واپس جاتے ہیں۔[7]

مسماری اور تعمیر نو

یہ منطقہ سیلاب، زلزلہ، داخلی اور مذہبی جنگہوں کی وجہ سے کئی دفعہ ویران یا جلا دیا گیا اور ہر دفعہ اس کی تعمیر نو ہوئی۔ [8] آل بویہ بغداد کے شیعہ حکمران ہونے کے ناطے اس شہر اور ان دو اماموں کے روضات مقدسات کی تعمیر نو میں زیادہ دلچسپی رکھتے تھے۔[9] علاءالدین جوینی جو بغداد کے حکمرانوں میں سے ایک تھا، نے بھی سنہ 651 ہجری قمری میں بغداد پر ہلاکو خان کے حملے اور اس کی بربادی کے بعد شہر کاظمین اور ان دو اماموں کے روضات کی مرمت کی۔ [10]

کاظمین کے تاریخی اور مذہبی مقامات

  • مسجد براثا اسی نام کے ایک محلے میں موجود مسجد ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ امام علی(ع) نے جنگ نہروان سے واپس لوٹتے وقت اس مسجد میں نماز پڑھی۔
  • مسجد صفوی جسے "شاہ اسماعیل صفوی" نے بنوایا جو ایک خاص اور منفرد خوبصورتی کی حامل ہے۔
  • مسجد المنطقہ جو «"مسجد العتیقہ" کے نام سے بھی مشہور ہے۔[11]

کاظمین میں مدفون شخصیات

کاظمین میں امام کاظم(ع) اور امام جواد(ع) کا آستانہ
  • امام

تفصیلی مضمون:حرم کاظمین

امام کاظم(ع) اور امام جواد(ع) شیعوں کے ساتویں اور نویں امام ہیں۔

  • سیاسی اور سماجی شخصیات
  • علماء اور بزرگان

متعلقہ مضامین

حوالہ جات

  1. اماکن زیارتی و سیاحتی عراق، ص۵۵.
  2. راہنمای اماکن زیارتی و سیاحتی در عراق، ص۲۶۲.
  3. الجغرافیہ الاجتماعیہ لمدینہ الکاظمیہ الکبری، ص۱۹.
  4. تاریخ کاظمین و بغداد، ص۱۱۵ – ۱۲۰.
  5. موسوعۃ العتبات المقدسۃ، ج۹، ص۱۱ و ۱۲. ۳۸.
  6. تاریخ بغداد، ج۱، ص۱۳۴.
  7. معجم البلدان، ج۱، ص۳۰۶.
  8. تاریخ کاظمین و بغداد، ۹۷ - ۱۰۰. عتبات عالیات عراق، ص۱۶۱.
  9. تاریخ کاظمین و بغداد، ص۱۱۵ - ۱۲۰.
  10. جولہ فی الاماکن المقدسہ، ص۱۱۰.
  11. اماکن زیارتی و سیاحتی عراق، ص۵۷ - ۶۰
  12. عتبات عالیات عراق. اماکن زیارتی و سیاحتی عراق، ص۵۷ - ۶۰.
  13. اماکن زیارتی و سیاحتی عراق، ص۵۷-۶۰.

مآخذ

  • اماکن زیارتی و سیاحتی عراق؛
  • راہنمای اماکن زیارتی و سیاحتی در عراق؛
  • الجغرافیہ الاجتماعیہ لمدینہ الکاظمیہ الکبری؛
  • تاریخ کاظمین و بغداد؛
  • موسوعۃ العتبات المقدسۃ؛
  • تاریخ بغداد؛
  • معجم البلدان؛
  • جولہ فی الاماکن المقدسہ، ص۱۱۰.

بیورنی لینکس