نیابت عامّہ

ویکی شیعہ سے
(نیابت عامہ سے رجوع مکرر)
شیعہ عقائد
‌خداشناسی
توحیدتوحید ذاتیتوحید صفاتیتوحید افعالیتوحید عبادیصفات ذات و صفات فعل
فروعتوسلشفاعتتبرک
عدل (افعال الہی)
حُسن و قُبحبداءامر بین الامرین
نبوت
خاتمیتپیامبر اسلام اعجازعدم تحریف قرآن
امامت
اعتقاداتعصمت ولایت تكوینیعلم غیبخلیفۃ اللہ غیبتمہدویتانتظار فرجظہور رجعت
ائمہ معصومینؑ
معاد
برزخمعاد جسمانی حشرصراطتطایر کتبمیزان
اہم موضوعات
اہل بیت چودہ معصومینتقیہ مرجعیت


نیابت عامّہ غیبت کبری میں شیعہ فقہاء کا امام مہدیؑ کے عمومی جانشین ہونا ہے۔ غیبت کبریٰ کے زمانہ میں شیعہ حضرات اپنے امام زمانہ سے کسی قسم کا کوئی رابطہ، مستقیم یا غیر مستقیم طور پر نہیں رکھتے۔ شیعہ ائمّہؑ کی روایات کی بنا پر اس غیبت کبریٰ کے زمانہ میں امام معصومؑ کی ذمّہ داری فقہاء کے کاندھوں پر ہے اور لوگوں کی دینی قیادت کا فریضہ بھی انہیں کی گردن پر ہے۔ نیابت عامّہ نیابت خاصہ کے مقابلہ میں ہے۔

مفہوم ‌شناسی

نیابت خاصہ کے زمانہ کے بعد تمام فقہاء کا امام معصومؑ کی جانشینی کو نیابت عامہ کہتے ہیں۔[1] غیبت صغرا، کے زمانہ میں امام مہدیؑ نواب اربعہ کے ذریعہ شیعوں سے ارتباط رکھتے تھے۔[2] سنہ 329 ھ، میں امام زمانہؑ، کے چوتھے نائب علی بن محمد سَمَری، کی وفات کے بعد امام کی طرف سے کوئی بھی نائب خاص منصوب نہیں ہوا۔ اس طرح سے شیعوں کا اپنے بارہویں امامؑ سے مستقیم اور غیر مستقیم ہر قسم کا ارتباط ختم ہوگیا اور اسی طرح سے امام کی طرف سے عصر وکالت بھی اختتام پذیر ہو گیا۔[3]

«نیابت عامہ» میں «عام» کا لفظ «خاص» کے مقابلہ میں ہے؛ اس معنیٰ میں کہ امام کے چار نائب خاص، کے بعد کوئی بھی خاص شخص امام مہدیؑ کی نیابت خاص کے عہدہ پر فائز نہیں ہے؛ بلکہ اب جو بھی نیابت کے شرائط پہ پورا اترے گا (مثلا فقاہت اور عدالت وغیرہ ۔۔۔) پر وہ امام معصومؑ کا جانشین اور نائب شمار کیا جائے گا اور وہ شخص مخصوص اختیارات اور ذمّہ داریوں کا حامل ہوگا۔[4]

امام علیہ السلام کے نائب عام کون؟

شیعہ احادیث میں، وہ لوگ جن کو یہ عہدہ دیا گیا ہے انکو مختلف عنوان کے تحت مثلا راوی حدیث، جو لوگ حلال اور حرام کو جانتے ہیں، فقہاء اور علماء کہ کر پہچنوایا گیا ہے۔[5] اس حدیث کی بنیاد پر غیبت کبریٰ کے زمانہ میں فقہاء کرام اور شیعہ علماء کرام امام معصوم علیہ السلام کی جانشینی کے عہدہ پر فائز ہیں۔ کتاب دعوی السفارة کے مولف محمد سَنَد نے ان احادیث کو اپنی کتاب میں جمع کیا ہے۔[6]

ولایت فقیہ کا نظریہ اور نیابت امام

شیعہ عقائد کے مطابق ائمّہ معصومین علیہم السلام کے مختلف اختیارات اور انکی متعدد ذمّہ داریاں ہوتی ہیں۔ موسوی خلخالی نے ان اختیارات کو دس عناوین کے تحت شمار کیا ہے۔[7] نیابت عامہ کی بنیاد پر، ائمّہ علیہم السلام کی ذمّہ داریوں اور اختیارات کا ایک بڑا حصّہ فقہاء کی طرف منتقل ہوتا ہے۔[8] شیعوں کے عقائد کے اعتبار سے امام علیہ السلام کی خوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ ہے کہ امام حکومتی امور میں بھی ولایت رکھتا ہے۔ بعض شیعہ علماء ، کی نظر میں فقیہ حکومتی امور میں امام معصوم کا نائب ہوتا ہے۔[9] یہ نظریہ ولایت فقیہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔[10]

نیابت عامہ کے سلسلہ میں احادیث

نیابت عامہ، کا روایی ماخذ وہ احادیث ہیں جو ائمہ معصومؑ سے پہنچی ہیں۔ ان میں سے مقبولہ عمر بن حنظلہ بھی ہے۔[11] اس روایت کی بنیاد پر، امام صادقؑ نے وضاحت فرمائی ہے کہ شیعوں کو چاہیئے کہ اپنے اختلافات کے حل کے لئے احادیث کے راوی، اور جو حلال اور حرام اور احکام کو سمجھتے ہیں، انکی طرف مراجعہ کریں اور وہ جس نے فقہاء کے حکم کا انکار کیا اس نے در حقیقت اپنے ائمّہ کے حکم سے سرتابی کی ہے۔[12] امام مھدی علیہ السلام سے ایک روایت نقل ہوئی ہے،جس میں مومنین سے کہا گیا ہے کہ وہ اس زمانہ غیبت میں پیش آنے والے واقعات و حادثات میں اہل بیت اطہارؑ کی احادیث بیان کرنے والے راویوں کی طرف مراجعہ کریں؛ کیوں کہ امام کی وضاحت کے مطابق «وہ راوی تمہارے اوپر میری طرف سے حجت ہیں اور میں ان پر خدا کی طرف سے حجّت ہوں»۔ [13]

حوالہ جات

  1. موسوی خلخالی، الحاکمیة فی الاسلام، ۱۴۲۵ھ، ص۲۹۔
  2. سند، دعوی السفارہ فی الغیبة الکبری، ۱۴۳۱ھ، ج۱، ص۷۴۔
  3. سلیمیان، درسنامہ مہدویت، ۱۳۸۸ش، ج۲، ص۲۳۷۔
  4. سلیمیان، درسنامہ مہدویت، ۱۳۸۸ش، ج۲، ص۲۳۸۔
  5. مراجعہ فرمائیں سند، دعوی السفارة فی الغیبة الکبری، ۱۴۳۱ھ، ج۱، ص۸۳-۹۲۔
  6. سند، دعوی السفارة فی الغیبة الکبری، ۱۴۳۱ھ، ج۱، ص۸۳-۹۲۔
  7. موسوی خلخالی، حاکمیت در اسلام، ۱۳۸۰ش، ص۸۹۔
  8. موسوی خلخالی، حاکمیت در اسلام، ۱۳۸۰ش، ص۱۴۔
  9. ملاحظہ فرمائیں امام خمینی، کی کتاب البیع، ۱۴۲۱ھ، ج۲، ص ۶۳۵؛ امام خمینی، ولایت فقیہ، ۱۳۷۴ش، ص۷۸-۸۲؛ جعفریان، دین و سیاست در دورہ صفوی، ۱۳۷۰ش، ص۳۲، ص۳۱۲؛ کدیور، نظریہ ‌ہای دولت در فقہ شیعہ، ۱۳۸۷ش، ص۲۱-۲۴۔
  10. فیرحی، نظام سیاسی و دولت در اسلام، ۱۳۸۶ش، ص۲۴۲-۲۴۳۔
  11. منتظری، نظام الحکم فی الاسلام، ۱۳۸۵ش، ص۱۴۳، ص ۱۶۶؛ جوادی آملی، ولایت فقیہ ۱۳۷۸ش، ص۱۵۰؛ کدیور، حکومت ولایی، ۱۳۷۸ش، ص۳۸۹ـ۳۹۲۔
  12. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ھ، ج۱، ص۶۷۔
  13. حر عاملی، وسائل الشیعہ، ۱۴۱۶ھ، ج۲۷، ص۱۴۰۔

مآخذ

  • امام خمینی، سید روح ‌اللہ، کتاب البیع، قم، انتشارات اسماعیلیان، ۱۳۶۳ ہجری شمسی۔
  • امام خمینی، سید روح ‌اللہ، ولایت فقیہ، تھران، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، ۱۳۷۳ ہجری شمسی۔
  • جعفریان، رسول، دین و سیاست در عصر صفوی، قم، انتشارات انصاریان، ۱۳۷۰ ہجری شمسی۔
  • جوادی آملی، عبد اللہ، ولایت فقہا، ولایت فقاہت و عدالت، قم: مرکز نشر اسراء، ۱۳۷۸ ہجری شمسی۔
  • حر عاملی، محمد بن حسن، وسائل الشیعہ الی تحصیل مسائل الشریعہ، قم، موسسہ آل البیت لاحیاء التراث، الطبعہ الثالثہ، ۱۴۱۶ھ۔
  • سلیمیان، خدا مراد، درسنامہ مھدویت، قم، مرکز تخصصی مداویت، ۱۳۸۸ ہجری شمسی۔
  • سند، محمد، دعوی السفارة فی الغیبة الکبری، بیروت، دار المورخ العربی، ۱۴۳۱ھ۔
  • فیرحی، داوود، نظام سیاسی و دولت در اسلام، تریان، انتشارات سمت، ۱۳۸۶ ہجری شمسی۔
  • کدیور، محسن، حکومت ولایی، تہران، نشرنی، ۱۳۷۸ ہجری شمسی۔
  • کدیور، محسن، نظریہ ‌ہای دولت در فقہ شیعہ ، تہران، نشر نی، ۱۳۸۷ ہجری شمسی۔
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی،‌ ترنان، دار الکتب الاسلامیہ، ۱۴۰۷ھ۔
  • منتظری، حسین علی، نظام الحکم فی الاسلام، ترتان، نشر سرایی، ۱۳۸۵ ہجری شمسی۔
  • موسوی خلخالی، سید محمد مدمی، الحاکمیة فی الاسلام، با مقدمہ سید مرتضی حکمی، قم، مجمع الفکر الاسلامی، ۱۴۲۵ھ۔
  • موسوی خلخالی، سید محمد مدمی، حاکمیت در اسلام یا ولایت فقیہ، قم، دفتر انتشارات اسلامی، ۱۳۸۰ ہجری شمسی۔