قیام امام مہدیؑ

ویکی شیعہ سے

شیعوں کے مطابق ان کے بارہویں امام ظہور کے بعد دنیا میں عدل و انصاف کی بالا دستی کے قیام کریں گے جو قیام امام مہدی کے نام سے مشہور ہے۔ اس قیام کی دقیق تاریخ مشخص نہیں لیکن احادیث کی بنا پر یہ قیام مکہ میں مسجد الحرام سے شروع ہوگا اور آٹھ ماہ تک جاری رہے گا۔ اس قیام کا اصلی مرکز عراق ہے اور سفیانی کو امام زمانہؑ کے ہاتھوں شکست یہیں پر ہو گی۔

احادیث کے مطابق امام زمانہؑ کے 313 خصوصی اعوان و انصار اس قیام میں شرکت کریں گے۔ البتہ اس قیام میں شرکت کرنے والوں کی عمومی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے اور ان کی اکثریت جوانوں پر مشتمل ہوگی۔ حضرت عیسی بھی اس قیام میں امام زمانہؑ کا ساتھ دیں گے۔ ان کے علاوہ بعض انبیاء اور اولیائے الہی جیسے اصحاب کہف، حضرت یوشع بن نون، مؤمن آل فرعون، سلمان فارسی، ابو دجانہ انصاری اور مالک اشتر نَخَعی بھی رجعت کرکے اس قیام میں شرکت کریں گے۔

بعض لوگ بعض احادیث سے استناد کرتے ہوئے اس بات کے معتقد ہیں کہ اس قیام میں امام زمانہؑ کا اسلحہ تلوار ہوگا اور خدا کی طرف سے اس تلوار میں قرار دیئے جانے والے معجزے کے ذریعے آپؑ اپنے دشمنوں کو شکست دیں گے۔ اسی طرح ایک اور گروہ اس بات کے معتقد ہیں کہ اس قیام کے دوران جدید اسلحے ناکارہ ہو جائیں گے یوں امام زمانہ تلوار کے ذریعے پیروز ہونگے؛ جبکہ ان کے مقابلے میں ایک گروہ کا کہنا ہے کہ احادیث میں تلوار کا ذکر جنگی اسلحے کے عنوان سے آیا ہے اور اس سے مراد ہر زمانے میں اس کے تقاضوں کے مطابق استعمال ہونے والا اسلحہ ہے۔

اہمیت

قیام امام زمانہؑ حقیقت میں ان اقدامات کی طرف اشارہ ہے جن کو شیعوں کے بارہویں امام ظہور کے بعد دنیا میں عدل و انصاف کی بالادستی کے لئے اٹھائیں گے۔[1] اگرچہ ایک معنی میں امام زمانہ کے ظہور کو ہی قیام سے تعبیر کرتے ہیں،[2] لیکن جیسا کہ شیعہ محقق خدا مراد سلیمیان کہتے ہیں یہ دو موضوع آپس میں مختلف ہیں اور قیام امام زمانہ آپ کے ظہور کے بعد واقع ہوگا۔[3]

احادیث میں قیام امام زمانہؑ کے لئے خروج کا لفظ بھی استعمال ہوا ہے۔[4] کتاب خصال میں شیخ صدوق ایک حدیث نقل کرتے ہیں جس میں قیام امام زمانہ کو رجعت اور قیامت کے ساتھ ایام ‌اللہ میں سے قرار دیا گیا ہے۔[5] بعض احادیث کے مطابق قیام امام زمانہؑ آٹھ مال تک جاری رہے گا[6] جس کے نتیجے میں امام زمانہ کی عالمی حکومت قائم ہو گئی۔[7]

تاریخ اور دورانیہ

قیام امام زمانہؑ کی دقیق تاریخ مشخص نہیں،[8] لیکن اس قیام کے زمانے کی بعض خصوصیات احادیث میں بیان ہوئی ہیں؛ من جملہ یہ کہ یہ قیام طاق سالوں میں، روز عاشورا اور ہفتہ کے دن شروع ہوگا۔[9] کتاب "تاریخ ما بعد الظہور" کے مصنف سید محمد صدر کے مطابق اس سلسلے میں نقل ہونے والی احادیث میں سے روز عاشورا کے علاوہ باقی ایام سے متعلق نقل ہونے والی احادیث ضعیف ہیں۔[10]

اس قیام کے دورانیے کے بارے میں احادیث میں آیا ہے کہ امام زمانہؑ کے کاندھوں پر آٹھ مہینے تک تلوار ہوگی۔[11]

مکان

اس سلسلے میں وارد ہونے والی اکثر احادیث کے مطابق قیام امام زمانہؑ کا آغاز مکہ سے ہوگا۔[12] من جملہ ان میں سے بعض احادیث کو کلینی نے الکافی اور نعمانی نے الغیبہ میں نقل کیا ہے۔[13] شیخ صدوق کی کتاب عیون اخبار الرضا میں منقول ایک حدیث میں تہامہ کو قیام امام زمانہؑ کی جگہ قرار دیا گیا ہے؛[14] لیکن کہا گیا ہے کہ چونکہ مکہ تہامہ کا جز ہے اس لئے اسے بھی تہامہ کہا جاتا ہے۔[15]

ایک اور حدیث میں یمن میں کرعہ نامی جگہ کو محل قیام امام زمانہؑ قرار دیا گیا ہے،[16] لیکن دانشنامہ امام مہدیؑ کے مصنفین اس حدیث کو غیر معتبر قرار دیتے ہوئے یہ احتمال دیا ہے کہ اس حدیث میں قیام امام زمانہ کو خروج یمانی کے ساتھ خلط کیا ہے[17] یا ان احادیث کو سلطنت فاطمیوں کی تائید یا شمالی افریقہ اور مغربی اسلامی ممالک میں مہدویت کے جھوٹے دعویداروں کی تقویت کے لئے جعل کیا گیا ہے۔[18]

چنانچہ کتاب "دانشنامہ امام مہدیؑ" میں آیا ہے کہ احادیث کے مطابق مکہ میں 10 ہزار لوگ امام زمانہ(عج) کی بیعت کریں گے وہاں سے آپ مدینہ کی طرف فوج بھیجیں گے یا ایک اور حدیث کے مطابق خود امام زمانہ مدینہ تشریف لے جائیں گے اس کے بعد سفیانی کو سرکوب کرنے کے لئے عراق روانہ ہونگے جو آپ کے قیام کا اصلی مرکز ہوگا۔[19]

احادیث کے مطابق روم، دیلم، ہند، کابل اور خزر امام زمانہؑ کے ہاتھوں فتح ہونگے۔[20] اسی طرح احادیث میں آیا ہے کہ حضرت عیسی بیت المقدس میں امام زمانہ کے ساتھ ملحق ہونگے۔[21] قیام کا اختتام کوفہ میں ہوگا اور یہ شہر امام زمانہؑ کی حکومت کا مرکز ہوگا۔[22]

کیفیت آغاز

احادیث کے مطابق امام مہدیؑ مسجد الحرام میں نماز عشاء ادا فرمائیں گے اس کے بعد خانہ کعبہ میں اپنے قیام کا اعلان فرمائیں گے۔[23] آپؑ پیغمبر اکرمؐ کی میراث میں سے حضور کی تلوار، زرہ، عمامہ، زین، عصا، ردا اور پرچم ساتھ لائیں گے[24] اور رُکن اور مقام ابراہیم کے درمیان اپنے اصحاب سے بیعت لیں گے۔[25]

شیخ صدوق کے مطابق امام زمانہؑ اپنے 313 خصوصی اصحاب کے ساتھ مسجد الحرام میں حاضر ہونگے اور اس آیت کے ساتھ اپنی گفتگو کا آغاز کریں گے: "بَقِيَّتُ اللَّهِ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ (ترجمہ: اللہ کا بقیہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم ایماندار ہو؟")[؟؟] اس کے بعد ان الفاظ میں: "أَنَا بَقِيَّةُ اللَّهِ فِي أَرْضِهِ وَ خَلِيفَتُهُ وَ حُجَّتُهُ عَلَيْكُمْ (ترجمہ: میں خدا کی زمین پر خدا کا ذخیرہ اور تمہارے اوپر خدا کی حجت ہوں") اپنا تعارف کریں گے اور جب آپ کے ساتھیوں کی تعداد 10 ہزار تک پہنچ جائے گی تو اپنے قیام کا آغاز کریں گے۔[26]

اسلحہ

احادیث کے مطابق امام زمانہؑ اپنے قیام میں تلوار (سیف) کے ساتھ اپنے دشمنوں کے ساتھ جنگ کریں گے۔[27] اسی بنا پر بعض اس بات کے معتقد ہیں کہ امام زمانہ کے قیام کے دوران جدید اسلحے خدا کے حکم سے ناکارہ ہونگے، ایک اور گروہ کا کہنا ہے کہ قیام امام زمانہؑ سے پہلے واقع ہونے والی جنگوں کی وجہ سے دنیا میں موجود تمام جدید اسلحے ختم ہو جائیں گے جبکہ ایک اور گروہ کا کہنا ہے کہ خداوند عالم امام زمانہ کی تلوار میں معجزانہ قدرت عطا کرے گا جو جدید جنگی اسلحوں پر غالب آئے گی۔[28]

ان کے مقابلے میں بعض اس بات کے معتقد ہیں کہ لفظ "سیف" (تلوار) احادیث میں جنگی توانائی کی طرف اشارہ ہے۔[29] اس بنا پر اس سے مراد یہ ہے کہ امام زمانہؑ جنگی توانائی کے ذریعے اپنے دشمنوں پر غالب آئے گا نہ یہ کہ لازمی طور پر اس قیام میں آپ کا اسحلہ تلوار ہو۔[30]

شرکاء

قیام امام زمانہؑ میں شرکت کرنے والوں کی بعض خصوصیات من جملہ ان کی تعداد اور انفرادی خصوصیات نیز بعض معروف شخصیات کا ذکر احادیث میں آیا ہے۔

تعداد

امام مہدی(عج) کے اصحاب کی تعداد اکثر احادیث میں جنگ بدر میں پیغمبر اکرمؐ کے اصحاب کی تعداد کے برابر یعنی 313 ذکر کی گئی ہے،[31] لیکن بعض احادیث میں یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ بیان ہوئی ہے مثلا بعض احادیث میں ان کی تعداد 10 ہزار[32] بعض میں 12 ہزار یا 15 ہزار تک بھی مذکور ہیں۔[33] اسی بنا پر کہا جاتا ہے کہ اس قیام میں شرکت کرنے والوں کی مجموعی تعداد 313 سے زیادہ ہے اور 313 امام زمانہؑ کے اصحاب خاص اور آپ کے لشکر کے سپہ سالار ہونگے۔[34]

انفرادی خصوصیات

نعمانی کی کتاب الغیبہ میں منقول ایک حدیث کے مطابق امام زمانہؑ کے قیام میں شرکت کرنے والوں کی اکثریت جوانوں پر مشتمل ہوگی اور کم تعداد میں بوڑھے ہونگے۔[35] اسی طرح یہ لوگ بہت شجاع، شب‌ زندہ دار، ثابت‌ قدم اور طاقتور ہونگے۔[36]

معروف شخصیات

احادیث کے مطابق امام زمانہؑ کے قیام میں شامل معروف شخصیات میں سے ایک حضرت عیسی ہیں جو اس قیام میں آپؑ کی حمایت کریں گے۔[37] اسی طرح اولیائے الہی میں سے ایک گروہ جو اس دنیا سے رخصت ہوئے ہونگے نیز رجعت کریں گے۔ من جملہ ان افراد میں: اصحاب کہف، حضرت یوشع بن نون، مؤمن آل فرعون، سلمان فارسی، ابو دجانہ انصاری اور مالک اشتر نَخَعی کا نام نمایاں طور پر ذکر ہیں۔[38]

حوالہ جات

  1. سلیمیان، درسنامہ مہدویت، ۱۳۸۹ش، ج۳، ص۱۷۰-۱۷۱۔
  2. صدر، الموسوعۃ المہدویۃ، ۱۴۱۲ق، ج۳ (تاریخ ما بعد الظہور)، ص۱۹۵۔
  3. سلیمیان، درسنامہ مہدویت، ۱۳۸۹ش، ج۳، ص۱۷۲۔
  4. شیخ صدوق، کمال الدین، ۱۳۹۵ق، ج۲، ص۳۷۷و۳۷۸۔
  5. شیخ صدوق، خصال، ۱۳۶۲ش، ج۱، ص۱۰۸۔
  6. نعمانی، الغیبہ، ۱۳۹۷ق، ص۱۶۴، ح۵۔
  7. صدر، الموسوعۃ المہدویۃ، ۱۴۱۲ق، ج۳ (تاریخ ما بعد الظہور)، ص۴۴۹۔
  8. صدر، الموسوعۃ المہدویۃ، ۱۴۱۲ق، ج۳ (تاریخ ما بعد الظہور)، ص۲۰۷۔
  9. صدر، الموسوعۃ المہدویۃ، ۱۴۱۲ق، ج۳ (تاریخ ما بعد الظہور)، ص۲۱۲-۲۱۳۔
  10. صدر، الموسوعۃ المہدویۃ، ۱۴۱۲ق، ج۳ (تاریخ ما بعد الظہور)، ص۲۱۳۔
  11. نعمانی، الغیبہ، ۱۳۹۷ق، ص۱۶۴، ح۵۔
  12. محمدی ری‌ شہری و دیگران، دانشنامہ امام مہدی (عج)، ۱۳۹۳ش، ج۸، ص۱۹۹۔
  13. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۱، ص۲۳۱، ح۳؛ نعمانی، الغیبہ، ۱۳۹۷ق، ص۳۱۳، ۳۱۵۔
  14. شیخ صدوق، عیون اخبار عن الرضا، ۱۳۷۸ق، ج۱، ص۶۲-۶۳۔
  15. محمدی ‌ری شہری و دیگران، دانشنامہ امام مہدی(عج)، ۱۳۹۳ش، ج۸، ص۱۹۹۔
  16. إربلی، کشف الغمہ، ۱۳۸۱ق، ج۲، ص۴۶۹؛ فیض کاشانی، کتاب الوافی، ۱۴۰۶ق، ج۲، ص۴۶۷۔
  17. محمدی ری‌شہری و دیگران، دانشنامہ امام مہدی(عج)، ۱۳۹۳ش، ج۸، ص۱۹۹۔
  18. محمدی ری‌ شہری و دیگران، دانشنامہ امام مہدی(عج)، ۱۳۹۳ش، ج۸، ص۱۹۹۔
  19. محمدی ری‌شہری و دیگران، دانشنامہ امام مہدی(عج)، ۱۳۹۳ش، ج۸، ص۲۰۱۔
  20. نعمانی، الغیبہ، ۱۳۹۷ق، ص۲۳۵، ح۲۲۔
  21. سلیمیان، درسنامہ مہدویت، ۱۳۸۹ش، ج۳، ص۱۷۹۔
  22. سلیمیان، درسنامہ مہدویت، ۱۳۸۹ش، ج۳، ص۱۷۹۔
  23. محمدی ری‌شہری و دیگران، دانشنامہ امام مہدی(عج)، ۱۳۹۳ش، ج۸، ص۲۰۰-۲۰۱۔
  24. نعمانی، الغبیہ، ۱۳۹۷ق، ص۲۷۰۔
  25. شیخ طوسی، الغیبہ، ۱۴۱۱ق، ص۴۵۴؛ مفید، ارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۳۷۹۔
  26. شیخ صدوق، کمال ‌الدین، ۱۳۹۵ق، ج۱، ص۳۳۱۔
  27. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۸، ص۵۰، ح۱۳؛ صدوق، کمال‌الدین، ۱۳۹۵ق، ج۱، ص۳۲۱-۳۲۲، ح۳؛ نعمانی، الغیبہ، ۱۳۹۷ق، ص۱۶۴، ح۵۔
  28. سلیمیان، درسنامہ مہدویت، ۱۳۸۹ش، ج۳، ص۱۷۶۔
  29. مکارم شیرازی، حکومت جہانی مہدی، ۱۳۸۰ش، ص۲۵۱-۲۵۳۔
  30. مکارم شیرازی، حکومت جہانی مہدی، ۱۳۸۰ش، ص۲۵۱۔
  31. شیخ صدوق، کمال‌ الدین، ۱۳۹۵ق، ج۲، ص۶۵۴، ح۲۰و۲۱؛ نعمانی، الغیبہ، ۱۳۹۷ق، ص۳۱۴-۳۱۵، ح۷و۸و۹؛ صدوق، الخصال، ۱۳۶۲ش، ج۲، ص۶۴۹، ح۴۳؛ طبری، دلایل‌ الامامہ، ۱۴۱۳ق، ص۴۵۵؛ طوسی، الغیبہ، ۱۴۱۱ق، ص۴۷۷۔
  32. نعمانی، الغیبہ، ۱۳۹۷ق، ص۳۱۴، ح۲؛ صدوق، کمال ‌الدین، ۱۳۹۵ق، ج۲، ص۶۵۴، ح۲۰۔
  33. سید بن‌ طاووس، الملاحم و الفتن، ۱۳۹۸ق، ص۶۴-۶۵۔
  34. زمانی، حضرت مہدی: آینہ پیامبران، ۱۳۹۶ش، ص۲۱۹؛ قرائتی، شرح دعای شریف افتتاح، ۱۳۹۲ش، ص۱۱۱؛ صمدی، سیرہ امام مہدی(ع)، ۱۳۹۳ش، ص۱۹۰۔
  35. نعمانی، الغبیہ، ۱۳۹۷ق، ص۳۱۵-۳۱۶، ح۱۰۔
  36. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۵۲، ص۳۸۶۔
  37. سید بن‌ طاووس، الملاحم و الفتن، ۱۳۹۸ق، ص۸۳۔
  38. حر عاملی، اثبات ‌الہداۃ، ۱۴۲۵ق، ج۵، ص۱۷۳۔

مآخذ

  • إربلی، علی بن عیسی، کشف الغمۃ فی معرفۃ الأئمہ، با مقدمہ جعفر سبحانی تبریزی و حاشیہ سید ہاشم رسولی محلاتی، تبریز، مکتبۃ بنی ہاشمی، ۱۳۸۱ھ۔
  • حر عاملی، محمد بن حسن، اثبات الہداۃ بالنصوص و المعجزات‏، بیروت، اعلمی، چاپ اول، ۱۴۲۵ھ۔
  • زمانی، سید حسن، حضرت مہدی: آینہ پیامبران، قم، بنیاد فرہنگی حضرت مہدی موعود، ۱۳۹۶ش۔
  • سلیمیان، خدا مراد، درسنامہ مہدویت، قم، بنیاد فرہنگی حضرت مہدی موعود، چاپ دوم، ۱۳۸۹ش۔
  • سید بن طاووس، الملاحم و الفتن فی ظہور الغائب المنتظر، قم، انتشارات رضی، چاپ پنجم، ۱۳۹۸ق/۱۹۷۸ء۔
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، الخصال، تصحیح/تحقیق علی‌ اکبر غفاری، قم، جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، چاپ اول، ۱۳۶۲ش۔
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، عیون اخبار الرضا (ع)، تصحیح/تحقیق مہدی لاجوردی، تہران، نشر جہان، چاپ اول، ۱۳۷۸ھ۔
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، کمال الدین و تمام النعمہ، تصحیح/تحقیق علی‌ اکبر غفاری، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، چاپ دوم، ۱۳۹۵ھ۔
  • شیخ طوسی، محمد بن حسن، الغیبۃ، تصحیح/تحقیق عباداللہ تہرانی و علی‌احمد ناصح، قم، دار المعارف الاسلامیۃ، چاپ اول، ۱۴۱۱ھ۔
  • صدر، سید محمد، الموسوعۃ المہدویۃ، ج۳ (تاریخ ما بعد الظہور)، بیروت، دار التعارف، ۱۴۱۲ق/۱۹۹۲ء۔
  • صمدی، قنبر علی، سیرہ امام مہدی (ع)، قم، بنیاد فرہنگی حضرت مہدی موعود، ۱۳۹۳ش۔
  • طبری آملی، محمد بن جریر، دلائل‌ الامامہ، قم، بعثت، چاپ اول، ۱۴۱۳ھ۔
  • فیض کاشانی، مولی محمد محسن، کتاب الوافی، تحقیق ضیاء الدین حسینی اصفہانی، اصفہان، مکتبۃ الامام امیرالمؤمنین علی(ع)، ۱۴۰۶ق/۱۳۶۵ش۔
  • قرائتی، محسن، شرح دعای شریف افتتاح، قم، بنیاد فرہنگی حضرت مہدی موعود، ۱۳۹۲ش۔
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تصحیح/تحقیق علی ‌اکبر غفاری و محمد آخوندی، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، چاپ چہارم، ۱۴۰۷ھ۔
  • مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار الجامعہ لدرر اخبار الائمۃ الاطہار، تصحیح/تحقیق جمعی از محققان، بیروت، دار احیاء التراث العربی، چاپ دوم، ۱۴۰۳ھ۔
  • محمدی ری‌ شہری، محمد و دیگران، دانشنامہ امام مہدی(ع) بر پایہ قرآن، حدیث و تاریخ، قم، دارالحدیث، ۱۳۹۳ش۔
  • مفید، محمد بن محمد، الارشاد فی معرفۃ حجج اللہ علی العباد، تصحیح/تحقیق مؤسسہ آل‌البیت، قم، کنگرہ شیخ مفید، چاپ اول، ۱۴۱۳ھ۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، حکومت جہانی مہدی، قم، نسل جوان، چاپ دہم، ۱۳۸۰ش۔
  • نعمانی، محمد بن ابراہیم، الغیبہ، تصحیح/تحقیق علی‌ اکبر غفاری،‌ تہران، نشر صدوق، ۱۳۹۷ھ۔