حلال

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مشہور احکام
رساله عملیه.jpg
نماز
واجب نمازیں یومیہ نمازیںنماز جمعہنماز عیدنماز آیاتنماز میت
مستحب نمازیں نماز تہجدنماز غفیلہنماز جعفر طیارنماز امام زمانہنماز استسقاءنماز شب قدرنماز وحشتنماز شکرنماز استغاثہدیگر نمازیں
دیگر عبادات
روزہخمسزکاتحججہاد
امر بالمعروف و نہی عن المنکرتولیتبری
احکام طہارت
وضوغسلتیممنجاساتمطہرات
مدنی احکام
وکالتوصیتضمانتکفالتارث
عائلی احکام
شادی بیاهمتعہتعَدُّدِ اَزواجنشوز
طلاقمہریہرضاعہمبستریاستمتاعخلعمباراتعقد نکاح
عدالتی احکام
قضاوتدیّتحدودقصاصتعزیر
اقتصادی احکام
خرید و فروخت (بیع)اجارہقرضہسود
دیگر احکام
حجابصدقہنذرتقلیدکھانے پینے کے آدابوقفاعتکاف
متعلقہ موضوعات
بلوغفقہشرعی احکامتوضیح المسائل
واجبحراممستحبمباحمکروہ

حَلال وہ ہے جو حرام کے مقابلہ میں ہو اور عقل و شریعت کی نگاہ میں جائز ہو معیوب نہ ہو۔ بعض فقہی مآخذ میں کلمہ «حلال» مباح کے مساوی ہے لیکن دونوں میں فرق یہ ہے کہ حلال کا تعلق ان احکام میں سے ہے جن کا رابطہ، مستقیم طور پر مکلفین کے افعال سے نہیں ہوتا اور اس کا معنی مباح سے زیادہ عام ہوتا ہے کوینکہ ہر مباح تو حلال ہوتا ہے لیکن ہر حلال مباح نہیں ہوتا۔

فقہا کے مطابق اگر کوئی شخص کسی چیز کے حلال یا حرام ہونے میں شک کرے تو قاعدہ حلیت کے مطابق وہ چیز حلال کے حکم میں آئے گی۔ روایات میں احکام حلال و حرام کی تعلیم کے ساتھ حلال رزق و روزی کی تعلیم بھی دی گئی ہے۔ 2007 میں حلال ثقافت کو فروغ دینے کے لئے ورلڈ حلال انسٹی ٹیوٹ قائم کیا گیا تھا۔ لہذا 17 رمضان کو عالمی روز حلال کا نام دیا گیا۔

معنا شناسی

حلال، حرام کے مقابلہ میں جو عقل و شرع کے مطابق روا اور جائز ہو۔[1] دوسرے قول کے مطابق حلال وہ امر ہے جو حکم حرمت کے ذیل میں نہ آئے اور جس کا انجام دینا یا چھوڑ دینا عقاب کا باعث نہ بنے۔[2] لغت میں «حلال» گرہ گشائی کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔[3] علی اکبر قرشی کے قول کے مطابق «حِل» حلال کے معنی میں بیان ہوا ہے جو استعارتا کسی بھی امر میں گشایش اور وسعت کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ اور حلال اس چیز کو کہا جاتا ہے جو ممنوعیت اور حرمت کے زمرہ سے باہر نکل آئی ہو۔[4] بعض محققین کے قول کے مطابق کلام فقھا کی روشنی میں لفظ «یَجوز» کا مطلب کبھی «یَصِح» یعنی (کسی چیز کا صحیح ہونا) اور کبھی «یَحِل» یعنی ( کسی چیز کا حلال ہونا) ہے۔ اور ایسے امور کے لئے استعمال ہوتا ہے جس میں شریعت کی جانب سے کوئی پابندی عائد نہ ہوئی ہو۔[5] ایک روایت میں امام صادق(ع) سے نقل کیا گیا ہے کہ کسی سچے انسان سے حلال و حرام کے بارے میں فقط ایک روایت سیکھنا، دنیا اور اس میں موجود تمام سونے اور چاندی سے بھتر ہے۔[6]

مباح اور حرام کا فرق

تفصیلی مضمون: مباح

بعض نے حلال کو مباح کا ہم معنی جانا ہے۔[7] اور دوسرے بعض افراد نے ان دونوں کلمہ کے درمیان فرق کے قائل ہیں۔[8] اور اس سلسلے میں جو فرق بیان کئے گئے ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں:

  • فقہ میں حلال، حرام کے مقابلہ میں استعمال ہوتا ہے اور غیر حرام کے زمرہ میں آتا ہے جیسے: واجب، مستحب، مکروہ، مباح کو شامل ہے۔[9] اس اعتبار سے حلال، مباح سے زیادہ عام ہے یعنی ہر مباح تو حلال ہے لیکن ہر حلال مباح نہیں ہے۔ جیسے مکروہ، حلال تو ہے لیکن مباح نہیں ہے۔[10]
  • مباح احکام تکلیفی میں سے ہے جو بطور مستقیم، مکلفین کے افعال سے متعلق ہوتا ہے۔[11] لیکن حلال احکام وضعی میں سے ہے جس کا تعلق ان چیزوں سے ہوتا ہے جو خارج میں موجود ہوتی ہیں۔[12]
  • حلال کے معنی گرہ گشائی اور ممنوعیت کو ختم کرنا ہے جب کہ مباح کا معنی کام کو انجام دینے یا نہ دینے میں وسعت پیدا کرنا ہے[13]

قاعدہ حلیت

تفصیلی مضمون: قاعدہ حلیت

فقہی قاعدہ دلالت کرتا ہے کسی بھی امور میں تصرف کا جائز ہونا اس اعتبار سے کہ اس کے حلال یا حرام ہونے میں شک و تردید ہو۔[14] اس قانون کی بنا پر جب بھی کسی شئ کے حلال یا حرام ہونے میں شک ہو تو اس صورت میں اس پر حلال کا حکم لگایا جائے گا۔[15] اس قاعدہ کو ثابت کرنے کے لئے سورہ بقرہ کی آیت 29 «وہ ہے کہ جس نے زمین پر جو کچھ بھی ہے سب تمہارے لئے پیدا کیا ہے»۔[16] اور حدیث «تمہارے لئے ہر شئ حلال ہے جب تک اس کے حرام ہونے کا علم نہ جائے»[17] سے استفادہ کیا جاتا ہے۔

رزق حلال

حلال روزی یہ ایک ایسی آمدنی ہے جو شرعی قانون کے دائرہ کار میں حاصل کی جاتی ہے اور جس میں خداواند کے حقوق جیسے خمس و زکات کی رعایت کی جاتی ہے اور اس میں حق الناس نہیں ہوتا۔[18] روایات میں بھی حلال رزق کو کسب کرنے کی بہت زیادہ اہمیت بتائی گئی ہے۔[19] جیسا کہ امام صادقؑ نے فرمایا کہ جو شخص حلال روزی کی تلاش کرتا ہے وہ راہ خدا میں جہاد کرنے والے جیسا ہے۔[20] اسی طرح پیغمبر اکرمؐ سے ایک روایت نقل ہوئی ہے کہ عبادت کے ستّر جزء ہیں جس میں بالاترین جزء رزق حلال ہے۔[21]

عالمی حلال ادارہ

عالمی حلال انسٹی ٹیوٹ حلال ثقافت کو فروغ دینے کے لئے 2007 میں قائم کیا گیا تھا۔ یہ ادارہ خوراک، صنعت، دوا سازی، کاسمیٹکس، ریستورینٹس، ہوٹلوں، سیاحت، کھیلوں اور حلال تجارت کے شعبوں میں کام کرتا ہے۔[22] نیز کئی اسلامی ممالک کی تجویز اور عالمی حلال انسٹی ٹیوٹ کے حکم سے 17 رمضان کو عالمی یوم حلال کا نام دیا گیا ہے۔[23] عالمی حلال نیوز ویب سائٹ کے مطابق کیونکہ 17 رمضان المبارک کو آیت يَا أَيُّہا النَّاسُ كُلُواْ مِمَّا فِي الأَرْضِ حَلاَلًا طَيِّبًا؛ اے لوگوں زمیں پر جو بھی حلال و پاکیزہ ہے اے کھاؤ پیو»[24] نازل ہوئی ہے لہذا اس دن کو عالمی روز حلال کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔[25] ہر سال اس دن عالمی یوم حلال کی یاد میں ایک کانفرنس کا انعقاد کیا جاتا ہے اور حلال انڈسٹری کے اہم ترین مسائل اور حلال صنعت کی مشکلات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔[26] اس کانفرنس کا پہلا اجلاس ایران میں 6 جولائی 2014 کو تہران میں میلاد ٹاور کانفرنس سینٹر میں ہوا تھا۔ [27]

حوالہ جات

  1. مشکینی، مصطلحات الفقہ، ۱۴۱۹ھ، ص۲۱۶۔
  2. عبدالمنعم، معجم المصطلحات و الألفاظ الفقہیۃ، دارالفضیلہ، ج۱، ص۵۸۵۔
  3. راغب اصفہانی، المفردات، ذیل واژہ «حل»۔
  4. قرشی، قاموس قرآن، ذیل واژہ «حل»۔
  5. حفناوی، گنجینہ اصطلاحات فقہی و اصولی، ۱۳۹۵ش، ص۸۹۔
  6. برقی، المحاسن، دارالکتب الاسلامیہ، ج۱، ص۲۲۹۔
  7. مؤسسہ دایرہ المعارف الفقہ الاسلامی، موسوعہ الفقہ الاسلامی، ۱۴۲۴ھ، ج۲، ص۸۳۔
  8. مؤسسہ دایرہ المعارف الفقہ الاسلامی، موسوعہ الفقہ الاسلامی، ۱۴۲۴ھ، ج۲، ص۸۴۔
  9. سعدی، القاموس الفقہا لغۃ و اصطلاحاً، ۱۴۰۸ھ، ص۹۹۔
  10. سعدی، القاموس الفقہا لغۃ و اصطلاحاً، ۱۴۰۸ھ، ص۹۹۔
  11. صدر، دروس فی علم الاصول، ۱۴۰۶ھ، ج۱، ص۵۳؛ مؤسسہ دایرۃ المعارف الفقہ الاسلامی، فرہنگ فقہ فارسی، ۱۳۸۷ش، ج۱، ص۲۱۸۔
  12. مرکز اطلاعات و منابع اسلامی، فرہنگ‌نامہ اصول فقہ، ۱۳۸۹ش، ج۱، ص۱۰۶۔
  13. مؤسسہ دایرۃ المعارف الفقہ الاسلامی، موسوعہ الفقہ الاسلامی، ۱۴۲۴ھ، ج۲، ص۸۴۔
  14. دیکھئے ولایی، فرہنگ تشریحی اصطلاحات اصول، ۱۳۸۷ش، ج۱، ص۸۵۔
  15. مؤسسہ دائرۃ المعارف الفقہ الاسلامی، الموسوعہ الفقہیہ، ۱۴۲۳ھ، ج۱۳، ص۳۲۰۔
  16. فاضل تونی، الوافیہ، ۱۴۱۲ھ، ص۱۸۵۔
  17. کلینی، الکافی، ۱۴۳۰ھ، ج۱۰، ص۵۴۲؛ فاضل لنکرانی، تفصیل الشریعۃ، ۱۴۲۶ھ، ص۱۹۳۔
  18. عیسی‌زادہ،«نقش رزق حالل در سلامت معنوی انسان از دیدگاہ آیات و روایات»، ص۳۔
  19. نوری، مستدرک الوسائل، ۲۴۰۸ھ، ج۱۳، ص۱۲۔
  20. قاضی نعمان مغربی، دعائم الاسلام، ۱۳۸۵ھ، ج۲، ص۱۵۔
  21. نوری، مستدرک الوسائل، ۱۴۰۸ھ، ج۱۳، ص۱۲۔
  22. «مؤسسہ جہانی حلال»، سایت مؤسسہ جہانی حلال۔
  23. «ہفدہم رمضان روز جہانی حلال»، پایگاہ خبری حلال جہانی۔
  24. سورہ بقرہ، آیہ۱۶۸۔
  25. رمضان روز جہانی حلال»، پایگاہ خبری حلال جہانی۔
  26. «برگزاری ہمایش روز جہانی حلال در مرکز ہمایش‌ہای برج میلاد تہران»، پایگاہ خبری حلال جہانی۔
  27. ہمایش روز جہانی حلال در مرکز ہمایش‌ہای برج میلاد تہران»، پایگاہ خبری حلال جہانی۔


مآخذ

  • اکبری، محمود، حلال و حرام، انتشارات فتیان، ۱۳۹۱ہجری شمسی۔
  • برقی، احمد بن محمد، المحاسن، قم، دار الکتب الإسلامیۃ، بی‌تا۔
  • «برگزاری ہمایش روز جہانی حلال در مرکز ہمایش ہای برج میلاد تہران»، پایگاہ خبری حلال جہانی، تاریخ درج مطلب: ۱۵ تیرماہ ۱۳۹۳ش، تاریخ بازدید: ۹ بہمن ۱۳۹۹ہجری شمسی۔
  • حفناوی، محمد ابراہیم، گنجینہ اصطلاحات فقہی و اصولی، ترجمہ: فیض محمد بلوچ، تربت جام، انتشارات خواجہ عبداللہ انصاری، ۱۳۹۵ہجری شمسی۔
  • راغب اصفہانی، حسین بن محمد، المفردات فی غریب القرآن، دمشق، دار القلم، ۱۴۱۲ھ۔
  • سعدی، ابوالجیب، القاموس الفقہا لغۃ و اصطلاحاً، دمشق، دارالفکر، ۱۴۰۸ھ۔
  • صدر، محمد باقر، دروس فی علم الاصول، بیروت، دار الکتاب اللبنانی، ۱۴۰۶ھ۔
  • عبد المنعم، محمود عبدالرحمان، معجم المصطلحات و الألفاظ الفقہیہ، قاہرہ، دار الفضیلہ، بی‌تا.
  • عیسی‌زادہ، عیسی و نیکزاد عیسی‌زادہ،«نقش رزق حالل در سلامت معنوی انسان از دیدگاہ آیات و روایات»، ویژہ‌نامہ علوم انسانی سلامت، شمارہ۱، پاییز۱۳۹۸ہجری شمسی۔
  • فاضل تونی، عبداللہ بن محمد، الوافیہ فی اصول الفقہ، قم، مجمع الفکر الاسلامی، چاپ اول، ۱۴۱۲ھ۔
  • فاضل لنکرانی، محمد، تفصیل الشریعۃ فی شرح تحریر الوسیلۃ (الاجتہاد والتقلید)، قم، مرکز فقہی ائمہ اطہار(ع)، ۱۴۲۶ھ۔
  • قرشی، سید علی‌ اکبر، قاموس قرآن، تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، چاپ ششم، ۱۳۷۱ہجری شمسی۔
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، قم، انتشارات دارالحدیث، چاپ اول، ۱۴۳۰ھ۔
  • نوری، میرزا حسین، مستدرک‌ الوسائل، قم، مؤسسۃ آل البیت علیہم‌السلام، ۱۴۰۸ھ۔
  • مرکز اطلاعات و منابع اسلامی، فرہنگ‌ نامہ اصول فقہ، قم، پژوہشگاہ علوم و فرہنگ اسلامی، ۱۳۸۹ہجری شمسی۔
  • مشکینی، علی، مصطلحات الفقہ، قم، نشر الہادی، ۱۴۱۹ھ۔
  • مؤسسہ دایرہ المعارف الفقہ الاسلامی، موسوعہ الفقہ الاسلامی، قم، مؤسسہ دایرہ المعارف الفقہ الاسلامی، ۱۴۲۴ھ۔
  • مؤسسہ دایرہ المعارف الفقہ الاسلامی، فرہنگ فقہ فارسی، قم، مؤسسہ دایرہ المعارف الفقہ الاسلامی، ۱۳۸۷ہجری شمسی۔
  • موسسہ دائرۃ المعارف الفقہ الاسلامی، الموسوعہ الفقہیہ، قم، موسسہ دائرۃ المعارف الفقہ الاسلامی، ۱۴۲۳ھ۔
  • «مؤسسہ جہانی حلال»، سایت مؤسسہ جہانی حلال، تاریخ بازدید: ۹ بہمن ۱۳۹۹ہجری شمسی۔
  • ولایی، عیسی، فرہنگ تشریحی اصطلاحات اصول، تہران، نشر نی، ۱۳۸۷ہجری شمسی۔
  • «ہفدہم رمضان روز جہانی حلال»، پایگاہ خبری حلال جہانی، تاریخ درج مطلب: ۲۱ دی‌ماہ ۱۳۹۲ش، تاریخ بازدید: ۹ بہمن ۱۳۹۹ہجری شمسی۔