حجر بن عدی

ویکی شیعہ سے
حجر بن عدی
کوائف
مکمل نامحجر بن عدی
محل زندگیکوفہ
شہادتسنہ 51 یا52 ھ
مدفنمرج عذراء
دینی معلومات
وجہ شہرتصحابہ اور امام علی(ع) اور امام حسن(ع) کے اصحاب میں سے


حُجْر بن عَدی بن جَبَلہ کندی، پیغمبر اکرم(ص) کے صحابی، امام علی(ع) کے با وفا شیعہ اور کوفہ کے بزرگان میں سے تھے۔

انہوں نے مختلف جنگوں من جملہ جنگ جمل، جنگ صفین اور جنگ نہروان میں کلیدی کردار ادا کیا۔ آخر کار امام علی(ع) کی امامت و ولایت کے دفاع میں معاویہ کے ہاتھوں شہید ہوئے۔

مسعودی کے مطابق وہ پہلے مسلمان تھے جو فتوحات کے وقت مرج عذراء میں داخل ہوئے اور اسے فتح کیا، اسی طرح وہ پہلے مسلمان تھے جنہیں معاویہ کے حکم پر دمشق میں شہید کیا گیا۔

حجر بن عدی اور ان کے ساتھیوں کو قتل کرنے کی وجہ سے امام حسین(ع)، کوفہ کے مؤمنین اور خود معاویہ کے بعض قریبی ساتھیوں مانند مالک بن ہبیرہ نے معاویہ پر کھل کر تنقید کی۔

2 مئی سن 2013ء کو شامی حکومت کے ساتھ برسرپیکار دہشت گرد گروہ جبہۃ النصرۃ نے حجر بن عدی کے مزار کو منہدم کر دیا۔

کنیت اور نسب

حجر بن عدی بن معاویہ بن جبلہ کندی کوفی کی کنیت‌ ابو عبدالرحمان تھی اور وہ حجر خیر یا حجر بن ادبر کے نام سے معروف تھے۔۔[1] (ادبر ان کے والد کا لقب تھا)۔ بعض منابع میں ان کا نسب حجر بن عدی بن بجلہ ذکر کیا گیا ہے۔[2]

مقام

حجر اور ان کے بھائی ہانی نے پیغمبر اکرم(ص) کی حیات طیبہ میں ہی اسلام لے آئے تھے اور حجر اس زمانے کے بزرگان میں شامل ہوتے تھے۔[3]

حجر بن عدی پیغمبر اسلام(ص) کے باوقار اصحاب میں سے تھے جو زہد و تقوا اور عبادت میں مشہور تھے۔ مؤرخین اور علم حدیث کے ماہرین نے انہیں "حجرالخیر" کے نام سے بھی یاد کیئے ہیں۔[4] حجر کو مستجاب الدعوۃ بھی مانے جاتے تھے۔[5]

حجربن عدی کو موثق اور عابد مانے جاتے تھے۔ انہوں نے صرف حضرت علی علیہ‌السلام سے روایت نقل کی ہے۔[6]

فتوحات میں حاضری

حجر اسلامی فتوحات من جملہ جنگ قادسیہ (سن ۱۴ یا ۱۵ یا ۱۶ھ) میں حاضر تھے۔[7] جنگ جلولاء (سنہ ۱۶ یا ۱۷ یا ۱۹ھ) میں انہوں نے عمروبن مالک کی فوج کے دائیں بازو کی کمانڈ سنبھالی۔[8]

فتح شام میں بھی انہوں نے شرکت کی اور مَرج عَذراء کے فاتحین میں سے تھا۔ ایک رپورٹ کے مطابق شام کو انہوں نے ہی فتح کیا تھا۔[9]

امام علی(ع) کی حکومت میں

فتوحات کے بعد حجر بن عدی کوفہ میں ہی قیام پذیر ہوا۔[10] جب حضرت علی(ع) کی حکومت آئی تو آپ(ع) نے انہیں قبیلہ کنْدَہ کی سرداری سے ان کے ہم قبیلہ اشعث بن قیس کو عزل کرکے یہ منصب ان کے سپرد کرنا چاہا، لیکن حجر نے اشعث کی موجودگی میں قبیلہ کندہ کی سرداری قبول کرنے سے انکار کیا۔[11]

جنگ جمل

جنگ جمل میں جب کوفہ کے گونر ابوموسی اشعری نے لوگوں کو جنگ میں حضرت علی(ع) کی ہمراہی سے روکنا چاہا تو حجربن عدی نے امام حسن(ع) اور عمار بن یاسر کے ساتھ مسجد کوفہ جاکر ابوموسی کو مسجد سے نکال باہر کیا اور لوگوں کو جنگ میں شرکت کرنے کی ترغیب دی۔ اس جنگ میں حضرت علی(ع) نے حجر کو کندہ، حضرموت، قُضاعہ اور مَہرہ جیسے قبائل کا سردار بنایا۔[12]

جنگ صفین

حجر جنگ صفّین (سنہ ۳۷ ہجری قمری) میں امام علی(ع) کی فوج کے سپہ سالاروں اور قبیلہ کندہ کے جنگجؤوں کے سرداروں میں سے تھا[13]

واقعہ حکمیت

حکمیت کے واقعہ میں حجر عراقیوں کی طرف سے ابوموسی اشعری اور عمروبن عاص کے درمیان لکھے جانے والے عہدنامہ کے گواہوں میں سے تھا.[14]

جنگ نہروان

حجر خوارج کے ساتھ لڑی جانے والی جنگ یعنی جنگ نہروان (سنہ ۳۸ ہجری قمری) میں بھی امام علی(ع) کی فوج کے دائیں بازو کے کمانڈروں میں سے تھا۔[15] جب معاویہ نے عراقیوں میں رعب و وحشت پیدا کرنے کی خاطر ضحّاک بن قَیس کو روانہ کیا اور خانہ بدوشوں پر حملہ کرنے کے ذریعے ناامنی ایجاد کی تو امام علی(ع) نے حجر بن عدی کو چار ہزار سپاہیوں کے ساتھ ان کے مقابلے کیلئے روانہ فرمایا۔

حجر نے تَدْمُر تک حملہ آوروں کا تعاقب کیا اور آخر کر انہیں شکست دے دیا اور دو دن اسی منطقہ میں قیام کیا۔[16]

حجر امام حسن(ع) کے ساتھ

امیرمؤمنان حضرت علی(ع) کی شہادت اور امام حسن(ع) کی امامت پر فائز ہونے کے بعد جب کچھ مصلحتوں کی بنا پر آپ(ع) کو معاویہ کے ساتھ صلح کرنا پڑا تو حجر پہلا شخص تھا جو امام(ع) کی خدمت میں پہنچا اور ایک تند لہجے میں اعتراض کرتے ہوئے امام(ع) کو جنگ جاری رکھنے کی دعوت دی۔ اس کے جواب میں امام(ع) نے فرمایا کہ جب لوگوں کی اکثریت صلح کی خواہاں ہیں تو اپنے خاص شیعوں کی حفاظت کی خاطر صلح کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں ہے۔

اس کے بعد حجر امام حسین(ع) کے پاس چلا گیا اور جنگ سے متعلق اپنی رائ سے آگاہ کیا، امام حسین(ع) نے انہیں امام حسن(ع) کی اطاعت کرنے کی دعوت دی۔[17]

معاویہ کے دور میں

امام علی(ع) کی شان میں گستاخی کی مخالفت

جب مغیرۃ بن شعبہ (حاکم کوفہ) نے معاویہ کے حکم پر ممبروں سے حضرت علی علیہ‌ السلام پر لعن کرنا شروع کیا تو حجر اور عمرو بن حمق خزاعی نے کئی اور ساتھیوں سمیت ان کی مخالفت کی [18] اور مغیرہ پر پتھراؤ شروع کیا۔ مغیرہ نے مال و دولت کی لالچ دے کر حجر کو اپنے نزدیک کرنا چاہا۔[19]

دستگیری

سنہ 50 ھ میں زیاد بن ابیہ جو پہلے معاویہ کی طرف سے بصرہ کا گورنر تھا، نے کوفہ کی گورنری بھی سنبھال لیا اور حجر بن عدی کے ساتھ دوستی کے باوجود امام علی(ع) کی حمایت اور معاویہ کی مخالفت کرنے کے الزام میں حجر کو خبردار کیا لیکن حجر نے اس کی پروا کئے بغیر لوگوں کو معاویہ کی خلاف ورغلاتے رہے۔[20]

جس وقت زیاد بن ابیہ بصرہ میں تھے اور زیاد کے جانشین عَمْروبن حُرَیث جو مسجد کوفہ میں خطبہ دیتے ہوئے امام علی(ع) کی شان میں گستاخی کرنے لگے تو حجر اور ان کے ساتھیوں نے ان پر پتھراؤ کیا۔ اس وقعہ کے بعد عمرو نے زیاد بن ابیہ کو رپورٹ دیا اس پر زیاد نے اپنے آپ کو فورا کوفہ پہنچایا اور اپنے کارندوں کو حجر اور ان کے ساتھیوں کی گرفتاری کیلئے بھیجا۔[21] ان میں سے بعض فرار کر گئے بعض مارے گئے جبکہ حجر سمیت بعض افراد گرفتار ہوئے۔

شام کے راستے میں

زیاد بن ابیہ نے گرفتار ہونے والوں کو ایک سو سپاہیوں کے ساتھ شام میں معاویہ کے یہاں بھیجا اور ان کے بارے میں لکھا کہ انہوں نے ابوتراب (علی علیہ‌السلام) کو لعن کرنے کے معاملے میں اکثریت کی مخالفت اور خلیفہ کے حکم کی نافرمانی کی ہیں۔

زیاد نے حجر اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے حضرت علی(ع) کی شان میں کی جانے والے گستاخی کی مخالفت کرنے کے حوالے کوفہ کے بعض بزرگان کی گواہی بھی حجر کے خلاف لکھی جانے والے خط کے ساتھ ضمیمہ کیا۔[22]

شہادت

حجربن عدی کا مزار تخریب سے پہلے

جب حجر اور ان کے ساتھی دمشق سے 12 میل کے فاصلے پر مرج عذراء نامی مقام پر پہنچے تو معاویہ نے انہیں قتل کرنے کا حکم دیا،[23] لیکن بعض لوگوں کی شفاعت کی وجہ سے[24] حجر اور دوسرے چھ نفر کو حضرت علی(ع) کی شان میں گستاخی کرنے کے بدلے میں اپنی جان بچانے کا موقع مل گیا لیکن انہوں نے اسے قبول نہیں کیا اور شہید ہونے کیلئے تیار ہوگئے۔ لیکن حجر کے باقی ساتھ ساتھیوں کو نجات مل گئی؛[25] یعقوبی،[26] نے مارے جانے والوں کی تعداد کو سات نفر ذکر کیا ہے لیکن نام لیتے وقت حجر سمیت صرف چھ نفر کا نام لیا ہے۔

مسعودی[27] کے مطابق ان میں سے سات نفر نے حضرت علی(ع) سے بیزاری اختیار کرنے کے ذریعے اپنی جان بچائی جبکہ مزید سات نفر کو شہید کئے گئے۔ مارے جانے والوں کو پہلے سے تیار شدہ کفن اور قبر کے نزدیک شہید کئے گئے پھر ان پر نماز پڑھی گئی اور ان کے جسد خاکی کو سپرد خاک کئے گئے۔[28]

شہادت سے پہلی رات

حجر اور اس کے ساتھیوں نے شہادت سے پہلی رات کو عبادت میں گزاریں اور حجر نے شہادت سے پہلے بھی دو رکعت نماز پڑھی۔[29]

مرج عذراء میں شہید ہونے والے پہلے مسلمان

مسعودی[30] کے مطابق حجربن عدی پہلے مسلمان ہیں جسے ہاتھ باندھ کر اسیری کی حالت میں شہید کیا گیا۔ وہ پہلے مسلمان تھے جو فتوحات کے وقت مرج عذراء میں داخل ہو کر اسے فتح کیا اور وہاں شہید ہونے والے پہلے مسلمان بھی وہ خود ہی تھے۔[31]

شہادت کی تاریخ

ان کی تاریخ شہادت کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ طبری اور ابن اثیر نے سنہ۵۱ ہجری، یعقوبی نے سنہ ۵۲ ہجری، اور ابن قتیبہ اور مسعودی نے سنہ ۵۳ ہجری کو ان کی تاریخ شہادت کے طور پر ذکر کیا ہے۔[32] ایک ضعیف روایت میں ان کی شہادت کو سنہ 50 ہجری بھی ذکر ہوئی ہے۔[33] حجر بن عدی کے بیٹے عبداللہ اور عبدالرحمان سنہ67 ہجری میں مختار بن ابی عبید ثقفی کے ہمراہ مصعب بن زبیر کے ہاتھوں شہید ہو گئے۔[34]

حجر بن عدی کی شہادت پر رد عمل

وہابیوں کے ہاتھوں حجر بن عدی کے مقبرے کی تخریب

کوفیوں نے حجر بن عدی کے مارے جانے کو انتہائی وحشتناک قرارد دیا۔ یہ امر اتنا قبیح عمل تھا کہ خود معاویہ کے قریبی افراد نے بھی اس کام پر معاویہ کی مذمت کی یہاں تک کہ مالک بن ہبَیرہ کہا کہ اس نے کتنا برا کام انجام دیا ہے اور یہ کہ ان افراد نے کوئی ایسا عمل انجام نہیں دیا تھا جس کی سزا قتل ہو لیکن معاویہ نے جواب میں کہا کہ اس نے فتنہ کو جڑ سے اکھاڑنے کا ارادہ کیا تھا۔[35]


امام حسین(ع) کا رد عمل

امام حسین(ع) کیلئے یہ خبر انتہائی افسوسناک تھی چنانچہ آپ نے معاویہ کو ایک خط لکھا جس میں آپ نے معاویہ کے برے کاموں میں سے ایک کو حجر بن عدی کو قتل کرنا قرار دیا۔[36]

وہابیوں کے ہاتھوں حجر بن عدی کی قبر کی بے حرمتی
عایشہ کا رد عمل

عایشہ نے کسی کو معاویہ کے پاس بھیجا تاکہ حجر کو قتل کرنے سے بار آئے لیکن عایشہ کا پیغام حجر کے شہید کئے جانے کے بعد معاویہ تک پہچا۔[37] حجر بن عدی کی شہادت نے عایشہ کو بھی احتجاج پر مجبور کیا۔ جب معاویہ نے اس کام کو امت کی اصلاح کیلئے انجام دینے کا عندیہ دیا تو عایشہ نے کہا:

{{حدیث|سمعت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) یقول سیقتل بعذراء اناس یغضب اللہ لہم و اہل السماء|ترجمہ= میں نے سانا کہ پیغمبر اکرم(ص) نے فرمایا: میرے بعد عذراء میں کچھ لوگوں کو شہید کئے جائیں گے، خداوندمتعال اور آسمان میں رہنے والے اس قتل سے ناراض ہونگے۔[38]

مدفن حجر

ابن اثیر[39] کے مطابق حجر بن عدی کی قبر مرج عذراء میں دعاوں کے مستجاب ہونے کی جگہ کے عنوان سے معروف ہے۔ وہاں پر ان کے قبر کے نزدیک ایک مسجد بھی بنائی گئی ہے۔[40] موجودہ دور میں بھی ان کا مدفن زیارتگاہ کے طور پر لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

مرقد کی تخریب

2 مئی 2013ء کو شامی حکومت سے برسر پیکار دہشت گروہ جبہۃ النصرہ کے ہاتھوں حجر بن عدی کا مزار تخریب ہوا اور قبر کی کھودائی کے بعد اس میں موجود جسد خاکی کو نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا۔[41]

حوالہ جات

  1. ابن حجر، الاصابہ، ج۲، ص۳۳.
  2. الامین، اعیان الشیعۃ، ج۴، ص۵۶۹.
  3. اسدالغابۃ، دارالکتاب، ج۱، ص۳۸۵.
  4. اسدالغابۃ، دارالکتاب، ج۱، ص۳۸۶.
  5. اسدالغابۃ، دارالکتاب، ج۱، ص۳۸۶.
  6. رجوع کنید بہ ابن سعد، ج۶، ص۲۲۰؛ ابن عساکر، ج۱۲، ص۲۱۰
  7. ابن سعد، ج۶، ص۲۱۷؛ ابن قتیبہ، ص۳۳۴؛ ابن اثیر، ج۱، ص۴۶۱.
  8. رجوع کنید بہ بلاذری، ص۲۶۴؛ طبری، ج۴، ص۲۷.
  9. ابن عساکر، ج۱۲، ص۲۰۷، ۲۱۰۲۱۱.
  10. دینوری، ص۱۴۵.
  11. دینوری، ص۲۲۴.
  12. دینوری، ص۱۴۴۱۴۶؛ طبری، ج۴، ص۴۸۵؛ مفید، ص۲۵۵ ۲۵۶، ۳۲۰؛ البتہ کوفیوں کو ابوموسی کے مقابلے میں جنگ کی ترغیب دینے کیلئے آنے والے افراد کے بارے میں تاریخی شواہد مختلف ہیں اور مذکورہ بالا روایت، دینوی کی روایت کی نقل سے ساگار ہے اس معاملے میں بعض روایات میں مالک اشتر کی کلیدی کردار جبکہ بعض روایات میں ابن عباس کو امام حسن(ع) اور عمار بن یاسر کی تقیر کے علاوہ کوفہ کے لوگوں کو ترغیب دینے میں مؤثر قرار دیتے ہیں۔
  13. نصربن مزاحم، ص۱۰۳۱۰۴، ۱۹۵، ۲۰۵، ۲۴۳؛ ابن عساکر، ج۱۲، ص۲۰۸.
  14. نصربن مزاحم، ص۵۰۶۵۰۷؛ دینوری، ص۱۹۵۱۹۶؛ طبری، ج۵، ص۵۴
  15. دینوری، ص۲۱۰؛ طبری، ج۵، ص۸۵
  16. یعقوبی، ج۲، ص۱۹۵ ۱۹۶؛ طبری، ج۵، ص۱۳۵
  17. دینوری، ص۲۲۰؛ شوشتری، ج۳، ص۱۳۱
  18. یعقوبی، ج۲، ص۲۳۰؛ طبری، ج۵، ص۲۵۴
  19. دینوری، ص۲۲۳
  20. ابن سعد، ج۶، ص۲۱۸؛ یعقوبی، ج۲، ص۲۳۰
  21. دینوری، ص۲۲۳؛ قس ابن سعد، ج۶، ص۲۱۸
  22. دینوری، ص۲۲۳۲۲۴؛ یعقوبی، ج۲، ص۲۳۰؛ ابن سعد، ج۶، ص۲۱۹؛ طبری، ج۵، ص۲۶۹۲۷۰، کہ بعض نے ان کی تعداد 70 نفر ذکر کئے ہیں
  23. ابن سعد، ج۶، ص۲۱۹؛ مسعودی، ج۳، ص۱۸۹
  24. یعقوبی، ج۲، ص۲۳۱
  25. طبری، ج۵، ص۲۷۵۲۷۸؛ قس ابن سعد، ج۶، ص۲۲۰
  26. ج۲، ص۲۳۱
  27. ج۳، ص۱۸۸ ۱۸۹
  28. یعقوبی، ج۲، ص۲۳۱؛ طبری، ج۵، ص۲۷۵۲۷۷
  29. طبری، ج۵، ص۲۷۵
  30. ج۳، ص۱۸۸
  31. ابن سعد، ج۶، ص۲۱۷؛ یعقوبی؛، ج۲، ص۲۳۱، ابن اثیر، ج۱، ص۴۶۲
  32. طبری، ج۵، ص۲۵۳ بہ بعد؛ ابن اثیر، ج۱، ص۴۶۲: سال ۵۱؛ یعقوبی، ج۲، ص۲۳۱: سال ۵۲؛ ابن قتیبہ، ص۳۳۴؛ مسعودی، ج۳، ص:۱۸۸ سال ۵۳.
  33. مسعودی، ج۳، ص۱۹۰.
  34. ابن حجر، الاصابہ، ج۲، ص۳۴.
  35. الدینوری، الاخبار الطوال، ص۲۲۴.
  36. الدینوری، ص۲۲۳۲۲۴؛ طبری، ج۵، ص۲۷۹؛ کشی، ص۹۹
  37. ابن سعد، ج۶، ص۲۱۹۲۲۰؛ دینوری، ص۲۲۳۲۲۴؛ ابن اثیر، ج۱، ص۴۶۲
  38. سیوطی، الجامع الصغیر، ج۲، ص۶۱؛ ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، دارالفکر، ج۱۲، ص۲۲۶؛ الصفدی، الوافی بالوفیات، ج۱۱، ص۲۴۸؛ مجلسی، بحارالانوار، ج۱۸، ص۱۲۴.
  39. ج۱، ص۴۶۲
  40. ابن عساکر، ج۱۲، ص۲۰۸
  41. نبش قبر حجر بن عدی

منابع

  • ابن حجر عسقلانی، احمد بن علی، الإصابۃ فی تمییز الصحابۃ، تحقیق: عادل احمد عبد الموجود و علی محمد معوض، بیروت، دارالکتب العلمیۃ، ط الأولی، ۱۴۱۵/۱۹۹۵.
  • الامین، السیدمحسن، اعیان الشیعۃ، تحقیق و تخریج: حسن الامین، بیروت: دارالتعارف للمطبوعات، ۱۴۰۳-۱۹۸۳م.
  • ابن اثیر، اسدالغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، چاپ محمد ابراہیم بنا و محمد احمد عاشور، قاہرہ ۱۹۷۰۱۹۷۳؛ دارالکتاب العربی، بیروت: بی‌تا.
  • ابن سعد (بیروت).
  • ابن عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، چاپ علی شیری، بیروت ۱۴۱۵۱۴۲۱/ ۱۹۹۵ ۲۰۰۱؛ دارالفکر للطباعۃ و النشر و التوزیع، بیروت بی‌تا.
  • ابن قتیبہ، المعارف، چاپ ثروت عکاشہ، قاہرہ ۱۹۶۰.
  • بلاذری (لیدن).
  • احمدبن داوود دینوری، اخبار الطِّوال، تحقیق: عبدالمنعم عامر، قاہرہ ۱۹۶۰، چاپ افست قم ۱۳۶۸ش؛
  • سیوطی، جلال الدین، الجامع الصغیر، دارالفکر للطباعۃ و النشر و التوزیع، بیروت بی‌تا؛
  • شوشتری، قاموس الرجال.
  • طبری، تاریخ (بیروت).
  • کشی، محمدبن عمر، اختیار معرفۃ الرجال، (تلخیص) محمدبن حسن طوسی، چاپ حسن مصطفوی، مشہد ۱۳۴۸ش؛
  • مسعودی، مروج (بیروت).
  • المفید، محمدبن محمد، الجمل و النُصرۃ لسید العترۃ فی حرب البصرۃ، چاپ علی میرشریفی، قم ۱۳۷۴ش؛
  • نصربن مزاحم، وقعۃ صفّین، چاپ عبدالسلام محمد ہارون، قاہرہ ۱۳۸۲، چاپ افست قم ۱۴۰۴؛
  • یعقوبی، تاریخ.