مہدی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

"مہدی" اسلامی احادیث میں "منجی" کے القابات میں سے ہے اور خاص طور پر اہل تشیع کے اعتقادات میں یہ لفظ ان کے بارہویں امام کے القابات میں سے ہے جو آخری زمانے میں ظہور کرے گا اور دنیا کو اس طرح عدل و انصاف سے بھر دے گا جس طرح وہ ظلم و جور سے بھری ہوگی۔ چونکہ پیغمبر اکرم(ص) نے اپنے خاندان میں سے ایک نجات دہندہ کے ظہور کی خوشخبری دی تھی اسلئے مسلمان آپ(ص) کی رحلت کے بعد سے ہی اس منجی کے ظہور کے منتظر ہیں جس کا لقب مہدی ہوگا۔

بعض اسلامی فرقے من جملہ زیدیوں اور عباسیوں نے اپنے قائدین کو مہدی کا لقب دے کر عدل و انصاف کے قیام اور ظلم و جور کے ازالے کا دعوا کرتے ہوئے مہدی موعود پر عقیدہ رکھنے والے سادہ لوح عوام کی توجہ جلب کرنے اور اپنی حکومتوں کو مضبوط کرنے کی کوشش بھی کی ہیں۔ بعض تاریخی شواہد کی رو سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ مہدی کا لقب صدر اسلام میں عظمت اور بزرگی کے عنوان سے بعض بزرگوں کیلئے استعمال کیا جاتا تھا۔ بعض محققین کا خیال ہے کہ پہلا شخص جس نے لفظ مہدی کو منجی کے عنوان استعمال کیا وہ ابو اسحاق کعب بن ماتہ بن حیسوء حمیری متوفای 34ہجری قمری تھا۔

لغوی معنی

لفظ "مہدی" عربی ادبیات کی رو سے صفت مفعولی ہے جس کی معنی ہدایت یافتہ از طرف خدا ہے۔[1] یہ لفظ "ہ د ی" کی مادے سے جو لطف اور مہربانی کے ساتھ ہدایت اور رہنمائی پانے یا کرنے کے معنی میں آتا ہے۔ گویا یہاں پر "ہدایت" ضلالت کے مقابلے میں معنوی رہنمائی کے معنی میں ہے۔[2] قرآن میں یہ لفظ نہیں آیا ہے لیکن اس کے دوسرے مشتقات اس آسمانی کتاب میں مختلف جگہوں پر استعمال ہوا ہے، قرآن کی دو آیتوں میں اسم فاعل کی صورت میں "ہدایت کنند" کے معنی میں آیا ہے۔[3]

اصطلاحی معنی

اسلامی احادیث جب "مہدی" کو جب بطور مطلق اور بغیر کسی قید و شرط کے استعمال کیا جاتا ہے تو اس سے مراد موعود ہی ہے جو خاندان رسالت کا آخری فرد ہو گا اور وہ آکر ظلم و جور سے بھری ہوئی دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔ شیعہ تعلیمات کے مطابق آپ شیعوں کے بارہویں امام ہیں جو اس وقت غیبت میں تشریف فرما ہیں۔ شیعہ احادیث میں آپ کو قائم آل محمد کا لقب بھی دیا جاتا ہے۔[4] اہل سنت عموما اس لقب کو جمع کی صورت میں استعمال کرتے ہوئے اس سے پیغمبر اکرمؐ کے بعد آنے والے چار خلفاء یعنی خلفائے راشدین مراد لیتے ہیں اور انہیں "الخلفاء الراشدون المہدیون" کہتے ہیں۔[5]

تاریخی پس منظر

شیعہ اور اہل سنت دونوں مآخذ میں نقل ہونے والی احادیث کے مطابق پیغمبر اکرمؐ نے خاندان رسالت کے ایک فرد کے آنے کا وعدہ دیا ہے جس کا نام "مہدی" ہوگا جو زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے اور ظلم و ستم کا ازالہ کریں گے۔[6] اس بنا پر مسلمان پیغمبر اکرمؐ کی رحلت کے ابتدائی ایام سے ہی "مہدی" کے ظہور کی انتظار میں چلے آ رہے ہیں۔

لفط "مہدی" صدر اسلام میں بزرگوں کی تجلیل اور احترام کے کے لئے استعمال کیا جاتا تھا، حسان بن ثابت (متوفی 54ھ) نے اپنے اشعار میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو اس لقب یاد کیا ہے؛

جزاء علی المهدی اصبح ثاویا یا خیر من وطأ الحصا لا تبعدی[7]


سلیمان بن صرد خزاعی نے امام حسین علیہ السلام کو انکی شہادت کے بعد مہدی ابن مہدی کے عنوان سے یاد کیا ہے۔[8]

راجکوسکی کے مطابق پہلا شخص جس نے اس لقب کو مذہبی اور اعتقادی لحاظ سے منجی کے لئے استعمال کیا وہ ابو اسحاق کعب بن ماتہ بن حیسوء حمیری(متوفی34ھ) تھا۔[9]

کیسانیہ میں مہدی کا لقب

کربیہ جو کیسانیہ کا ایک ذیلی فرقہ ہے، نے محمد بن حنفیہ کی وفات کے بعد ان کے زندہ ہونے کا اعتقاد رکھتے ہوئے انہیں مہدی کا لقب دیا۔ ملل و نحل کے بعض مصنفین اس بات کے معتقد ہیں کہ محمد بن حنفیہ اسلام میں پہلا شخص ہے جنہیں "مہدی" کا لقب دیا گیا۔[10]

بنی عباسی کے خلفاء کے القاب میں

سلسلہ بنی عباس کے ابتدائی دور میں سیاسی مقاصد کے لئے اس لقب کو باقاعدہ طور پر ان کے خلفاء کے لئے استعمال کرنے لگا کیونکہ بنی امیہ کے ظلم و ستم سے تنگ آئے ہوئے لوگوں مہدی اور نجات دہندہ کے انتظار میں تھے جو ان پر ڈھائے جانے والے ظلم و ستم کا خاتمہ کر کے عدل و انصاف کا بول بالا کرے۔ بنی عباس کے خلفاء نے اس موقع سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے آپ کو اس لقب سے ملقب کیا یہاں تک کہ ہر خلیفہ اپنے بعد آنے والے جانشین اور خلیفہ کے لئے نئے القاب کا انتخاب کرتے اور اسے نئے نجات دہندہ کے عنوان سے معرفی کرتے تھے۔ [11]

لیکن جب بنی عباس کی حکومت کے جڑیں مضبوط ہو گئیں اور انہیں استحکام ملا تو ان القابات کے انتخاب کرنے کی ضرورت بھی رفتہ رفتہ ختم ہونے لگا یہاں تک کہ اب وہ اپنے قدیمی اور انقلابی نعروں کو بھی بھول گئے تھے اور اب اپنی حکومت کو استمرار دینے اور اسے دوام دینے کے لئے مختلف حربے اور جدید نعروں کا سہارا لینے لگا۔ یہ مسئلہ ان کی خلافت کی نسبت ان کے انقلابی پیروکاروں کی سرد مہری کا باعث بنا جو بسا اوقات ان کے خلاف تحریکوں کی شکل میں ظاہر ہونے لگا جبکہ دوسرے لوگ اپنے دیرنہ آرزؤوں کو پایہ تکمیل پہنچانے کے لئے بنی عباس سے ہٹ کر نئے نجات دہندہ کی تلاش میں نکل گئے۔ البتہ بعض لوگوں نے خود کو بنی عباس کی نئی سیاست کے ساتھ تطبیق دے کر ان کی حکومت کے مختلف شعبوں میں اپنی خدمات پیش کرنے لگا۔[12]

بنی عباس کے ابتدائی دور میں ان کے خلفاء کے لئے استعمال کرنے والے القبات کو درج ذیل حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

  • عمومی رسمی القاب، جیسے امیر المؤمنین، خلیفۃ اللّه اور بادشاہ؛
  • خصوصی رسمی القاب، جیسے الامام، القائم، المرتضی، المنصور، المہدی، الرشید، المعتصم باللہ وغیرہ؛
  • شخصی القاب، جیسے دوانیقی جو منصور کا لقب تھا۔[13] الناطق بالحق جو ابن الہادی کا لقب تھا[14] ان کا والد انہیں ہارون کی جگہ ولی عہد بنانا چاہتا تھا۔

ائمہ زیدیہ کے القاب میں

طول تاریخ میں مہدی کا لقب بعض زیدی ائمہ جیسے نفس زکیہ، یحیی بن عمر، صاحب فخ، یحیی بن حسین وغیرہ کے لئے استعمال ہوتے رہے ہیں۔ بعض فرق شناسوں کا ادعا ہے کہ زیدیہ کے بعض فرقے ہر اس امام کو مہدی کا لقب دیتے تھے جو اپنی طرف لوگوں کو دعوت دے اور امامت کے شرائط پر مشتمل ہو۔ اس نظریے کے مطابق مہدی کا لقب کسی خاص شخص کے ساتھ مختص ­نہیں تھا۔[15]

حوالہ جات

  1. ابن منظور، لسان العرب، ۱۴۱۴ق، ج۱۵، ص۳۵۴.
  2. نک: قرشی، قاموس قرآن، ۱۳۷۱ش، ج۷، ۱۴۵؛ ابن منظور، لسان العرب، ۱۴۱۴ق، ج۱۵، ص۳۵۳.
  3. سورہ حج، آیت ۵۳؛ سورہ فرقان، آیت ۳۱.
  4. دیکھیں:صدر، تاریخ الغیبہ، ۱۴۱۲ق، ج۳، ص۱۳۵.
  5. حسین، تاریخ سیاسی غیبت امام دوازدهم، ۱۳۸۵ش، ص۳۴؛ ابن منظور، لسان العرب، ۱۴۱۴ق، ج۱۵، ص۳۵۴.
  6. شیخ صدوق، کمال الدین و تمام النعمۃ، ۱۳۵۹ق، ج۱، ص۲۸۷.
  7. حسین، غیبت ومہدویت در تشیع امامیہ، ۱۳۷۱ش، ص۳۵.
  8. ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ۱۳۸۵ق، ج۱۲، ص۲۰.
  9. حسین، غیبت ومہدویت در تشیع امامیہ، ۱۳۷۱ش، ص۳۵.
  10. صابری، تاریخ فرق اسلامی، ۱۳۸۸ش، ج۲، ص۵۵.
  11. فرہنگ مہدوی در القاب خلفای عباسی
  12. فرہنگ مہدوی در القاب خلفای عباسی
  13. مقریزی، الخطط، ج۱، ص۲۸۷.
  14. تاریخ دولۃ عباسیہ، (نسخہ خطی استانبول ۲۲۶۰) ص۲۰.
  15. نوبختی، فرق الشیعہ، ۱۳۶۱ش، ص۶۲؛ صبحی، فی علم الکلام، ۱۴۰۵ق، ج۳، ص۱۲۷، ۱۲۸؛ رجوع کریں: سلطانی، تاریخ و عقاید زیدیہ، ۱۳۹۰ش، ص۲۹۱، ۲۹۲.

مآخذ

  • ابن اثیر، علی بن ابی الکریم، الکامل فی التاریخ، بیروت،‌ دارصادر، ۱۳۸۵ق۔
  • ابن سعد، الطبقات الکبری، بیروت، دارالکتب العلمیہ، ۱۴۱۸ق۔
  • ابن منظور، جمال الدین ابو الفضل، لسان العرب، بیروت،‌ دارصادر، چاپ سوم، ۱۴۱۴ق۔
  • حسین، جاسم، تاریخ سیاسی غیبت امام دوازدہم (عج)، مترجم سید محمد تقی آیت اللہی، تہران، امیر کبیر، ۱۳۸۵ش۔
  • حسین، جاسم و ساشادینا، غیبت ومہدویت در تشیع امامیہ، ترجمہ محمود رضا افتخار زادہ، چاپ اول، قم، ۱۳۷۱ش۔
  • قرشی، سید علی اکبر، قاموس قرآن، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، چاپ ششم، ۱۳۷۱ش۔
  • صابری، حسین، تاریخ فرق اسلامی، سمت، تہران، ۱۳۸۸ش۔
  • صدر، سید محمد، تاریخ الغیبۃ ، بیروت،‌ دارالتعارف، ۱۴۱۲ق۔
  • صدوق، محمد بن علی، کمال الدین وتمام النعمہ، تہران، دارالکتب الاسلامیہ، ۱۳۵۹ق۔
  • مفید، الارشاد، بیروت، موسسہ الاعلمی للمطبوعات، چاپ سوم، ۱۳۹۹ق۔
  • نوبختی، حسن بن موسی، فرق الشیعہ، تہران، مرکز انتشارات علمی و فرہنگی، ۱۳۶۱ش۔
  • صبحی، احمد محمود، فی علم الکلام دراسہ فلسفیہ لآراء الفرق الاسلامیۃ فی اصول الدین، بیروت، دارالنہضہ العربیہ، ۱۴۰۵ق۔
  • سلطانی، مصطفی، تاریخ و عقاید زیدیہ، قم، نشر ادیان، ۱۳۹۰ش۔
  • مقالہ فرہنگ مہدوی در القاب خلفای عباسی