مندرجات کا رخ کریں

"مقداد بن عمرو" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی شیعہ سے
imported>Mabbassi
imported>Mabbassi
سطر 16: سطر 16:
تھا اور اس نے وصیت کی تھی کہ  ۳۶ ہزار درہم  [[حسنین(ع)]] کو دئے جائیں ۔<ref>مزی، تہذيب الكمال، ۱۴۰۰ق، ج۲۸، ص۴۵۲.</ref>
تھا اور اس نے وصیت کی تھی کہ  ۳۶ ہزار درہم  [[حسنین(ع)]] کو دئے جائیں ۔<ref>مزی، تہذيب الكمال، ۱۴۰۰ق، ج۲۸، ص۴۵۲.</ref>


== مقداد پیغمبر(ص) کے ساتھ ==
== پیغمبر(ص) کا زمانہ==
مقداد پیغمبراکرم(ص) کے شجاع صحابہ میں سے تھے آپ ان 7 افراد میں سے ایک ہیں جنہوں نے اپنے [[اسلام]] قبول کرنے کا اظہار کیا۔<ref>الزرکلی، الاعلام، ج۷، ص۲۸۲.</ref>


حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والوں میں آپ بھی شامل تھے لیکن پیغمبر اکرم(ص) کی مدینے ہجرت کرنے سے پہلے آپ دبارہ مکہ واپس آگئے تھے اور پیغمبر اکرم(ص) کے ساتھ مکہ سے مدینہ ہجرت کر گئے اور جنگ بدر سمیت پیغمبر اکرم(ص) کی زندگی میں لڑی جانے والی تمام جنگوں میں آپ نے پیغمبر اکرم(ص) کا ساتھ دیا۔<ref>البلاذری، انساب الاشراف، ج۱، ص۲۰۵.</ref>
===اسلام قبول کرنا===
مقداد [[بعثت]] کے اوائل میں مسلمان ہوا اور اس نے مشرکین [[قریش]] کے سکنجے سہے ۔ مؤرخین اسے اسلام کے  [[سابقون|سابقین]] میں سے شمار کرتے ہیں ؛ لیکن اس کے اسلام قبول کرنے کی تفصیلات مذکور نہیں ہیں  ۔ [[ابن مسعود]] سے منقول ہے کہ سب سے پہلے سات افراد نے اسلام ظاہر کیا ،ان میں سے ایک مقداد تھا <ref>ابن اثیر، اسدالغابہ، ۱۹۷۰م.، ج۵، ص۲۴۲.</ref>  


پیغمبر(ص) فرماتے ہیں: خداوند عالم نے مجھے 4 اشخاص کے ساتھ دوستی رکھنے کا حکم دیا اور مجھے آگاہ کرایا کہ خدا خود ان سے دوستی رکھتا ہے وہ اشخاص: [[علی ابن ابی طالب]]، مقداد، ابوذر اور سلمان ہیں۔<ref>الزرکلی، الاعلام، ج۷، ص۲۸۲.</ref>
===ہجرت===
مقداد نے پہلی  مرتبہ  [[ہجرت حبشہ]] کی۔ اس  تیسرے گروہ میں مقداد شامل تھا دوسری مرتبہ  [[ہجرت مدینہ]]  میں حصہ لیا اسکی دقیق تاریخ کا علم نہیں ہے لیکن کثیر قرائن کی بنا پر کہا جا سکتا ہے کہ ہجرت کے پہلے سال  [[شوال]] کے مہینے میں ہونے  [[سریہ|سریے]] بنام ابو عبیدہ میں مسلمانوں سے مل گئے اور انکے ہمراہ مدینہ میں آئے ۔ <ref>بلاذری، انساب الاشراف، ۱۹۵۹م، ج۱، ص۲۰۵؛ مامقانی، قاموس الرجال، بی‌ تا، ج۹، ص۱۱۴، </ref>


مقداد، [[سلمان فارسی|سلمان]]، [[عمار بن یاسر|عمار]] اور [[ابوذر]] ان معدود افراد میں سے ہیں جو پیغمبر اکرم(ص) کی زندگی میں ہی [[شیعہ|شیعیان]] [[علی ابن ابی طالب]] کے نام سے پہچانے جاتے تھے ۔<ref>النوبختی، فرق الشیعہ، ص۱۸؛ شہابی، ادوار فقہ، ج۲، ص۲۸۲.</ref>
===جنگوں میں شرکت===
مقداد نے رسول خدا کی زندگی میں  تمام [[غزوات|جنگوں]] میں شرکت کی نیز وہ شجاع افراد میں سے شمار ہوتا تھا ۔<ref>زرکلی، الاعلام، ۱۹۸۰م، ج۷، ص۲۸۲.</ref>
[[جنگ بدر]] میں گھڑ سواروں میں سے تھا اسکے گھوڑے کا نام  سَبحَہ(یعنی ایسا گھوڑا جو ہر وقت میں رہے ) ، شاید  مقداد کی با کمال شہامت جنگ کی وجہ سے اس کے گھوڑے کو  سبحہ کہتے تھے ۔ <ref>ابن سعد، طبقات الکبری، ۱۴۱۰ق، ج۳، ص۱۲۰.</ref> 
 
[[جنگ احد]] میں بھی  مقدادکا نہایت مؤثر کردار اسطرح سے رہا کہ جب تمام صحابہ  نے راہ فرار اختیار کی تو تاریخی نقل کے مطابق  [[علی (ع)]]، [[طلحہ]]، [[زبیر]]، [[ابو دجانہ]]، [[عبدالله بن مسعود]] اور مقداد کے علاوہ کسی اور نے مقاومت کا مظاہرہ نہیں کیا ۔<ref>ابن سعد، طبقات الکبری، ۱۴۱۰، ج۳، ص۱۱۴.</ref> بعض منابع کے مطابق مقداد نے اس جنگ میں تیراندازی کے فرائض انجام دئے۔<ref>ابن اثیر، اسد الغابہ، ۱۹۷۰م، ج۵، ص۲۴۲.</ref> لیکن بعض نے اسے زبیر کے ساتھ گھڑ سواروں کا سردار لکھا ہے ۔ <ref>ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، بیروت، دار صادر، ج۲، ص۱۵۲.</ref>
 
مقداد [[سلمان فارسی|سلمان]]، [[عمار بن یاسر|عمار]] اور [[ابوذر]] کے ساتھ سرول خدا کے زمانے میں شیعہ کے نام سے پہچانا جاتا تھا۔ <ref>ر.ک: نوبختی، فرق الشیعہ، ۱۴۰۴ق، ص۱۸.</ref>


== عثمان کے دور خلافت میں ==
== عثمان کے دور خلافت میں ==

نسخہ بمطابق 08:49، 8 جولائی 2017ء

شیعہ
اصول دین (عقائد)
بنیادی عقائدتوحیدعدلنبوتامامتمعاد یا قیامت
دیگر عقائدعصمتولایتمہدویت: غیبتانتظارظہوررجعتبداء • ......
فروع دین (عملی احکام)
عبادی احکامنمازروزہخمسزکاتحججہاد
غیر عبادی احکامامر بالمعروف اور نہی عن المنکرتولاتبرا
مآخذ اجتہادقرآن کریمسنت (پیغمبر اور ائمہ کی حدیثیں)عقلاجماع
اخلاق
فضائلعفوسخاوتمواسات • ...
رذائلكبرعُجبغرورحسد • ....
مآخذنہج البلاغہصحیفۂ سجادیہ • .....
اہم اعتقادات
امامتمہدویترجعتبداشفاعتتوسلتقیہعصمتمرجعیت، تقلیدولایت فقیہمتعہعزاداریمتعہعدالت صحابہ
شخصیات
شیعہ ائمہامام علیؑامام حسنؑامام حسینؑامام سجادؑامام باقرؑامام صادقؑامام کاظمؑامام رضاؑامام جوادؑامام ہادیؑامام عسکریؑامام مہدیؑ
صحابہسلمان فارسیمقداد بن اسودابوذر غفاریعمار یاسر
صحابیہخدیجہؑفاطمہؑزینبؑام کلثوم بنت علیاسماء بنت عمیسام ایمنام سلمہ
شیعہ علماادباعلمائے اصولشعراعلمائے رجالفقہافلاسفہمفسرین
مقدس مقامات
مسجد الحراممسجد النبیبقیعمسجدالاقصیحرم امام علیمسجد کوفہحرم امام حسینؑحرم کاظمینحرم عسکریینحرم امام رضاؑ
حرم حضرت زینبحرم فاطمہ معصومہ
اسلامی عیدیں
عید فطرعید الاضحیعید غدیر خمعید مبعث
شیعہ مناسبتیں
ایام فاطمیہمحرّم ، تاسوعا، عاشورا اور اربعین
اہم واقعات
واقعۂ مباہلہغدیر خمسقیفۂ بنی ساعدہواقعۂ فدکخانۂ زہرا کا واقعہجنگ جملجنگ صفینجنگ نہروانواقعۂ کربلااصحاب کساءافسانۂ ابن سبا
الکافیالاستبصارتہذیب الاحکاممن لایحضرہ الفقیہ
شیعہ مکاتب
امامیہاسماعیلیہزیدیہکیسانیہ


مقداد بن عمرو(متوفا ۳۳ق) جو مقداد بن اسود کے نام سے معروف پیغمبر اکرم(ص) کے جلیل القدر صحابہ کے ابتدائی اسلام قبول کرنے والوں اور سلمان فارسی، عمار بن یاسر اور ابوذر حضرت امام علی ابن ابی طالب(ع) کے پہلے اور حقیقی پیروکاروں میں سے تھے۔ آپ نے جنگ بدر سمیت پیغمبر اکرم(ص) کے زمانے میں پیش آنے والی تمام جنگوں میں بھی شرکت کی ۔رسول خدا کی طرف سے امام علی کی جانشینی کی حمایت کی لہذا واقعہ سقیفہ میں ابو بکر کی بیعت نہ کی اور آپ ان معدود صحابیوں میں سے ہیں جنہوں نے حضرت زہرا کے تشییع جنازہ میں شرکت کی ۔روایات اہل بیت میں انکی مدح بیان ہوئی ہے ۔مقداد نے رسول اللہ کی احادیث منقول ہیں ۔نیز ان چار افراد میں سے ایک ہیں جن کے بارے میں رسول اکرم(ص) نے فرمایا: "خدا نے مجھے ان سے دوستی رکھنے کا حکم دیا ہے۔" رجعت کرنے والے افراد میں بھی اس کا نام مذکور ہے۔

نسب، ولادت اور وفات

مقداد بن عمرو بن ثعلبہ معروف بنام مقداد بن اسود کی دقیق تاریخ پیدائش کا علم نہیں ہے لیکن منابع میں اسکی تاریخ وفات کا سال ۳۳ق اور عمر ۷۰ سال لکھا گیا ہے ۔[1] اس بنا پر کہا جا سکتا ہے کہ اس کی ولادت کا سال بعثت سے ۲۴ سال پہلے یعنی ۳۷ سال ہجرت سے پہلے ہو گا ۔

منقول ہے کہ حضرموت میں مقداد اور ابی شمر بن حجر نامی شخص کے درمیان جھگڑا ہوا جس میں وہ شخص زخمی ہوا۔اس واقعہ کے بعد مقداد مکہ منتقل ہوا اور یہاں اسود بن عبد بن یغوث زہری سے عہد کیا اور اسکے بعد اسے مقداد بن اسود کہلانے لگا لیکن اس آیت ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ: تم انہیں انکے باپوں کے نام سے پکارو [2] کے نازل ہونے کے بعد مقداد بن عمرو کہلایا جانے لگا [3]

کنیت اور لقب

مقداد کیلئے بہرائی یا بہراوی جیسے القاب نقل ہوئے ہیں [4] کندی اور حضرمی نیز ابومعبد، ابوسعید اور ابوالاسود کنیتیں ذکر ہوئی ہیں [5]

ازدواج و اولاد

  • شادی :مقداد کی زوجہ رسول خدا کی چچا زاد ضباعۃ تھی [6] پیغمبر ضباعہ کو حسب و نسب کے لحاظ اچھی شخصیت سمجھتے تھے۔ اسی بنا پر اسکی شادی مقداد سے کی اور فرمایا : میں نے صرف لوگوں کی آسانی کیلئے اپنی چچا زاد ضباعہ کی ازدواج مقداد سے کی ہے تا کہ لوگ حَسَب و نَسَب کا لحاظ کئے بغیر ہر مؤمن کو بیٹی دیں ۔[7]
  • اولاد: مقداد کے دو اولادیں بنام‎: عبدالله و کریمہ تھیں ۔ عبدالله جنگ جمل میں عائشہ کے طرفداروں میں سے تھا اور مارا گیا ۔جب امام علی کی نگاہ فرزند مقداد پر پڑی تو فرمایا :بہن کا کیسا برا بھائی تھا۔[8] بعض نے عبدالله کی بجائے اس کا نام معبد کہا ہے [9]

وفات اور مقام دفن

مقداد آخری ایام میں جرف میں سکونت پذیر تھا جو مدینہ سے ایک فرسخ کے فاصلے پر شام کی طرف واقع تھا ۔سال ۳۳ق میں اسکی عمر کے ستّر سال گزر چکے تھے کہ اس نے وفات پائی ۔مسلمانوں نے اس کا پیکر مدینہ لایا اور عثمان بن عفان نے اس پر نماز جنازہ پڑھا اور اسے قبرستان بقیع میں دفن کیا ۔[10] ترکی کے شہر وان میں ایک قبر مقداد سے منسوب ہے کہ جسے محققین فاضل مقداد کی قبر قرار دیتے ہیں یا عرب کا کوئی بزرگ سمجھتے ہیں۔ [11] نقل کے مطابق مقداد ایک صاحب ثروتمند شخص تھا اور اس نے وصیت کی تھی کہ ۳۶ ہزار درہم حسنین(ع) کو دئے جائیں ۔[12]

پیغمبر(ص) کا زمانہ

اسلام قبول کرنا

مقداد بعثت کے اوائل میں مسلمان ہوا اور اس نے مشرکین قریش کے سکنجے سہے ۔ مؤرخین اسے اسلام کے سابقین میں سے شمار کرتے ہیں ؛ لیکن اس کے اسلام قبول کرنے کی تفصیلات مذکور نہیں ہیں ۔ ابن مسعود سے منقول ہے کہ سب سے پہلے سات افراد نے اسلام ظاہر کیا ،ان میں سے ایک مقداد تھا [13]

ہجرت

مقداد نے پہلی  مرتبہ  ہجرت حبشہ کی۔ اس  تیسرے گروہ میں مقداد شامل تھا دوسری مرتبہ  ہجرت مدینہ  میں حصہ لیا اسکی دقیق تاریخ کا علم نہیں ہے لیکن کثیر قرائن کی بنا پر کہا جا سکتا ہے کہ ہجرت کے پہلے سال  شوال کے مہینے میں ہونے  سریے بنام ابو عبیدہ میں مسلمانوں سے مل گئے اور انکے ہمراہ مدینہ میں آئے ۔ [14]

جنگوں میں شرکت

مقداد نے رسول خدا کی زندگی میں تمام جنگوں میں شرکت کی نیز وہ شجاع افراد میں سے شمار ہوتا تھا ۔[15] جنگ بدر میں گھڑ سواروں میں سے تھا اسکے گھوڑے کا نام سَبحَہ(یعنی ایسا گھوڑا جو ہر وقت میں رہے ) ، شاید مقداد کی با کمال شہامت جنگ کی وجہ سے اس کے گھوڑے کو سبحہ کہتے تھے ۔ [16]

جنگ احد میں بھی مقدادکا نہایت مؤثر کردار اسطرح سے رہا کہ جب تمام صحابہ نے راہ فرار اختیار کی تو تاریخی نقل کے مطابق علی (ع)، طلحہ، زبیر، ابو دجانہ، عبدالله بن مسعود اور مقداد کے علاوہ کسی اور نے مقاومت کا مظاہرہ نہیں کیا ۔[17] بعض منابع کے مطابق مقداد نے اس جنگ میں تیراندازی کے فرائض انجام دئے۔[18] لیکن بعض نے اسے زبیر کے ساتھ گھڑ سواروں کا سردار لکھا ہے ۔ [19]

مقداد سلمان، عمار اور ابوذر کے ساتھ سرول خدا کے زمانے میں شیعہ کے نام سے پہچانا جاتا تھا۔ [20]

عثمان کے دور خلافت میں

یعقوبی لکھتے ہیں: بعض روایات کی بنا پر عثمان بن عفان جس دن اس کی بعنوان خلیفہ بیعت ہوئی اسی رات نماز عشای کیلئے باہر گیا اور اس کے آگے آگے ایک چراغ روشن تھا اسی اثنا میں ان کا گذر مقداد سے ہوا تو مقداد نے کہا: یہ بدعت کیا ہے؟ [21] یعقوبی آگے چل کر یوں لکھتے ہیں: لوگ علی بن ابی طالب کے پاس جا کر عثمان کے خلاف بولتے تھے ایک شخص سے کہتا ہے:

میں نماز کیلئے مسجد نبوی گیا تو دیکھا کہ ایک شخص زانوں پر کھڑا یوں افسوس کر رہا تھا کہ گویا پوری دنیا اس کے ہاتھ سے چلا گیا ہو اور یہ کہہ رہا تھا: "مجھے قریش پر تعجب ہوتا ہے کہ انہوں نے خلافت کو اہل بیت سے جن کے درمیان سب سے پہلے ایمان لانے والے، پیغمبر خدا کا چچا زاد بھائی، لوگوں میں سب سے زیادہ دانا اور دین خدا کو سب سے زیادہ جانے والا، ہدایت کرنے والا اور ہدایت یافتہ اور پاک و پاکیزہ ہستی موجود ہے، سے غصب کیا اور نہ امت کی مصلحت کو دیکھا اور نہ ان کے طور و طریقے حق پر مبنی ہے بلکہ انہوں نے دنیا کو آخرت پر ترجیح دی ہے پس ظالموں اور ستمگروں سے دور رہنا چاہئے خدا انہیں غارت کرے۔"
پس اس شخص کے قریب گیا اور کہا: خدا تجھ پر اپنی رحمت نازل کرے تم کون ہو اور یہ مرد کون ہے جس کے بارے میں تم کہہ رہے تھے؟
اس نے کہا: میں مقداد بن عمرو ہوں اور وہ شخص علی بن ابی طالب ہیں۔
میں نے کہا: آيا اس کام کیلئے اقدام نہیں کرو گے تاکہ میں بھی تمہاری ممد کروں؟
اس نے کہا: اے میرے بھتیجے اس کام کیلئے ایک یا دو شخص کافی نہیں ہے۔
پھر میں باہر آیا تو ابوذر کو دیکھا تو اس واقعے کو اس کے سامنے بازگو کیا تو ابوذر نے کہا میرے بھائی مقداد نے درست کہا ہے۔
پھر میں عبداللہ بن مسعود کے پاس گیا اور یہ ماجرا اسے بیان کیا ۔
اس نے کہا: ہمیں یہی حکم دیا گیا ہے پس ہم نے کوئی کوتاہی نہیں کی ہے۔[22]

حوالہ جات

  1. ابن حجر عسقلانی، الاصابه، ۱۹۹۵م/۱۴۱۵ق، ج۶، ص۱۶۱.
  2. سوره احزاب، آیت ۵.
  3. ابن حجر عسقلاني، الإصابہ، ۱۹۹۵م/۱۴۱۵ق، ج۶، ص۱۶۰؛ مقریزی، امتاع‏ الأسماع، ۱۴۲۰ق، ج۱۲، ص۵۷.
  4. ابن حزم‌اندلسی، جمہرة انساب العرب، دارالمعارف، ص۴۴۱.
  5. مامقانی، تنقیح المقال، ۱۳۵۲ق، ج۳، ص۲۴۵.
  6. بلاذری، انساب الاشراف، ۱۹۵۹م، ج۱، ص۲۰۵.
  7. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۲۲، ص۲۶۵.
  8. ابن حجر عسقلانی، الإصابہ، ۱۴۱۵ق/۱۹۹۵م، ج۵، ص۲۲.
  9. بلاذری، انساب الاشراف، ۱۹۵۹م، ج۲، ص۲۶۴-۲۶۵.
  10. ابن سعد، طبقات الکبری، ۱۴۱۰، ج۳، ص۱۲۱؛ امین، اعیان الشیعہ، ۱۴۰۳ق، ج۱۰، ص۱۳۴؛ بلاذری، انساب الاشراف، ۱۹۵۹م، ج۱، ص۲۰۴؛ زرکلی، الاعلام، ۱۹۸۰م، ج۷، ص۲۸۲.
  11. قمی، منتہی الآمال، ۱۴۱۳ق، ج۱، ص۲۲۸.
  12. مزی، تہذيب الكمال، ۱۴۰۰ق، ج۲۸، ص۴۵۲.
  13. ابن اثیر، اسدالغابہ، ۱۹۷۰م.، ج۵، ص۲۴۲.
  14. بلاذری، انساب الاشراف، ۱۹۵۹م، ج۱، ص۲۰۵؛ مامقانی، قاموس الرجال، بی‌ تا، ج۹، ص۱۱۴،
  15. زرکلی، الاعلام، ۱۹۸۰م، ج۷، ص۲۸۲.
  16. ابن سعد، طبقات الکبری، ۱۴۱۰ق، ج۳، ص۱۲۰.
  17. ابن سعد، طبقات الکبری، ۱۴۱۰، ج۳، ص۱۱۴.
  18. ابن اثیر، اسد الغابہ، ۱۹۷۰م، ج۵، ص۲۴۲.
  19. ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، بیروت، دار صادر، ج۲، ص۱۵۲.
  20. ر.ک: نوبختی، فرق الشیعہ، ۱۴۰۴ق، ص۱۸.
  21. یعقوبی، تاریخ یعقوبی، ج۲، ص۵۴.
  22. یعقوبی، تاریخ یعقوبی، ج۲، صص۵۴-۵۵.

مآخذ

  • الأمین، السیدمحسن، اعیان الشیعۃ، تحقیق و تخریج: حسن الامین، بیروت: دارالتعارف للمطبوعات، ۱۴۰۳ق-۱۹۸۳م.
  • الأميني، عبدالحسین، الغدير فی الکتاب و السنۃ و الادب، ج۹، بیروت: دار الکتب العربی، ۱۳۹۷-۱۹۷۷م.
  • البلاذری، احمد بن یحیی بن جابر، انساب الاشراف، تحقیق: محمد حمیداللہ، مصر: معہد المخطوطات بجامعۃ الدول العربیۃ بالاشتراک مع دارالمعارف، ۱۹۵۹م.
  • الزرکلی، خیرالدین، الاعلام، ج۷، بیروت: دارالعلم للملایین، ۱۹۸۰م.
  • شہابی، محمود، ادوار فقہ، تہران: سازمان چاپ و انتشارات وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامى، ۱۳۶۶ش.
  • النوبختی، الحسن بن موسی، فرق الشیعۃ، بیروت: دارالاضواء، ۱۴۰۴ق/۱۹۸۴م.
  • یعقوبی، تاریخ یقوبی، ترجمہ محمدابراہیم آیتی، تہران: بنگاہ ترجمہ و نشر کتاب (نسخہ موجود در لوح فشردہ مکتبۃ اہل البیت، نسخہ دوم، ۱۳۹۱ش).